कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اونٹ: صحرا کا حیرت انگیز شاہکار

تحریر : عارف محمد خان، جلگاؤں

زمین کے وسیع صحراؤں میں ایک ایسا جانور پایا جاتا ہے جو سخت گرمی، پیاس اور لمبے سفر کو غیر معمولی طور پر برداشت کر لیتا ہے۔ یہ جانور اونٹ ہے جسے عام طور پر صحرا کا جہاز کہا جاتا ہے۔ صدیوں سے انسان اس جانور سے سفر، خوراک اور معاشی فائدے حاصل کرتا آیا ہے۔ لیکن جب سائنس دانوں نے اونٹ کے جسم کا تفصیلی مطالعہ کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ یہ جانور قدرت کا ایک حیرت انگیز شاہکار ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قرآنِ کریم نے چودہ سو سال پہلے ہی انسان کو اونٹ کی تخلیق پر غور کرنے کی دعوت دی تھی۔
قرآن کی دعوتِ فکر:
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ”
(سورۃ الغاشیہ: 17)
ترجمہ: کیا یہ لوگ اونٹ کی طرف نہیں دیکھتے کہ اسے کیسے پیدا کیا گیا؟
یہ آیت انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہے کہ وہ اونٹ کی جسمانی ساخت اور اس کی حیرت انگیز صلاحیتوں کو دیکھے۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید سائنس نے جب اونٹ کے جسم کا مطالعہ کیا تو اس میں ایسی کئی خصوصیات سامنے آئیں جو اسے صحرائی ماحول کے لیے بالکل موزوں بناتی ہیں۔
کوہان: توانائی کا ذخیرہ:
اونٹ کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی پیٹھ پر موجود کوہان ہے۔ عام لوگ سمجھتے ہیں کہ اس میں پانی جمع ہوتا ہے، لیکن سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کوہان میں چربی ذخیرہ ہوتی ہے۔ جب اونٹ کو خوراک کم ملتی ہے تو یہی چربی توانائی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس طرح اونٹ کئی دن تک بغیر کھائے پیئے بھی زندہ رہ سکتا ہے۔
پانی کے بغیر زندہ رہنے کی صلاحیتـ:
اونٹ کی ایک حیرت انگیز خصوصیت یہ ہے کہ وہ طویل عرصے تک پانی کے بغیر رہ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اونٹ تقریباً 7 سے 10 دن تک بغیر پانی کے گزار سکتا ہے۔ جب اسے پانی ملتا ہے تو وہ ایک ہی وقت میں تقریباً 100 لیٹر تک پانی پی سکتا ہے۔ اس کا جسم پانی کو محفوظ رکھنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔
ریت کے طوفان سے حفاظت:
صحراؤں میں اکثر ریت کے طوفان آتے ہیں۔ اونٹ کو ان طوفانوں سے بچانے کے لیے اس کے جسم میں خاص حفاظتی نظام موجود ہے۔
اونٹ کی لمبی اور گھنی پلکیں آنکھوں کو ریت سے بچاتی ہیں۔
اس کے نتھنے بند ہو سکتے ہیں تاکہ ریت اندر نہ جائے۔
اس کے کانوں میں بھی باریک بال ہوتے ہیں جو گرد و غبار کو روک لیتے ہیں۔
یہ تمام خصوصیات اونٹ کو صحرائی زندگی کے لیے بہترین بناتی ہیں۔
چوڑے اور نرم پاؤںـ:
اونٹ کے پاؤں چوڑے اور نرم ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ نرم ریت میں بھی آسانی سے چل سکتا ہے اور ریت میں دھنسنے سے بچ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانے میں صحرائی علاقوں میں اونٹ سفر کا سب سے اہم ذریعہ تھا۔
جسم کا درجۂ حرارت کنٹرول کرنے کی صلاحیت:
زیادہ تر جانور شدید گرمی میں جلد متاثر ہو جاتے ہیں، لیکن اونٹ اپنے جسم کے درجۂ حرارت کو خاص انداز میں کنٹرول کرتا ہے۔ اس کا جسم دن کے وقت درجۂ حرارت کو بڑھنے دیتا ہے اور رات کے وقت اسے کم کر دیتا ہے۔ اس طریقے سے جسم میں پانی کا ضیاع کم ہوتا ہے اور اونٹ گرمی کو برداشت کر لیتا ہے۔
خون کی منفرد ساخت:
اونٹ کے خون کے سرخ خلیات (Red Blood Cells) دوسرے جانوروں سے مختلف ہوتے ہیں۔ ان کی شکل بیضوی (Oval) ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پانی کی کمی کے باوجود خون آسانی سے گردش کرتا رہتا ہے۔ جب اونٹ اچانک بہت زیادہ پانی پیتا ہے تو یہ خلیات پھٹتے نہیں بلکہ اپنا حجم بڑھا لیتے ہیں۔
انسانی زندگی میں اونٹ کی اہمیت:
اونٹ نہ صرف سائنسی لحاظ سے حیرت انگیز جانور ہے بلکہ انسانی زندگی کے لیے بھی بہت مفید ہے۔
اونٹ کا دودھ غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے۔
اس کا گوشت خوراک کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
قدیم زمانے میں اونٹ سفر اور تجارت کا بنیادی ذریعہ تھا۔
صحرائی علاقوں میں آج بھی اونٹ معاشی زندگی کا اہم حصہ ہے۔
قرآنِ کریم میں بھی اونٹ کو اللہ کی نعمتوں میں شمار کیا گیا ہے اور اسے قربانی کے جانوروں میں شامل کیا گیا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے