कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

تم کیا جانو حافظ و عالم کیسے بنتے ہیں

خامہ بکف :محمد عادل ارریاوی

بظاہر علم کا راستہ لوگوں کو آسان لگتا ہے لیکن حقیقت میں یہ بہت کٹھن اور صبر آزما سفر ہوتا ہے۔ حافظ و عالم بننا کوئی معمولی بات نہیں بلکہ اس کے لیے انسان کو بڑی بڑی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ اپنے گھر کو چھوڑنا پڑتا ہے ماں باپ کی شفقت سے دور ہونا پڑتا ہے بھائی بہنوں کی محبت سے جدائی برداشت کرنی پڑتی ہے۔ یہ سب چیزیں انسان کے دل میں ہمیشہ تازہ رہتی ہیں کبھی ماں کی یاد تڑپاتی ہے کبھی بہنوں کا پیار آنکھوں کو نم کر دیتا ہے اور کبھی باپ کی ڈانٹ بھی یاد آ کر دل کو بھاری کر دیتی ہے۔
جب ایک طالب علم مدرسہ میں داخل ہوتا ہے تو اس کے لیے ایک نئی دنیا شروع ہوتی ہے۔ شروع شروع میں مدرسہ کا ماحول اجنبی لگتا ہے۔ کبھی وہاں کی دال پسند نہیں آتی کبھی روٹی اچھی نہیں لگتی لیکن پھر بھی صبر کے ساتھ وہی کھانا پڑتا ہے۔ آہستہ آہستہ انسان ان حالات کا عادی بن جاتا ہے۔ اس دوران استاد کی ڈانٹ بھی سہنی پڑتی ہے مدرسہ کے سخت اصول و ضوابط کی پابندی بھی کرنی پڑتی ہے اور اپنی خواہشات کو قابو میں رکھنا پڑتا ہے۔
مدرسہ کی زندگی میں سب سے اہم چیز محنت اور لگن ہوتی ہے۔ طلبہ کو دن رات ایک کر کے اپنے اسباق یاد کرنے پڑتے ہیں۔ کبھی دیر رات تک پڑھنا پڑتا ہے تو کبھی صبح سویرے اٹھ کر سبق دہرانا ہوتا ہے۔ ہر دن ایک نئی آزمائش لے کر آتا ہے لیکن یہی آزمائشیں انسان کو مضبوط بناتی ہیں۔ مسلسل محنت صبر اور استقامت کے بعد ہی کوئی جا کر حافظ یا عالم بنتا ہے۔
بظاہر مدرسہ کی زندگی کسی قید خانے جیسی محسوس ہوتی ہے کیونکہ وہاں آزادی کم اور پابندیاں زیادہ ہوتی ہیں۔ لیکن حقیقت میں یہی زندگی انسان کو ایک خاص سکون عطا کرتی ہے۔ جو سکون جو اطمینان اور جو روحانی خوشی وہاں حاصل ہوتی ہے وہ دنیا کے بڑے سے بڑے محل میں بھی نہیں ملتی۔ مدرسہ کی سادہ دال اور روٹی میں جو برکت اور ذائقہ ہوتا ہے وہ کسی شاہی دسترخوان میں بھی نہیں ہوتا۔
لوگ اکثر کہتے ہیں کہ حافظ یا عالم بننا آسان ہے مگر یہ صرف وہی کہہ سکتے ہیں جنہوں نے اس راستے کو خود نہیں دیکھا۔ اگر کبھی وہ مدرسہ کی زندگی کو قریب سے دیکھیں وہاں کے حالات کو سمجھیں اور طلبہ کی محنت کو محسوس کریں تو انہیں اندازہ ہوگا کہ یہ راستہ کتنا مشکل مگر کتنا باعظمت ہے۔
اس راستے کی حقیقت کو وہی سمجھ سکتا ہے جو خود اس سفر سے گزرتا ہے مدرسہ کی زندگی صرف کتابیں یاد کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ اپنے نفس کو سنوارنے اپنے اخلاق کو بہتر بنانے اور اپنی زندگی کو ایک خاص مقصد کے تابع کرنے کا نام ہے۔ یہاں انسان کو صبر سکھایا جاتا ہے عاجزی سکھائی جاتی ہے بڑوں کی عزت اور چھوٹوں پر شفقت کرنا سکھایا جاتا ہے۔
اکثر راتوں کو ایسا بھی ہوتا ہے کہ تھکن سے جسم ٹوٹ رہا ہوتا ہے آنکھوں میں نیند بھری ہوتی ہے لیکن پھر بھی سبق یاد کرنا ہوتا ہے۔ کبھی دل چاہتا ہے کہ بس آج آرام کر لیا جائے مگر ذمہ داری کا احساس انسان کو دوبارہ کتاب کی طرف لے آتا ہے۔ یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جب انسان اپنے آپ سے لڑتا ہے اپنی خواہشات کو قابو میں کرتا ہے اور اپنے مقصد کو ترجیح دیتا ہے۔
مدرسہ میں رہتے ہوئے انسان کو سادگی کی عادت ہو جاتی ہے۔ نہ زیادہ خواہشات نہ دنیاوی آسائشوں کی فکر بس علم حاصل کرنا ہی سب سے بڑی چاہت بن جاتی ہے۔ آہستہ آہستہ یہی سادگی انسان کے مزاج کا حصہ بن جاتی ہے اور وہ ہر حال میں شکر ادا کرنا سیکھ لیتا ہے۔
پھر ایک وقت آتا ہے جب سالوں کی محنت رنگ لاتی ہے۔ جب کوئی طالب علم قرآن مجید حفظ کر لیتا ہے یا عالم کی سند حاصل کر لیتا ہے تو اس لمحے کی خوشی الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتی۔ اس کے پیچھے چھپی ہوتی ہیں وہ بے شمار راتیں وہ آنسو وہ دعائیں اور وہ قربانیاں جو اس نے اس راستے میں دی ہوتی ہیں۔
اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ راستہ صرف دنیاوی کامیابی کے لیے نہیں ہوتا بلکہ آخرت کی کامیابی کے لیے ہوتا ہے۔ یہی سوچ انسان کو ہر مشکل میں ثابت قدم رکھتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کی محنت رائیگاں نہیں جائے گی بلکہ اس کا اجر اسے ضرور ملے گا۔
اس لیے جب کوئی کہتا ہے کہ حافظ یا عالم بننا آسان ہے تو دل چاہتا ہے کہ اسے اس زندگی کا ایک دن دکھایا جائے تاکہ وہ خود دیکھ سکے کہ اس کے پیچھے کتنی محنت کتنی قربانی اور کتنی لگن چھپی ہوتی ہے۔ یہ راستہ واقعی مشکل ضرور ہے مگر جو اس پر ثابت قدم رہتا ہے وہی اصل کامیابی حاصل کرتا ہے۔
اے اللہ ربّ العزت ہمیں علم نافع عمل صالح اور اخلاص کامل عطا فرما اور ہماری محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما آمین ثم آمین یارب العالمین ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے