कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کل کی بریانی: بریانی کم، یادوں کا زیادہ دم!

Yesterday’s Biryani: Less Biryani, More Memories on the Dum!

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

بریانی محض ایک کھانا نہیں، برصغیر کی تہذیبی یادداشت کا ایک خوشبودار باب ہے۔ چاول کے دانوں میں جب مصالحوں کی مہک، گوشت کی لطافت اور دم کی سنجیدگی شامل ہو جائے تو ایک ایسی تخلیق جنم لیتی ہے جو معدے سے زیادہ دل پر اثر کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بریانی کا ذکر آتے ہی گفتگو میں ایک عجیب سی سنجیدگی اور آنکھوں میں ہلکی سی چمک پیدا ہو جاتی ہے، گویا کسی پرانے محبوب کا نام لے لیا گیا ہو۔
لیکن اس تمام سنجیدگی کے بیچ ایک عجیب و غریب مظہر بھی ہے "کل کی بریانی”۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک محفل میں بریانی بنوائی گئی۔ دیگ ایسی پکی کہ خوشبو نے دیواروں کو بھی بھوکا کر دیا۔ لوگ ایسے ٹوٹے کہ دیگ نے بھی شاید سوچا ہوگا "یہ انسان ہیں یا آثارِ قدیمہ کے ماہرین جو مجھے کھرچ کھرچ کر تحقیق کر رہے ہیں؟”۔ خیر، دیگ صاف ہوئی، محفل برخاست ہوئی، اور سب نے ڈکار کو تہذیب کا لبادہ پہنا کر "الحمدللّٰہ” کہا۔
مگر اصل ڈرامہ اگلے دن شروع ہوا۔ جب دوبارہ دعوت کا اعلان ہوا تو میزبان نے حسبِ روایت مسکراتے ہوئے پوچھا: "فرمائیے، کیا پیش کیا جائے؟”۔ جواب میں نہ کوئی توقف تھا، نہ تردد! بس ایک سادہ مگر معنی خیز جملہ ادا ہوا "وہی… کل والی بریانی!”۔ یہیں سے گویا ایک نیا باب کھلتا ہے، اور بات محض کھانے سے نکل کر ایک لطیف فلسفے کی طرف مڑ جاتی ہے۔ میں کچھ الجھن میں پڑ گیا کہ آخر یہ "کل والی بریانی” ہے کیا؟ کیا یہ واقعی کوئی الگ اور مخصوص ڈش ہے جس کی ترکیب صرف ایک دن میں جنم لیتی ہے؟ یا اس کے پیچھے کوئی پوشیدہ روحانیت کارفرما ہے؟
غور کیا تو محسوس ہوا کہ معاملہ شاید اس قدر پیچیدہ بھی نہیں، بلکہ یہ ہماری یادداشت، ذائقے اور احساسات کا ایک حسین امتزاج ہے۔ دراصل "کل والی بریانی” کسی خاص ترکیب کا نام نہیں، بلکہ اس لذت، اس ماحول اور اس لمحے کی بازگشت ہے جو گزشتہ دن ہمیں میسر آیا تھا۔ انسان صرف ذائقہ نہیں چکھتا، وہ وقت، صحبت اور کیفیت کو بھی محسوس کرتا ہے اور پھر لاشعوری طور پر اسی تجربے کی تکرار چاہتا ہے۔ یوں "کل والی بریانی” ایک پکوان سے بڑھ کر ایک کیفیت بن گئی۔ ایک ایسی کیفیت جسے ہم دوبارہ جینا چاہتے ہیں، مگر جو بعینہٖ کبھی واپس نہیں آتی۔
کل کی بریانی” سن کر احباب کے چہروں پر ایسی سنجیدگی آ گئی جیسے کسی صوفی نے وجد میں آ کر کوئی راز کی بات کہہ دی ہو۔ بعض احباب تو باقاعدہ آنکھیں بند کر کے یاد کرنے لگے کہ کل والے چاول کا دانہ لمبا زیادہ تھا یا خوشبو میں لونگ کا تناسب زیادہ تھا! گویا بریانی نہیں، کوئی تاریخی معاہدہ زیرِ بحث ہو! یہ منظر دیکھ کر میری الجھن اور بھی گہری ہو گئی۔ میں سوچنے لگا کہ آخر ایک سادہ سا پکوان اتنی باریکی سے تجزیے کا موضوع کیسے بن گیا؟ مگر پھر آہستہ آہستہ بات سمجھ میں آنے لگی کہ یہ محض ذائقے کی تلاش نہیں، بلکہ اُس لمحے کی بازیافت کی کوشش ہے جو گزر چکا ہے۔
اصل میں انسان کا حافظہ بھی عجیب شے ہے… وہ کسی خوشگوار تجربے کو صرف یاد نہیں رکھتا، بلکہ اسے نکھار کر، سنوار کر ایک مثالی صورت میں ڈھال دیتا ہے۔ چنانچہ "کل کی بریانی” حقیقت سے زیادہ ایک تصور بن جاتی ہے، ایک ایسا تصور جس میں ذائقہ بھی کامل ہوتا ہے، خوشبو بھی بے مثال، اور محفل بھی بے داغ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ احباب بریانی کی نہیں، بلکہ اُس کامل لمحے کی تلاش میں ہیں جو شاید کل تھا… مگر آج صرف یادوں میں باقی ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ محفلِ طعام یکایک محفلِ تحقیق میں بدل گئی ہو، جہاں ہر شخص اپنی یادداشت کے کاغذات الٹ پلٹ کر اس نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہو کہ آخر کل کے ذائقے میں وہ کون سا نادیدہ عنصر شامل تھا جو آج کے دسترخوان سے غائب ہو گیا ہے۔ چنانچہ گفتگو کھانے سے زیادہ "یاد کے ذائقے” پر مرکوز ہو جاتی ہے، اور بریانی بیچاری تصور کی پلیٹ میں پڑی یہ سوچتی رہ جاتی ہے کہ آخر اس کی کمی کیا رہ گئی ہے۔ اسی کشمکش میں مجھے یوں محسوس ہوا کہ مسئلہ نہ تو چاول کا ہے، نہ مصالحوں کا، اور نہ ہی باورچی کی مہارت کا۔ اصل معاملہ اُس کیفیت کا ہے جو وقت کے ساتھ بدل جاتی ہے۔
کل کی محفل میں جو بے تکلفی، جو تازگی اور جو انجانی سی خوشی شامل تھی، وہی دراصل اس بریانی کا اصل ذائقہ تھی اور وہی آج ناپید ہے۔ یوں "کل کی بریانی” ایک لطیف استعارہ بن کر سامنے آتی ہے؛ ایک ایسا استعارہ جو ہمیں یہ بتاتا ہے کہ بعض لذتیں صرف اجزاء سے نہیں بنتیں، بلکہ حالات، جذبات اور لمحوں کے امتزاج سے جنم لیتی ہیں۔ اور جب وہ لمحے گزر جاتے ہیں تو ہم لاکھ کوشش کریں، وہی ذائقہ دوبارہ میسر نہیں آتا صرف اس کی یاد رہ جاتی ہے، جو ہر بار حقیقت سے کچھ زیادہ ہی خوش ذائقہ محسوس ہوتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ "کل کی بریانی” ایک نفسیاتی کیفیت ہے۔ جب کوئی چیز ہمیں شدّت سے پسند آتی ہے تو ہم اسے وقت کے فریم میں قید کر دیتے ہیں۔ پھر ہر نیا تجربہ اس پر پورا اترنے کی کوشش کرتا ہے، مگر ناکام رہتا ہے۔ یوں "کل” ایک معیار بن جاتا ہے، اور "آج” ہمیشہ امتحان میں فیل ہوتا رہتا ہے۔ اسی نکتے پر آ کر بات مزید واضح ہو جاتی ہے کہ ہم دراصل حال کو نہیں چکھتے، بلکہ ماضی کے سانچے میں پرکھتے ہیں۔ ہماری توقعات، ہماری یادوں کے تابع ہو جاتی ہیں، اور یادیں جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہمیشہ حقیقت سے کچھ زیادہ ہی دلکش ہوتی ہیں۔ چنانچہ آج کی بہترین بریانی بھی کل کی یاد کے مقابلے میں پھیکی محسوس ہونے لگتی ہے۔
یہی انسانی فطرت کا وہ لطیف پہلو ہے جہاں لطف اور محرومی ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ ہم جس چیز کو محفوظ کرنا چاہتے ہیں، وہی وقت کے ساتھ ایک معیار بن کر ہمارے حال پر غالب آ جاتی ہے۔ یوں انسان لاشعوری طور پر ماضی کی لذت کا اسیر ہو جاتا ہے، اور حال کی نعمت سے پوری طرح لطف اندوز نہیں ہو پاتا۔ شاید اس قصّے کا اصل سبق یہی ہے کہ ذائقہ صرف زبان سے نہیں، بلکہ دل و دماغ کے توازن سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر ہم "کل” کی گرفت سے نکل کر "آج” کو اس کے اپنے رنگ میں قبول کر لیں، تو ممکن ہے کہ ہر نئی بریانی ہمیں ایک نیا ذائقہ، ایک نیا لطف اور ایک نئی خوشی عطاء کرے جو کسی ماضی کے سائے کی محتاج نہ ہو۔
ماہرینِ "بریانیات” کے مطابق انسان کا حافظہ بھی عجیب شے ہے۔ جو چیز کل پلیٹ میں چھوٹ گئی تھی، آج یادوں میں وہی سب سے لذیذ لگتی ہے۔ یعنی جو بوٹی کل نظر انداز ہوئی، آج وہی تصور میں شہنشاہ بن کر ابھرتی ہے! یوں گویا ذائقہ زبان سے زیادہ ذہن کی پیداوار بن جاتا ہے، جہاں حقیقت پیچھے رہ جاتی ہے اور یاد اپنے ہی مصالحوں سے ایک نئی بریانی تیار کر لیتی ہے۔ چنانچہ آج کی پلیٹ خواہ کتنی ہی عمدہ کیوں نہ ہو، اسے کل کی یادوں کے مقابلے میں ہمیشہ کم تر ہی سمجھا جاتا ہے اور انسان اسی خیالی دسترخوان پر سیر ہو کر بھی ایک نامکمل سی آس لیے بیٹھا رہتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں مزاح آہستہ آہستہ حکمت میں ڈھلنے لگتا ہے۔ انسان دراصل صرف کھانے کا نہیں، بلکہ اپنے تجربات کا اسیر ہو جاتا ہے۔ وہ جو لطف ایک لمحے میں پا لیتا ہے، اسے ہمیشہ کے لیے قائم دیکھنا چاہتا ہے، مگر وقت کا دستور اس کے برعکس ہے۔ وہ کسی ذائقے کو دہراتا نہیں، بلکہ ہر بار ایک نیا رنگ، ایک نئی کیفیت لے کر آتا ہے۔ یوں "کل کی بریانی” ایک ہلکے پھلکے جملے سے بڑھ کر زندگی کا استعارہ بن جاتی ہے۔ ہم اکثر اپنی خوشیوں، کامیابیوں اور تعلقات کو بھی اسی پیمانے پر ناپنے لگتے ہیں؛ ماضی کے ایک حسین لمحے کو معیار بنا کر حال کو کمتر سمجھتے ہیں۔ نتیجتاً نہ ماضی ہاتھ آتا ہے، نہ حال پوری طرح جیا جاتا ہے۔ اگر اس لطیف حقیقت کو سمجھ لیا جائے تو شاید ہم اس دائمی تقابل سے نجات پا سکیں۔ پھر نہ "کل” ہمیں دھوکہ دے گا، نہ "آج” ہمیں مایوس کرے گا، بلکہ ہر نیا لمحہ اپنی الگ لذت کے ساتھ ہمارے سامنے آئے گا اور ہم اسے کسی پرانی بریانی کے سائے کے بغیر، پورے ذوق و شوق سے قبول کر سکیں گے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ اگر میزبان اگلے دن وہی ترکیب، وہی چاول، وہی مصالحے اور وہی باورچی لے آئے، تب بھی مہمان کہیں گے:
بات تو ہے… مگر کل والی بات نہیں!”۔ گویا مسئلہ بریانی میں نہیں، بلکہ "کل” میں ہے۔
طنز کا پہلو دیکھیے کہ ہم زندگی کے ہر شعبے میں "کل کی بریانی” تلاش کرتے ہیں۔
تعلیم میں: "پرانے استادوں جیسی بات نہیں رہی!”
سیاست میں: "وہ پرانے لیڈر کہاں!”
اور رشتوں میں: "پہلے جیسی محبت نہیں رہی!”
یعنی ہم حال کو ہمیشہ ماضی کے چمچ سے ناپتے ہیں اور پھر شکوہ کرتے ہیں کہ ذائقہ کم ہے۔ یہیں سے بات ایک گہری معنویت اختیار کر لیتی ہے۔ دراصل ہم ماضی کو صرف یاد نہیں کرتے، بلکہ اسے مثالی بنا دیتے ہیں۔ اس کی کمزوریاں دھندلا جاتی ہیں اور خوبیاں نکھر کر سامنے آتی ہیں۔ پھر جب حال کو اسی غیر مرئی معیار پر پرکھتے ہیں تو وہ لازماً کم تر محسوس ہوتا ہے۔
یوں زندگی ایک عجیب تضاد کا شکار ہو جاتی ہے؛ ہم حال میں رہتے ہیں، مگر جیتے ماضی میں ہیں۔ نتیجہ یہ کہ نہ آج کی نعمتوں سے پوری طرح لطف اٹھا پاتے ہیں، نہ کل کی یادوں سے مکمل طور پر آزاد ہو پاتے ہیں۔ شاید اس پوری حکایت کا نچوڑ یہی ہے کہ ذائقہ صرف اجزاء میں نہیں، زاویۂ نگاہ میں بھی ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنے ذوق کو ماضی کی قید سے آزاد کر لیں تو ممکن ہے کہ آج کی سادہ سی بریانی بھی ہمیں کل سے زیادہ لذیذ محسوس ہو۔ اور تب "کل کی بریانی” ایک حسرت نہیں، بلکہ ایک مسکراہٹ بن کر رہ جائے گی، جو ہمیں یاد تو آئے، مگر ہمارے حال پر سایہ نہ ڈالے۔
’’کل کی بریانی‘‘ دراصل انسان کے اس رویے کی علامت ہے جس میں وہ حال کی قدر کرنے کے بجائے ماضی کی مثالی تصویر بنا لیتا ہے۔ یہ ایک رومانوی فریب ہے، جس میں حقیقت سے زیادہ یاد کا مصالحہ شامل ہوتا ہے۔ اسی لیے جب ہم حال کے دسترخوان پر بیٹھتے ہیں تو ذائقہ صرف زبان تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ماضی کی چھان بین سے گزر کر ہمارے احساس کا حصّہ بنتا ہے۔ یادیں ہر لقمے پر اپنی مہر ثبت کرتی ہیں اور ہم لاشعوری طور پر ہر نئے تجربے کو ایک پرانے معیار کے ساتھ تولنے لگتے ہیں۔ نتیجتاً حال کی تازگی، اس کی انفرادیت اور اس کا اپنا حسن ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔
یہی وہ نفسیاتی الجھن ہے جہاں انسان اپنے ہی بنائے ہوئے معیار کا اسیر بن جاتا ہے۔ وہ جس ماضی کو سنوار کر سامنے رکھتا ہے، وہ دراصل ایک مکمل حقیقت نہیں بلکہ ایک منتخب تصویر ہوتی ہے۔ جس میں کمیوں کو نظر انداز کر کے خوبیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ پھر جب حال اس خیالی کسوٹی پر پورا نہیں اترتا تو شکوہ جنم لیتا ہے، حالانکہ مسئلہ حقیقت میں نہیں بلکہ ہمارے زاویۂ نظر میں ہوتا ہے۔ اگر ہم اس لطیف فرق کو سمجھ لیں تو شاید زندگی کا ذائقہ بدل جائے۔ پھر ہم ہر نئے لمحے کو اس کی اپنی تازگی کے ساتھ قبول کر سکیں گے، بغیر اس کے کہ اسے ماضی کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کریں۔ تب "کل کی بریانی” ایک دلکش یاد تو رہے گی، مگر ہمارے آج کی خوشیوں پر حاوی نہیں ہو سکے گی۔
اگر "کل کی بریانی” واقعی ایک حقیقت ہوتی تو یقین جانیے ریستورانوں کے بورڈ کچھ یوں ہوتے "آج تازہ بریانی دستیاب نہیں! صرف کل والی بریانی ملے گی!”۔ اور گاہک قطار میں کھڑے ہو کر کہتے: "بس یہی چاہیے!”۔ یوں لگتا کہ تازگی عیب بن گئی ہے اور باسی پن معیارِ ذوق ٹھہرا ہے۔ لوگ نوٹ گننے کے بجائے یادیں گن رہے ہوتے، اور باورچی کڑاہی میں نہیں بلکہ کل کے قصّوں میں دم دے رہا ہوتا۔ چنانچہ معاملہ کھانے کا کم اور یادوں کی تسکین کا زیادہ بن جاتا، جہاں پیٹ آج سے بھرتا ہے، مگر دل کل کے ذائقے پر ہی اَڑا رہتا ہے۔ یہ تصور جتنا مزاحیہ ہے، اتنا ہی حقیقت کے قریب بھی۔ ہم اپنی زندگیوں میں بھی کچھ ایسا ہی رویہ اختیار کیے رکھتے ہیں؛ جہاں ہم تازہ مواقع، نئے رشتے اور حال کی نعمتوں کو اس لیے کم تر سمجھ لیتے ہیں کہ وہ "کل” کی سی چمک نہیں رکھتے۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کی اصل لذت اسی تازگی میں پوشیدہ ہے جسے ہم نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یوں "کل کی بریانی” ایک دل چسپ طنز بن کر ہمیں آئینہ دکھاتی ہے کہ ہم کس طرح اپنے ہی احساسات کے دھوکے میں آ کر حال کی نعمتوں کو باسی سمجھنے لگتے ہیں۔ اگر ہم اس فریب سے نکل آئیں تو شاید ہمیں احساس ہو کہ جو کچھ آج ہمارے سامنے ہے، وہی کل کسی یاد کا حصّہ بن کر ہمیں اسی شدّت سے پکارے گا۔ پس دانش مندی اسی میں ہے کہ ہم آج کی پلیٹ کو کل کی حسرت بننے سے پہلے ہی اس کا پورا لطف اٹھا لیں کیونکہ حقیقت میں "کل کی بریانی” کبھی پلیٹ میں نہیں ہوتی، وہ ہمیشہ صرف یادوں میں ہی پکتی ہے۔
اور مزاح کا پہلو یہ ہے کہ اگر واقعی "کل کی بریانی” مل بھی جائے تو شاید ہم کہیں "یہ تو وہی ہے… مگر اب دل نہیں چاہ رہا!”۔ یہ جملہ دراصل اس پوری کہانی کا سب سے گہرا نکتہ ہے۔ انسان جس چیز کو شدّت سے چاہتا ہے، وہ اکثر اس کے مل جانے کے بعد اپنی کشش کھو دیتی ہے کیونکہ خواہش کا تعلق حقیقت سے کم اور تصور سے زیادہ ہوتا ہے۔ یوں ہم جس "کل” کے پیچھے دوڑتے ہیں، وہ مل کر بھی ویسا نہیں رہتا جیسا یاد میں تھا۔
یہی کہا جا سکتا ہے کہ بریانی ہمیشہ آج کی ہی اچھی ہوتی ہے! بس شرط یہ ہے کہ ہم اسے کل کے چشمے سے دیکھنا چھوڑ دیں۔ ورنہ دیگ بیچاری ہر روز یہی سوچتی رہے گی "میں تو پوری محنت سے پکتی ہوں، یہ انسان آخر کس دن کے ذائقے کے پیچھے ہیں؟”۔ پس اس ساری حکایت کا حاصل یہی ہے کہ زندگی کا ذائقہ بھی بریانی کی طرح ہے، یہ تبھی لطف دیتا ہے جب اسے اسی لمحے، اسی کیفیت میں چکھا جائے۔ اگر ہم ہر لقمے کو ماضی کی کسوٹی پر پرکھتے رہیں گے تو نہ حال کا مزہ آئے گا، نہ یادوں کی مٹھاس برقرار رہے گی۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ آج کی پلیٹ کو مسکرا کر قبول کیا جائے، کیونکہ کل جب یہ بھی یاد بنے گی تو شاید اسی شدّت سے ہمیں پکار رہی ہوگی۔
🗓 (25.04.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے