कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سمندر کی گہرائی میں اندھیرا کیوں ہوتا ہے؟

از قلم : عارف محمد خان، جلگاؤں

انسان صدیوں سے سمندر کی گہرائیوں کو ایک پراسرار دنیا سمجھتا آیا ہے۔ سطحِ سمندر پر روشنی، لہریں اور زندگی نظر آتی ہے، مگر جیسے جیسے ہم گہرائی میں جاتے ہیں، روشنی ختم ہوتی جاتی ہے اور ایک ایسا اندھیرا چھا جاتا ہے جس کا تصور بھی مشکل ہے۔ حیرت انگیز طور پر قرآنِ کریم نے اس حقیقت کو نہایت خوبصورت اور جامع انداز میں بیان کیا ہے، جس کی تصدیق آج جدید سائنس کر رہی ہے۔
قرآنی آیت اور مفہوم:
اللہ تعالیٰ سورۂ نور میں فرماتا ہے:
اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِيْ بَحْرٍ لُّجِّيٍّ يَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ ۚ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ ۚ اِذَآ اَخْرَجَ يَدَهٗ لَمْ يَكَدْ يَرٰىهَا ۗ وَمَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ
(سورۂ نور: 40)
ترجمہ:
“یا (ان کے اعمال) گہرے سمندر کی تاریکیوں کی مانند ہیں، جسے ایک موج ڈھانپے ہوئے ہے، اس کے اوپر ایک اور موج ہے، اس کے اوپر بادل ہیں۔ اندھیریاں ہی اندھیریاں ہیں، ایک دوسرے کے اوپر۔ جب وہ اپنا ہاتھ نکالتا ہے تو قریب ہے کہ اسے دیکھ نہ سکے، اور جسے اللہ نور نہ دے اس کے لیے کوئی نور نہیں۔”
*سمندر کی گہرائی میں اندھیرا سائنسی تجزیہ:*
1. روشنی کا تدریجی خاتمہ:
سورج کی روشنی جب پانی میں داخل ہوتی ہے تو اس کی شدت مسلسل کم ہوتی جاتی ہے۔ اس عمل کو Light Absorption کہا جاتا ہے۔
پانی مختلف طولِ موج (wavelengths) کو مختلف رفتار سے جذب کرتا ہے۔
سرخ رنگ سب سے پہلے ختم ہو جاتا ہے۔
نیلا رنگ سب سے آخر تک باقی رہتا ہے۔
تقریباً 1000 میٹر کے بعد روشنی مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے، جہاں مکمل اندھیرا چھا جاتا ہے۔
2. سمندر کی تہہ در تہہ ساخت:
سمندر صرف ایک سادہ پانی کا ذخیرہ نہیں بلکہ مختلف تہوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
(الف) سطحی حصہ (Sunlight Zone)
یہ حصہ تقریباً 200 میٹر تک ہوتا ہے جہاں روشنی وافر مقدار میں موجود ہوتی ہے۔
(ب) نیم تاریک حصہ (Twilight Zone)
یہ 200 سے 1000 میٹر تک ہوتا ہے، جہاں روشنی مدھم ہو جاتی ہے۔
(ج) مکمل تاریکی کا حصہ
1000 میٹر سے نیچے کا علاقہ Aphotic Zone کہلاتا ہے، جہاں سورج کی روشنی بالکل نہیں پہنچتی۔
3. لہروں کی دوہری نظام (Double Wave System):
قرآن میں “ایک موج کے اوپر دوسری موج” کا ذکر انتہائی اہم ہے۔ جدید سائنس کے مطابق سمندر میں دو طرح کی لہریں ہوتی ہیں:
سطحی لہریں (Surface Waves)
گہرائی میں موجود اندرونی لہریں
یہ phenomenon Internal Waves کہلاتا ہے۔
یہ اندرونی لہریں مختلف درجۂ حرارت اور کثافت کی تہوں کے درمیان پیدا ہوتی ہیں اور روشنی کو مزید منتشر (scatter) کر دیتی ہیں۔
4. بادلوں اور سطحی اثرات کا کردار:
قرآن میں بادلوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے، جو سائنسی طور پر بالکل درست ہے۔
بادل سورج کی روشنی کو زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی کم کر دیتے ہیں۔
پانی کی سطح پر جھاگ، گرد و غبار اور دیگر ذرات روشنی کو مزید کم کر دیتے ہیں
یوں اندھیرا “تہہ در تہہ” بنتا جاتا ہے۔
5. روشنی کا بکھراؤ (Scattering):
پانی کے مالیکیولز اور ذرات روشنی کو مختلف سمتوں میں بکھیر دیتے ہیں۔اس عمل کو Light Scattering کہا جاتا ہے۔
یہ بھی روشنی کے ختم ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔
6. گہرے سمندر کی مخلوقات اور اندھیرا:
اندھیرے کے باوجود سمندر کی گہرائی میں زندگی موجود ہے
کچھ مخلوقات اپنی روشنی خود پیدا کرتی ہیں۔
اس عمل کو Bioluminescence کہتے ہیں یہ phenomenon Bioluminescence کہلاتا ہے
مثلاً بعض مچھلیاں شکار کو متوجہ کرنے کے لیے روشنی پیدا کرتی ہیں۔
مثل ان اندھیروں کی ہے جو نہایت گہرے سمندر کی تہہ میں ہوں جسے اوپر تلے کی موجوں نے ڈھاب رکھا ہو "یہ ایت جب جدہ یونیورسٹی کے ایک ماہر بحریات پروفیسر درگاراؤ نے سنی تو وہ کہہ اٹے کے 1400 سال پہلے کوئی عام انسان اس مظہر کو اتنی تفصیل سے بیان نہیں کر سکتا لہذا یہ معلومات یقینا کسی مافوق الفطرت کے ذریعے ائی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے