कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ضمیرِ انسانی کی بیداری: ویتنام کا سوال اور غزّہ کی بازگشت

Awakening of the Human Conscience: The Question from Vietnam and the Echoes of Gaza

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

دنیا کی تاریخ میں بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں جو محض واقعات نہیں رہتے بلکہ انسانی ضمیر کی بیداری کا استعارہ بن جاتے ہیں۔ ویتنام کی سر زمین پر پیش آنے والا حالیہ واقعہ بھی اسی نوعیت کا ایک لمحہ ہے، جہاں ایک برطانوی خاتون نے ایک اسرائیلی سیاح کو روک کر نہایت سادہ مگر کرب انگیز سوال کیا: "کیا تم نے بے گناہ بچّے مارے؟”۔ یہ سوال بظاہر ایک فرد سے تھا، مگر حقیقت میں یہ پوری انسانیت کے نام ایک استغاثہ تھا۔ ایک ایسا سوال جو غزّہ کے ملبوں تلے دبے معصوموں کی طرف سے بلند ہو رہا ہے، ایک ایسا سوال جو ان ماؤں کی آہوں میں پوشیدہ ہے جن کی گودیں اجڑ چکی ہیں، اور ان بچّوں کی خاموش چیخوں میں گونج رہا ہے جن کے خواب بارود کی نذر ہو گئے۔
یہ واقعہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ دنیا اب محض خاموش تماشائی بن کر نہیں رہنا چاہتی۔ وہ زمانہ گزر چکا جب ظلم کے مناظر کو صرف خبروں تک محدود سمجھا جاتا تھا۔ آج ہر باضمیر انسان خود کو ایک اخلاقی عدالت کا جج سمجھتا ہے، جہاں سوال صرف یہ نہیں کہ کیا ہوا، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیوں ہوا اور کس نے کیا۔ اس برطانوی خاتون کا یہ جملہ کہ "جہاں بھی جاؤ گے، لوگ تم سے نفرت کریں گے”۔ درحقیقت کسی فرد کے خلاف نفرت کا اظہار نہیں، بلکہ ظلم کے نظام کے خلاف ایک اجتماعی اعلانِ برأت ہے۔ یہ اس عالمی شعور کا اظہار ہے جو اب مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونے کو اپنی انسانی ذمّہ داری سمجھتا ہے۔
عالمی قوانین، خصوصاً جنیوا کنونشن (Geneva Conventions)، اس امر کو یقینی بنانے کے لیے وضع کیے گئے ہیں کہ جنگ کی ہولناکیوں کے باوجود انسانی اقدار پامال نہ ہوں۔ ان قوانین کے تحت شہریوں، بچّوں اور خواتین کا تحفّظ ہر حال میں لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے منشور میں بھی صراحت کے ساتھ یہ اصول بیان کیا گیا ہے کہ کسی بھی حالت میں غیر مسلح افراد کو نشانہ بنانا ایک سنگین اور ناقابلِ معافی جرم ہے۔ چنانچہ اس قانونی اور اخلاقی پس منظر میں جب ہم غزّہ کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ حقیقت مزید واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ یہ معاملہ محض ایک سیاسی تنازع نہیں، بلکہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور انسانی ضمیر کے لیے ایک کھلا چیلنج بن چکا ہے۔
غزّہ آج محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں رہا، بلکہ وہ انسانی تاریخ کے ان المیوں میں شامل ہو چکا ہے جو صدیوں تک یاد رکھے جاتے ہیں۔ یہاں کی تباہ شدہ عمارتیں، اجڑے ہوئے گھر، اور خون میں لتھڑی گلیاں انسانیت کے چہرے پر ایک ایسا داغ ہیں جسے محض سیاسی بیانات سے دھویا نہیں جا سکتا۔ یہاں مرنے والے صرف افراد نہیں، بلکہ انسانیت کی امیدیں ہیں؛ یہاں بہنے والا خون صرف جسموں کا نہیں، بلکہ عالمی انصاف کے دعووں کا بھی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ محض حالیہ واقعات کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک طویل اور پیچیدہ تاریخی سلسلے کی کڑی ہے۔ اس کی جڑیں بیسویں صدی کے اوائل میں ہونے والی نوآبادیاتی سیاست اور تقسیم کے منصوبوں میں پیوست ہیں، جنہوں نے اس خطے کے فطری توازن کو بگاڑ دیا۔ 1948ء کے بعد سے مسلسل جاری تنازعات نے اس سر زمین کو عدمِ استحکام، خوف اور بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا رکھا ہے، اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ زخم مزید گہرے ہوتے چلے گئے ہیں۔ اسی تسلسل میں غزّہ آج اس پوری تاریخ کا سب سے المناک اور دلخراش باب بن کر ابھرا ہے، جہاں ماضی کی ناانصافیاں حال کے المیوں میں ڈھل کر انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہیں۔
ویتنام کا یہ واقعہ اس وسیع تر عالمی ردِّ عمل کا ایک عکس ہے جو آج دنیا کے مختلف گوشوں میں نظر آ رہا ہے۔ سڑکوں پر نکلنے والے احتجاج، سوشل میڈیا پر اٹھنے والی آوازیں، اور ایسے انفرادی واقعات یہ سب اس بات کی دلیل ہیں کہ انسانیت کا ضمیر ابھی مکمل طور پر مردہ نہیں ہوا۔ یہ بیداری ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ظلم خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اس کے خلاف اٹھنے والی ایک سچی آواز بھی تاریخ کا رخ موڑ سکتی ہے۔ ایک خاتون کا سوال، ایک فرد کی جرات یہی وہ چنگاریاں ہیں جو بڑے انقلابات کا پیش خیمہ بنتی ہیں۔
اسی تناظر میں اگر عالمی ردِّ عمل کا جائزہ لیا جائے تو ایک غیر معمولی بیداری صاف دکھائی دیتی ہے۔ حالیہ عرصے میں دنیا کے بڑے شہروں لندن، نیویارک، پیرس، استنبول اور دہلی میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور اپنے ضمیر کی آواز بلند کی۔ یہ محض وقتی احتجاج نہیں تھے، بلکہ ایک گہری انسانی بے چینی اور اخلاقی اضطراب کا اظہار تھے۔ یوں یہ مظاہرے اس حقیقت کی واضح دلیل بن کر سامنے آتے ہیں کہ یہ مسئلہ اب صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہا، بلکہ ایک ہمہ گیر عالمی انسانی مسئلہ کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس نے سرحدوں، قومیتوں اور مذاہب کی حد بندیوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
عصرِ حاضر کی جنگوں کا مزاج یکسر تبدیل ہو چکا ہے، جہاں محاذ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہا بلکہ ذہنوں اور افکار تک پھیل چکا ہے۔ موجودہ دور میں جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑی جاتی بلکہ بیانیے (Narrative) کے ذریعے بھی لڑی جاتی ہے۔ میڈیا، سوشل میڈیا اور اطلاعات کے ذرائع اس غیر مرئی جنگ کا اہم ترین محاذ بن چکے ہیں، جہاں الفاظ، تصاویر اور خبریں رائے عامہ کی تشکیل کرتی ہیں۔ ایسے نازک ماحول میں سچ اور جھوٹ میں امتیاز کرنا، اطلاعات کی تہہ تک پہنچنا، اور مظلوم کی درست نمائندگی کرنا ہر صاحبِ شعور فرد کی ایک اہم اخلاقی اور فکری ذمّہ داری بن جاتی ہے، تاکہ حقیقت مسخ نہ ہو اور انصاف کی آواز دبنے نہ پائے۔
مسلمانانِ عالم کے لیے یہ لمحہ محض جذباتی ردِّ عمل کا نہیں، بلکہ فکری اور عملی بیداری کا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مظلوم کی حمایت صرف نعرہ نہیں، بلکہ ایک دینی، اخلاقی اور انسانی فریضہ ہے۔ قرآن ہمیں ظلم کے خلاف کھڑے ہونے اور انصاف کا ساتھ دینے کی تلقین کرتا ہے۔ یہی وہ اصول ہے جو ہمیں نہ صرف غزّہ بلکہ دنیا کے ہر مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونے کا حوصلہ دیتا ہے۔
ویتنام کا یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا بدل رہی ہے۔ اب خاموشی کو رضا مندی نہیں سمجھا جائے گا، اور ظلم کو محض ایک "تنازع” کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکے گا۔ یہ ایک نئے دور کا آغاز ہے! ایسا دور جہاں ایک عام انسان بھی ظلم کے ایوانوں کو للکار سکتا ہے، جہاں ایک سادہ سوال بھی طاقتوروں کے لیے آئینہ بن سکتا ہے، اور جہاں انسانیت کا ضمیر، تمام تر جبر کے باوجود، زندہ رہنے کی جدوجہد کر رہا ہے۔ یہ ابھرتی ہوئی عالمی بیداری محض ایک وقتی ردِّ عمل نہیں، بلکہ اپنے اندر ایک سنجیدہ فکری تقاضا سموئے ہوئے ہے۔ چنانچہ اس بیداری کا حقیقی تقاضا یہی ہے کہ ہم محض جذباتی اظہار تک محدود نہ رہیں، بلکہ شعوری، فکری اور عملی سطح پر بھی اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔
یہ کردار مختلف صورتوں میں سامنے آ سکتا ہے؛ چاہے وہ سچ کی ترویج ہو، مظلوم کے حق میں آواز بلند کرنا ہو، یا اپنی آنے والی نسلوں کو انصاف، دیانت اور انسانیت کے آفاقی اصولوں سے روشناس کرانا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ پائیدار تبدیلی صرف نعروں اور وقتی جذبات سے جنم نہیں لیتی، بلکہ مسلسل شعور، احساسِ ذمّہ داری اور عملی جدوجہد کے امتزاج سے پروان چڑھتی ہے۔ یہی اس بیداری کی اصل روح ہے اور یہی اس کا پیغام بھی کہ سچ کو وقتی طور پر دبایا تو جا سکتا ہے، مگر اسے کبھی مٹایا نہیں جا سکتا۔ اسی تناظر میں یہ حقیقت بھی پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ انسان کی اصل آزمائش اس کے الفاظ سے نہیں، بلکہ اس کے موقف اور عمل سے ہوتی ہے۔ ایسے نازک اور فیصلہ کن لمحات میں غیر جانبداری بسا اوقات خاموش تائید بن جاتی ہے، اور خاموشی بھی ایک طرح کی گواہی شمار ہوتی ہے۔
اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ عدل و انصاف محض نظریاتی اصول نہیں بلکہ ایک زندہ ذمّہ داری ہے۔ ایسی ذمّہ داری جس کا تقاضا ہے کہ انسان ہر حال میں حق کا ساتھ دے، خواہ وہ اس کے اپنے مفاد کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ قرآنِ مجید کی یہ رہنمائی کہ "کسی قوم کی دشمنی تمہیں انصاف سے نہ ہٹا دے” دراصل ایک آفاقی اصول ہے، جو ہر دور اور ہر معاشرے کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ انسانی نقطۂ نظر سے بھی یہی حقیقت مسلم ہے کہ ظلم کہیں بھی ہو، وہ ہر جگہ کے انصاف کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ اگر ہم کسی ایک مظلوم کی فریاد کو نظر انداز کرتے ہیں تو درحقیقت ہم پوری انسانیت کے ضمیر کو کمزور کر رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم تعصبات، مفادات اور وقتی جذبات سے بلند ہو کر حق اور انصاف کو اپنا معیار بنائیں۔
یہ لمحہ ہمیں اپنے باطن کا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ کیا ہم سچ کے گواہ ہیں یا محض تماشائی؟ کیا ہم مظلوم کے ساتھ کھڑے ہیں یا طاقت کے سائے میں خاموش ہیں؟ یہ سوالات محض فکری نہیں بلکہ ہمارے ایمان، ہماری انسانیت اور ہمارے مستقبل سے جڑے ہوئے ہیں۔ حق کو پہچاننا، اس کا ساتھ دینا، اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہی وہ راستہ ہے جو انسان کو حقیقی معنوں میں باوقار بناتا ہے۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم عارضی ہوتا ہے، مگر سچ اور انصاف کی بنیادیں ہمیشہ باقی رہتی ہیں۔ اور یہی امید، یہی پیغام ہے! کہ سچ کو دبایا جا سکتا ہے، مگر اسے مٹایا نہیں جا سکتا؛ اور انسانیت کا چراغ، تمام تر آندھیوں کے باوجود، بجھنے نہیں پاتا۔
🗓 (17.04.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے