कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ایک خاتون کی بیداری ساری امت کی بیداری کے لیے کافی

جامعۃ البنات حیدرآباد میں مولانا محمد جمیل الدین صدیقی کا فکر انگیز خطاب

حیدرآباد۔17/اپریل (راست)اس وقت سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اپنی نئی نسل کے ایمان کی حفاظت کیسے کریں؟اس کا واحد حل یہ ہے کہ آپ اپنا وقت فارغ کریں وقت کا صحیح استعمال کریں اس کو مینیج کرنا سیکھیں جس طرح باضابطہ ٹائم مینجمنٹ کی تعلیم و تربیت دی جاتی ہے ٹھیک اسی طرح اپنے وقت کو مینیج کرنا سیکھ لیں گے اور کام کریں گے تو آپ کو فرصت نہیں ملے گی۔ہزاروں کام ہیں نئے نئے تقاضے ہیں۔دین کی حفاظت کا معاملہ ہے اس کی نشر و اشاعت کا معاملہ ہے اس کی دعوت کا معاملہ ہے اس پر استقامت اختیار کرنے کا معاملہ ہے۔اج بڑے پیمانے پر ہماری بیٹیاں ارتداد کا شکار ہو رہی ہیں۔ یاد رکھیں کہ آپ اپنے اپ کو اور اپنے گھر کے ماحول کو بدلیں گے تو یقینا سارا معاشرہ اور سارا سماج بدل کر رہے گا۔اپنے کام اور مشن کی تکمیل کے لیے کسی سے مرعوب ہونے کی ضرورت نہیں آپ کے پاس جو قیمتی اثاثہ ہے وہ دنیا کی کسی قوم کے پاس موجود نہیں ہے۔اپنے اندر حوصلہ پیدا کریں ہمت سے کام لیں شکوے شکایت کی عادتوں سے بچیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ عہد کریں کہ زندگی کا کوئی لمحہ ضائع نہیں کریں گے۔اس وقت حال یہ ہے کہ ہم ہر لمحہ مختلف چیلنجوں کا مقابلہ کر رہے ہیں اس میں ہمیں ہر پہلو سے باخبر رہنا بھی ہوگا اور ایک نیا ماحول اور نئی لہر پیدا کرنے کے لیے ہمیں تیار رہنا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار مولانا محمد جمیل الدین صدیقی رکن شوری وحدت اسلامی ہند نے وحدت اسلامی کے زیر اہتمام جامعۃ البنات حیدرآباد میں ”موجودہ حالات میں مثالی ماؤں کا کردار“ کے عنوان سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مولانا نے کہا اسلام کی اشاعت اس کی دعوت اور اس پر استقامت کے سلسلے میں ہمیں اسلاف کی قربانیوں اور ان کے کاموں کو نمونہ بنانے کی ضرورت ہے اگر اج صرف ایک امت کی بیٹی بیدار ہو جائے تو یہ ساری امت کی بیداری کے لیے کافی ہوگا۔اپ یہ طے کر لیں کہ ہمیں اس فانی دنیا کے اندر آرام نہیں کرنا ہے بلکہ آرام جنت میں جا کر کے کرنا ہے تو ہر کام آسان ہوگا اور ہم اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طور پر ادا کر سکیں گے ہمارے سامنے حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالی عنہا کی مثال موجود ہے۔ہمارے سامنے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کی مثال موجود ہے۔ جن کی حوصلہ افزائی دلداری۔سپورٹ اور بہترین و مثالی مشوروں کے ذریعے اسلام کی آبیاری اس کی نشر و اشاعت اور رہبری و رہنمائی میں بڑی مدد ملی۔مولانا نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی بہت سے نوجوان اسلام اور ملت کی بیٹیاں دین کی سر بلندی کی خاطر صحیح نیت اور صحیح جذبے کے ساتھ اور پوری جرات کے ساتھ خدمت انجام دے رہے ہیں جس کے اچھے اثرات مرتب ہو رہے ہیں ضرورت ہے اس کام کو اور زیادہ فروغ دینے کی اور اس میں جان اور روح پھونکنے کی سارے سماج میں بیداری لانے کی۔اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ اپنے گھر میں دین اسلام کی نشر و اشاعت اور اس کی دعوت کے لیے کام کرنے والوں کا مکمل طور پر سپورٹ کریں ان کا ساتھ دیں ایسا کرنے کے نتیجے میں کام کی رفتار بڑھے گی اور یہ بھی ضروری ہے کہ چند خواتین اپنا وقت فارغ کر کے دو گھنٹے کے لیے ہی سہی سلم بستی میں جا کر وہاں کے لوگوں سے ملاقات کریں اور انہیں اسلام کے بارے میں سمجھائیں اور ان کے ایمان کی فکر کریں بہت سارے ایسے لوگ ہمارے سماج میں ہیں مرد حضرات میں سے بھی اور خواتین میں سے بھی کہ جن کو اللہ کا صحیح تعارف ہے اور نہ جناب نبی کریم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس لیے بہت ضروری ہے اپنا وقت ضائع کیے بغیر زندگی کے آخری لمحے تک اسلام کے کاز کو آگے بڑھائیں۔اور چہار جانب سے ہو رہی فکری یلغاروں سے امت کو بچانے کے اقدامات کریں۔اللہ تعالی ہم سب کو اس کی توفیق نصیب فرمائے آمین،جامعۃ البنات حیدرآباد میں منعقد کردہ اس پروگرام میں خواتین کی ایک کثیر تعداد شریک تھی۔
جاری کردہ: انتظامیہ جامعۃ البنات حیدرآباد

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے