कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مصنوعی ذہانت: جِن بوتل سے باہر آگیا!

ڈیجیٹل انقلاب کی قیمت: ایک نیا روشن عہد یا تباہی کی دستک؟

ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین
Mobile: 8275232355

نیروبی کی ایک پتھریلی گلی کے آخری سرے پر، جہاں سورج کی تپش کچی دیواروں سے لپٹی رہتی ہے، پچیس سالہ سیموئل ایک ایسے کام میں مصروف ہے جسے ٹیکنالوجی کی دنیا کا ’تاریک راز‘ کہا جا سکتا ہے۔ اس کے سامنے ایک پرانا لیپ ٹاپ ہے جس پر وہ گھنٹوں ہیبت ناک ویڈیوز، نفرت انگیز جملے اور انسانی تشدد کی بدترین مثالیں دیکھتا اور انہیں ‘ٹیگ’ کرتا ہے۔ سیموئل ان ہزاروں گمنام کارکنوں میں سے ایک ہے جنہیں سلیکون ویلی کے بڑے ادارے، جیسے اوپن اے آئی، محض ڈیڑھ سے دو ڈالر فی گھنٹہ کے عوض اس لیے رکھتے ہیں تاکہ ان کی بنائی ہوئی مصنوعی ذہانت (AI) یہ سیکھ سکے کہ انسانوں سے بات کرتے وقت کن برائیوں سے بچنا ہے۔ یہ اس نئے عہد کا وہ دل دہلا دینے والا تضاد ہے جہاں دنیا کی پیچیدہ ترین اور مہنگی ترین مشین کی بنیاد افریقہ اور ایشیا کے غریب ترین نوجوانوں کی ذہنی اذیت پر رکھی گئی ہے۔ ہم جس ’چیٹ جی پی ٹی‘ یا ’گوگل بارڈ‘ سے سیکنڈوں میں جواب پاتے ہیں، اس کے پیچھے ان گمنام مزدوروں کا خون اور پسینہ شامل ہے جنہیں ’ڈیجیٹل صفائی کرنے والے‘ کہا جاتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کا یہ سفر محض کوڈز اور ریاضی کا کمال نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا خاموش انسانی انقلاب ہے جو ہماری معیشت، سیاست اور یہاں تک کہ ہمارے سچ بولنے کے تصور کو بھی بدل رہا ہے۔
جب نومبر 2022 میں مصنوعی ذہانت کا یہ نیا دور شروع ہوا، تو اسے انسانیت کے لیے ایک ایسی نعمت قرار دیا گیا جو کینسر کا علاج ڈھونڈے گی اور غربت کا خاتمہ کرے گی۔ لیکن صرف ایک سال کے اندر اس کی چمک ماند پڑنے لگی اور حقیقت کی تلخی سامنے آئی۔ معیشت کے بڑے کھلاڑیوں، جیسے گولڈمین سیکس، نے اپنی مستند رپورٹوں میں خبردار کیا کہ یہ ٹیکنالوجی دنیا بھر میں 300 ملین مکمل وقتی ملازمتوں کو براہِ راست متاثر کر سکتی ہے۔ ماضی کے کارخانوں میں مشینوں نے مزدوروں کے ہاتھوں سے اوزار چھینے تھے، لیکن اس بار حملہ ’دماغ‘ پر ہوا ہے۔ اب ایک وکیل جو گھنٹوں دستاویزات پڑھتا تھا، ایک گرافک ڈیزائنر جو کئی دنوں میں خاکہ تیار کرتا تھا، اور ایک سافٹ ویئر انجینئر جو کوڈ لکھتا تھا، سب ایک ہی صف میں کھڑے خوفزدہ نظر آتے ہیں۔ 2023 میں ہالی وڈ کے رائٹرز اور اداکاروں کی 118 روزہ ہڑتال تاریخ کا وہ موڑ تھی جہاں انسان نے مشین کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کیا کہ ’تخلیق‘ صرف انسانی روح کا حق ہے، مشین کا نہیں۔ اس احتجاج نے ثابت کیا کہ اب یہ بحث صرف ٹیکنالوجی کی نہیں بلکہ انسانی وجود کے احترام اور روزگار کے تحفظ کی ہے۔
مگر کیا اس جدید ٹیکنالوجی کی قیمت صرف انسانی ملازمتیں ہیں؟ حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری اور خطرناک ہے۔ مصنوعی ذہانت کو چلانے والے دیو ہیکل ڈیٹا سینٹرز، جو زمین کے کسی کونے میں چھپے ہوتے ہیں، قدرتی وسائل کے بدترین دشمن بن کر ابھر رہے ہیں۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی ایک حالیہ تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ جب ہم مصنوعی ذہانت سے صرف 20 سے 50 سوالات پوچھتے ہیں، تو اس مشین کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے تقریباً آدھا لیٹر تازہ پانی استعمال کرنا پڑتا ہے۔ مائیکروسافٹ جیسی بڑی کمپنی کے پانی کے استعمال میں ایک سال کے اندر 34 فیصد اضافہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری ڈیجیٹل آسائشیں زمین کے آبی ذخائر کو تیزی سے چاٹ رہی ہیں۔ ہم بظاہر بادلوں یعنی ’کلاؤڈ‘ پر کام کر رہے ہیں، لیکن اس کا بوجھ زمین کے ندی نالوں اور بجلی کے پاور پلانٹس پر پڑ رہا ہے، جو ماحولیاتی تبدیلیوں کو مزید ہوا دے رہے ہیں۔
جوں جوں یہ ٹیکنالوجی طاقتور ہو رہی ہے، عالمی سیاست کے نقشے بھی بدل رہے ہیں۔ آج کی دنیا میں طاقت کا مرکز وہ میزائل نہیں جو ایٹمی وار ہیڈ لے جا سکیں، بلکہ وہ ’سیمی کنڈکٹر چپس‘ ہیں جو مصنوعی ذہانت کو حرکت دیتے ہیں۔ تائیوان کا ایک چھوٹا سا جزیرہ، جہاں دنیا کے 90 فیصد جدید ترین چپس بنتے ہیں، اب امریکہ اور چین کے درمیان تنازع کا اصل محور بن چکا ہے۔ واشنگٹن نے چین کو جدید ترین چپس کی فراہمی روک دی ہے، اور بیجنگ اپنی پوری طاقت اسے حاصل کرنے میں لگا رہا ہے۔ یہ ایک نئی ’سرد جنگ‘ ہے، جس کا ایندھن ڈیٹا اور پروسیسنگ پاور ہے۔ جو ملک اس دوڑ میں جیت جائے گا، وہ نہ صرف عالمی معیشت بلکہ آنے والے دور کی عسکری حکمت عملی اور سائبر سیکیورٹی پر بھی حکمرانی کرے گا۔ یہ ٹیکنالوجی اب صرف ایک پروڈکٹ نہیں، بلکہ قومی خودمختاری کا پیمانہ بن چکی ہے۔
سب سے پریشان کن پہلو وہ ہے جسے ہم ’سچ کا زوال‘ کہہ سکتے ہیں۔ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی نے آڈیو اور ویڈیو کے ذریعے جھوٹ کو اس قدر خوبصورت بنا دیا ہے کہ اب آنکھوں دیکھا اور کانوں سنا بھی ناقابلِ یقین ہو گیا ہے۔ 2024 اور 2025 کے عالمی انتخابات میں یہ دیکھا گیا کہ کس طرح جعلی ویڈیوز کے ذریعے ووٹرز کے ذہن بدلے گئے۔ جب ایک عام آدمی یہ تمیز نہ کر سکے کہ اس کی سکرین پر بولنے والا شخص اصلی ہے یا مصنوعی، تو جمہوریت کی پوری عمارت لڑکھڑانے لگتی ہے۔ ہم ایک ایسے عہد میں داخل ہو رہے ہیں جہاں معلومات کا سمندر تو ہے لیکن اس میں حقیقت کی ناؤ تلاش کرنا مشکل ترین ہوتا جا رہا ہے۔ یہ بحران صرف سیاست تک محدود نہیں، بلکہ یہ انسانی معاشرے کے اس باہمی اعتماد کو ختم کر رہا ہے جس پر ہماری سماجی زندگی کی بنیاد ہے۔
اسی تشویش نے ان لوگوں کو بھی بولنے پر مجبور کر دیا ہے جنہوں نے خود اس ٹیکنالوجی کو جنم دیا۔ جیفری ہنٹن، جنہیں دنیا ’مصنوعی ذہانت کا گاڈ فادر‘ مانتی ہے، جب مئی 2023 میں گوگل سے استعفیٰ دے کر سامنے آئے، تو پوری دنیا ششدر رہ گئی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ اپنی عمر بھر کی محنت پر اب افسوس محسوس کرتے ہیں کیونکہ ہم نے ایک ایسی ’غیر حیاتیاتی ذہانت‘ تخلیق کر دی ہے جو ہم سے زیادہ چالاک ہو سکتی ہے اور شاید ایک دن ہمیں اپنا غلام بنا لے۔ ہنٹن کی تنبیہ کوئی عام ڈر نہیں، بلکہ یہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ ہم نے ایک ایسے جِن کو بوتل سے باہر نکال دیا ہے جس کا قابو کرنا اب شاید ہمارے بس میں نہ رہے۔ یہ اخلاقی بحران اس وقت اور بھی سنگین ہو جاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ چند بڑی ٹیک کمپنیاں اس طاقت کی مالک بن چکی ہیں اور ایک نیا ’تکنیکی جاگیردارانہ نظام‘ قائم کر رہی ہیں جہاں ہم سب ان کے ڈیجیٹل مزارع ہیں۔
مستقبل کی اس دھندلی فضا میں جہاں اتنے خطرات ہیں، وہیں کچھ امید کی کرنیں بھی موجود ہیں۔ مصنوعی ذہانت طب کے شعبے میں معجزات دکھا رہی ہے۔ گوگل کے ’الفا فولڈ‘ جیسے سسٹمز نے پروٹین کی ساخت کا وہ معمہ حل کر دیا ہے جسے سلجھانے میں انسانوں کو شاید صدیاں لگ جاتیں۔ کینسر کی جلد تشخیص اور معذوری کا علاج اب حقیقت کے قریب تر ہے۔ تضاد یہی ہے کہ جو ٹیکنالوجی ہمیں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، وہی ہمیں بچانے کا سب سے بڑا ہتھیار بھی بن سکتی ہے۔ لیکن یہ سب اس بات پر منحصر ہے کہ ہم اسے کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ یورپی یونین کا ’اے آئی ایکٹ‘ اس سمت میں ایک جرات مندانہ قدم ہے تاکہ ان مشینوں کو قانون کے دائرے میں لایا جائے، لیکن جب تک پوری دنیا ایک ضابطہ اخلاق پر متفق نہیں ہوتی، یہ دوڑ خطرناک ہی رہے گی۔
آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مصنوعی ذہانت انسان کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ مشین کے پاس ڈیٹا ہو سکتا ہے، لیکن اس کے پاس ’حکمت‘ اور ’احساس‘ نہیں ہوتا۔ ہمیں اپنے نظامِ تعلیم کو بدلنا ہوگا تاکہ ہم ایسی نسل تیار کریں جو صرف انفارمیشن پروسیس نہیں کرے، بلکہ جو اخلاقیات، ہمدردی اور تنقیدی سوچ کی حامل ہو۔ ہمیں مشینوں کے اس دور میں مزید گہرائی سے ’انسان‘ بننے کی ضرورت ہے۔ ٹیکنالوجی کی یہ لہر آتی رہے گی، لیکن ہماری انسانیت، ہمارا وقار اور ہماری سچائی کا پاس وہ لنگر ہے جو ہمیں اس طوفان میں ڈوبنے سے بچا سکتا ہے۔ قلم اب بھی ہمارے ہاتھ میں ہے، اور ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسی داستان لکھنی ہے جہاں مشین انسان کی خادم ہو، مالک نہیں۔ یہ امتحان صرف سائنسدانوں کا نہیں، بلکہ ہم سب کا ہے، کیونکہ اس بار داؤ پر صرف نوکریاں نہیں، بلکہ انسانیت کا مستقبل لگا ہوا ہے۔

 

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے