कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ایک بابرکت اجتماع کی چشم دید روداد

از قلم :فضیل اختر قاسمی بھیروی
خادم دارالعلوم رحیمیہ پیلیر آندھراپردیش

یہ حقیقت ہے کہ بعض اوقات زندگی کے معمولات کے درمیان اچانک ایسے مواقع میسر آ جاتے ہیں جو نہ صرف دل و دماغ کو تازگی بخشتے ہیں بلکہ روحانی اعتبار سے بھی انسان کو ایک نئی کیفیت سے ہمکنار کر دیتے ہیں۔ ایسے ہی مواقع میں اہلِ ایمان کے اجتماعات خصوصیت رکھتے ہیں، جہاں ذکر و فکر، اخلاص و للہیت، اور اجتماعیت کی برکتیں ایک ساتھ جلوہ گر ہوتی ہیں۔ راقم کو بھی ایک ایسے ہی بابرکت تبلیغی اجتماع میں شرکت کا نادر موقع حاصل ہوا، جس کی یاد ابھی بھی دل و ذہن کو سرور و انبساط سے بھر دیتی ہے۔
واقعہ کچھ یوں ہوا کہ گزشتہ کل اچانک اطلاع ملی کہ ہمارے ادارہ *دارالعلوم رحیمیہ پیلیر (آندھراپردیش)* سے تقریباً بیس کلو میٹر کے فاصلے پر ایک عظیم الشان تبلیغی اجتماع منعقد ہو رہا ہے، اور اسی شب نمازِ عشاء کے بعد دعا کے ساتھ اس کا اختتام ہوگا۔ یہ خبر سنتے ہی دل میں شرکت کا داعیہ ابھرا اور خیال آیا کہ کیوں نہ آج ہی اس روحانی اجتماع سے استفادہ کیا جائے۔
چنانچہ بعد از نمازِ عصر احقر نے *حضرت مولانا سید شہاب الدین صاحب قاسمی عمت فیوضہم العالیہ مہتمم دارالعلوم رحیمیہ پیلیر* کی خدمت میں حاضر ہو کر اجازت طلب کی۔ حضرت نے نہایت شفقت و عنایت کے ساتھ نہ صرف اجازت مرحمت فرمائی بلکہ ازراہِ کرم یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اگر افراد کی تعداد کم ہو تو موٹر سائیکل پر چلے جائیں، ورنہ کار لے جانا زیادہ مناسب ہوگا۔ اس عنایت پر قلب مسرور ہوا اور طے پایا کہ ہم تین افراد *احقر فضیل اختر، مولانا احسان اللہ قاسمی صاحب (استاذ مدرسہ ہذا) اور حافظ محمد زبیر صاحب* کار کے ذریعے روانہ ہوں گے۔
روانگی کے وقت *حضرت مہتمم صاحب کے فرزندِ ارجمند جناب مولانا قاری سید غیاث الدین صاحب* جو خود بھی استاذِ مدرسہ ہیں، نہایت محبت کے ساتھ گاڑی تک تشریف لائے اور بوتل میں رکھا ہوا پٹرول کار میں ڈال کر ہمیں رخصت کیا۔ یہ خلوص و اپنائیت دل کو چھو لینے والی تھی۔ کار کی ڈرائیونگ حافظ محمد زبیر صاحب انجام دے رہے تھے، جو اپنی فعالیت اور خدمت گزاری کے حوالے سے معروف ہیں۔ اور اس ادارے میں تقریبا چودہ سال سے بتسلسل خدمت انجام دے رہے ہیں۔
تقریباً نصف گھنٹے کے سفر کے بعد ہم اجتماع کے قرب میں پہنچے۔ راستے بھر خدمت گار حضرات رہنمائی کے لیے موجود تھے، جو نہایت حسنِ سلوک سے لوگوں کی رہبری کر رہے تھے۔ جیسے ہی اجتماع گاہ کے قریب پہنچے، ایک عجیب و غریب منظر نگاہوں کے سامنے آیا جہاں تک نظر جاتی تھی، گاڑیوں کا ایک لا متناہی سلسلہ دکھائی دیتا تھا؛ دو پہیہ، چار پہیہ حتیٰ کہ بڑی بڑی گاڑیاں اور ٹرک بھی۔ مجمع کی کثرت کا یہ عالم تھا کہ اصل پنڈال (ٹینٹ) نگاہوں سے اوجھل ہو چکا تھا۔
پارکنگ کے مقام پر ہم نے احتیاطاً گاڑی کو اس طرح کھڑا کیا کہ واپسی میں سہولت رہے۔ اس کے بعد ہم پیدل اجتماع گاہ کی طرف بڑھے۔ راستے میں استقبالیہ کیمپ نظر آیا جہاں پانی اور دیگر مشروبات کا نظم تھا۔ اگرچہ ابتدا میں کوئی خاص ضرورت نہ تھی، مگر اشتیاق کے پیشِ نظر ایک مشروب چکھنے کی کوشش کی، جو مقامی طور پر تیار کردہ تھا، جس کو یہاں پر چھاچھ کہا جاتا ہے مگر طبعِ نازک کے موافق نہ آیا، اس لیے اسے ترک کر دیا۔
آگے بڑھتے ہوئے بے شمار دکانیں نظر آئیں، جن پر مختلف اشیائے خورد و نوش دستیاب تھیں۔ ازدحام کا یہ عالم تھا کہ قدم رکھنا دشوار محسوس ہوتا تھا۔ اسی دوران مرغی کی پکوڑی دکھائی دی، جسے ہم نے موقع غنیمت جان کر خریدا اور ایک جانب ہو کر تناول کیا۔ بلاشبہ نہایت لذیذ اور خوش ذائقہ تھی۔ اسی اثنا میں اذانِ مغرب کی صدا بلند ہوئی اور ہم جلد از جلد اسٹیج کی سمت روانہ ہوئے۔ مگر کثرتِ ہجوم اور فاصلہ کے باعث ایک رکعت فوت ہو چکی تھی۔ وہاں پہنچ کر دیکھا کہ فرش مکمل بھر چکا ہے اور ہزاروں افراد زمین ہی پر نماز ادا کر رہے ہیں۔ ہم نے بھی اسی کیفیت میں، مٹی پر ہی نماز ادا کی۔ سفید لباس ہونے کے سبب مٹی کے آثار نمایاں تھے، تاہم بعد میں انہیں صاف کر لیا گیا۔
نماز کے بعد مزید آگے بڑھتے ہوئے کچھ مقامی غذائیں تناول کیں، جن میں *”کھوئے کی نان”* خاص طور پر لذیذ محسوس ہوئی، جس کی قیمت ستر روپیہ تھی لیکن مولوی ہونے کی وجہ سے ساٹھ روپیہ میں ملی اور اس کے بعد آم کا جوس بھی پیا گیا۔ اگرچہ کچھ دیر خطاب سننے کا موقع ملا، مگر وقت کی قلت کے باعث ہم نے واپسی کا ارادہ کیا اور عشاء سے قبل ہی وہاں سے رخصت ہو گئے۔ واپسی میں خیال آیا کہ شہر پیلیر جا کر کسی ہوٹل میں عمدہ طعام تناول کیا جائے، مگر وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ تمام دکانیں بند ہیں، کیونکہ بیشتر دکاندار اپنی خدمات کے ساتھ اجتماع ہی میں موجود تھے۔ بالآخر واپسی کے راستے میں ایک دکان کھلی نظر آئی، جہاں سے چکن فرائی اور ٹھنڈا (اسپرائٹ) لے کر مدرسہ پہنچے۔ نمازِ عشاء ادا کرنے کے بعد ہم نے وہیں بیٹھ کر سادہ مگر پرلطف کھانا تناول کیا اور یوں یہ مختصر مگر یادگار سفر اختتام پذیر ہوا۔
آخر میں کار کی چابی حضرت مہتمم صاحب کی خدمت میں پیش کی گئی۔ حضرت نہایت خوش مزاج، شفیق اور نیک دل شخصیت کے مالک ہیں، جن کا اندازِ شفقت دلوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے۔
تاریخ: 17 اپریل 2026ء بروز جمعہ بعد نماز جمعہ

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے