कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ہڑپہ تہذیب: ایک قدیم ترقی یافتہ تہذیب کا مفصل مطالعہ

تحریر:پروفیسر منجیت سنگھ
کروکشیتر یونیورسٹی، کروکشیتر

ہڑپہ تہذیب، جسے وادیٔ سندھ کی تہذیب بھی کہا جاتا ہے، انسانی تاریخ کی قدیم ترین اور عظیم تہذیبوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ تہذیب تقریباً 2600 قبل مسیح سے 1900 قبل مسیح کے درمیان اپنے عروج پر رہی اور موجودہ ہندوستان اور پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں پھیلی ہوئی تھی۔ اس کی دریافت نے تاریخ کے میدان میں ایک نئی روشنی ڈالی اور یہ ثابت کیا کہ قدیم ہندوستان میں بھی ایک نہایت ترقی یافتہ معاشرہ موجود تھا۔ ہڑپہ کا نام اس مقام سے لیا گیا ہے جہاں اس تہذیب کے اولین آثار دریافت ہوئے، تاہم بعد میں موہنجوداڑو، لوتھل اور دھولاویرا جیسے اہم مقامات بھی منظرِ عام پر آئے، جن سے یہ اندازہ ہوا کہ یہ تہذیب ایک وسیع علاقے میں پھیلی ہوئی ایک مکمل اور منظم تہذیب تھی۔
اس تہذیب کا پھیلاؤ نہایت وسیع تھا۔ یہ شمال میں جموں کے علاقوں سے لے کر جنوب میں دریائے نرمدا تک، مغرب میں بلوچستان اور مشرق میں میرٹھ تک پھیلی ہوئی تھی۔ اتنے وسیع علاقے میں پھیلنے کے باوجود اس کے شہروں کی ساخت، نقشہ بندی اور تعمیر میں حیرت انگیز یکسانیت پائی جاتی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اس دور میں ایک مضبوط انتظامیہ موجود تھی۔ یہ تہذیب نہ صرف اپنے پھیلاؤ کی وجہ سے اہم ہے بلکہ اپنے بہترین نظم و نسق، صفائی ستھرائی اور ترقی یافتہ طرزِ زندگی کی وجہ سے بھی منفرد حیثیت رکھتی ہے۔
ہڑپہ تہذیب کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا شاندار شہری نظام تھا۔ یہاں کے شہر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تعمیر کیے گئے تھے۔ شہر کو عموماً دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا تھا، ایک بالائی حصہ جسے قلعہ (سٹیڈل) کہا جاتا تھا، اور دوسرا زیریں شہر جہاں عام لوگ رہائش پذیر تھے۔ قلعے میں اہم عمارات جیسے اناج گھر اور عوامی ہال موجود ہوتے تھے، جبکہ زیریں شہر میں رہائشی مکانات ہوتے تھے۔ سڑکیں سیدھی اور ایک دوسرے کو عمودی زاویے پر کاٹتی تھیں، جو جدید شہروں کی یاد دلاتی ہیں۔
اس تہذیب کا نکاسیٔ آب کا نظام نہایت عمدہ اور ترقی یافتہ تھا۔ ہر گھر سے گندا پانی پکی نالیوں کے ذریعے باہر نکالا جاتا تھا، اور یہ نالیاں ڈھکی ہوئی ہوتی تھیں تاکہ گندگی اور بدبو نہ پھیلے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس دور کے لوگ صفائی اور صحت کے بارے میں بہت باشعور تھے۔ مکانات پکی اینٹوں سے تعمیر کیے جاتے تھے اور ان میں روشنی اور ہوا کے مناسب انتظامات ہوتے تھے۔ کئی گھروں میں ذاتی کنویں اور غسل خانے بھی موجود تھے، جو اس دور کی ترقی یافتہ طرزِ زندگی کی عکاسی کرتے ہیں۔
معاشی لحاظ سے یہ تہذیب نہایت مضبوط تھی۔ یہاں کے لوگ زراعت، مویشی پالنے اور تجارت پر انحصار کرتے تھے۔ گندم، جو، چاول اور تل جیسی فصلیں اگائی جاتی تھیں۔ دریاؤں کے کنارے آباد ہونے کی وجہ سے آبپاشی میں سہولت حاصل تھی، جس سے زرعی پیداوار بہتر ہوتی تھی۔ اناج کو بڑے بڑے گوداموں میں محفوظ کیا جاتا تھا تاکہ ضرورت کے وقت استعمال کیا جا سکے۔ مویشیوں میں گائے، بیل، بھیڑ اور بکری شامل تھے، جو روزمرہ زندگی اور کھیتی باڑی میں مددگار ثابت ہوتے تھے۔
تجارت کے میدان میں بھی ہڑپہ تہذیب کافی ترقی یافتہ تھی۔ یہاں کے لوگ نہ صرف اندرونی بلکہ بیرونی تجارت بھی کرتے تھے۔ میسوپوٹیمیا (موجودہ عراق) کے ساتھ ان کے تجارتی تعلقات کے شواہد ملے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ زمینی اور سمندری دونوں راستوں سے تجارت کرتے تھے۔ لوتھل جیسے بندرگاہی مراکز اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ سمندری تجارت بھی ترقی یافتہ تھی۔ تجارت میں مہروں (سیلز) کا استعمال کیا جاتا تھا، جن پر جانوروں اور مختلف علامات کی نقش و نگاری کی جاتی تھی۔
صنعت اور فن کے میدان میں بھی ہڑپہ تہذیب نے نمایاں ترقی کی تھی۔ یہاں کے لوگ مٹی کے برتن، زیورات، دھاتی اوزار اور منکے تیار کرتے تھے۔ کانسی اور تانبے کا استعمال عام تھا، جو ان کے دھات کاری کے علم کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کی تیار کردہ مورتیاں، خاص طور پر کانسی کی رقاصہ اور پتھر کی پجاری کی مورتیاں، ان کی فنی مہارت کا بہترین نمونہ ہیں۔ مٹی کے برتنوں پر بنائے گئے نقش و نگار بھی ان کی تخلیقی صلاحیتوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
مذہبی زندگی کے حوالے سے جو معلومات دستیاب ہیں، وہ خاصی دلچسپ ہیں۔ ماں دیوی کی پرستش کے شواہد ملتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ زرخیزی اور زندگی دینے والی قوتوں کو اہمیت دیتے تھے۔ ایک مہر پر موجود ایک شکل کو بعض ماہرین ابتدائی شیو (پشوپتی) کا روپ قرار دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ درختوں اور جانوروں کی پوجا کے بھی آثار ملتے ہیں، جو فطرت پرستی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تاہم، بڑے مندروں یا مذہبی عمارات کے واضح شواہد نہیں ملے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی عبادت کا طریقہ سادہ اور فطرت سے قریب تھا۔
ہڑپہ کی تحریر آج تک ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ یہ تحریر چھوٹی مہروں اور تختیوں پر پائی گئی ہے، لیکن اسے ابھی تک پڑھا نہیں جا سکا۔ اسے تصویری (پکٹیوگرافک) تحریر سمجھا جاتا ہے، جس میں مختلف علامات اور نشانات کا استعمال کیا جاتا تھا۔ اگر یہ تحریر پڑھ لی جائے تو اس تہذیب کے بارے میں مزید اہم معلومات سامنے آ سکتی ہیں۔
سماجی طور پر یہ تہذیب ایک منظم اور متوازن معاشرہ تھی۔ لوگ نظم و ضبط کے پابند تھے اور صفائی کا خاص خیال رکھتے تھے۔ سماجی عدم مساوات کے واضح شواہد نہیں ملتے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ معاشرہ نسبتاً مساوی تھا، اگرچہ کچھ مکانات کے حجم سے معاشی فرق کا اندازہ ضرور ہوتا ہے۔
اس عظیم تہذیب کے زوال کے اسباب ابھی تک پوری طرح واضح نہیں ہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق قدرتی آفات جیسے سیلاب، خشک سالی یا موسمی تبدیلی اس کے زوال کا سبب بنیں۔ کچھ کے نزدیک دریاؤں کے راستے بدلنے سے پانی کی قلت پیدا ہوئی، جس سے زراعت متاثر ہوئی۔ وسائل کی کمی اور تجارت میں کمی بھی اس کے زوال کے ممکنہ اسباب میں شامل ہیں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہڑپہ تہذیب انسانی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ یہ تہذیب اپنے وقت سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ تھی اور اس کی خصوصیات آج بھی ہمارے لیے مثال ہیں۔ اس کا منظم شہری نظام، مضبوط معیشت، صفائی کا اعلیٰ معیار اور سماجی توازن ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ ترقی صرف ٹیکنالوجی میں نہیں بلکہ نظم و نسق اور انسانی رویوں میں بھی ہوتی ہے۔ ہڑپہ تہذیب آج بھی ایک معمہ ہے، مگر یہ ہمارے لیے فخر اور ترغیب کا ایک عظیم ذریعہ بھی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے