कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

تاریخ پڑھیے اور آگے بڑھیے

تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی 9881836729
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

یقینا تاریخ اپنی جگہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ جو قوم و ملت کو اپنے اسلاف اور معمار قوم کی تاریخ پڑھنے کی دعوت سخن دیتی ہے۔ قوم و ملت کو تاریخ اسلام اور اسلاف کی تاریخ اور کارناموں سے واقفیت بہم پہونچانے کے لیے ہمارے پاس ذخیرہ کتب موجود ہے۔ جو دنیا بھر کے دارالمطالعہ کے قیمتی الماریوں میں بند ہیں، جو الماریوں کے صاف و شفاف شیشوں سے جھانکتی ہیں۔ اور گویا کہ وہ اپنی زبان میں کہتی ہیں کہ کیا ہمیں پڑھنے والا کوئ ہے؟ دنیا میں جتنی مقدار میں کتب کا ذخیرہ موجود ہے شاید کسی اور زبان یا کسی مذہب کے اندر پایا جاتا ہو۔ لیکن ہماری بد نصیبی یا پھر ( Negligence) لا پرواہی کہیے کہ ہم اپنے مذہب اور اپنے اسلاف اور معماران قوم کی تاریخ سے بہت دور اور نابلد ہیں۔ اور خصوصا اسلامی تاریخ سے۔ یہی نہیں دنیا اور کائنات کا سارا ذخیرہ اللہ کی مقدس کتاب میں موجود ہے۔ لیکن ہم میں سے اکثر قرآن کریم کی تلاوت نہیں کرتے جس میں ساری کائنات کا علم اور قیامت تک کی تاریخ کو خداے برتر نے واضح الفاظ میں انسانیت کی بھلائ اور کامیابی کے لیے ( Disclose) کھلی رکھا ہے۔ اور فرمان ہے کہ ہم نے قرآن کو آسان کیا ہے ،اللہ کے ذکر کے لیے۔ کیا کوئ ہے جو اس سے نصیحت حاصل کرسکے؟ انسان اس عظیم ترین کتاب میں اللہ کی نشانیوں اور اسکی تخلیق پر غور و فکر کریں۔ لیکن تاریخ کی کتاب پڑھنا اور سمجھنا تو دور ہم نے رب کریم کی کتاب کو بھی پس پشت ڈالا ہےاور اس عظیم کتاب کو طاق کی زینت بنایا ہے۔
رکھ دی جو طاق میں کتاب
تو کل امتحان میں کیا دوگے جواب
یقیناً ہمیں عند اللہ جواب دینا ہوگا۔ جو سخت ترین رسوائ کا سبب ہوگا۔ آج کے اس دور میں ہم نے اپنے اسلاف اور مورخوں کو بھلا بیٹھے ہیں۔ ایک شاعر نے بہت ہی خوبصورتی سے اس کا تجزیہ یوں کیا ہے۔
کاغذکی یہ مہک یہ نشہ روٹھنے کو ہے
یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی
ایک زمانہ تھا لوگ کتب کا مطالعہ گہرائ سے کرتے تھے۔ یہاں تک کہ کتابوں کو اپنا ( Assets) سرمایہ اور اوڑھنا بچھونا سمجھتے تھے۔ لیکن آج اس شعر کے مصداق بن چکے ہیں۔
کس طرح جمع کیجیے اب اپنے آپ کو
کاغذ بکھر رہے ہیں پرانی کتاب کے
جو قوم علم سے بے بہرا اور اپنی اسلاف کی تاریخ سے محروم رہتی ہے یا لاپرواہی کا مظاہرہ کرتی ہے وہ قوم کبھی بھی ترقی کے راستہ پر گامزن نہیں ہوسکتی۔ وہی قوم ترقی کے منازل طے کرتی ہے جو علم کے ساتھ اپنے سپوتوں اور معماران قوم و ملت کی تاریخ اور ان کے کارناموں کو خوب اچھی طرح جانتی ہے اور انہیں زندہ اور تابندہ رکھتی ہے۔ اور تاریخ کا گہرائ سے مطالعہ میں غوطہ زن ہوتی ہے. شاعر مشرق علامہ اقبال رحمت اللہ علیہ نے بڑی ہی خوبصورتی سے اس شعر میں وہ تمام باتیں کہ دی جو زمانہ کے لوگوں کو آج مطلوب ہے۔ اس کے بغیر ہم زندگی کے مقصد حیات تک رسائ نہیں کر سکتے۔ سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
گویا کہ یہ شعر نے سمندر کو کوزے میں اتاردیا یے۔ اسلام عدل و مساوات ، حق گوئ ، اور باطل پر شدید ضرب ہے۔ ہم اگر تاریخ پر گہری نظر دوڑائیں تو ہمارے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے اللہ کا دین اور پیغمبر اسلام کی جو شریعت پیش کیا ہے ، اس میں خالص صداقت، شجاعت ، عدل و انصاف، مساوات، حقوق اللہ حقوق العباد، میانہ روی، ہمدردی، خواتین کا احترام، چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کا اکرام اور تعلیم کے ساتھ اخلاقی اقدار کو انتہائ خوبصورتی کے ساتھ دنیا کو پیش کیا ہے۔ جس سے روشن زمانہ ہے۔ آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شجاعت ،عدل و انصاف اور بہترین قیادت سے زمانہ کے لوگوں کو روشناس کروانا ہے۔ خاص کر ان سیاسی قائدین اور فرما رواؤں کو جو قوم کی قیادت اور رہنمائ کو کھیل تماشہ بناے رکھے ہیں۔ اور خود کے لیے منفعت اور ذاتی فائدہ کا مرکز۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ وہ بھی ایک انسان تھے اور ہم بھی انسان ہیں۔ قیادت ،سیاست، رہنمائ،اور لوگوں کے مابین عدل و انصاف کیا ہوتا ہے؟ زمانہ کے لوگوں کو ان کی تعلمیات سے اخذ کرنے کی ضرورت ہے۔ وقت کے خلیفہ یوں کہیے کہ وقت کے بادشاہ جو دوران سفر اپنے نوکر اور خود میں یہ انصاف کرتے ہیں کہ اونٹ پر باری باری سوار ہونا ہے۔خادم نے کہا کہ آپ بادشاہ ہیں، اور میں آپ کا ادنی سا خادم جو اونٹ کی نکیل پکڑ کر چل رہا ہے۔ لیکن عدل و انصاف اور خدا کا خوف اتنا غالب تھا کہ گاؤں میں داخل ہونے سے پہلے خادم کی باری تھی کہ وہ اونٹ ہر سوار ہو۔ خادم نے کہا کہ بھلے سے میری باری ہے لیکن آپ خلیفہ ہیں اور لوگ مجھ کو سوار دیکھ کر مجھ کو خلیفہ سمجھ بیٹھینگے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ وقت کے بادشاہ اونٹ کی نکیل اپنے ہاتھ تھامے ہوے تھے اور خادم اونٹ پر سوار۔ لیکن آج قوم و ملت سے ووٹ اور تائید کی ہاتھ جوڑکر گذارش کرتے ہیں غیر تو غیر اپنے بھی ہوتے ہیں۔ اور بعد کو جو اپنی ( Luxurious car ) آرام دہ کار سے اترکر بات کرنا بھی گنوارا نہیں کرتے۔ ایسے منفعت اور مفاد پرست قائدین سے بھلے ہم کیا امید لگا سکتے ہیں۔ تاریخ کا سنہری باب جو ماضی میں اسلاف کی قیادت اور سیاست منہ بولتی تصویر تھی۔ یہ سنہرا باب آج کے مسلم سیاست دانوں، رہنماؤں ، اور قوم کی قیادت کرنے والوں کو اصبر یاد ہونا چاہیے۔ بصورت دیگر ان کے منہ سے لفاظی اور قیادت کے کلمات اچھے نہیں لگتے۔ قیادت کوئ کھیل تماشا نہیں، قیادت کو جو کھیل تماشا سمجھتے ہیں انہیں قیادت کا حق نہیں۔ بلکہ عنداللہ وہ مجرم ہیں۔ زمانہ کیا کہیگا اس ڈر سے ہمارے پیغمبر اسلام، صحابہ اسلاف اور قائدین پس و پیش نہیں ہوے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی کاوشیں اور مجاہدے، اور تکالیف سہ کر سنہری تاریخ جو قوم و ملت کی کامیابی کا اصل منبع ہے۔ وجود میں آیا۔ زمانہ وہی ہے لیکن ہماری سوچ بدل گئ ہے، زمانہ وہی ہے لیکن ہم نے اپنے آپ کو نہیں تبدیل نہیں کیا ہے۔ چناں چہ شاعر مشرق علامہ اقبال رح قرآن کریم کی ایک آیت کا مفہوم اپنے دلکش انداز میں یوں گویا ہے۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا
عالم اسلام کی مایہ ناز شخصیت مفکراسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی میاں ندوی رحمت اللہ علیہ کی وہ نصیحت یاد آتی ہے۔ فرمایا کہ اگر قوم پنج وقتہ نمازی نہیں بلکہ سو فیصد تہجد گذار بنادیا جاے، لیکن اس کے سیاسی شعور کو بیدار نہ کیا جاے اور ملک کی تاریخ اور احوال سے ان کو واقف نہ کیا جاے تو ممکن ہے اس ملک میں تہجد تو دور پانچ وقت کی نمازوں پر بھی پابندی عائد ہوجاے۔ لہذا حالات حاضرہ اور ماضی کی تاریخی اوراق کو عمیق نظر سے پڑھا جاے۔ اور علم کا دامن نہ چھوٹے ، اسی میں ہمارے قوم و ملت کی کامیابی مضمر ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے