कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جرأت ہو نمو کی تو فضا تنگ نہیں ہے

تحریر: نکہت انجم ناظم الدین
معلمہ ضلع پریشد اردو بوائز اسکول بودوڈ ،ضلع جلگاؤں
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

انسانی زندگی نشیب و فراز سے بھری ہوتی ہے۔ زیست کبھی گہوارہ مسرت نظر آتی ہے تو کبھی یہاں رنج کے بادل چھائے نظر آتے ہیں۔ کبھی کامیابیوں کا جشن ہے تو کبھی ناکامیوں سے سامنا ہے ۔زندگی کے دو دن موافقت میں ہوتے ہیں تو دو دن مخالفت کی بھی ہوتے ہیں لیکن حالات کتنے ہی ناسازگار کیوں نہ ہو، مشکلیں چاہے کتنی ہی بڑی کیوں نا ہو ں، ہمارے بلند حوصلے اور مضبوط ارادوں کے آگے ان کی کوئی وقعت نہیں ہے ۔کہا جاتا ہے کہ انسانی قوت ارادی سے مضبوط کوئی چیز نہیں ہوتی ہے ۔زندگی میں کبھی ایسے حالات آجاتے ہیں جنھیں فیس کرنا ہمیں مشکل لگتا ہے تو ہم بہت پریشان ہوجاتے ہیں لیکن پریشانی تو حالات کا حل نہیں ہے ۔صحت مند جسم ،صحتمند دماغ دے کر اللہ نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے لیکن ہر شخص کو یہی لگتا ہے کہ وہ دنیا میں سب سے زیادہ پریشان ہے۔ زمانے بھر کی تکالیف اور اذیتیں اسکا ہی مقدر ہیں۔اور یہی خیالات مایوسی اور ناامیدی کی شکل اختیار کر جاتے ہیں۔ سورۃ الحجر کی آیت نمبر ۵۶ میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ” اور اپنے رب کی رحمت سے کوئی مایوس نہیں ہوتا سوائے گمراہ لوگوں کے ”
اس لئے ہماری یہ سوچ بالکل غلط ہے ۔تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی کارہائے نمایاں انجام دے گئے ہیں اور آج بھی دے رہے ہیں جو بہت مجبور تھے ،بینائی سے محروم تھے، ہاتھ پیروں سے معذور تھے ،مختلف بیماریوں جسمانی و ذہنی تکلیف کا شکار تھے لیکن پھر بھی انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنےأہنی عزم و حوصلے سے تاریخ میں اپنا نام سنہرے حرفوں میں اس طرح رقم کیا ہے کہ رہتی دنیا تک انھیں یادکیا جائے گا ۔بینائی سے محرومی جیسی مایوسی و ناامیدی کیا ہو سکتی ہے؟ لیکن اس کے باوجود ایک نابینا شخص لوئس بریل نے’ بریل ‘کی ایجاد کرکے اپنے جیسے کتنے ہی نابینا لوگوں کے تعلیمی سفر کو آسان کر دیا ۔ ایک نابینا شخص کی محنت نے لاکھوں نابینا افراد کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔’ بریل ڈاٹ’ کا استعمال کرکے ہیلن کیلر نے اپنی تحریروں سے دنیا کو حیران کر دیا۔ اگر انسان خود کچھ نہ کرنا چاہے تو حوصلہ دینے والے ہزار لفظ ،ہزاروں تقاریر بھی اسکے لئے کچھ نہیں کر سکتے ہیں۔ ہم جب تک خود کچھ نا کرنا چاہیں کچھ بھی نہیں ہوسکتا ہے۔ کامیابی اورناکامی زندگی کا حصہ ہے پوری زندگی نہیں ہے ۔اس لئے ناکامی سے دلبرداشتہ ہوکر بیٹھ جانے سے کیا ہوگا ؟ہمیں دوبارہ اپنی کمیوں پرکام کرنا چاہیے ۔مستقل مزاجی اور مستقل عمل ہمیں ضرور کامیابی سے ہمکنار کریں گے۔راہ میں رکاوٹیں آئیں گی، تکالیف بھی ہونگی، حوصلہ بھی پست ہوگالیکن اپنے اپنے عزم کے سورج کوازسرنو اگا کر ہم پھر سے آگے بڑھنے کا حوصلہ کریں تو ان شااءاللہ منزل ضرور ملے گی ۔ہاکنگ اسٹیفن کی کہانی سے ہم سبھی بخوبی واقف ہیں۔ برطانیہ میں پیدا ہونے والے اسٹیفن ہاکنگ کی زندگی کا آغاز ایک نارمل انسان کی طرح ہوا لیکن گزرتے وقت کے ساتھ وہ ‘موٹر نیوران ڈیزیز’ میں مبتلا ہوگئے جو ایک لاعلاج مرض ہے ۔اس مرض میں انسان کے عضلات بیکار ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ ایک ایک کرکے اسٹیفن کے عضلات نے کام کرنا بند کر دیا ۔ ان کی زبان نے بھی کام کرنا چھوڑدیا لیکن ایسے حالات میں بھی اسٹیفن نے ہار نہیں مانی اور معذوری کو شکست دے کر آگے بڑھنے کا حوصلہ کیا ۔کیمبرج یونیورسٹی کے ذریعے ان کی وہیل چیئر پر ایسا کمپیوٹر نصب کیا گیا جو اسٹیفن کے پلکوں کے ذریعے دیے گئے پیغام کو سمجھتا تھا ، اسے ترجمہ کرتا تھا ،الفاظ اسکرین پر آتے اور ان کا پیغام دوسروں تک پہنچ جاتا۔ اسی طرح اسٹیفن نے اپنی ڈگری مکمل کی، ریسرچ کی اور کئی کتابیں مکمل کیں۔ اسٹیفن نے کائنات کے بارے میں جو تحقیق اور دریافتیں کیں اس نے انہیں کائنات کے بہترین سائنسدانوں کی صف میں لا کھڑا کیا۔ انہیں آئن سٹائن کے بعد دوسرا بڑا سائنسدان تسلیم کیا گیا۔ انھیں دنیا کا ذہین ترین انسان بھی سمجھا جانے لگا اور امریکہ کے سب سے بڑے صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر زمین پر بھیجا ہے اور اس کائنات میں ہزار ہا راز اللہ نے زمین کے سینے میں پوشیدہ رکھے ہیں۔ انسان اپنی عقل و دانائی سے پوشیدہ اسرار کو کھولنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔انھیں واکرکے انسانیت کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتا ہے اور تاریخ میں امر ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ نے انسان کو بے شمار صلاحیتوں سے نوازا ہے ۔انسان اسے بروئے کار لاتے ہوئے اپنے عزم و حوصلے سے وہ کام کر جاتا ہے جو بظاہر ناممکن نظر آتا ہے ۔ایرک ویہین مایر امریکہ میں پیدا ہوئے۔ایرک ایک نابینا مصنف،اتھلیٹ اور موٹیویشنل اسپیکر ہیں۔ بچپن کی شروعات میں وہ نظر کی کمزوری کا شکار تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کی نظر نےپوری طرح ان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ایرک نے نابینا افراد کے کیمپ میں رہ کر بہت کچھ سیکھا ۔2004 میں تبت کے چھ ناپینالڑکوں کے ساتھ مل کر شمال کی جانب سے 21500 فٹ ایوریسٹ سر کیا۔ نابینا افراد کے لیے یہ بہت بڑا ریکارڈ تھا لیکن ایرک نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ ایورسٹ کی چوٹیوں کو سر کرنا ہزاروں بینائی رکھنے والے افراد کے لیے آج بھی ایک نامکمل خواب کی حیثیت رکھتا ہے ۔لیکن ایرک نے نابینا ہونے کے باوجود نے ریکارڈ اپنے نام کیا ۔
زندگی انسان کے عزم ،ارادےاور حوصلے کا دوسرا روپ ہے۔اس کی بہترین مثال پاکستان کی’ آئرن لیڈی’ منیبہ مزاری ہیں جنہوں نے اپنی ہمت اور زندگی کو جینے کی خواہش سے یہ درس دیا ہے کہ زندگی کو اس وقت بھی نئے سرے سے شروع کیا جا سکتا ہے جب زندگی مکمل طور پر ختم ہوتی نظر آرہی ہے۔ کسی شاعر کے لفظ ہیں جو منیبہ مزاری کی قوت ارادی اور زندگی جینے کی خواہش پر پورے اترتے ہیں کہ
تو آج قاتل ہے
پھر بھی راحتِ دل ہے
زہر کی ندی ہے تو
پھر بھی قیمتی ہے تو
پست حوصلے والے ساتھ کیا دیں گے
زندگی ادھر آجا ہم تجھے گزاریں گے
پاکستان اور دنیا کے بے شمار لوگوں کے لئے منیبہ مزاری آہنی عزم اور حوصلے کی ایک جیتی جاگتی مثال ہیں۔ اپنے وطن واپسی کے دوران منیبہ کی کار حادثے کا شکار ہوئی اور کھائی میں جاگری۔ اس حادثے کے بعد منیبہ ناصرف جسمانی طور پر بلکہ ذہنی طور پر بے شمار تکالیف سے گزریں۔ ان کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی، جسم کے اندرونی اعضاء بھی ڈیمیج ہوگئے۔ انہوں نے تقریبا دو سال ہسپتال کے بیڈ پر گزارے۔پانچ بار أپریشن کے مراحل سے گزریں لیکن پھر بھی انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ زندگی کے ساتھی نے زندگی بھر ساتھ چلنے سے انکار کر دیا ۔یہ دکھ کسی بھی عورت کی زندگی کا سب سے بڑا دکھ ہوتا ہے منیبہ کہتی ہیں کہ
زندگی میں ایسے بہت سے لمحات أتے ہیں جب آپ سوچتے ہیں کہ زندگی نے آپ کے ساتھ ناانصافی کی ہے لیکن پھر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کتنے خوش نصیب ہیں جتنا زیادہ آپ اندر سے ٹوٹتے ہیں اتنا ہی زیادہ آپ دل اور دماغ کا اعتبار سے مضبوط ہوتے جاتے ہیں۔ خوشیوں کا راز اس میں ہے کہ آپ شکر گزار رہیں کہ آپ کے پاس کیا کیا ہے نا کہ اس میں کہ آپ کے پاس کیا نہیں ہے اور آپ نے کیا کھویا ہے۔”
آج وہ اپنے مشکل ترین حالات سے جنگ جیت کر اپنی زندگی میں کامیاب ہیں۔ وہ ایک سوشل ورکر ،مصنفہ، آرٹسٹ، موٹیویشنل اسپیکر، ماڈل اور ٹی وی اینکر کا کردار بخوبی نبھا رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ’ برانڈ باڈی شاپ’کی برانڈ ایمبیسیڈر بھی ہیں۔منیبہ کا نام ‘فور بزمیگزین’ کی کم عمر اہم ترین شخصیات میں بھی شامل کیا گیا ہے۔
ہمارے ملک کی بہادر بیٹی ارونیما سنہا نے اپنی زندگی کی شروعات وہاں سے کی جہاں سب کو لگا کہ ان کی زندگی اب ختم ہو گئی ہے ۔
لوگ جس حال میں مرنے کی دعا کرتے ہیں
میں نے اس حال میں جینے کی قسم کھائی ہے
امیر قزلباش
ارونیما دنیا کی پہلی لڑکی ہیں جنہوں نے ٹانگوں سے معذوری کے باوجود ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کا ریکارڈ بنایا ہے۔ ارونیما ایک محنتی لڑکی ہے ۔وہ لکھنو سے دہلی ایک جاب انٹرویو سے گھر لوٹ رہی تھیں کہ اس وقت کچھ بدمعاش لڑکے ان کے گلے سے چین چھیننے کی کوشش کرتے ہیں اور ناکام ہونے کی صورت میں وہ انہیں ٹرین سے دھکا دیتے ہیں۔ ان کی بدقسمتی تھی کہ دوسرے ٹریک سے أنے والی ٹرین سے ٹکرا گئیں۔ دونوں ٹرینوں کے گزرنے کے بعد انہوں نے دیکھا ان کا ایک پاؤں ٹوٹ گیا ہے، ایک پیر بری طرح سے کچل گیا ہے۔ ایک پوری رات وہ وہاں پڑی رہیں ۔ساری رات پتھر ان کے پیروں میں چھبتے رہے اور چوہے ان کے پیروں کے نوچتے رہے۔ کئی ٹرینیں قریب سے گزرتی رہیں۔ غرض اس ایک رات وہ اپنی زندگی کے دردناک عذاب کو سہتی رہیں۔ صبح انھیں اسپتال پہنچایا گیا۔ ٹرین سے گرنے کے حادثے کو ان کا’ اقدام خودکشی’ مانا گیا۔ ارونیما کی ریڑھ کی ہڈی میں تین فریکچر تھے۔ ایک پیر میں راڈ اور ایک پیر پوری طرح سے مصنوعی ہے لیکن اس کے باوجود بھی اس بہادر لڑکی نے ایورسٹ سر کرنے کی ٹھان لی اور اپنے عزم و استقلال سے ایورسٹ کو سر بھی کیا۔ اس مشکل سفر میں انہوں نے کیا کیا فیس کیا۔ہم صرف اس کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔اسے محسوس بھی نہیں کرسکتےہیں۔ کئی مثالیں ہیں جہاں لوگوں نے موت کے منہ سے واپس آکر اپنی نئی زندگی جی اور تاریخ رقم کی۔ تاریخ میں سنہرے لفظوں میں ان کا نام درج ہے اور جب کہیں کسی کی ہمت ٹوٹ جاتی ہے تو ان ہی لوگوں داستان انہیں ہمت عطا کرتی ہے۔ مشکلات کا سامنا کرنے کا جذبہ دیتی ہے ۔
علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے کہ
جرأت ہو نمو کی تو فضا تنگ نہیں ہے
اے مرد خدا ملک خدا تنگ نہیں ہے

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے