कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اور بھی دور فلک ہیں ابھی آنے والے

از قلم: سید مستقیم سید منتظم
صدر مدرس ضلع پریشد اردو پرائمری اسکول اندرا آواس بیودہ ضلع امراؤتی مہاراشٹر

اسلام کے مستقبل کے حوالے سے یہ حقیقت سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ اس کا سفر ہمیشہ دو سطحوں پر جاری رہا ہے: ظاہری عروج اور باطنی عروج۔ ظاہری عروج حکومتوں، سلطنتوں اور سیاسی قوتوں سے پہچانا جاتا ہے، جبکہ باطنی عروج فکر، ایمان، اخلاق، علم اور تہذیبی روشنی سے جنم لیتا ہے۔ اسلام کی تاریخ اسی دو رخے سفر کا حسین امتزاج ہے۔ بہت سے ادوار میں سیاسی قوت کمزور رہی مگر علمی، فکری اور روحانی سطح پر مسلمان دنیا کے امام رہے۔ آج کے دور میں بھی اگرچہ سیاسی انتشار واضح ہے لیکن فکری بیداری، علمی رجحان اور سچائی کی تلاش میں اضافہ اسلام کے مستقبل کی روشنی کو اور نمایاں کر رہا ہے۔ دنیا کا سیاسی نقشہ تیزی کے ساتھ تبدیل ہو رہا ہے۔ وہ طاقتیں جو صدیوں تک دنیا پر حکمرانی کرتی رہیں، آج داخلی انتشار، اخلاقی بحران، سماجی بگاڑ اور ذہنی بے چینی کا شکار ہیں۔ خاندانی نظام ٹوٹ رہا ہے، نوجوان نسل بے مقصدیت میں گم ہو رہی ہے، مادیت پرستی نے انسان کو تھکا دیا ہے اور انسانیت کسی ایسے نظام کی تلاش میں ہے جو اسے امن، عدل، تحفظ اور روحانی سکون دے سکے۔ یہی وہ خلا ہے جو اسلام اپنی ہمہ گیر، متوازن اور فطری تعلیمات کے ذریعے پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مغربی مفکرین تک اس حقیقت کا اعتراف کرنے لگے ہیں کہ اسلام کا نظام زندگی جدید دنیا کے مسائل کا بہترین حل رکھتا ہے۔
دنیا بھر میں مسلمانوں پر جو ظلم، زیادتی اور امتیازی سلوک ہو رہا ہے، وہ ایک طرف صبر و استقامت کی آزمائش ہے تو دوسری طرف امت کے احیا کی علامت بھی۔ فلسطین ہو یا کشمیر، بھارت ہو یا چین، برما ہو یا مشرقِ وسطیٰ—ہر جگہ مسلمانوں کی آزادی، شناخت اور حقوق پر حملے ہو رہے ہیں۔ لیکن تاریخ یہ سکھاتی ہے کہ ظلم کی شدت ہمیشہ بیداری سے پہلے بڑھتی ہے۔ اندھیری رات سب سے زیادہ گہری اس وقت ہوتی ہے جب صبح قریب ہو۔ مسلمانوں کا موجودہ بحران ایک طرف ان کی غلطیوں کا نتیجہ ہے تو دوسری طرف ان کی آزمائش، اصلاح اور نئی بیداری کا آغاز بھی ہے۔ جب امت تاریخ سے سبق سیکھ کر دوبارہ قرآن کی طرف لوٹتی ہے، تو قدرت کی مدد اس کے شاملِ حال ہو جاتی ہے۔
مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری اتحاد کا فقدان ہے۔ چھوٹے چھوٹے گروہ، مسلکی اختلافات، سیاسی تقسیم، لسانی تفرقات—یہ سب امت کی اجتماعی قوت کو کمزور کرتے ہیں۔ لیکن ایک نئی حقیقت جنم لے رہی ہے: پوری دنیا میں نوجوان نسل یہ سمجھ چکی ہے کہ اتحاد کے بغیر کوئی ترقی ممکن نہیں۔ مذہبی یا فکری اختلافات کبھی ختم نہیں ہوسکتے، لیکن اختلاف کو دشمنی میں بدلنے کا رویہ ختم ہو سکتا ہے۔ جب مسلمان اپنے مشترکہ مقصد اور مشترکہ دشمن کو پہچان لیں گے، تو ان کی اجتماعی طاقت دنیا کی تاریخ کا رخ بدل دے گی۔
علم اور تحقیق کا میدان بھی اسلامی احیا میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ جب تک مسلمان علم کے میدان میں قائد تھے، دنیا نے انہیں فکری رہبر مانا۔ لیکن جب انہوں نے علم کو چھوڑ کر تقلید، جمود اور تعصب اختیار کر لیا تو قومیں ان سے آگے نکل گئیں۔ آنے والا دور اسی وقت مسلمانوں کا ہوگا جب وہ دوبارہ سائنس، ٹیکنالوجی، طب، معاشیات، فلکیات اور سیاست سمیت ہر شعبے میں تحقیق اور تخلیق کو اپنا شعار بنائیں گے۔ علم وہ قوت ہے جو نہ صرف قوموں کو ترقی دیتی ہے بلکہ ان کے نظریات کو بھی مضبوط کرتی ہے۔ اگر مسلمان علومِ جدیدہ کو اسلامی فکر کے ساتھ جوڑ لیں تو ایک ایسی نظریاتی طاقت سامنے آئے گی جو دنیا کو نئی سمت دے گی۔
مسلمان نوجوان اس سفر کے اصل معمار ہیں۔ یہ نسل تکنیکی طور پر مضبوط ہے، فکری طور پر بیدار ہے، ڈیجیٹل دنیا میں مہارت رکھتی ہے، عالمی حالات سمجھتی ہے اور سب سے بڑھ کر سیرتِ نبوی ﷺ اور قرآن کی طرف نئی سنجیدگی کے ساتھ متوجہ ہے۔ یہ نسل اگر اپنی صلاحیتوں کو اسلام کے مطابق استعمال کرے، خود کو اخلاق، کردار اور علم سے آراستہ کرے تو مستقبل کے اسلامی دور کی بنیاد مضبوطی سے رکھی جا سکتی ہے۔ دنیا کی بڑی تبدیلیاں ہمیشہ نوجوان نسل کے ذریعے آئی ہیں، اور آج مسلمان نوجوان دنیا کے ہر خطے میں اپنی قوت کا اظہار کر رہے ہیں۔
اسلام دشمن قوتوں کی کوششیں بھی اسی بات کی دلیل ہیں کہ انہیں مسلمانوں کے مستقبل کا خوف ہے۔ میڈیا میں اسلام کو بدنام کرنے کی مہم، مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانا، ان کی عبادت گاہوں پر حملہ کرنا، معاشی بدحالی پیدا کرنا، اور ذہنی غلامی کو فروغ دینا—یہ سب اس خوف کی علامتیں ہیں کہ اگر مسلمان بیدار ہوگئے، تو دنیا کا توازن بدل جائے گا۔ لیکن سچائی کی سب سے بڑی قوت یہ ہے کہ اسے دبایا نہیں جا سکتا۔ اسلام کی فطری تعلیمات دلوں کو اپنی طرف کھینچتی ہیں، اسی لیے اسلام آج بھی دنیا میں تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے۔
اسلام کے احیا کی بنیاد اخلاق اور انسانیت کی خدمت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے دنیا کو محبت، عدل، بھائی چارے اور انسانیت کا وہ نظام دیا جو آج بھی انسانیت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اگر مسلمان دوبارہ اخلاق، کردار اور عدل کو اپنا ہتھیار بنا لیں تو دنیا خود ان کی طرف متوجہ ہوگی۔ اسلام کبھی تلوار سے نہیں پھیلا، بلکہ کردار، اخلاق اور انصاف سے پھیلا۔ آج بھی اگر مسلمان اپنے اخلاق کی طرف لوٹ آئیں تو عالمی قیادت خود ان کے قدموں میں آئے گی-
اسلامی تہذیب کی بنیاد گھروں سے بنتی ہے۔ مضبوط گھرانے مضبوط معاشرہ بناتے ہیں۔ ماں کی گود تربیت کا پہلا مدرسہ ہے، والد کی ذمہ داری کردار سازی کی بنیاد ہے، خاندان کی محبت نسلوں کے ایمان کو محفوظ کرتی ہے۔ اگر مسلمان اپنے گھروں کو قرآن کا مرکز بنا دیں، اپنی اولاد کی تربیت سیرتِ نبوی کے مطابق کریں، اور خاندان کو اسلام کا قلعہ بنا دیں تو آنے والی نسلیں وہ کارنامے انجام دیں گی جن سے دنیا بدل جائے گی۔
اسلام کا مستقبل صرف اس بات پر منحصر نہیں کہ کب کوئی سلطنت قائم ہوگی یا کب کوئی سیاسی تبدیلی آئے گی۔ اسلام کا مستقبل اس وقت روشن ہوگا جب مسلمان اپنی فکری غلامی توڑ دیں گے۔ جب وہ دوسروں کی تہذیب اور دوسروں کے معیار کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اپنی اصل طرف لوٹ آئیں گے۔ اسلام کی عظمت اس کے اصولوں میں ہے، نہ کہ دنیا کے معیاروں میں۔ جب مسلمان اپنی اصل کی طرف لوٹیں گے تو دنیا دوبارہ ان کی طرف رجوع کرے گی۔
اسلام کی تقدیر کبھی زوال پذیر نہیں ہوئی۔ زوال ہمیشہ مسلمانوں کا ہوا ہے، اسلام کا نہیں۔ اسلام کی روشنی کبھی بجھی نہیں، صرف نگاہوں نے کبھی کبھی اسے دیکھنے سے انکار کیا ہے۔ آج اگر دشمن مضبوط نظر آ رہے ہیں تو یہ بھی ایک وقتی دھوکہ ہے۔ تاریخ نے کبھی ظلم کو پائیدار نہیں رہنے دیا۔ حق آخرکار غالب آتا ہے، اور اسلام حق ہے۔ دنیا کی بدلتی ہوئی فضا، معاشروں کا اضطراب، انسانیت کا بحران، اخلاقی تباہی—یہ سب اس بات کی دلیل ہیں کہ انسانیت ایک نئے نظام کی تلاش میں ہے، اور وہ نظام اسلام ہے۔
یہی وہ وقت ہے جب شاعر کے الفاظ حقیقت کی طرح گونجتے ہیں
اور بھی دور فلک ہیں ابھی آنے والے
ناز اتنا نہ کریں ہم کو ستانے والے
یعنی ابھی وقت کے اور امتحان باقی ہیں، مگر ان امتحانوں کے بعد ایک نئی صبح، ایک نیا دور، ایک نیا عروج آنے والا ہے۔ ظلم کی رات بہت لمبی ہو سکتی ہے مگر دائمی نہیں۔ اسلام کی صبح اپنے وقت پر طلوع ہوگی۔ جب وہ صبح طلوع ہوگی تو دنیا ایک نئے عدل، نئی روشنی، نئے امن اور نئی انسانیت کا منظر دیکھے گی۔ اسلام کا مستقبل روشن ہے، اور اس روشنی کو کوئی طاقہ بجھا نہیں سکتا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے