कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اسلامی اقدار

تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی 9881836729
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

قال اللہ تعالی یا ایھا الذین آمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم ولا تجسسوا ولایغتب بعضکم بعضا الی آخر ۔ اللہ کا ارشاد ہے، اے وہ لوگ جو ایمان لاے ، بہت زیادہ گمان سے اجتاب کریں، کیونکہ بد گمانی گناہ کے مترادف ہوجاتا۔اور ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ رہیں۔ اور ایک دوسرے کی (Backbiting) غیبت نہ کریں، کیونکہ غیبت کرنا ایسا ہے جیسے اپنے مردار بھائ کا گوشت کھانا اور ایساعمل کوئ بھی نہیں کرسکتا۔ لیکن آج ہماری یہ حالت ہوگئ یے کہ اچھائ کو عام کرنے کے بجاے، ہم شرکو سوشل میڈیا کے ذریعہ بآسانی عام کر دیتے ہیں۔ آج ہمارا یہ حال ہوگیا ہے کہ کسی کے حسن خدمات کو دیکھ کر تعریفی کلمات کہنے کے بجاے، سکوت اختیار کیے ہوے ہیں۔ کسی کے لیے تعریفی کلمات کہنا اس کو خیر کی طرف ترغیب کرنے کے مترادف ہے ۔ اور یہ انبیاء اور پیغمبروں اور صالحین کا ( Method) شیوہ رہاہے۔ حدیث میں ہے، اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، خیر کی طرف دعوت دینے والا بھی، خیر کو پانے والا اور حاصل کرنے والا ہے۔ جب حضرت موسی علیہ السلام کو فرعون کے دربار میں اللہ کے پیغام رسانی اور تبلیغ کا حکم ہوا، تو انہوں نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کی سفارش کی اور انہیں فرعون کے دربار میں تبلیغ کے لیے بھیجا۔ لیکن آج تو ہمارا یہ شیوہ ہی بن گیا کہ ہم جس کو چاہیں ذلیل اور رسوا کرنے میں اپنی (Energy) توانائ صرف کر رہے ہیں۔ چناں چہ ہمارے لیے یہ درس ہے کہ ہم اوروں کے تئیں حسن اخلاق سے ملیں، اور عزت و احترام سے پیش آئیں۔ لیکن آج ہماری یہ روش ہوگئ کہ اگر ہم کسی کے خلاف ( conspiracy ) سازش یا اس کو ذلیل کرنے کا موقع میسر آے تو اس کو رسوا کرنے میں طاقت اور مال کو صرف کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ کیا ہم نے سوچا ہے کہ ہم ایسے مذہب کے فالوور ہیں کہ وہ دین ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ اگر راستے میں تکلیف دہ چیز دیکھو تو اس کو راستہ سے ہٹاو یہ صدقہ کے مترادف ہے۔ ہم وہ دین اسلام کے (followers) پیروکار ہیں،جو دین یہ درس دیتا ہے کہ کسی سے (Good words) اچھی بات کرنا نیکی اور سعادت مندی کی بات یے۔ وہ مذہب جو کہتا ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائ ہے۔ وہ مذہب جو بتاتا ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے شاید یہ اوصاف ہم سے رخصت ہوتے ہوے نظر آرہے ہیں۔ اور یہی ہماری ناکامیابی اور ( Deprivation ) محرومی کا سبب ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم (Real world) حقیقی دنیا میں نہیں بلکہ ایک ایسی مصنوعی دنیا (Artificial world) میں کھو چکے ہیں یا سانس لے ریے ہیں جہاں ( illusion) سراب کے سوا کچھ نہیں، پھر بھی انسان اس کا غلام بنا ہوا ہے۔ حقیقی دنیا سے مراد ماضی کا وہ ستر اسی سال قبل کا زمانہ جہاں محبتیں الفتیں، اور قرابت داری رشتہ داری کے احترام کا جذبہ موجزن تھا۔ اللہ کاڈر اورخوف تھا۔ کیونکہ یہ لوگ حقیقی زندگی سے،( connected ) متصف تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو بحسن خوبی انجام دیتے تھے۔ ابھی تازہ ترین ویڈیو میں حضرت مولانا خلیل الرحمن سجادنعمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے محبت و الفت ،ایک دوسرے کے گھر آنے جانے، ایک دوسرے کے ساتھ محبت وایثار ، اور ایک دوسرے کے ساتھ تناول طعام کرنے کو اصل سیاسی محرک ( Political moment) بتایا جوہم سب کے لیے ایک بلا تفریق مذہب و ملت انسانیت نوازی کا (Important message) اہم پیغام ہے۔ اور اسلام نے چھوت چھات جیسے عمل کی نفی کی ہے،اور اللہ کا ارشاد ہے سب انسان برابر ہیں، سب کی عزت و احترام کو ملحوظ رکھنا اسلام کا شعار ہے۔ اور یہی نہیں بلکہ اللہ نے گورے کو کالے پر ، اور کالے کو گورے پر، عجم کو عرب پر،اور عرب کو عجم پر (Superiority ) فوقیت نہیں رکھی ہے ،اور ( Racial discrimination) نسلی امتیاز کی نفی کی ہے۔ حضرت نے اسٹیج پر قریبی بیٹھے دلت بھائ کا جھوٹا پانی نوش کرکے اسلام کے میسیج کو آشکارہ کیا۔ جس سے نفرتوں، کا سد باب اور خاتمہ ہوسکتا یے۔ یہ دنیا ہمارے لیے اور ہم آخرت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ جہاں ہمیں اطاعت خدا وندی اور اطاعت رسول لازمی ہے ۔ اور وہ اس کے عملی پیکر تھے۔ لیکن آج ایسا لگتا ہے کہ یہ سب ہماری قوم و ملت کے زندگیوں سے مفقود ہوتا جارہا ہے۔ جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔ پہلے لوگوں میں علم کی کمی تھی، لیکن وہ خوف خدا سے معمور تھے۔ آج علم دین اور علم دنیا کی بہتات ہے۔ لیکن ہمارے دلوں سے خوف خدا رخصت ہوچکا ہے۔ آج ہم منبر و محراب پر پند و نصائح کی باتیں کرتے ہیں۔ لیکن خود اس پر عمل پیرا نہیں ہوتے، حال یہ ہے کہ ایک اہل علم دوسرے اہل علم کو سلام نہیں کرتا، ایک جماعت سے تعلق رکھنے والا دوسری جماعت کے فرد کو سلام کرنے تیار نہیں۔ انانیت خودنمائ، کبر حسد اور شخصیت پرستی عام ہوچکی ہے۔ جب ہم ان عناصر سے بچ نہیں پاتے، تو ہم قوم و ملت کو کیسے سدھار سکتے ہیں۔ اور کیسے ہماری پند ونصائح کا اثر اوروں پر مرتب ہوگا، قرآن کریم کی آیت جس کا مفہوم ہے۔ اے ایمان والو تم وہ بات کیوں کہتے ہو جس پر تم خود عمل نہیں کرتے ، چنانچہ شاعر مشرق علامہ اقبال رحمت اللہ علیہ نے بڑی خوبصورتی سے کہا ہے۔ اقبال بڑا اپدیشک ہے ،من باتوں میں موہ لیتا ہے۔ گفتار کا یہ غازی تو بن گیا، کردار کا غازی بن نہ سکا۔ آج ہماری قوم و ملت اچھے اور سچے قائد سے محروم ہے،اور اگر کوئ قیادت کررہا ہوتو ہم ہی اس کی مخالفت پر اتر آتے ہیں۔ جبکہ قرآن کریم کا مومنوں کے لیے پیغام ہے کہ متحد ہوجاو، اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو، اور منتشر نہ ہو۔ کیونکہ ایک مکمل اتحاد اور ایک مکمل جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہوتاہے۔ علامہ اقبال رحمت اللہ علیہ نے کہا ہے۔ ہاتھ ہے اللہ کا بندء مومن کا ہاتھ غالب کار آفریں کار کشاکارساز چناں چہ مذہب اسلام ایک مکمل فطری اورآفاقی مذہب ہے، جو بلا تفریق مذہب و ملت انسانیت، اخوت عدل وانصاف، رواداری مساوات، (Sympathy) غمخواری ہمدردی کی دعوت سخن دیتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے