कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بابری مسجد کی شہادت کے 33 سال مکمل ہوئے۔ لیکن..؟

تحریر:رضی اللہ قاسمی سیتاپوری
جامعہ امھات المؤمنین للبنات سونار گاؤں امیٹھی (رائےبریلی)

محترم قارئین! بابری مسجد کی شہادت یعنی 6 / دسمبر 1992ء سے لے کر 6/ دسمبر 2025 بروز سنیچر تک 33 سال پورے ہو چکے ، ان 33 سالوں میں بابری مسجد کے ساتھ انصاف تو در کنار، بلکہ مزید کتنی مساجد کو بابری مسجد کی طرح شہید کر دیا گیا، کتنی مساجد کو مندر کی شکل دے دی گئی، کتنی مساجد کی جگہوں کو ہڑپ لیا گیا۔ کتنی مساجد اور مذہبی مقامات کے خلاف مقدمات دائر کئے گئے ۔
یہ آج سے نہیں بلکہ جب بابری مسجد کا مسئلہ عروج پر تھا تو اس وقت یہ نعرہ زور وشور سے لگایا جا رہا تھا ، ایودھیا صرف جھا کی ہے، کاشی متھرا باقی ہے اس کا مطلب یہ تھا: کہ بابری مسجد کے ختم ہونے کے بعد کاشی کی گیان واپی مسجد اور متھرا کی شاہی عید گاہ مسجد پر بھی مندر ہونے کا دعوی کیا جائے گا۔
آج وہی نعرے حقیقت کا روپ اختیار کر چکے ہیں، باقاعدہ ان کے خلاف مقدمات عدالت میں زیر سماعت ہیں، بلکہ اب تو حد ہو گئی ہر ہر مسجد پر مندر ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر مسلمان بھی اس انداز میں دعوے کرنے پر اتر آئیں اور کہیں کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے گھر بھی مسجد کو منہدم کر کے بنائے گئے تو کیا ان کا بھی سروے کیا جائے گا ؟
کیا عدالت اسے قبول کرے گی ؟ کیا ہماری بات کو بھی اسی طرح اہمیت دی جائے گی ؟
ایسا کبھی نہیں ہو سکتا، کیونکہ ہندوستان کی جمہوریت نے ہمیشہ مسلمانوں کو دو نمبر کی شہریت مین رکھا ہے اور احساس دلایا ہے کہ ہندوستان میں تمہاری کوئی حصہ داری نہیں ہے، چاہے تم کتنے ہی اپنے آپ کو دیش بھگتی کے رنگ میں رنگ لو اور کتنی ہی تم اپنی جانیں قربان کر دو، کتناہی تم جھنڈے کو سلامی دے دو لیکن تم دونمبر کے شہری جیسے کل تھے، آج ہو اور رہو گے۔
اب تو آرایس ایس (RSS) نے یہ شگوفہ چھوڑ دیا ہے اور ہندو تنظیموں کو یہ نوٹس جاری کر دیا کہ مسجد پر دعوی کرنا تمہارا کام ہے اور فیصلہ دینا ہمارا کام ہے۔ اسی لئے ہر جگہ کی مساجد اور تاریخی مقامات زیر بحث ہیں، ابھی کچھ ماہ پہلے سنبھل کی شاہی جامع مسجد پر بھی دعوی کیا گیا کہ اس جگہ پہلے مندر تھا پھر ۱۵۲۶ ء میں مندر توڑ کر مسجد بنائی گئی۔ اس دعوی کی وجہ سے مسجد کا سروے کیا گیا ، اسی دوران تشدد کی وجہ سے کئی نو جوانوں کی شہادت بھی ہوئی۔
یہ معاملہ صرف سنجل تک محدود نہیں، بلکہ جونپور کی اٹالہ مسجد، لکھنو کی ٹیلہ والی مسجد، دہلی کی جامع مسجد، قطب مینار ، اور اجمیر کی درگاہ بھی نشانے پر ہیں، یہاں تک کہ دار العلوم دیو بند جیسے تعلیمی ادارے کو بھی سروے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں، اس صورتحال میں بس اللہ خیر کا معاملہ فرمائے ۔ آمین
ان سب حالات کے باوجود مسلمان ایک بے حس تماشائی بنا ہوا ہے۔ بزدلی اور مصلحت پسندی نے ہماری جرأت و غیرت کو ختم کر دیا ہے۔ کیا ہماری مساجد کی شہادت اور ایمان پر حملے ہمیں جگانے کے لیے کافی نہیں ہیں ؟
کیا ہم صحابہ کرام اور اپنے اکابرین کی جرأت وقربانی کو بھول گئے ہیں؟ ہمارے ایمان پر حملہ کیا جائے اور ہم خاموش بیٹھیں؟ ہر طرح سے ہم پر ظلم و ستم کیا جائے اور ہم سکون کی نیند سوتے رہیں؟ ہماری مساجد کو مسمار کیا جائے اور ہم تماشہ دیکھتے رہیں؟ کیا ہماری خاموشی اور بے عملی ملک وملت کے ساتھ وفاداری کہلا سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ ہم تو کھلے ہوئے بزدل اور کم ہمت ہو چکے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آج ہم کو مٹانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، حالات بد سے بدتر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ہرجگہ کے حالات ہمارے سامنے ہیں، کیا ہندوستان کو ہمارے اکابر نے اسی لئے آزاد کروایا تھا کہ ہم دوسروں کے غلام بنے رہیں ؟
کیا انھوں نے اسی لیے خون بہایا تھا کہ ہمارے ایمان پر ڈاکہ ڈالا جائے؟ ہماری مساجد کو شہید کیا جائے؟
انھیں حالات کو دیکھ کرشیخ الاسلام مولا نا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ (ولادت :1879 وفات : 1957ء) نے
مسلمانوں کو للکارتے ہوئے کہا تھا: "مسلمانو! اگر تم حالات کو ٹھیک ٹھیک سمجھ لو اور اللہ پر بھروسہ کر کے فسادیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کھڑے ہو جاؤ تو اپنے وطن اور عوام کو تباہی کے اس جہنم سے نکال سکتے ہو۔ مسلمانو! ڈرو نہیں حق کے ساتھ رہو، بہادری اور ہمت سے حالات کا مقابلہ کرو اور ضرورت پڑنے پر مقابلہ کرتے ہوئے جان دے دینا پڑے تو دے دو، یہی ملک وملت کے ساتھ وفاداری کا تقاضہ ہے۔”
شیخ الاسلام کی یہ للکار اس وقت کی ہے، اور آج کے حالات تو اس سے کہیں زیادہ آگے بڑھ چکے ہیں، اس لئے اب سوچنے کا موقع نہیں ہے، اب تو سر سے کفن باندھ کر میدان میں نکلنے کا موقع آگیا ہے، اب تو دشمنان اسلام سے یہ کہہ دینے کا موقع آگیا ہے کہ اپنے نا پاک فیصلوں کو واپس لے لو ، ورنہ نتائج بڑے بھیانک ہونگے ، کیونکہ ہم ایمان و اسلام کی حفاظت کے لئے ہر طرح کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ وقت کے فرعون نے بھی اسلام کو مٹانے کی پوری کوشش کی تھی لیکن وہ خود مٹ گیا اور اللہ نے آج تک اس کو عبرت کا نشان بنادیا ۔ آج یہ لوگ بھی فرعونیت کا کام انجام دے رہے ہیں، اور سوچ رہے ہیں کہ ان کی مساجد اور مدارس کو ختم کر دیا جائے تو اسلام ختم ہو جائے گا حالانکہ ان تک یہ پیغام پہنچنا چاہئے کہ :
اسلام کی فطرت میں قدرت نے پچک دی ہے ۔
اتناہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دباؤ گے۔
لہذا، بزدلی اور خاموشی کو ترک کر کے، ایمان و اتحاد اور جرأت مندی کے ساتھ اپنے حقوق کی حفاظت کے لیے کھڑے ہونے کے لئے تیار ہو جائیں۔ یہی وقت کا تقاضہ اور غیرت ایمانی کا امتحان ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے