कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ٹوئیٹر اور فیس بک اسلام فوبیا پھیلانے میں مددگار بن رہا ہے

تحریر:عارف عزیز

سوشل نیٹ ورکنگ سائیٹس فیس بک اور ٹوئیٹر اسلام مخالف عناصر کی سرپرست بن گئے ہیں۔ دنیا بھر میں لاکھوں نسل پرستوں اور متعصب صارفین کی جانب سے اپ لوڈ کئے جانے والے نسل پرستانہ، اسلام مخالف اور توہین رسالت پر مبنی مواد، مسلمانوں اور دیگر گروپوں کے مطالبے کے باوجود ابھی تک ہٹایا نہیں جارہا بلکہ ایسے لاتعداد پوسٹوں کو روزانہ اپ لوڈ بھی کیا جارہا ہے۔ اس اشتعال انگیز اور نفرت پر مبنی مہم کے سبب یورپی ممالک میں مسلمانوں کے خلاف آن لائن تحریک کھڑی ہوگئی ہے۔ جبکہ اسلام مخالف، براطانوی بلاگرز اور متعصب سوشل میڈیا صارفین نے برطانوی نسل پرستوں سے کہا ہے کہ جس طرح داعش عیسائیوں کے سرقلم کر رہی ہے، اسی طرح برطانیہ میں موجود غیر مقامی مسلمانوں کے بھی سر قلم کئے جائیں تو یہاں یہی اِس کا بہتر جواب ہوگا۔ واضح رہے کہ اکتوبر ۲۰۱۴ء میں جاری کی جانے والی لندن میٹرو پولیٹن پولس کی ایک رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران لندن میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز حملوں اور پرتشدد واقعات میں ۶۵ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ معروف برطانوی ’’انڈی پینڈنٹ‘‘ نے اپنی ایک تحقیقی رپورٹ میں اہم سوشل نیٹ ورکنگ سائیٹس ٹوئیٹر اور فیس بک کا نام لے کر انکشاف کیا ہے کہ یہ سائیٹس ’’اسلام فوبیا‘‘ کے پھیلاؤ میں مددگار بنی ہوئی ہیں۔ حالانکہ ان دونوں سائیٹس کی انتظامیہ کو، نسل پرستی کے حوالے سے ریسرچ گروپ کے نمائندوں نے تحریری طور پر ثبوتوں کے ساتھ ایسی اسلام دشمن پوسٹوں کے بارے میں آگاہ کیا ہے، جن سے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیل رہی ہے۔ ریسرچ گروپ کے مطابق دنیا بھر میں بالخصوص یورپی ممالک میں ایسے منظم گروہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف باقاعدہ کام کر رہے ہیں اور تواتر سے فیس بک اور ٹوئیٹر پر ایسا اسلام دشمن اور دل آزار مواد اپ لوڈ کیا جارہا ہے جس کو دیکھنے والے عام صارفین بھی اسلام اور مسلمانوں اور بالخصوص قرآنی تعلیمات کے حوالے سے منفی سوچ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس طرح مسلمانوں کے خلاف نفرت اور حملوں کا سلسلہ بڑھ رہا ہے۔ برطانوی اخبار ’’انڈی پینڈنٹ‘‘ نے انکشاف کیا ہے کہ کئی بار مطالبات کے باوجود نہ تو فیس بک نے ان نفرت انگیز پوسٹوں کو ہٹایا ہے اور نہ ہی ٹوئیٹر نے ایسا کوئی قدم اٹھایا ہے، جس کے باعث مسائل سنگین ہورہے ہیں۔ برطانوی جریدے کے مطابق برطانوی سرزمین پر اسلام مخالف مہم میں مقامی تنظیم برٹین فرسٹ کا اہم کردار ہے، جو فیس بک اور ٹوئیٹر پر اسلام دشمن پوسٹیں اپ لوڈ کرتی ہے۔ برطانوی صحافی اور محقق ’’اولیوررائٹ‘‘ نے اپنی مرتب کردہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ دنیا بھر میں اسلام مخالف عناصر کی جانب سے فیس بک اور ٹوئیٹر پر اپ لوڈ کیا جانے والا مواد مسلمانوں کی منفی تصویر پیش کر رہا ہے، ان پوسٹوں میں اسلام سے نابلد لوگوں کو یہ کہہ کر ڈرایا جاتا ہے کہ مسلمان بہت ظالم ہوتے ہیں۔ خواتین کو غلام بنا لیتے ہیں۔ بچوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں۔ جہاد کا نام لے کر قتل و غارت گری کرتے ہیں اور تاریک دور کے حامی مسلمان کسی بھی معاشرے کے اندر کینسر کی مانند ہیں۔ برطانوی اخبار نے لکھا ہے کہ یہ صورت حال فوری اقدامات کی متقاضی ہے۔ کیونکہ ماضی و حال میں سوشل نیٹ ورکنگ سائیٹس پر نفرت انگیز مہم کے خلاف کارگزار ’’اینٹی راشسٹ گروپ‘‘ کے محققین نے اس سائیٹس کے منتظمین سے تحریری طور پر مطالبہ کیا ہے کہ ایسی تحریروں اور مواد کو فی الفور ہٹا دیا جائے جس کے نتیجے میں عالمی افق پر مسلمان اور اسلام کے حوالے سے غلط پروپیگنڈا کرکے نفرت پھیلائی جارہی ہے۔ بین المذاہب و عقائد رابطوں کے معروف تنظیم ’’فیتھ میٹر‘‘ کے ڈائرکٹر فیاض مغل کا کہنا ہے کہ وہ ٹوئیٹر اور فیس بک کے منتظمین کے رویوں سے کافی مایوس ہوئے ہیں۔ یہ کمپنیاں اسلام مخالف عناصر کی سرپرستی کرکے دنیا بھر میں مسلم مخالف نفرت انگیز مہم کی مددگار بن گئی ہیں۔ فیاض مغل کا استدلال ہے کہ دونوں بڑی کمپنیوں کا اخلاقی فریضہ ہے کہ وہ مسلمانان عالم کے خلاف نفرت پھیلانے کے لئے اپنا پلیٹ فارم استعمال نہ ہونے دیں، لیکن مذکورہ مطالبے کے باوجود دونوں کمپنیوں نے ایسا نہیں کیا ہے جو جملہ اخلاقیات کے منافی رویہ ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے