कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

وہ ستارہ جو ڈوب کر بھی روشنی چھوڑ گیا

حافظ عبدالرحمن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی حیات و خدمات

از قلم: سید مستقیم سید منتظم
صدر مدرس ضلع پریشد اردو پرائمری اسکول بیودہ ضلع امراؤ تی مہاراشٹر

حافظ عبدالرحمن صاحب کی ولادت چار فروری ١٩٥٨ کو بیودہ، تحصیل دریاپور، ضلع امراؤتی کی اُس مٹی میں ہوئی جو ہمیشہ علم، کردار اور سادہ مزاجی کے چراغ جگاتی آئی ہے۔ یہ چھوٹا سا گاؤں اُن کے لیے محض جائے پیدائش ہی نہیں بلکہ اُن کی روحانی اور اخلاقی تربیت کا پہلا سنگِ بنیاد ثابت ہوا۔ والد شیخ محبوب اور والدہ طاہرہ بی کی پرپُرعقیدت پرورش نے بچپن ہی سے ان کے اندر دین، سادگی اور انسان دوستی کے جذبات کو مضبوط کر دیا تھا۔چار بھائیوں میں تیسرے نمبر پر ہونے کے باوجود اُن کی شخصیت ہمیشہ نمایاں رہی۔ ایک بہن کے ساتھ یہ گھرانہ محبت، تعاون اور خلوص کی بنیاد پر پروان چڑھا۔ بچپن کی انہی گھریلو فضاؤں نے ان کے دل میں نرمی، حساسیت اور دوسروں کے لیے خیر خواہی کا وہ جذبہ اُبھارا جو تمام زندگی اُن کا امتیازی وصف بن کر چمکتا رہا۔ بیودہ کی فضا، اس کا سادہ ماحول اور دیہاتی زندگی کی فطری پاکیزگی ان کی شخصیت کا وہ حصہ بن گئی جسے انہوں نے کبھی ترک نہ کیا۔اسی دور میں اُن کے اندر دینی تعلیم کی بے پناہ رغبت جاگی۔ چھوٹی عمر ہی میں قرآن کریم سے محبت ایک دل کی کیفیت بن چکی تھی، اور یہی کیفیت آئندہ آنے والے روشن سفر کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔علمِ قرآن سے قلبی وابستگی نے انہیں مدرسہ انوارالعلوم کھولاپور تک پہنچایا، جہاں انہوں نے پورے شوق، محنت اور بیدار ذہن کے ساتھ حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کی۔ مدرسہ کا ماحول، اساتذہ کی شفقت اور سخت محنت کی فضا نے ان کے عزم کو مزید پختہ کر دیا۔ مقررہ مدت میں قرآنِ کریم کو حفظ کرنا ان کے استقامت اور لگن کا واضح ثبوت ہے، اور اسی دور میں ان کے اندر وہ روحانی نرمی اور عاجزی پیدا ہوئی جو زندگی بھر اُن کے کردار میں جھلکتی رہی۔ان کے استادِ محترم حضرت مولانا جمایت علی صاحبؒ—بانی و مہتمم مدرسہ—نے ان کی تربیت میں خصوصی توجہ دی۔ استاد و شاگرد کا یہ رشتہ محض دینی تعلیم تک محدود نہ تھا بلکہ اخلاق، تحمل، خدمت اور اخلاص جیسے اوصاف بھی انہیں اس صحبت سے ملے۔ انہی صفات نے بعد کے تمام مناصب پر انہیں منفرد بنائے رکھا۔یہ دور ان کی زندگی کا وہ سونا دور تھا جہاں ان کے دل میں دینی ذمہ داری کا ایسا چراغ روشن ہوا جو آخر دم تک بجھا نہیں۔ مدرسہ کی پاکیزہ فضا نے ان کی شخصیت میں علم، حلم اور تقویٰ کی بنیاد ڈال دی۔حافظ صاحب نے قرآن کی خدمت کو عملی زندگی میں بھی بھرپور آگے بڑھایا۔ بیودہ کی جامع مسجد میں تقریباً بیس سے پچیس برس تک امامت و خطابت کے فرائض نہایت ذمہ داری، وقار اور خلوص سے انجام دیے۔ ان کی تلاوت میں وہ کھنک، وہ تاثیر اور وہ روحانی کشش تھی جو دلوں کو موم بناتی اور سامعین کے احساسات کو جھنجھوڑ دیتی تھی۔ خطبات میں اُن کا انداز سادہ مگر بلیغ ہوتا، جس سے ہر شخص براہِ راست مخاطب محسوس کرتا۔امامت کے ساتھ ساتھ انہوں نے مکتب کے بچوں کو قرآنِ کریم، بنیادی مسائل اور اخلاقی اصول نہایت شفقت اور محنت کے ساتھ سکھائے۔ بچوں کے ساتھ ان کا رویہ ایک مہربان والد جیسا تھا۔ وہ نہ سزا کے قائل تھے نہ سختی کے؛ بلکہ محبت، مثال اور عمل کے ذریعے تربیت دیتے۔ اُن کی تدریس نے ایک پوری نسل کو دین سے جوڑے رکھا، اور بیودہ کی آبادی میں جو دینی بیداری ہمیشہ دکھائی دیتی رہی، اس میں حافظ صاحب کی خاموش اور مسلسل محنت کا بڑا حصہ ہے۔یہ طویل تدریسی خدمات ان کی شخصیت کے اُس گوشے کو ظاہر کرتی ہیں جہاں ذمہ داری کا احساس، عبادت کی رغبت اور انسان سازی کی خواہش یکجا ہوکر ایک عملی شکل اختیار کرتی ہے۔امامت کے دوران ہی دعوت و اصلاح کا شوق اُن کے دل میں مضبوط ہوتا گیا۔ انہوں نے مختلف اوقات میں چار ماہ اور چلّے لگائے، جس سے ان کی دینی بصیرت اور عملی تجربہ مزید بڑھا۔ یہ دعوتی زندگی محض کسی رسم کی ادائیگی نہ تھی بلکہ ایک ایسا مستقل مشن تھا جس میں وہ خود بھی کھپتے اور دوسروں کو بھی جوڑتے رہے۔جب انہوں نے امامت چھوڑی تو پوری قوت اور مکمل یکسوئی کے ساتھ دعوت الی اللہ میں لگ گئے۔ ملک کے مختلف علاقوں کے سفر کیے، مجالس میں شریک ہوئے، جماعتوں کی رہنمائی کی، اور اصلاحِ احوال کا فریضہ پوری توجہ سے انجام دیا۔ اس عرصے میں ان کی سادگی، محبت اور حکمت پر مبنی گفتگو لوگوں کے دلوں میں گھر کر جاتی۔ وہ سخت لہجے سے ناواقف تھے؛ ہمیشہ نرمی، دعا، خیر خواہی اور امید سے بات کرتے۔ان کا طرزِ دعوت ایسا تھا کہ سخت ترین دل بھی نرم پڑ جاتا۔ انہوں نے کبھی اپنی ذات یا نام کو نمایاں نہیں کیا، ہمیشہ اللہ کے کام کو مقدم رکھا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے جانے کے بعد بھی ان کی دعوتی محنت کا اثر دلوں میں باقی ہے۔حافظ صاحب کی سب سے نمایاں خصوصیت سادگی تھی۔ وہ دنیا کی آسائشوں، عہدوں اور نمود و نمائش سے ہمیشہ بے نیاز رہے۔ لباس میں سادہ، رہن سہن میں سادہ اور معاملات میں بالکل صاف و شفاف—یہی اُن کی زندگی کا اصل امتیاز تھا۔سخاوت میں وہ اپنی مثال آپ تھے۔ ان کے مزاج میں ایک عجیب کشادگی تھی۔ مدد کے لیے آنے والا کبھی خالی نہیں لوٹا۔ وہ اپنی کمائی کو اپنی ضرورت سے زیادہ دوسروں کی امانت سمجھتے۔ غریب، مسکین، یتیم اور مزدور اُن کے دل کے سب سے قریب تھے۔ اپنی جیب خالی کرکے بھی دوسروں کا بوجھ ہلکا کر دینے کا وصف ان کی شخصیت کا مستقل حصہ تھا۔دوستوں اور چاہنے والوں کے لیے وہ مخلص، سادہ دل اور انتہائی ہمدرد انسان تھے۔ بیودہ کے نوجوانوں کی تربیت میں ان کی شفقت اور خیر خواہی نے بے شمار دلوں کو ان کا گرویدہ بنا دیا۔ آنے والی جماعتوں کی دل و جان سے نصرت اور خدمت ان کے اخلاص اور مہمان نوازی کا خوبصورت نمونہ تھی۔ وہ کبھی خود کو بڑا نہیں کہتے تھے، بلکہ ہر اچھے کام کو اللہ کا فضل سمجھ کر خاموشی سے کر گزرتے تھے۔زندگی کے آخری برسوں میں انہیں ایک ایسی بیماری نے آ گھیرا جو دو سے ڈھائی سال تک مسلسل رکاوٹ بنتی رہی۔ باوجود بیماری کے، انہوں نے نہ اپنے چہرے سے مسکراہٹ کم ہونے دی، نہ دل سے امید۔ ان کی زبان پر ہمیشہ حمد، دعا اور صبر کے کلمات رہتے۔ بیماری نے ان کے جسم کو کمزور ضرور کیا، مگر ان کے ایمان، ارادے اور حوصلے کو کمزور نہ کر سکی۔آخرکار ٢٦مئی ٢٠٢٥ کو وہ اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے۔ گاؤں کی فضا میں اُس دن ایک عجیب سا سکوت تھا، جیسے بیودہ کی گلیاں اپنے ایک ایسے مردِ مومن کو رخصت کر رہی ہوں جس نے زندگی بھر ان کے دلوں کو ایمان، محبت، خدمت اور خیر خواہی کی روشنی سے منور رکھا تھا۔ وہ دنیا سے رخصت تو ہو گئے، مگر اپنے کردار، اخلاق، نرم مزاجی اور دینی خدمات کی ایسی روشن لکیر چھوڑ گئے جو آنے والے برسوں تک چراغِ راہ بنی رہے گی۔یہی وجہ ہے کہ وہ آج بھی ایک ستارے کی مانند ہیں—جو ڈوب تو گیا، مگر اپنی روشنی پیچھے چھوڑ گیا۔یا ربّ العالمین! ہمارے اس پیارے بزرگ کی یادوں کو دلوں میں سلامت رکھ، ان کی خدمات کو قوم و ملت کے لیے چراغِ راہ بنا دے، اور انہیں وہ شان عطا کر جو تیری رضا کے تابع بندوں کو نصیب ہوتی ہے۔ آمین ثم آمین یا ربّ العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے