कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جہالت دنیوی تعلیم سے ختم نہیں ہوتی

تحریر: مولانا میر ذاکر علی
محمدی پربھنی 9881836729
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

مسلمانان عالم کی ( fundamental education) بنیادی تعلیم، عصری علوم کے ساتھ قرآن کریم اور اس کے دستور کو سمجھنے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ پر عمل کرنے، جس میں انسانیت اخوت بھائی چارگی، ( justice) عدل و انصاف، اور ( Moral values) حسن اخلاق ، کا ذکر کیا گیا ہے۔ جہالت اور نا سمجھی کے انسداد کا موثر ذریعہ دنیاوی تعلیم کے ساتھ خالص ( Religious education) مذہبی تعلیم فرضیت کی حیثیت رکھتی ہے۔ جس سے اخلاقی اقدار، حسن سلوک، عدل و انصاف، اور مذہبی و ملی تشخص کی بقاء ہے۔ آپ کی ایک حدیث سے اس بات کی اہمیت اور افادیت اجاگر اور دو بالہ ہوتی ہے۔ فرمایا، Religious knowledge) علم دین کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔ وہ علم جو حلال اور حرام کی نشاندہی کرتا ہے۔ وہ علم پاک دامنی اور دوسروں کی عزت( Respect) تحفظ کا درس دیتا ہے۔ وہ علم جو مساوات ،اور حقوق اللہ و حقوق العباد کو ترجیح دیتا ہے۔ وہ علم جو کسی کے ناحق قتل پر سارے انسانیت کے قتل کے مترادف بتاتا ہے۔ اور کسی کے عزت کے تحفظ کو سارے دنیاکے تحفظ کرنے کے مترادف کہتا ہے۔ وہ علم جو خدا کی معرفت اور اسکی ( creation) تخلیق کردہ مخلوقات اور اسکی قدرت پر غور و خوض کرنے کی صلاحیت اور جذبہ عطا کرتا ہے۔ جب انسان اس معیار پر اور اس کسوٹی پر ہوتا ہے ،تو اس علم عظیم کی نسبت سے انسان میں ( Moral values) اخلاقی اقدار۔ دوسروں کے تئیں حسن اخلاق کا جذبہ موجزن ہوتا ہے۔ اور دنیا و آخرت کے کامیابی کا ضامن ہے۔ لیکن ہم نے ہماری ( Fundamental knowledge) بنیادی تعلیم کو فراموش کیا ہے۔ اور ( Modern education) عصری تعلیم کو ہی بنیادی تعلیم سمجھ بیٹھے۔ آج اگر ہم جائزہ لیں تو بنیادی تعلیم جو قرآن و حدیث پر مشتمل ہے۔ ہم اس سے کوسوں دور ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آج ( Social crisis) معاشرتی اور سماجی بحران کا شکار ہیں۔ اگر صرف عصری علوم کو ہی بنیادی علوم اور کامیابی کا سبب مان لیں تو یقینا ہم ایک بڑے سماجی بحران کی طرف گامزن ہیں۔ کیونکہ صرف عصری علوم سے ہم اپنے عقائد اور نظریات کو درست کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے، جب تک کہ اولین اور بنیادی تعلیم قرآن اور احادیث کو سمجھنے اور اس کے حصول کی کوشش نہ کریں۔ مولانا ابوالحسن علی میاں ندوی رحمت اللہ علیہ نے ایک مناسبت سے کہا تھا کہ ،اگر ماڈرن تعلیم سے مسلمان نسل کے عقیدہ میں بگاڑ آسکتا ہے تو ایسی تعلیم کو ترک کرنا چاہیے۔ کیونکہ شیطان کا سب سے بڑا مقصد مومن کے ایمان پر حملہ اور اس کے عقیدہ کو مسمار کرنا ہے۔ چنانچہ ہماری نجات اور کامیابی کی بنیاد صرف اللہ اور اسکی اطاعت میں ہی مضمر ہے۔ آج ہم اگر جائزہ لیں تو بہت ہی دکھ اور افسوس ہوتا ہے کہ۔ دنیا میں عصری تعلیم کی بڑی بڑی ڈگری یافتہ لوگ ہیں جو دین الہی سے اور سنت رسول کیا ہے، اس سے نا آشنہ اور بہت دور ہیں۔ آج نسل نؤ کی ملی و مذہبی شناخت اور ساکھ کو مضبوط ترین کرنے کے لیے دینی و مذہبی تعلیم کی ضیاء پاشی اور عمل صالح اور اخلاقیات کی تعلیم دینے کی اشد ضرورت ہے۔ کیونکہ اللہ کا فرمان ہے، آپ اس حالت میں دنیا سے جائیں کے آپ مومن اور سچے پکے مسلمان ہو۔ ورنہ موت کوئ بری چیز نہیں ، مومن کے لیے تحفہ ہے۔ موت بری تب ہوگی جب ،آپ اس دنیا سے بغیر اعمال صالحہ کے رخصت ہوں گے۔ موت تب بری ہوگی کہ جب آپ کی موت ایمان پر نہ ہو، موت بری تب ہوگی جب آپ اسلام کے بغیر زندگی بسر کریں گے ۔ اور نہ ہی توبہ کریں گے۔اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی سے روگردانی کریں گے۔ جیسا کہ عصر حاضر میں ہم اس بات کا مشاہدہ کر رہے ہیں کہ جو لوگ اعلی تعلیم ،اعلی ایکٹنگ ،اور ( Luxurious life ) گذارنے والے جن کے پاس اسلام جیسا قیمتی مذہب کی تعلیم کی رسائ نہیں ہونے کی وجہ سے جہالت کا شکار ہیں، عقائد اور شرک جیسی سنگین جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں،اور دنیا سے بے ایمانی سے رخصت ہورہے ہیں۔ جو نہایت افسوس کی بات ہے۔ آج مخلوط عصری اور ماڈرن تعلیم نے بے راہ روی اور اخلاقی اقدار کی دھجیاں اڑائ۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم ماڈرن تعلیم کے حصول کے لیے کتنی جد و جہد کرتے ہیں۔ ہم ڈاکٹر انجنئیر اور دیگر اعلی تعلیم کے لیے لاکھوں روپیہ اور وقت صرف کرتے ہیں ۔ جو صرف دنیا کے حد تک محدود ہے۔ اگر ہم عصری اور ماڈرن تعلیم کے ساتھ دینی اور مذہبی تعلیم کو فوقیت دیں تو یہ ہمارے قومی اور ملی تشخص کے بقاء کا ضامن ہوگا۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ جو اہل علم، علماء، حفاظ اور ہمارے مساجد کے امام جو ہماری نسل نو اور ہم سے جہالت کے اندھیروں کو دور کرنے کے لیے، ہماری آخرت کی کامیابی کے لیے، ہماری اولاد کو اخلاق کا پیکر بنانے کے لیے ،ان کی آخرت سنوارنے کے لیے۔ ہماری نمازوں کی فکر کرتے ہیں۔ اسلام اور مسلمانوں کی بنیادی ضرورت ہے۔ اب سوال یہ کہ ہم نے اہل علم اور اماموں کو کیا دیا؟ ہم نے اماموں اور دینی درسگاہوں کے اساتذہ کو کیادیا؟ جو ہماری بنیادی ضرورت ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہمارے ان رہنماوں اور علماء ،اور اماموں کا خاطر خواہ مشاہرہ ہونا چاہیے تھا۔ ہم زمانے سے مختلف تنظیمیں ،مختلف جماعتیں اور مختلف پارٹیاں بناتے ہیں ۔ اتنی ساری تنظیمیں ہوکر بھی ہم ایک لاوارث کی طرح ہیں۔ جیسے تھے ویسے ہی ہیں۔ کیونکہ ہم کبھی بھی ایک پلیٹ فارم پر نہیں آتے۔ اور نہ ہی متحد ہوتے۔ کسی کو قومی ایوارڈ دیا جاتا ہے ،تو کسی کو محسن، اور کسی کو فخر، اور کسی کو سالار کا لقب دیا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے امام کسمپرسی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔ ہمارے امام غربت کی زندگی گذار رہے ہیں ۔ قومی ایوارڈ اور محسن انسانیت،اور فخر مہاراشٹر جیسے ایوارڈ تو ہمارےمساجد کے اماموں کو دینا چاہیے کہ وہ اس غربت کی حالت میں بھی دین و ایمان پرقائم ہیں ۔ قوم کی امانت قوم و ملت کے تعلیم ترقی کے لیے صرف ہونا چاہیے۔ نہ کہ ہوائ جہازوں میں سفر، مہنگی لاجوں میں قیام ،اور ذائقہ دار کھانوں میں ۔امت کی امانت کے ہم ذمہ دار ہیں۔ اگر ہم ذمہ داری میں کتر و بیونت کریں گے۔ تو جان لیجے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تم میں ہر ایک ذمہ دار ہے۔ اور بروزقیامت اللہ کے پاس جواب دہ ہوں گے۔ آج ایک بھیک مانگنے والا یومیہ دو ہزار روپیے گھر لیجاتا ہے۔ بس ایک امام ہی ہے جو بیچارہ کم تنخواہ پر اللہ کا۔ شکر گذار ہے۔ لیکن ہم اگر ان کی معاشی کمزوری پر نظر ثانی نہیں کروگے تو قیامت میں اس متعلق جواب دہی کے لیے تیار رہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے