कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مولانا ابوالکلام آزاد کی تعلیم میں سائنس کی اہمیت

تحریر: جنید عبدُالقیوم شیخ
(معلم، ایس۔ایس۔اے اردو ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج آف سائنس، سولاپور)

تعارف: مولانا ابوالکلام آزاد برصغیر کے اُن ہمہ گیر مفکرین میں سے تھے جنہوں نے آزادی کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ تعلیم، سائنس، اور تہذیبی شعور کو قوم کی تعمیر کا لازمی جزو قرار دیا۔بطورِ وزیرِ تعلیم، ان کا وژن محض نصابی تعلیم تک محدود نہیں تھا، بلکہ وہ سائنسی فکر، عقلی تربیت، اور عملی تحقیق کو تعلیم کا بنیادی مقصد سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک سائنس قوموں کی ترقی کا زینہ اور جہالت کے اندھیروں سے نجات کا ذریعہ تھی۔مولانا آزاد کا یہ قول آج بھی مشعلِ راہ ہے: “تعلیم کا مقصد صرف معلومات حاصل کرنا نہیں، بلکہ تحقیق، جستجو اور تخلیق کی صلاحیت بیدار کرنا ہے۔”مولانا آزاد کا تعلیمی فلسفہ اور سائنس: مولانا آزاد نے تعلیم کو انسانی ترقی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم کا سب سے بڑا مقصد انسان میں سائنسی شعور، اخلاقی توازن اور فکری آزادی پیدا کرنا ہے۔انہوں نے ملک کی نئی تعلیمی پالیسی میں تین اہم اصولوں کو بنیاد بنایا:
1. انسانیت (Humanism)
2. سائنسی شعور (Scientific Temper)
3. رواداری (Tolerance)
ان کے نزدیک ایک ایسی قوم ہی ترقی کر سکتی ہے جو علم و اخلاق دونوں کو ہم آہنگی کے ساتھ اپنائے۔مولانا آزاد کا نظریہ یہ تھا کہ سائنس ذہن کو منظم کرتی ہے اور ایمان دل کو مضبوط بناتا ہے۔سائنس اور قومی ترقی: آزادی کے بعد مولانا آزاد نے محسوس کیا کہ ملک کی تعمیرِ نو کے لیے سب سے زیادہ ضرورت سائنسی ترقی کی ہے۔ان کے دورِ وزارتِ تعلیم میں ایسے عظیم ادارے وجود میں آئے جنہوں نے ہندوستان کو عالمی سطح پر سائنسی شناخت دلائی۔
ان میں نمایاں ادارے یہ ہیں:
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (IITs)
یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC)
کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (CSIR)
انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز (ICCR)
یہ تمام ادارے مولانا آزاد کی اس بصیرت کا نتیجہ تھے کہ قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو تحقیق و تخلیق کے میدان میں خود انحصار ہوں۔سائنس اور مذہب کا امتزاج: مولانا آزاد نے مذہب اور سائنس کو دو متضاد قوتیں نہیں بلکہ ایک دوسرے کا تکملہ قرار دیا۔ان کے نزدیک قرآنِ کریم کا ہر صفحہ انسان کو غور و فکر، مشاہدہ اور تحقیق کی دعوت دیتا ہے — اور یہی دعوتِ فکر سائنس کی روح ہے۔وہ کہا کرتے تھے: “قرآن ہمیں سوچنے، سمجھنے اور تجربہ کرنے کی تعلیم دیتا ہے، اور یہی طرزِ فکر علمِ سائنس کی بنیاد ہے۔”ان کے نزدیک ایمان اور عقل ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ رفیق ہیں،اور اگر علم کو ایمانی بصیرت کے ساتھ جوڑا جائے تو انسانی ترقی کی راہیں کھلتی ہیں۔نوجوان اور سائنسی تحقیق: مولانا آزاد کا ماننا تھا کہ نوجوان نسل قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔انہوں نے نوجوانوں کو پیغام دیا کہ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں مہارت حاصل کریں تاکہ ملک کو خود کفیل بنا سکیں۔ان کا کہنا تھا: “ہمیں ایسے تعلیمی ادارے قائم کرنے ہیں جہاں تحقیق کو عبادت کا درجہ حاصل ہو، اور علم کو انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کیا جائے۔”آج جب دنیا مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)، حیاتیاتی سائنس (Biological Science) اور خلائی تحقیق (Space Research) میں آگے بڑھ رہی ہے، مولانا آزاد کی یہ تعلیم ہمیں یاد دلاتی ہے کہ علمِ جدید کے دروازے صرف اُن قوموں کے لیے کھلتے ہیں جو سائنسی تحقیق کو عبادت سمجھتی ہیں۔نتیجہ: مولانا ابوالکلام آزاد کا تعلیمی فلسفہ آج بھی اتنا ہی مؤثر اور زندہ ہے جتنا آزادی کے ابتدائی برسوں میں تھا۔ان کے نزدیک سائنس محض نصاب کا حصہ نہیں بلکہ ترقی، تحقیق، اور خود انحصاری کا استعارہ ہے۔ اگر ہم ان کے نظریات پر عمل پیرا ہوں تو ہندوستان علمی، صنعتی اور اخلاقی اعتبار سے ایک مثالی قوم بن سکتا ہے۔خلاصہ: مولانا ابوالکلام آزاد کی تعلیم میں سائنس کی اہمیت صرف نصاب تک محدود نہیں بلکہ قومی شعور، سائنسی مزاج، اور فکری آزادی کی بنیاد ہے۔ ان کا پیغام آج بھی زندہ ہے — “تعلیم انسان کو وہ قوت عطا کرتی ہے جو اسے غلامی سے نکال کر علم و عمل کی روشنی میں لے جاتی ہے۔”
حوالہ جات:
1. وزارتِ تعلیم، حکومتِ ہند — منتخب خطباتِ مولانا ابوالکلام آزاد، نئی دہلی، 1948ء۔
2. نیشنل ایجوکیشن پالیسی — حکومتِ ہند، وزارتِ تعلیم و تحقیقاتی امور، 1952ء۔
3. پروفیسر کے۔آر۔ نارائن — مولانا آزاد: معمارِ جدید تعلیمِ ہند، اشاعت: یونیورسٹی پبلیکیشنز، دہلی، 2011ء۔
4. علی گڑھ مسلم یونیورسٹی — رسالۂ آزاد اکیڈمی (Azad Academy Journal)، جلد پنجم، 2017ء۔
5. روزنامہ انقلاب (تعلیمی ضمیمہ)، “یومِ تعلیم خصوصی شمارہ”، 11 نومبر 2023ء، صفحہ 3۔
6. ڈاکٹر رضوان احمد، مولانا آزاد کا نظریۂ تعلیم اور عصرِ حاضر میں اس کی معنویت، شعبۂ تعلیم، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی، 2018ء۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے