कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ضمیر کی آواز

تحریر : مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی 98819836729
( بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف )

ایک حدیث میں ہے اپنے دل و دماغ سے دریافت کریں کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہے۔ اور یہ بات الگ ہے کہ ، علم کے اعتبار سے آپ اگر نا واقف ہیں تو اہل علم سے ضرور رجوع ہوں اور ان سے دریافت کریں۔ لیکن زندگی کے دیگر شعبوں میں زندگی کے مختلف حالات میں اچھا برا صحیح غلط کا انتخاب اپنے دل اور ضمیر سے دریافت کریں۔ ایک حدیث میں ذکر ہے ۔ جنت دو قدم پر ہے ایک قدم اپنے نفس پر رکھو ، تو دوسرا قدم جنت میں۔ اس کے بر عکس آپ اس گلیمر دنیا کی رعنائ اور چمک دمک جس کو حدیث اور قرآن نے صرف دھوکہ کے سوا کچھ نہیں کہا۔ اگر آپ اپنے ضمیر کے خلاف یعنی اکثر نفس گناہ کی دعوت اور مخرب اخلاق کی اشیاء کی طرف گامزن کرتا یے۔ اگر آپ اس آواز کو ترجیح دیں تو آپ یقینا عذاب الاہی کو دعوت دے رہے ہیں۔ قرآن میں ہے ۔ جس کا مفہوم ہے بندہ اللہ کا شکر کرکے معزز بن جاتا ہے یا پھر خالق کی نافرفانی کرکے اور کفران نعمت کا مرتکب ہوکر اللہ کے عذاب کا موجب بنتا ہے۔ اللہ نے ہر انسان کو ایک دل ایک ضمیر بنایا ہے۔ اور یہی نہیں آپ کو اچھے برے کا انتخاب آپ کے دل و دماغ سے ہی کرنا پڑتا ہے۔ اور یہ کہ آپ کو آزاد اور مکلف بنایا ہے۔ چنانچہ اللہ نے انسان کو ایسی قوت طاقت بخشی ہے۔ اور کسی چیز کو پرکھنے کی صلا حیت جس کو ضمیر یا دل کہا جاتا ہے۔ قرآن کے الفاظ ہیں ۔ جس کا مفہوم ہے کہ اللہ نے زندگی اور موت کی تخلیق اس لیے کی کہ تم میں کو ن اچھا اور کون برا عمل کرتا ہے۔ اللہ نے انسان کو صلاحیت عطا کی ہے۔ ہمارا ضمیر اچھے کاموں کی طرف بھی راغب ہے اور برائ کی طرف بھی مائل ہوتا ہے ۔ مولانا وحید الدین خان نے لکھا ہے جب اللہ اپنے بندوں کو ستر ماؤں ے زیادہ محبت کرتا ہے۔ تو پھر کیسے اپنے بندوں کو جہنم کی آگ میں ڈالیگا۔ جہنم کی آگ کا مسئلہ جزاء اور سزا سے متعلق ہے۔ نہ کہ محبت سے ۔اگر آپ کا نفس برائ پر راغب کریگا اور آپ اس کی آواز پر اور اس کی سمت چل پڑیں ، تو یقینا آپ سراب دھوکہ اور بربادی کی طرف جارہے ہیں۔ آخرت میں سزا اسی گناہ کی پاداش میں ملیگی۔ جبکہ آپ برائ کی آواز کو دبا دینگے۔ تو آپ یقینا جنت کی طرف چل پڑینگے۔ اس ضمن میں اللہ نے فرمایا۔ جو ادنی سے ادنی اچھا عمل کریگا وہ اس کی اہمیت اور قدر وقیمت کو پالیگا۔ اور ادنی سے ادنی برائ کا مرتکب ہوگا وہ بھی اس کے نقصان اور انجام کو دیکھ لیگا۔ بات صرف نفس کی ہے آیا آپ اس کو کنٹرول میں رکھیں ، یا پھر کنٹرول سے باہر۔ دونوں کا انجام آپ کے سامنے ہے۔ نفس کی چار قسمیں ہیں۔ جس کو حدیث میں ذکر کیا گیا ہے۔ 1 نفس امارہ 2 نفس لوامہ 3 نفس خبیثہ اور 4 نفس مطمئنہ ۔ نفس امارہ کی آواز پر آپ اگر عمل پیراء ہوں تو وہ آپ کو ہمہ قسم کی برائ فسق و فجور ، اللہ کی نافرمانی ، نا انصافی ، حکم عدولی ، گناہ کبیرہ جیسے برائیوں پر آمادہ ہونے پر اکساتا ہے۔ آپ کو چاہیے کہ اس نفس کی آواز کو دبادیں ۔ کیونکہ یہ وہ نفس ہے جو دنیا کو glamour کی طرح پیش کرکے گمراہ کرتا ۔ اور گلیمر ایک سراب کے مانند ہے۔ جہاں پانی تو نہیں البتہ ایک چمکتی ہوئ ریت ہوتی ہے جس کا کوئ فائدہ نہیں ہوتا۔ جو دھوکہ کے مترادف ہے۔ اور دوسری قسم نفس لوامہ ہے۔ جس کو ضمیر کہا جاتا ہے۔ اور یہی ضمیر انسان کو اچھائ کی طرف اور اطاعت پر ابھارتا یے ۔ اسی نفس لوامہ کی صدا اور اس ضمیر کی آواز کو ہم اپناے ۔اور اوروں کو اس کی دعوت سخن دیں تو ایک اچھا معاشرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ حدیث میں ہے اگر آپ کوئ برائ ہوتے ہوے دیکھے یا کسی پر بیجا ظلم ہوتے ہوے ۔ آپ کا دل ضمیر پسیج جاے اور ضمیر سے یہ آواز نکلے کہ اس عمل کو طاقت سے زبان سے روکے یا پھر دل میں برا سمجھے ۔ جسے ادنی درجہ کا ایمان کہا گیا ہے۔ جب تک برائ پر اکسانے والے نفس پر قابو پانے کی کوشش نہیں کی گئ تب تب تک جنت میں دخول ممکن نہیں ہے۔ نفس لوامہ دوسرے معنی میں ایک قلب سلیم بھی ہے کہ جس کو اللہ نے قلب سلیم عطا کیا ہو، وہ ہمہ تن اطاعت خداوندی انسانوں کے ساتھ عدل و انصاف محبت و اخوت بھائ چارہ جیسے ہمدردانہ افعال صادر ہوں گے۔ نفس مطمئنہ کو قرآن کریم نے ذکر کیا ہے۔ کہ اے پرسکون اور مطمئن قلب جس نے نفس امارہ کی پیروی نہ کرتے ہوے نفس لوامہ کے ضمیر کی آواز اور اس کے عوامل کو اپنایا ۔ اور نفس امارہ کو مات دی ۔ فرمایا اے نفس مطمئنہ نیک اور صالح بندوں کی معیت کے ساتھ جنت میں داخل ہوجا۔ نیک اور صالح بندوں کی معیت ایک خاص انعام اور اصلاح قلب کا سامان ہوتا ہے ۔ چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد باری ہے ۔ کونوا مع الصادقین ۔ نیک اور صالح اور صادقین کی صحبت اختیار کرو۔ جس سے نیک اور صالح اعمال میں سبقت کا ذریعہ بنتا ہے۔ تیرے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشاہے نہ رازی نہ صاحب کشاف۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے