कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مدارس دینیہ اور علماء کی اہمیت

تحریر : مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی 9881836729
( بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف )

یقیناً مدارس دینیہ امت مسلمہ کے لیے ایک ( Back bone) ریڑھ کی ہڈی کے مانند ہیں۔ اور دین اسلام کے مضبوط قلعے ہیں۔ مدارس کی کمی امت کے لیے باعث نقصان اور خسارہ کے مترادف ہے۔ کیونکہ علم دین سے ہی ہماری بقاء اور کامیابی کا راز اسی میں مضمر ہے۔ اور علماء کرام مفتیان عظام حفاظ کرام یہ ہمارے لیے مشعل راہ ہیں ۔ کیونکہ علم اور عمل ہی ہمارا طرہ امتیاز ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم علماء کی قدر کریں ۔ یہی ہمارا اثاثہ ہے۔ اور رب العزت نے امت مسلمہ کو ہی سب سے پہلے علم کا حامل بنایا اور اس روے زمین پر امت محمدیہ کو ہی لوگوں میں علم کی ضیاپاشی اور ( spritual guidance ) صالح عمل کو رائج اور اس کی ترویج کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ چنانچہ اس لحاظ سے اگر دیکھا جاے تو امت محمدیہ ہی علم سیکھنے اور سکھانے کا ذریعہ ہے۔ حفاظ اور ائمہ جو ہمارے قوم و ملت کے معمار ہیں۔ مساجد میں امامت کے فرائض انجام دیتے ہیں ، ان کی مختصر تنخواہ ہوتی ہے۔ اور گاہے بگاہے ان کی تنخواہ بڑھانے کے بارے میں علماء حفاظ اور دیگر ہمدردان قوم و ملت آواز اٹھاتے رہتے ہیں کہ ان کا مشاہرہ کم از کم 25 ہزار ہو اس سے کم نہ ہو۔ یقینا ہونا چاہیے بلکہ اس سے زیادہ۔ بیچارے ائمہ صرف پچیس ہزار کا مشاہرہ طلب کرتے ہیں۔ 60 یا 70 ہزار نہیں۔ جبکہ عصری علوم سکھانے والے ایک لاکھ تک تنخواہ پاتے ہیں۔ لیکن ہماری قوم و ملت کو پتہ نہیں کیا ہوا ؟ جو اہل علم اور علماء ہماری نسلوں کو علم سے آراستہ کرتے ہیں ۔اور صلاحیتوں کو ابھارتے ہیں۔ ان کے نماز کی فکر اور دینی تعلیمات اور اخلاقی تعلیمات سے آراستہ کرتے ہیں۔ ان علماء نے کبھی بھی 60 ہزار اور 70 ہزار کا مطالبہ نہیں کیا۔ جبکہ یہ اہل علم کے لیے 60 ہزار اور 70 ہزار بھی کم ہے۔ ایک ٹیچر یا اسکول کا خادم جس کی تنخواہ ستر اور اسی ہزار ہوتی ہے۔ کیا مدارس کے علماء اور مساجد کے ائمہ کرام حقدار نہیں کہ ان کو زیادہ سے زیادہ مشاہرہ دیا جاے۔ ہم ایک طرف حدیث بیان کرتے ہیں کہ عالم کی قدر و منزلت بہت بڑی ہے۔ لیکن ہم انکی تنخواہ بہت کم رکھتے ہیں۔ ہم کروڑوں روپیہ مساجد کے تعمیری کام میں صرف کرتے ہیں ۔اور امام کا حق مارتے ہیں۔ یہ کہا جاے تو بیجا نہ ہوگا کہ فقیر بھی خیرات میں یومیہ 2 ہزار روپے گھر لیجاتا ہے۔ کیا ہم علم جیسی بیش دولت پر خرچ نہیں کر سکتے؟ ہندوستان میں برہمن قوم کے آبادی کا تناسب صرف 3 فیصد ہے۔ اور ان کا تعلیمی فیصد 86 ہے یعنی یہ سمجھو کہ وہ سب تقریبا تعلیم یافتہ ہے۔ اور جو قوم کا تعلیم و تعلم مقصد تھا ان کا تعلیمی فیصد 4 یا 5 ہے، جبکہ مسلمانوں کے آبادی کا تناسب 25 سے 30 فیصد ہے۔ یہ ہمارے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ ہم دنیاوی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں ، لیکن دینی تعلیم پر خرچ نہیں کرتے۔ اگر ہم دینی مدارس میں مدرسین کی تنخواہ کی بات کریں تو وہاں بھی کوئ خاطر خواہ مشاہرہ نہیں دیا جاتا ۔ الا ماشاء اللہ چند مدارس کے۔ یہاں تو تقریبا مہتمم اور ناظم علماء اور مفتیان کرام ہی ہیں۔ پھر یہ علماء اپنے مدارس میں معلمین کی تنخواہ اطمینان بخش کیوں نہیں رکھتے؟ ادھر مساجد کے اماموں کو مسجد کی کمیٹی کم تنخواہ دیتی ہے۔اور دینی مدرسوں میں علماء جو ناظم اعلی ہوتے ہیں معلمین کو کم تنخواہ دیتے ہیں۔ مساجد کے صدور اکثر غیر عالم ہوتے ہیں۔ لیکن مدارس میں تو تقریبا علماء ہی کے ہاتھ میں باگ ڈور ہے۔ یہ معلمین کی تنخواہ 10 اور 12 ہزار سے زیادہ نہیں دیتے۔ یعنی مساجد کے ائمہ اور مدارس کے معلمین دونو ں پر ظلم ہوتا ہے۔ اور عموما مدارس کے مہتمم ہر چیز سے آسودہ اور خوشحال ہوتے ہیں۔ کیونکہ سب کچھ ان ہی کے تصرف میں اور ان ہی کے ہاتھوں میں اختیار ہوتا ہے۔ اگر ہماری قوم مدارس اور اماموں کے خیر خواہ اور ان کے خاطر خواہ معاونت نہیں کروگے۔ تو وہ دن بھی دور نہیں کہ آنیوالی نسل عالم اور حافظ بننے سے پس و پیش کریگی ۔ یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اہل علم اور علماء کی قدر کریں ۔اور وہ جو اپنا قیمتی وقت نسل کو علم اور عمل کا پیکر بناتے میں صرف کرتے ہیں۔ اور ہماری یہ بھی اجتماعی ذمہداری ہے کہ انہیں خاطر خواہ مشاہرہ دیں۔ جس سے آنیوالی نسل نو میں علم و عمل اور صالح اثرات مرتب ہوں، اور ایک بہترین معاشرہ کی تکمیل و تخلیق ہو جو ہمارا مقصد عین ہے۔ اگر ہم پیغمبر اسلام کی یہ حدیث جس میں آپ ﷺ نے عالم اور اہل علم کی اہمیت اور افادیت کو اجاگر کیا۔ مفہوم ہے ۔ عالم کی موت سارے عالم کی موت ہوتی ہے۔ کیونکہ اس کے پاس علم کا اثاثہ ہوتا ہے۔ اگر ہم اس پر غور و فکر کریں تو علماء و حفاظ اور مدارس دینیہ میں معلمین کی مالی معاونت اور تنخواہ میں اضافہ اور خاطر خواہ مشاہرہ دینے میں پس پیش نہیں کرینگے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے