कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

فلسطین کی سرزمین پر بہتا لہو

از قلم :فضیل اختر قاسمی بھیروی

فلسطین وہ مقدس دھرتی، جس کے ذرات میں انبیاء کے قدموں کی چاپ محفوظ ہے، جس کی ہواؤں میں اقصیٰ کی اذانوں کی بازگشت گونجتی ہے، جہاں آسمان بھی خون کی لکیروں سے شرمندہ ہے، جہاں زمین سینے میں شہداء کی لاشوں کو چپ چاپ سمیٹے بیٹھی ہے، جہاں معصوم بچوں کے ہاتھوں میں کھلونے نہیں، پتھر ہوتے ہیں، اور ان کے چہروں پرمسکراہٹوں کے بجائے بارود کی راکھ جمی ہوتی ہے۔یہ وہ سرزمین ہے جہاں درد چیخ بن کر فضا میں بلند ہوتا ہے، جہاں مائیں لختِ جگر کو کھو کر بھی لبوں پر شکر کی پٹیاں باندھتی ہیں، جہاں باپ اپنے جواں بیٹے کے جنازے کو کاندھا دے کر کہتا ہے: "اللھم تقبل شہادتہ”، جہاں شیر خوار بچے بھی خون میں لت پت ہوتے ہیں تو بھی امتِ محمدیہ کی آنکھیں خوابِ غفلت میں جمی رہتی ہیں۔ نہ کوئی غیرت تڑپتی ہے، نہ حمیت جاگتی ہے۔
مسلسل گرتی بمباری، گونجتے میزائل، اور چیختے زخمی یہ سب کسی فلمی منظر کے عکس نہیں، بلکہ ہمارے اپنے کلمہ گو بھائیوں کی حقیقت ہے۔ وہ لوگ جن کی نسوں میں ہمارا ایمان، ہماری تاریخ، ہماری غیرت دوڑ رہی ہے، آج وہی تنہا ہیں، بےیار و مددگار، اور ہم…؟ ہم یا تو تماشائی بنے بیٹھے ہیں یا پھر بےحسی کی کمبل اوڑھ کر غفلت کی چادر میں دبکے ہیں۔کہاں گئی وہ امتِ واحدہ؟وہ امت جو "کالجسد الواحد” (ایک جسم کی مانند) تھی، کہ اگر ایک عضو میں تکلیف ہو تو سارا جسم بے چین ہو جاتا تھا۔
آج وہ جسم بے حس کیوں ہو گیا؟ وہ دل جن میں کبھی غیرتِ ایمانی دھڑکتی تھی، آج کیوں خاموش ہیں؟ کہاں گئی وہ لبیک کہنے والی امت؟وہ امت جو مظلوم کی آہ پر، ماں کی پکار پر، معصوموں کی چیخ پر، کہیں سے بھی اٹھ کھڑی ہوتی تھی۔آج وہ کیوں اپنے اسکرین پر خبریں دیکھ کر صرف "افسوس” کا بٹن دبا دیتی ہے؟ شہرِ اقصیٰ آج فریاد کر رہا ہے،اور ہم اپنی مصروف زندگیوں، ٹرینڈز، اور وقتی جذبات میں کھو چکے ہیں۔ یہ وہی قبلہ اول ہے، جہاں سے سفرِ معراج کا آغاز ہوا، جہاں رسول ﷺ نے تمام انبیاء کی امامت کی۔ آج اس کی دیواریں ٹوٹ رہی ہیں، اس کے نمازی قید کیے جا رہے ہیں، اور امت سو رہی ہے۔
اے امت مسلمہ جاگ جاؤ!یہ صرف جذباتی جملہ نہیں، بلکہ ایک پکار ہے—خالص ایمان کی، غیرت کی، شعور کی۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمے داریوں کو پہچانیں۔ اگر ہم تلوار نہیں اٹھا سکتے تو زبان سے تو بات کر سکتے ہیں، دل سے تو بیزاری دکھا سکتے ہیں، ہاتھ سے تو مدد کر سکتے ہیں۔ ورنہ ہمیں بھی اس خاموشی کا حساب دینا ہوگا۔کہاں ہیں وہ دن جب ایک بیٹی کی پکار پر ہزاروں جانثار نکل کھڑے ہوتے تھے؟ آج تو اقصیٰ کی در و دیوار پکار رہی ہے، خون فریاد کر رہا ہے، صدا گونج رہی ہے: اے امت! جاگ جا، ہمارے لہو کی قیمت ادا کر۔ہماری مائیں اپنے بچوں کو لوری کے بجائے شہادت کے قصے سنا کر سلاتی ہیں، اور ہم اپنے بچوں کو موبائل، ٹی وی اور عیش و عشرت میں گم کر رہے ہیں۔ ہماری بہنیں حیا کی چادریں سنبھالے قبروں میں اتر رہی ہیں، اور ہم فیشن، فیس بک اور فتنہ پرستی میں مست ہیں۔ اقصیٰ کے مینار جل رہے ہیں، اذانیں لہو میں ڈوب رہی ہیں، لیکن ہم صرف افسوس اورمذمت کے الفاظ سے اپنا دامن جھاڑ لیتے ہیں۔
اے ضمیر فروشو! اے سستی میں گم امت کے فرزندو! کب جاگو گے؟ کب جاگو گے؟ کیا اقصیٰ کے تمام ستون ملبہ بن جائیں؟ کیا آخری بچہ بھی شہید ہو جائے؟ کیا آخری ماں بھی اپنے لال کی لاش اٹھا لے؟ تب جاگے گی یہ امت؟ نہیں ! اب نہیں…! اب وقت آچکا ہے کہ ہم اپنے اندر ایمان کی حرارت پیدا کریں، اپنی دعاؤں کو آہوں سے بھریں، اپنی جیبوں کو مدد کے لیے کھولیں، اپنے قلم، اپنی آواز، اپنے قدم اور اپنی فکر کو اقصیٰ کے لیے وقف کریں۔ یہ محض فلسطین کی جنگ نہیں، یہ ایمان کا امتحان ہے، یہ ہماری غیرت کا فیصلہ ہے۔ آئیے، اس آنکھ سے گرنے والے آنسو کو صرف غم کی نمی نہ بننے دیں، بلکہ اس کو ایک تحریک، ایک للکار، ایک اعلانِ بغاوت بنائیں، ظلم کے خلاف، طاغوت کے خلاف، خاموشی کے خلاف، بےحسی کے خلاف۔ہمیں قلم سے لڑنا ہوگا، مال سے لڑنا ہوگا، دعا سے لڑنا ہوگا، اور اگر وقت آئے تو جان سے بھی لڑنا ہوگا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے