कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جنگِ آزادی میں مسلمانوں کا کردار

تحریر: محمد رضوان الدین الحسینی

تاریخ کے صفحات میں کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو کسی قوم کی اجتماعی شعور، غیرت، آزادی اور خود داری کا مظہر ہوتے ہیں۔ ایسا ہی ایک عظیم واقعہ ہندوستان کی تاریخ میں 1857ء کی جنگِ آزادی ہے، جسے ’’غدر”، "بغاوت” اور "پہلی جنگِ آزادی” جیسے مختلف نام دیے گئے، مگر اس کی اصل روح ایک عظیم قومی بیداری اور حریت پسندی کا اعلان تھی۔ اس تاریخی جدوجہد میں مسلمانوں کا کردار مرکزی، فیصلہ کن اور ناقابلِ فراموش رہا ہے۔ یہ مسلمان ہی تھے جنہوں نے آزادی کی شمع کو پہلی بار جلایا اور اپنی جان و مال، عزت و آبرو، علم و ہنر اور مذہب و ملت کو اس شعلے کی نذر کر دیا۔
مسلمان- انگریزوں کی نظر میں سب سے بڑا خطرہ:
جب انگریز ایسٹ انڈیا کمپنی کے جھنڈے تلے ہندوستان پر قابض ہونے لگے، تو ان کے پیشِ نظر صرف زمین کا حصول نہ تھا، بلکہ وہ سیاسی اقتدار، تہذیبی برتری اور مذہبی غلبہ چاہتے تھے۔ اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مسلمان حکمران اور اسلامی تہذیب تھی، جو گزشتہ کئی صدیوں سے اس ملک کی روح بن چکی تھی۔ اس لیے انگریزوں نے مسلمانوں کو سب سے پہلے نشانہ بنایا، ان کی بادشاہت ختم کی، مدارس و خانقاہیں ویران کیں اور دینی رہنماؤں کو تختۂ دار پر چڑھایا۔
1857ء کی جنگِ آزادی:
مسلمانوں کی قیادت میںـ1857ء کی جنگِ آزادی ایک غیرمعمولی اتحاد اور حریت کا مظہر تھی، جس میں ہندو مسلم دونوں شریک تھے، لیکن قیادت اور روحانی تحریک کا سرچشمہ مسلمان تھے۔
بہادر شاہ ظفرؒ:
مغل سلطنت کے آخری فرمانروا بہادر شاہ ظفرؒ اس بغاوت کے علامتی رہنما بنے۔ دہلی کو مرکز بنا کر انقلابی قوتیں اکٹھا ہوئیں۔ اگرچہ وہ عملی طور پر کمزور تھے، مگر ان کی شخصیت نے ایک مشترکہ پرچم فراہم کیا۔
مولوی احمد اللہ شاہ فیض آبادی:
وہ جنگِ آزادی کے ایک فکری و عملی رہنما تھے جنہوں نے اپنے وعظ و تبلیغ سے انگریزوں کے خلاف جہاد کی فضا پیدا کی اور عملی قیادت بھی کی۔
مولانا فضل حق خیرآبادیؒ:
انہوں نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا باقاعدہ فتویٰ جاری کیا۔ بعد میں گرفتار ہو کر کالا پانی کی صعوبتیں جھیلیں۔
انگریز ہماری دین، وطن اور عزت کے دشمن ہیں، ان کے خلاف جہاد فرض ہے۔(فتویٰ 1857)
علمائے دیوبند کی تحریکِ مزاحمت:
1857ء کے بعد انگریزوں نے بدلہ لینے کے لیے خصوصاً مسلمانوں کو انتقام کا نشانہ بنایا۔ اس ظلم و جبر کے بعد مسلمانوں نے ایک نئی حکمت عملی اپنائی۔ اسی وقت دارالعلوم دیوبند (1866ء) جیسے ادارے قائم ہوئے تاکہ اسلامی فکر و تہذیب کو زندہ رکھا جا سکے اور آئندہ کے لیے انقلابی دماغ تیار ہوں۔
شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ:
آپ نے تحریکِ ریشمی رومال کے ذریعے انگریزوں کے خلاف خفیہ انقلابی پیغامات کا نیٹ ورک قائم کیا، جس میں ترکی، افغانستان اور حجاز سے روابط شامل تھے۔
شیخ الہند محمود حسن دیوبندی کو گرفتار کر کے انگریز کے حوالہ کیا گیا تو ان کے ہمراہ چار شاگرد و ان کے قابل رشک تحریک کے سرگرم اراکین مولانا حسین احمد مدنی ، مولانا وحید احمد مدنی ، مولانا عزیر گل پیشاوری اور سید حکیم نصرت حسین مالٹا بھی تھے۔ شیخ الہند محمود حسن دیوبندی نے کہا انگریزی گورنمنٹ نے مجھ کو تو مجرم سمجھا ہے، تم تو لوگ تو بے قصور ہو اپنی رہائی کی کوششیں کرو تو چاروں نے جواب دیا جان چلی جائے گی مگر آپ کی خدمت سے جدا نہیں ہوں گے۔ حکیم نصرت حسین کوروی مالٹا جیل میں ہی وفات پا گئے، جس کے بعد وہ حکیم نصرت حسین مالٹا کے نام سے مشہور ہوئے،
مولانا عبیداللہ سندھیؒ:
انہوں نے اس تحریک کو عملی سطح پر آگے بڑھایا۔ وہ افغانستان چلے گئے اور وہاں سے آزادی کی جدوجہد کو جاری رکھا۔
مسلمان علماء اور جہاد کے فتوےـ:
فتووں نے عوام میں جذبۂ جہاد کو بیدار کیا۔ ان فتووں کی بدولت لوگ جانیں قربان کرنے لگے۔
کافر حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا ایمان کی علامت ہے۔
(علمائے ہند کا فتویٰ، 1857ء)
مسلمان مجاہدین کی شہادتیں:
دہلی میں ہزاروں مجاہدین کو توپوں کے دہانے پر باندھ کر اڑایا گیا۔
کانپور میں مسلمانوں کے محلے جلا دیے گئے۔
لکھنؤ، بریلی، بنارس اور میرٹھ میں مسلمانوں کا قتلِ عام ہوا۔
سر سید احمد خانؒ کا اصلاحی کردار:
1857ء کے بعد مسلمانوں کی زبوں حالی کو دیکھ کر سر سید احمد خانؒ نے تعلیمی و سماجی اصلاحات کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے مسلمانوں کو جدید تعلیم کی طرف راغب کیا اور علی گڑھ تحریک شروع کی۔ ان کا مؤقف یہ تھا کہ مسلمانوں کو انگریزوں کی زبان اور سائنس سیکھ کر اپنی حالت بہتر بنانی چاہیے۔
بہر کیف مختلف جنگوں قربانیوں جد وجہد کے بعد 1947 /15اگست کو ہندوستان آزاد ہوا اور عوام میں خوشی کی لہر دوڑی-

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے