कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

رٹّہ سسٹم سے نجات:تعلیم کو عمل سے جوڑنے کا وقت آگیا ہے!

از: خمیسہ محمد جنید، پربھنی 9850875893
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شر یف

علم جب صرف الفاظ میں قید ہو جائے اور عمل سے رشتہ توڑ لے تو وہ صرف یادداشت کا بوجھ بن جاتا ہے، شعور اور بصیرت کا نور نہیں۔ آج ہماری بیشتر درسی کتابیں، اسکول کے نصاب، اور امتحانی نظام ایک ایسے بے روح دھانچے میں تبدیل ہو چکے ہیں جہاں تعلیم صرف یاد کرنے، دہرانے اور لکھ کر نمبر حاصل کرنے کا نام رہ گیا ہے۔ لیکن کیا یہی تعلیم ہے؟ کیا بچوں کو صرف رٹا لگانا ہی ترقی کی ضمانت ہے؟ کیا یاد کی گئی سطریں اُن کی زندگی سنوار سکتی ہیں؟
رٹّہ سسٹم: تعلیمی تباہی کی جڑ:
ہندوستان میں آج متعدد تعلیمی اسکالرز، ماہرینِ تعلیم، اور مفکرین اس بات پر متفق ہیں کہ ہمارا موجودہ تعلیمی نظام ایک رٹّہ مارنے والے نظام میں بدل چکا ہے۔
اس سلسلے میں ہندوستان کے ممتاز مسلم ماہرِ تعلیم پروفیسر محمد طارق منصور (سابق وائس چانسلر، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) بارہا کہہ چکے ہیں:
اگر تعلیم صرف نقل، حفظ اور تحریر تک محدود ہو جائے تو ہم صرف ڈگری یافتہ نوجوان تو پیدا کریں گے، لیکن باصلاحیت اور باکردار نسل نہیں۔”
(خطاب: AMU Annual Convocation, 2018)
اسی طرح معروف تعلیمی اسکالر پروفیسر انیتا رامپال (سابق ڈین، فیکلٹی آف ایجوکیشن، دہلی یونیورسٹی) کہتی ہیں:
ہمارے بچے سبق یاد تو کر لیتے ہیں، مگر جب ان سے اس کا مطلب پوچھا جاتا ہے، تو وہ خاموش رہ جاتے ہیں۔ یہ خاموشی نظام کی ناکامی کی علامت ہے۔”
(NCERT Symposium on Constructivism, 2019)
اور پروفیسر وی۔ سوتھن داراجن (TISS, Mumbai) کے مطابق:
Rote learning is a grave injustice to the Indian child’s innate creativity. Experiential education is not luxury, it’s necessity.”
نیشنل ایجوکیشن پالیسی (NEP 2020) میں بھی واضح طور پر لکھا گیا ہے:
“Education must move away from rote learning to concept clarity and experiential learning.”
(NEP 2020, Ministry of Education, Govt. of India)
رٹّہ سسٹم کے نقصانات ثبوت و شواہد:
ASER رپورٹ 2023 کے مطابق:
بھارت کے 14 ریاستوں کے 60٪ بچے اپنی کلاس کی درسی کتابیں بھی سمجھ کر نہیں پڑھ سکتے، کیونکہ ان کی بنیاد صرف حفظ پر رکھی گئی تھی، فہم پر نہیں۔
NCERT 2021 تحقیق:
رٹّہ پر مبنی نظام بچوں کی تخلیقی اور سائنسی سوچ کو دباتا ہے، جس کے باعث وہ عالمی معیار کے مطابق مہارت حاصل نہیں کر پاتے۔
(NCERT Research Journal Vol. 55, Issue 2, 2021)
معروف مسلم اسکالر اور تعلیمی مصنف ڈاکٹر رضی الدین اعظمی اپنی کتاب "جدید تعلیم اور مسلم نوجوان” میں فرماتے ہیں:
’’رٹّا صرف یادداشت کا سہارا ہے، علم کی بنیاد نہیں۔ جب تک تعلیم، عمل سے نہ جڑے، مسلمان نوجوان صرف کاغذی قابلیت کے حامل بنیں گے، حقیقت میں نہیں۔‘‘
متبادل: سرگرمی پر مبنی، تجرباتی تعلیم (Experiential Learning):
اس ضمن میں ہندوستان کے نامور ماہرِ تعلیم پروفیسر یش پال (سابق چیئرمین UGC) کی یہ تاریخی بات ہمیشہ یاد رکھی جائے:
The goal of education is not to cover the syllabus but to uncover the mind.”
(Learning Without Burden Report, 1993)
اسی بنیاد پر نئی قومی تعلیمی پالیسی NEP 2020 نے تجرباتی تعلیم، فعالیت، تحقیق، اور پراجیکٹ پر مبنی سیکھنے پر زور دیا ہے۔
علم صرف پڑھ کر نہیں آتا، وہ کرنے سے، محسوس کرنے سے، اور جینے سے آتا ہے۔ اسی مقصد کے تحت حکومتِ ہند نے نئی تعلیمی پالیسی کے تحت تمام درسی کتابوں میں اب سبق کے اختتام پر سرگرمی (Activity) اور تجربہ (Experiment) لازمی قرار دیا ہے۔
یہ سرگرمی:
طالب علم کو خود سے سیکھنے پر مائل کرتی ہے
سبق کو زندگی سے جوڑتی ہے
اور تعلیم کو محض تحریر سے نکال کر تجربے کا میدان بنا دیتی ہے۔
 سرگرمی کیوں ضروری ہے؟ (فلسفیانہ اور عملی وضاحت):
جب ایک بچہ سبق کے بعد کوئی تجربہ کرتا ہے، خاکہ بناتا ہے، مشاہدہ کرتا ہے، کسی منظر کو ادا کرتا ہے، یا کوئی عملی کام انجام دیتا ہے تو وہ علم اس کے دماغ سے ہوتا ہوا دل میں اُتر جاتا ہے۔ یہی وہ "زندگی بدل دینے والا علم” ہوتا ہے، جو صرف یادداشت نہیں بلکہ کردار کی تعمیر کرتا ہے۔
جیسا کہ مشہور مسلم مفکر امام غزالیؒ فرماتے ہیں:
’’علم وہ نہیں جو زبانی ہو، بلکہ وہ ہے جو عمل میں ظاہر ہو۔‘‘
شعری انداز میں اظہار:
یہ سطریں شاید یاد رہیں، شاید بھلا دی جائیں،
مگر جو سبق عمل نے دیا، وہ عمر بھر نہ بھلایا جائے۔
زندگی میں سبق کا مقصد:
ہر درسی کتاب میں جو سبق لکھا ہوتا ہے، وہ صرف ایک معلوماتی متن نہیں ہوتا، بلکہ اُس کے پیچھے ایک مقصد، تربیت اور پیغام چھپا ہوتا ہے۔ بچے جب بڑے ہوتے ہیں، تو انہیں سطریں یاد نہیں رہتیں، مگر وہ مقصد ضرور یاد رہتا ہے جو ان کے دل کو چھو گیا ہو۔
اور وہ مقصد صرف زبانی پڑھنے سے پورا نہیں ہوتا، بلکہ جب وہ مقصد بچے کی زندگی سے جڑتا ہے، تجربہ بنتا ہے، منظر بن جاتا ہے تب جا کے وہ تعلیم اثر دکھاتی ہے۔
عملی سرگرمی کو ہر سبق کے ساتھ جوڑنے کے فوائد، شواہد، اور دلائل:
جب ہر سبق کے ساتھ کوئی عملی مشق، سرگرمی، یا پراجیکٹ شامل کیا جاتا ہے تو تعلیمی نتائج حیران کن حد تک مؤثر ہو جاتے ہیں۔ اس کی تفصیل درج ذیل ہے:
 1. یادداشت کے بجائے فہم کی پختگی:
جب بچے ہاتھوں سے کچھ کرتے ہیں، ماڈل بناتے ہیں، سوالات کو اپنے تجربے سے جوڑتے ہیں، تو وہ صرف یاد نہیں کرتے بلکہ سمجھتے ہیں۔ اور جو بات سمجھی جائے، وہ زیادہ دیر یاد رہتی ہے۔
ثبوت:
پروفیسر انور جمال ندوی (اسلامی اکیڈمی، لکھنؤ) اپنی کتاب "تعلیمِ جدید: فہم و عمل کے آئینے میں” میں فرماتے ہیں:
جو سبق عمل سے جُڑ جائے، وہ دل میں اُترتا ہے۔ یہی وہ علم ہے جو کردار بدلتا ہے، نہ کہ صرف نتیجہ دیتا ہے۔”
2. زندگی سے جُڑاؤ اور مقصدیت:
عملی سرگرمی سے سبق صرف ایک "نصابی مضمون” نہیں رہتا بلکہ وہ زندگی سے جُڑ جاتا ہے۔ بچے اس میں خود کو دیکھتے ہیں، اس کی معنویت کو سمجھتے ہیں۔
حوالہ:
پروفیسر کرشن کمار (سابق ڈائریکٹر، NCERT):
Learning becomes meaningful only when it connects to the child’s own world, and that happens through doing, not just reading.”
(Ref: NCERT Position Paper on Teaching of Science, 2005)
3. تنقیدی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت:
جب بچے عملی سرگرمی میں حصہ لیتے ہیں تو وہ سوچنے، آزمانے، ناکام ہونے اور سیکھنے کا عمل سیکھتے ہیں۔ یہ تنقیدی اور تخلیقی ذہن کی بنیاد ہے۔
حوالہ:
ڈاکٹر فرزانہ بانو (معروف مسلم ماہرِ نفسیات و تعلیم، AMU):
تعلیم جب تجربے سے جُڑتی ہے تو بچہ صرف طالب علم نہیں رہتا، وہ سیکھنے والا محقق، مشاہدہ کرنے والا، اور حل تلاش کرنے والا بن جاتا ہے۔”
(لیکچر، AMU, 2022)
 4. باہمی تعاون اور سماجی تربیت:
گروپ ورک، رول پلے، ماڈل بنانا، مکالمہ، یا انٹرویو کرنا جیسے کام بچے کو مل کر کام کرنے، دوسروں کی بات سننے، اور رائے دینے کا موقع دیتے ہیں۔ یہ آج کے معاشرتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہنر ہیں۔
حوالہ:
پروفیسر وجے کمار (TISS, Mumbai):
Experiential group tasks foster collaboration and communication two skills most in-demand in the 21st century.”
(TISS Education Policy Paper, 2019)
5. خود اعتمادی اور قائدانہ صلاحیت:
جب کوئی بچہ اپنے ہاتھ سے ماڈل بناتا ہے، اپنے ساتھیوں کے سامنے پریزنٹیشن دیتا ہے، یا کوئی تحقیقاتی کام مکمل کرتا ہے تو اُس میں اعتماد، اظہار اور رہنمائی کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔
حوالہ:
پروفیسر محمد اسلم پرویز (سابق وائس چانسلر، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی):
تعلیم کا مقصد صرف معلومات دینا نہیں بلکہ شخصیت کو نکھارنا ہے، اور شخصیت وہیں نکھرتی ہے جہاں علم، عمل سے جُڑ جائے۔”
(خطاب: Convocation MANUU, 2018)
6. اخلاقی اور روحانی تربیت کا راستہ:
جب سبق کے اندر موجود مقصد اور پیغام کو بچہ عملی سرگرمی کے ذریعے محسوس کرتا ہے تو وہ علم کردار میں ڈھلنے لگتا ہے۔
قرآنی دلیل:
’’وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ…‘‘
(سورۃ التوبہ، آیت 105)
ترجمہ: "اور کہہ دو کہ عمل کرو، اللہ تمہارے عمل کو دیکھے گا۔”
ہر مضمون میں سرگرمی کیوں لازم؟:
اسی بات کی وضاحت کرتے ہوئے پروفیسر انوپ کمار سریواستو (Regional Institute of Education, Bhopal) کہتے ہیں:
Subject-wise activities are the bridge between theory and reality. No education is complete without it.”
تصوراتی (Conceptual) فہم کی تعمیر کے لیے:
ریاضی، سائنس یا گرامر جیسے مضامین میں محض تعریفیں یا اصول یاد کرنے سے سمجھ پیدا نہیں ہوتی۔ جب طلبہ ان کا عملی اطلاق کرتے ہیں، تو وہ تصور واضح ہوتا ہے اور دیرپا سیکھ حاصل ہوتی ہے۔
ڈاکٹر فرزانہ نثار:
’’پریکٹیکل کے بغیر تھیوری، عمارت کے بغیر نقشہ ہے۔‘‘
مقاصدِ درس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے:
ہر سبق کے پیچھے ایک اخلاقی، سماجی یا فکری مقصد ہوتا ہے۔ بچے الفاظ بھول سکتے ہیں، لیکن عملی تجربے سے وہ مقصد یاد رہتا ہے، اور یہی مقصد اُن کی زندگی کا حصہ بنتا ہے۔
مثال: اگر سبق میں "دیانت” کی بات کی گئی ہو، تو بچوں سے ایک ایمانداری کا کردار ادا کرانا اس سبق کو زندہ کر دیتا ہے۔
سرگرمی والدین کو بچے کے تعلیمی سفر میں جوڑنے کا پل ہے
کیا آپ نے کبھی کسی ماں کی آنکھوں میں وہ چمک دیکھی ہے جو اپنے بچے کی پہلی تقریر سنتے وقت اُبھرتی ہے؟ وہ خاموشی سے سن رہی ہوتی ہے، مگر اندر کچھ ٹوٹتا بھی ہے، اور کچھ جڑتا بھی ہے۔ ایک باپ جب پہلی بار اپنے بیٹے کو اسٹیج پر دیکھتا ہے بولتے ہوئے، دلیل دیتے ہوئے، خود کو منواتے ہوئے تو اس کی آنکھوں میں فخر ہوتا ہے، آنسو نہیں، شکر کے قطرے ہوتے ہیں۔
یہ سب ایک دن میں نہیں ہوتا۔ یہ تب ہوتا ہے جب تعلیم صرف کتابوں اور جماعتوں تک محدود نہ رہے، بلکہ دلوں سے جُڑ جائے۔ جب اسکول صرف نصاب نہ پڑھائے، بلکہ بچوں کے ہنر، جذبے اور قابلیت کو والدین تک پہنچائے کسی تصویری جھلک کے ذریعے، کسی ویڈیو کلپ، کسی سرگرمی کی رپورٹ یا پوسٹر کے ذریعے۔ یہ ذرائع نہیں ہوتے، یہ پیغام ہوتے ہیں۔ یہ کہتے ہیں: ’’آپ کا بچہ کچھ خاص ہے… اور وہ تنہا نہیں ہے۔ ہم سب اس کے ساتھ ہیں۔‘‘
والدین کا دل اس لمحے بیدار ہوتا ہے۔ وہ صرف بچے کے اسکول بیگ یا نمبرات سے جُڑے نہیں رہتے، بلکہ اس کی شخصیت، اس کی محنت، اور اس کے خوابوں سے جُڑ جاتے ہیں۔ تب وہ صرف "والدین” نہیں رہتے، وہ "ساتھی” بن جاتے ہیں اس سفر کے، جو علم سے آگہی، اور آگہی سے روشنی تک جاتا ہے۔
یہی وہ وقت ہوتا ہے جب اسکول اور گھر کے درمیان دیواریں نہیں رہتیں، پُل بن جاتے ہیں۔ تعلیم صرف ایک ادارہ نہیں رہتی، بلکہ ایک تحریک بن جاتی ہے۔ اور وہ تحریک جس کے ساتھ ماں کی دعائیں، باپ کی امیدیں، استاد کی رہنمائی اور بچے کی محنت ہو وہ معاشرے کا چہرہ بدل سکتی ہے۔
میمن مرچنٹس ایسوسی ایشن پربھنی کہ زیر اہتمام چلنے والے تمام تعلیمی اداروں کا یہ اقدام، کہ ہر سبق کو سرگرمی یا عملی مشق پر ختم کیا جائے، بلاشبہ ایک مثالی اور بصیرت افروز فیصلہ ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے قومیں بدلتی ہیں۔
علم جب عمل سے جُڑ جائے تو وہ زندگی بن جاتا ہے، ورنہ وہ کاغذوں میں دفن ہو کر رہ جاتا ہے۔
رٹّہ مار تعلیم سے نجات، تجرباتی سرگرمیوں کا نفاذ، اور والدین کی شمولیت یہ تین عناصر آج کے تعلیمی نظام کی از سر نو بنیاد بن سکتے ہیں۔
پیغام:
’’جب استاد پڑھائے، بچہ کرے، والدین دیکھیں تب تعلیم، ایک انقلاب بن جاتی ہے۔‘‘

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے