कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جانور کی قربانی

بقلم: ظفر ھاشمی ندوی
سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ
+971505759644
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

دلوں کا حال یوں تو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے- لیکن ظاہری طور پر کھلی حقیقت یہی ہے کہ عرب و عجم کے تمام مسلمان ( الا من رحم ربی یعنی مگر اللہ جس پر رحم کرے اور اسے نیک توفیق عطا فرمائے) ہر سال صرف جانور کی قربانی دیتے ہیں، نہ کہ اپنے غلط خواہشات کی نہ اپنے غیر اسلامی طور طریقوں کی نہ نبی کی تمام سنتوں سے دوری کی۔ لے دے کر صرف ایک جانور کی قربانی کی اور وہ بھی صرف اس لیے کہ اس کاگوشت زیادہ سے زیادہ کھا سکیں۔ تو کیا اسلام میں عید الاضحی کا مقصد صرف یہی ہے کہ ہر مسلمان اس عید کا فائدہ اٹھا کر خود زیادہ سے زیادہ کھائے اور تقسیم کے نام کچھ غریبوں میں بانٹ دے؟
یا اس عید کے مقاصد کھانے اور کھلانے سے کہیں زیادہ ہیں جن کا تعلق اسلامی معاشرہ کے دین و دنیا تمام معاملات سے ہے۔
ہم سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے عمل پر غور کریں گے۔ جب آپ کو اللہ تعالیٰ کا حکم اور منشا معلوم ہو گیا تو بحیثیت باپ ان کے دل پر کیا گزری؟ کیا ان کا کھانا پینا فکر اور غم سے چھوٹ گیا، نیند اڑ گئی۔ وہ سوچ میں پڑ گئے کہ کیا کریں یا نہ کریں۔ ہرگز نہیں ، ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ اگر ایسا کوئی حکم اللہ تعالیٰ کسی اور کو دیتا تو اس کا کیا حال ہوتا؟ قرآن کریم سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ و علی نبینا الصلاۃ و السلام کا دل و دماغ ایمانی طاقت سے اس قدر مضبوط و مطمئن تھا کہ انھوں نے فورا فیصلہ کر لیا ۔ قرآن کریم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایمان والوں کی محبت سب سے زیادہ اللہ سے ہوتی ہے۔ مگر جسے قربان کرنا تھا اس کی مرضی معلوم کرنا بھی ضروری تھا۔ وہ اگرچہ چھوٹے بچے تھے جوان بھی نہیں ہوے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی محبت اور ماں باپ کے ادب و احترام میں اپنی مثال آپ تھے۔ لیکن انھوں نے یہ جواب نہیں دیا کہ آپ کا حکم سر آنکھوں پر، بلکہ عرض کیا ( آپ کو جس بات کا حکم دیا گیا ہے اسے کر ڈالیے آپ دیکھیں گے کہ میں صبر کرنے والوں میں سے بن جاؤں گا۔ ‏
اب حضرت باجرہ علیھا السلام ، روایت میں آتا ہے کہ شیطان نے انھیں اس خبر کی اطلاع دی تو اس عظیم ماں نے جواب دیا کہ اگر یہ اللہ کا حکم ہے تو انھیں بخوشی منظور ہے۔
ان تینوں عظیم کرداروں میں ذبح کرنے کا عمل بعد میں ہوا۔ اور اس سے پہلے باپ بیٹے اور ماں تینوں کے تینوں نے اپنی دنیوی محبت کی قربانی دی جس کے بعد ذبح کا عمل پیش آیا۔
اب آئیے مسلمانوں کے معاشرہ کی طرف۔ صحابہ کے بے مثآل دور کے بعد سے لیکر اب تک ہر زمانہ میں کم و بیش صرف جانوروں کی قربانی ہوتی رہی ہےاور ہو رہی ہے۔ مگر خود قربانی دینے والا، ہر سال قربانی سے پہلے اور قربانی کے بعد اللہ تعالی کا ویسا ہی نافرمان ہے جیسے وہ برسوں سے نافرمان ہے۔ بیوی بچوں سے محبت ، مال ودولت سے محبت، جھوٹی شہرت سے محبت، اپنی دنیوی حیثیت سے محبت ، ان ساری محبتوں پر، اللہ تعالیٰ سے محبت کو ترجیح دینا، اس محبت کو دنیا کی ساری محبتوں پر غالب کرنا ، اس سبق کو کسی قربانی دینے والے نے آج تک یاد نہیں کیا ہے اور نہ سیکھا ہے۔
یہ وہ بیماری ( دنیا کی محبت میں غرق) ہے جس کی وجہ سے نہ رمضان کے روزوں سے مسلم معاشرہ سدھر رہا ہے، اور نہ عید الاضحی کی قربانی دے۔ رمضان میں اس کے مقصد کے خلاف سحری اور افطار میں زیادہ سے زیادہ کھانا اور عید الاضحی میں قربانی کے نام سے صرف جانور کی قربانی دینا اور بریانی کباب و بارکیو کرنا رہ گیا ہے۔
آئیے عہد کریں کہ ہم ہر سال جانور کی قربانی سے پہلے اپنی ذاتی دنیوی محبت کو قربان کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کے حقوق نماز روزہ قرآن کی تلاوت ہر آیت کو سمجھ سمجھ کر ، زکوٰۃ پائی پائی دے کر اور صرف اللہ کی خاطر حج کریں گے۔ دوسری طرف تمام بندوں کے ہر حق کو ادا کریں گے۔ اس میں جھوٹ دھوکا لالچ ، لوٹ کھسوٹ ، گھمنڈ تکبر اور اپنے آپ کو دوسروں سے بڑا سمجھنا ہرگز نہیں ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے( جو شخص صرف دنیا چاہتا ہے ، تو ہم اسے کچھ دے دیتے ہیں مگر آخرت میں اسے کچھ نہیں ملے گا۔
اے اللہ ہمیں اور ہر مسلمان کو ایسا نہ بنا۔ اللہم آمین

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے