कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

پسینہ: اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

الحمد للہ ربِّ العالمین، جس نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا فرمایا، اُس کے جسم کے اندر بے شمار ایسے حیرت انگیز نظام رکھے جو اُس کی زندگی، صحت اور بقاء کا ذریعہ ہیں، اور پھر اپنی بے پایاں رحمت سے اُن نعمتوں کو انسان کے لیے آسان اور کارآمد بنادیا۔ انسان جب اپنی تخلیق، اپنے جسم اور کائنات کے نظام پر غور کرتا ہے تو اُس پر اللّٰہ تعالیٰ کی حکمت، قدرت اور رحمت کے بے شمار راز آشکار ہوتے ہیں۔ قرآنِ کریم بار بار انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے وجود اور اللّٰہ تعالیٰ کی نشانیوں میں غور و فکر کرے، کیونکہ یہی غور و فکر انسان کے دل میں ایمان، شکر اور عاجزی پیدا کرتا ہے۔
افسوس کہ آج کا انسان ظاہری آسائشوں، مصنوعی نفاست اور آرام طلبی میں اس قدر گم ہوچکا ہے کہ وہ بہت سی بنیادی نعمتوں کی قدر کھو بیٹھا ہے۔ جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی حفاظت، راحت اور صحت کا ذریعہ بنایا، انسان اُنہی کو بسا اوقات زحمت، شرمندگی یا بدصورتی سمجھنے لگتا ہے۔ پسینہ بھی انہی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے، جسے اکثر لوگ محض بے آرامی یا ظاہری خرابی کا سبب سمجھتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ انسانی جسم کے تحفظ اور توازن کا ایک نہایت اہم قدرتی نظام ہے۔
اسلام انسان کو یہ شعور عطا کرتا ہے کہ وہ اپنی ہر نعمت کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سمجھے، اُس کی قدر کرے اور اُس پر شکر ادا کرے۔ جسمانی صحت، طاقت، حرکت، صفائی اور تندرستی! یہ سب اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عظیم نعمتیں ہیں۔ پسینہ بھی اُنہی نعمتوں میں شامل ہے جو خاموشی سے انسان کی زندگی کی حفاظت کرتی رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے طہارت، صفائی، اعتدال اور جسمانی صحت پر خصوصی زور دیا ہے تاکہ انسان نہ صرف عبادت کے قابل رہے بلکہ ایک متوازن اور پاکیزہ زندگی بھی گزار سکے۔ یہ مضمون اسی حقیقت کو اُجاگر کرنے کی ایک کوشش ہے کہ پسینہ کوئی عیب یا زحمت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم رحمت، قدرت کی نشانی اور انسانی صحت کا خاموش محافظ ہے۔ جب انسان اس نعمت کی حقیقت کو سمجھ لیتا ہے تو اُس کے دل میں اپنے ربّ کی عظمت کا احساس اور زبان پر شکر کے الفاظ خود بخود جاری ہو جاتے ہیں۔
انسان اپنی ظاہری آسائشوں اور نفاست کے شوق میں بعض اوقات اُن نعمتوں کی قدر بھول جاتا ہے جو درحقیقت اس کی زندگی، صحت اور بقا کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ پسینہ بھی انہی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے۔ آج کے دور میں بہت سے لوگ پسینہ آنے کو شرمندگی، بدصورتی یا "پرسنیلٹی خراب ہونے” کی علامت سمجھتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پسینہ انسانی جسم کے لیے اللّٰہ تعالیٰ کی عطاء کردہ ایک حیرت انگیز حفاظتی ڈھال ہے۔ ہمارے بزرگ جب پسینہ آتا دیکھتے تو شکر ادا کرتے کہ "جسم کھل گیا”، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ پسینہ صحت کی علامت ہے، بیماری کی نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم کو نہایت حکمت اور توازن کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ انسان کے جسم کا نارمل درجۂ حرارت تقریباً 37 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔ جب موسم کی شدّت، جسمانی محنت، ورزش، ذہنی دباؤ یا بخار کی وجہ سے جسم کا درجہ حرارت بڑھنے لگتا ہے تو قدرتی طور پر جسم کے لاکھوں مسام متحرک ہو جاتے ہیں اور پسینہ خارج ہونے لگتا ہے۔
یہ پسینہ جلد کی سطح پر آکر بخارات کی شکل اختیار کرتا ہے اور جسم کو ٹھنڈا رکھتا ہے۔ اگر یہ نظام موجود نہ ہو تو انسانی جسم کا درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے۔ طبّی اعتبار سے اگر جسم کا درجہ حرارت 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے تو یہ کیفیت شدید بخار کے برابر ہوتی ہے، جو دل، دماغ، جگر اور گردوں جیسے نازک اعضاء کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔ گویا پسینہ صرف پانی کے قطرے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے زندگی بچانے والا ایک خاموش محافظ ہے۔
انسانی جسم میں پسینہ پیدا کرنے والے غدود (Sweat Glands) دو بنیادی اقسام کے ہوتے ہیں: ایک "ایکرائن غدود” جو پورے جسم میں پھیلے ہوتے ہیں اور جسم کو ٹھنڈا رکھنے کا کام کرتے ہیں، جب کہ دوسرے "ایپوکرائن غدود” ہوتے ہیں جو بغلوں اور جسم کے بعض مخصوص حصّوں میں پائے جاتے ہیں۔ انہی غدود سے پیدا ہونے والے پسینے میں بیکٹیریا شامل ہوکر بو پیدا کرتے ہیں۔ اس حقیقت سے معلوم ہوتا ہے کہ پسینہ بذاتِ خود بدبو نہیں ہوتا بلکہ صفائی کی کمی اور جراثیم اس کی بو کا سبب بنتے ہیں۔ اسی لیے اسلام نے طہارت، غسل اور صفائی پر زور دیا ہے۔
ماہرینِ طب کے مطابق پسینہ انسانی جسم کے قدرتی حفاظتی اور صفائی کے نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔ اگرچہ جسم سے فاسد مادّوں اور زہریلے عناصر کے اخراج کا بنیادی کام جگر اور گردے انجام دیتے ہیں، تاہم پسینہ بھی جلد کے مساموں کو کھولنے، جسمانی توازن برقرار رکھنے اور جلد کو فعال رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باقاعدہ ورزش کرنے والے افراد عموماً زیادہ چُست، توانا اور صحت مند دکھائی دیتے ہیں۔ پسینہ خون کی گردش کو بہتر بناتا، جلد کو تازگی بخشتا اور جسمانی درجۂ حرارت کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ جب انسان ورزش، محنت یا جسمانی سرگرمی کرتا ہے تو جسم میں حرارت بڑھتی ہے، اور پسینہ اُس اضافی حرارت کو کم کرکے جسم کو ٹھنڈا رکھنے کا فریضہ انجام دیتا ہے۔ یہی قدرتی نظام انسان کو شدید گرمی اور جسمانی نقصان سے محفوظ رکھتا ہے۔
طبّی ماہرین کے مطابق جسمانی حرکت اور ورزش کے نتیجے میں آنے والا پسینہ ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماریوں، فالج، موٹاپے اور بعض سانس کی بیماریوں کے خطرات کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جسمانی سرگرمی ذہنی دباؤ کم کرنے اور مجموعی صحت بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ طبّی دنیا میں ایک بیماری این ہائیڈروسس (Anhidrosis) کہلاتی ہے، جس میں انسان کے جسم کو مناسب مقدار میں پسینہ نہیں آتا۔ ایسے افراد شدید گرمی میں جلد تھکن، چکر، بے ہوشی اور ہیٹ اسٹروک کا شکار ہوسکتے ہیں کیونکہ اُن کا جسم خود کو مؤثر انداز میں ٹھنڈا نہیں رکھ پاتا۔ یہ بیماری اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ پسینہ محض ایک عام جسمانی عمل نہیں بلکہ انسانی زندگی کے تحفّظ کے لیے ایک نہایت اہم اور قدرتی نظام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس چیز کو انسان اکثر معمولی یا باعثِ زحمت سمجھتا ہے، وہی دراصل اُس کی صحت، طاقت اور بقاء کے لیے ایک عظیم نعمت ثابت ہوتی ہے۔
آج کا انسان مشینوں اور مصنوعی آسائشوں کا اس قدر عادی ہوچکا ہے کہ وہ معمولی گرمی بھی برداشت نہیں کرنا چاہتا۔ ہر وقت اے سی میں رہنا، جسمانی مشقت سے دور بھاگنا اور پسینہ آنے سے گھبرانا ایک عام عادت بنتی جارہی ہے۔ خصوصاً نوجوان نسل میں یہ تصور پیدا ہورہا ہے کہ پسینہ آنا بدتہذیبی یا غیر مہذب طرزِ زندگی کی علامت ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ درحقیقت پسینہ انسانی جسم کی صحت مند کارکردگی کی نشانی ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق روزانہ ہلکی ورزش، تیز چہل قدمی یا کسی مناسب جسمانی سرگرمی کے نتیجے میں آنے والا پسینہ جسم کو نہ صرف چُست اور توانا رکھتا ہے بلکہ ذہنی دباؤ، بے خوابی اور ڈپریشن جیسے مسائل میں بھی کمی لانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ جسمانی حرکت خون کی روانی بہتر بناتی ہے اور انسان کو سستی اور کاہلی سے بچاتی ہے۔
اسی لیے ماضی کے لوگ اگرچہ جدید سہولتوں سے محروم تھے، مگر اُن کی زندگی زیادہ متحرک اور فطرت سے قریب تھی۔ وہ زیادہ محنت کرتے، زیادہ چلتے پھرتے اور زیادہ پسینہ بہاتے تھے، جس کے باعث وہ نسبتاً مضبوط، توانا اور کئی بیماریوں سے محفوظ رہتے تھے۔ اس کے برعکس جو جسم مسلسل آرام طلبی کا شکار ہوجائے اور جسمانی سرگرمی سے دور رہے، وہ آہستہ آہستہ کمزوری، سستی اور مختلف بیماریوں کی طرف مائل ہونے لگتا ہے۔ جب انسان کا جسم حرکت اور محنت سے محروم ہوجاتا ہے تو اُس کے قدرتی نظام بھی متاثر ہونے لگتے ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ انسان پسینے کو محض بے آرامی نہ سمجھے بلکہ اسے ایک فطری، مفید اور صحت بخش عمل کے طور پر قبول کرے۔ اعتدال کے ساتھ محنت، ورزش اور جسمانی سرگرمی نہ صرف جسمانی صحت بلکہ ذہنی سکون اور بہتر زندگی کا بھی ذریعہ بنتی ہے۔
اسلام انسان کو پاکیزگی، اعتدال اور صحت مند طرزِ زندگی کی تعلیم دیتا ہے۔ پسینہ آنا کوئی عیب یا شرمندگی کی بات نہیں بلکہ انسانی جسم کا ایک فطری اور مفید عمل ہے۔ البتہ اسلام اس بات کی تلقین کرتا ہے کہ انسان اپنی صفائی، طہارت اور خوشبو کا اہتمام کرے تاکہ وہ خود بھی پاکیزہ رہے اور دوسروں کے لیے بھی باعثِ راحت بنے۔ نبی کریمﷺ کو خوشبو بہت پسند تھی، اور آپﷺ طہارت و نظافت کا خصوصی اہتمام فرمایا کرتے تھے۔ اسی لیے اگر پسینہ آئے تو اُس پر شرمندہ ہونے کے بجائے صفائی اختیار کرنی چاہیے، وقتاً فوقتاً غسل کرنا چاہیے، کپڑوں کو صاف ستھرا رکھنا چاہیے اور خوشبو استعمال کرنی چاہیے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے بلکہ شکر گزاری، تہذیب اور حسنِ معاشرت کا بھی خوبصورت اظہار ہے۔
جب انسان اپنے جسم کے ان پوشیدہ اور حیرت انگیز نظاموں پر غور کرتا ہے تو اُس کے دل میں اپنے خالق کی عظمت، حکمت اور قدرت کا احساس مزید گہرا ہوجاتا ہے۔ ایک معمولی سا قطرۂ پسینہ بھی اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ انسان محض ایک خودکار مشین نہیں بلکہ ربِّ کریم کی بے مثال صناعی کا شاہکار ہے۔ قرآنِ کریم بار بار انسان کو اپنی تخلیق اور کائنات کی نشانیوں میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پہچانے، اُن کی قدر کرے اور دل سے اُس کا شکر گزار بن جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان جتنا اپنی ذات اور اپنے جسم کے نظام کو سمجھتا ہے، اُتنا ہی اُس کا ایمان، عاجزی اور احساسِ بندگی بڑھتا چلا جاتا ہے۔
درحقیقت پسینہ انسانی جسم کا ایک خاموش محافظ ہے۔ یہ صرف گرمی یا محنت کی علامت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطاء کردہ ایک عظیم نعمت ہے۔ پسینہ جسم کو شدید گرمی سے محفوظ رکھتا، جسمانی درجۂ حرارت کو متوازن بناتا اور کئی بیماریوں سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر انسان غور کرے تو اُسے احساس ہوگا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ہمارے جسم کے اندر کس قدر حیرت انگیز اور حکمت بھرے نظام رکھے ہیں جن پر ہماری صحت، زندگی اور بقاء قائم ہے۔ آج کے دور میں بہت سے لوگ پسینہ آنے کو محض بے آرامی، شرمندگی یا بدصورتی سمجھتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہی پسینہ خاموشی سے ہمارے جسم کو ٹھنڈا رکھتا، تھکن کے اثرات کم کرتا اور ہمیں نقصان دہ اثرات سے محفوظ رکھنے کا سبب بنتا ہے۔ گویا یہ چند قطرے انسان کی زندگی کے محافظ ہیں۔
لہٰذا اگلی بار جب گرمی یا محنت کی وجہ سے پسینہ آئے تو اُسے صرف تکلیف نہ سمجھیں بلکہ یہ احساس کریں کہ یہ اللّٰہ تعالیٰ کی ایک عظیم رحمت اور زندہ و صحت مند ہونے کی علامت ہے۔ اُس لمحے دل سے "الحمد للہ” ادا کرنا چاہیے کہ ہمارا جسم درست انداز میں کام کررہا ہے اور قدرتِ الٰہی کا یہ نظام ہمیں مسلسل محفوظ رکھے ہوئے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو چیز بظاہر انسان کو زحمت محسوس ہوتی ہے، اکثر وہی اُس کی زندگی کے لیے رحمت ثابت ہوتی ہے۔ پسینہ بھی انہی نعمتوں میں سے ایک ہے۔ اگر انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی حقیقت کو سمجھ لے تو شاید اُس کی زبان سے ہر سانس کے ساتھ "الحمد للہ” نکلنے لگے۔
🗓 (26.05.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے