कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

وانگ چک کی بھوک ہڑتال‘جمہوری احتجاج کی مضبوط مثال

تحریر:ڈاکٹر شیخ حاجی حسین

ہندوستان کی سرزمین پر بھوک ہڑتال ہمیشہ سے صرف جسم کی کمزوری نہیں رہی، بلکہ یہ روح کی آگ بھی بنی ہے۔ جب بات چیت کے دروازے بند ہو جاتے ہیں، جب وعدوں کی روشنی مدھم پڑ جاتی ہے، تو ایک انسان اپنے جسم کو ہتھیار بنا لیتا ہے۔ آج دہلی کے جنتر منتر پر لداخ کا فرزند سونم وانگچک اسی آگ میں جل رہا ہے۔ ان کی غیر معینہ مدت بھوک ہڑتال نہ صرف لداخ کی آواز ہے بلکہ ہندوستان کی قدیم روایت، اہنسا کی طاقت کا تسلسل بھی ہے۔ یہ ہڑتال سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ جمہوریت میں ایک عام شہری کی قربانی کتنی طاقتور ہو سکتی ہے۔لداخ، جو ’’چھوٹا تبت‘‘ بھی کہلاتا ہے، صدیوں سے برفیلے پہاڑوں، خشک صحرا اور بلند وادیوں کی سرزمین رہا ہے۔ یہاں کی ثقافت بدھ مت کی گہری جڑوں والی ہے۔ خانہ بدوشی کی روایات، قدیم منسٹریاں (گومپا)، پریئر فلیگس کی رنگ بھری لہریں، مقامی تہوار، موسیقی اور کہانیاں اس خطے کو منفرد بناتے ہیں۔ لوگ سخت موسم کے باوجود مہمان نوازی، امن پسندی اور ماحول سے گہری ہم آہنگی کی زندہ مثال ہیں۔ مگر آج گلوبل وارمنگ، سرحدی تناؤ اور باہری دباؤ نے اس ثقافت اور ماحول دونوں کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ خاص طور پر چین کی جانب سے لداخ پر بڑھتا دباؤ، LAC پر مسلسل جھڑپیں، علاقائی دعوے اور فوجی نقل و حرکت نے اسے قومی سلامتی کا حساس مقام بنا دیا ہے۔سونم وانگچک اس خطے کی حفاظت اور ترقی کے لیے برسوں سے لڑ رہے ہیں۔ وہ 1966 میں اُلیتھوکپو نامی ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں اسکول کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے ان کی تعلیم گھر پر ہوئی۔ ماں کی تربیت نے ان میں تجسس، استقامت اور قدرتی رجحان پیدا کیا۔ بعد میں انہوں نے سری نگر کے NIT سے میکانیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم ’’3 Idiots‘‘ کے مشہور کردار Rancho جزوی طور پر انہی کی زندگی سے متاثر تھا، جس نے لاکھوں نوجوانوں کو سوچنے پر مجبور کیا کہ تعلیم کا مقصد کیا ہونا چاہیے۔ وانگچک نے نوکری کی راہ چھوڑ کر واپس لداخ آ کر روایت شکن کام شروع کیا۔ 1988 میں انہوں نے ایجوکیشنل اینڈ اسٹوڈنٹس کلچرل موومنٹ آف لداخ (SECMOL) کی بنیاد رکھی۔ یہ ادارہ روایتی روٹ لرننگ کے بجائے لداخی ثقافت، زبان، ماحول اور عملی مہارتوں پر مبنی تعلیم پر زور دیتا ہے۔ ان کے کام نے ہزاروں نوجوانوں کو تعلیم سے جوڑا، بورڈ امتحانات میں ناکامی کا شکار طلبہ کو نئی راہ دکھائی اور لداخ میں تعلیمی انقلاب برپا کیا۔
وانگ چک کی سب سے مشہور ایجاد آئس سٹوپا کی تکنیک ہے۔ لداخ میں موسم سرما میں پانی بے کار بہہ جاتا ہے جبکہ بہار اور گرمیوں میں شدید کمی ہوتی ہے۔ وانگ چک نے ایک سادہ مگر سائنسی طور پر موثر طریقہ نکالا۔ سرما میں پائپوں کے ذریعے پانی کو اونچی جگہ سے چھڑکا جاتا ہے۔ شدید سردی کی وجہ سے یہ پانی فوراً منجمد ہو کر بڑے برفیلی ستون (Stupa) کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ ستون سورج کی شعاعوں سے بچانے کے لیے مخروطی شکل میں بنائے جاتے ہیں تاکہ سطح کا رقبہ کم ہو اور پگھلنے کی رفتار سست رہے۔ بہار میں یہ آہستہ آہستہ پگھلتے ہیں اور کھیتی کے لیے پانی فراہم کرتے ہیں۔ یہ تکنیک passive cooling، hydrodynamics اور قدرتی اصولوں پر مبنی ہے، جس میں کوئی برقی یا مشینری استعمال نہیں ہوتی۔ آئس سٹوپا نہ صرف پانی کے بحران کا حل ہے بلکہ مقامی لوگوں کو خود انحصاری، ماحولیاتی شعور اور کمیونٹی پارٹیسپیشن کی طرف بھی لے جاتا ہے۔ اس ایجاد نے وانگچک کو عالمی شہرت دلائی اور انہیں Ramon Magsaysay Award، Rolex Award سمیت متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ ان کی یہ جدوجہد ذاتی کامیابی سے آگے بڑھ کر پورے لداخ اور اس کی آنے والی نسلوں کے لیے امید کی کرن بن گئی۔مگر تعلیم اور پانی کے کام کے ساتھ ساتھ وانگچک لداخ کی بڑی تر مسائل سے بھی گہرے تعلق رکھتے ہیں۔ 2019 کے بعد جب لداخ یونین ٹیریٹری بنا تو انہوں نے Sixth Schedule (چھٹے شیڈول) کے تحت آئینی تحفظ کا مطالبہ کیا۔ یہ شیڈول آئین میں ایک خاص شق ہے جو قبائلی علاقوں کو خودمختاری دیتی ہے۔ اس کے تحت مقامی کونسلز کو قانون بنانے، زمین کے استعمال، رسوم و رواج اور ماحولیاتی تحفظ پر کنٹرول مل جاتا ہے۔ یہ شق آسام، میگھالیہ، تریپورہ اور میزورم جیسے شمالی مشرقی ریاستوں کے قبائلی علاقوں میں نافذ ہے۔ لداخ کے لیے بھی یہی مطالبہ ہے تاکہ باہری لوگوں کی زمین پر قبضہ روکا جا سکے، مقامی ثقافت محفوظ رہے اور ماحولیاتی استحصال رکے۔
وانگ چک کی یہ جدوجہد صرف احتجاج تک محدود نہیں رہی۔ انہوں نے طویل پدم یاترا کی، جیل بھی گئے، NSA جیسے سخت قوانین کا سامنا کیا، مگر ہر بار پرامن راستے پر واپس لوٹ آئے۔ ان کی استقامت اور گاندھی جی کی تعلیم پر عمل نے انہیں لداخ کا چہرہ بنا دیا۔ جون 2026 میں کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں شامل ہو کر انہوں نے بھوک ہڑتال شروع کی۔ اب یہ ہڑتال کئی ہفتوں (تقریباً 20 دن سے زائد) سے جاری ہے۔ وزن کم ہو رہا ہے، بلڈ پریشر گر رہا ہے، جسم کمزور ہو رہا ہے، مگر آواز میں جوش وہی ہے ’’میں مر بھی سکتا ہوں، مگر پیچھے نہیں ہٹوں گا۔‘‘ ان کے مطالبات دو ہیں تعلیمی نظام میں جواب دہی اور امتحانات کی دھاندلیوں کا خاتمہ، اور لداخ کے لیے ریاست کا درجہ اور ماحولیاتی تحفظ۔
یہ ہڑتال نئی نہیں ہے۔ یہ ہندوستان کی ایک لمبی داستان کا نیا باب ہے۔ مہاتما گاندھی نے بھوک ہڑتال کو ستیہ گرہ کا اعلیٰ ترین ہتھیار بنایا۔ ان کی ہڑتالوں نے برطانوی سلطنت کو ہلا دیا۔ 1932 میں پوونا پیکٹ انہی کی بھوک ہڑتال کی بدولت ممکن ہوا۔ آزادی کے بعد 1952 میں پوٹی سری رامولو نے آندھرا کے لیے 52 دن تک بھوک ہڑتال کی۔ ان کی قربانی نے لسانی ریاستوں کی بنیاد رکھی۔ 2014 میں کے چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ ریاست کے لیے 11 دن کی بھوک ہڑتال کی جو بالآخر کامیاب ہوئی اور 2014 میں تلنگانہ علیحدہ ریاست بن گئی۔ 2011 میں انا ہزارے کی ہڑتال نے پورا ملک جھکا دیا اور جواب دہی کی مانگ زور پکڑ گئی۔ ہندوستان میں ارم شرمیلا نے منی پور میں 16 سال تک AFSPA کے خلاف بھوک ہڑتال جاری رکھی۔ یہ تمام مثالیں بتاتی ہیں کہ ایک فرد کی قربانی کبھی کبھی تاریخ بدل دیتی ہے۔وانگ چک کی جدوجہد بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ گذشتہ برسوں میں ان کی ہڑتالوں نے لداخ کے مسائل کو قومی سطح پر پہنچایا۔ کچھ نتائج سامنے آئے ، ریزرویشن میں اضافہ، زبانوں کو سرکاری درجہ ، مگر بنیادی مطالبات اب بھی التوا کا شکار ہیں۔ 2025 میں احتجاج تشدد کی طرف مڑ گیا تو وانگ چک نے خود تشدد سے دوری اختیار کی اور نوجوانوں کو پرامن راستے کی تلقین کی۔ آج ان کی ہڑتال نوجوانوں، طلبہ، ماحولیاتی کارکنوں اور عام شہریوں کو متاثر کر رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر حمایت کا سیلاب ہے، متعدد طلبہ تنظیموں نے بھی ہڑتال کی حمایت میں آگے آ کر ایک روزہ بھوک ہڑتال اور احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ ماہرین اور سیاستدانوں کے خیالات بھی اس تحریک کو مزید اہمیت دے رہے ہیں۔ ماحولیاتی ماہرین وانگچک کی آئس سٹوپا تکنیک کو کلائمیٹ چینج کے خلاف ایک عملی مثال قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ لداخ جیسے حساس علاقوں میںچھٹے شیڈول جیسا تحفظ ماحولیاتی تباہی روک سکتا ہے۔
تاہم، حکومت کی طرف سے اس طویل اور خطرناک ہڑتال کے بعد ردعمل انتہائی سست، بے حس اور مایوس کن رہا ہے۔ اتنے دن گزر جانے کے باوجود مرکزی حکومت مطالبات ماننے کو تیار نہیں اور زبردستی ہڑتال ختم کرانے کی کوششوں کے الزامات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ نہ تو وزیر اعظم یا وزیر داخلہ کی طرف سے کوئی سنجیدہ بیان آیا، نہ ہی ہائی پاور کمیٹی کی کوئی فوری میٹنگ بلائی گئی۔ صرف روایتی یقین دہانیوں اور التوا کی پالیسی پر انحصار کیا جا رہا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف وانگچک کی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہے بلکہ لداخ کے عوام، طلبہ اور ماحولیاتی تحریک کے جذبات کو بھی شدید ٹھیس پہنچا رہی ہے۔حالت بگڑنے پر سونم وانگ چک کو صفدر جنگ ہسپتال میں داخل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی صحت مسلسل خراب ہو رہی ہے۔ ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ طویل بھوک ہڑتال سے ان کے اعضاء متاثر ہو سکتے ہیں۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے وانگ چک سے ہسپتال میں ملاقات کی اور حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایک شخص جو ماحول اور تعلیم کے لیے اپنی جان دے رہا ہے، اس کی حکومت کو کوئی پرواہ نہیں۔ یہ شرمناک ہے۔‘‘ راہول گاندھی نے اسے ’’حکومت کی انسانیت مخالف پالیسی‘‘قرار دیا جبکہ دیگر اپوزیشن لیڈروں نے الزام لگایا کہ حکومت جان بوجھ کر مسائل نظر انداز کر رہی ہے اور طلبہ و لداخی عوام کے ساتھ ظلم کر رہی ہے۔ متعدد طلبہ تنظیموں نے بھی حمایت میں آگے آ کر ایک روزہ بھوک ہڑتال اور پارلیمنٹ مارچ کا اعلان کیا ہے۔ عوامی حمایت میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور #StandWithSonamWangchuk سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہا ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ حکومت کی اس بے حسی نے پورے ملک میں مایوسی پھیلا دی ہے اور اگر جلد سنجیدگی نہ دکھائی گئی تو یہ تحریک مزید پھیل سکتی ہے اور قومی سطح پر بڑے احتجاج کا باعث بن سکتی ہے۔ آج جب وانگ چک جنتر منتر پر بیٹھے ہیں تو لداخ کی برفیلی ہوائیں، پگھلتے گلیشیرز، چین کا سرحدی دباؤ، لداخی ثقافت کی بقا، طلبہ کی مایوسی اور تعلیم کے کھوکھلے نظام کی کہانی ان کے جسم کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے ان کی صحت کی نگرانی کا حکم دیا ہے۔ عوام کی حمایت بڑھ رہی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب دباؤ بڑھتا ہے تو حکومت کو بیٹھ کر بات کرنا پڑتی ہے۔البتہ بی جے پی دور حکومت میں کئی بڑے احتجاج اور بھوک ہڑتالیں ہو چکی ہیں۔ کسانوں کی تحریک، دہلی کے مختلف احتجاج، اور طلبہ مسائل پر ہڑتالیں اس کی مثالیں ہیں۔ کچھ معاملات میں حکومت نے جزوی طور پر جھک کر مطالبات مان لیے (جیسے کسان قوانین واپس لینا)، مگر بیشتر معاملات میں التوا، دبائو یا نظر انداز کرنے کی پالیسی اپنائی گئی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سونم وانگچک کے آئینی اور تعلیمی مطالبات پورے ہوتے ہیں یا پھر یہ بھی طویل التوا کا شکار ہو جائیں گے۔بھوک ہڑتال ہمیشہ مکمل کامیابی نہیں دلاتی۔ کچھ تحریکوں میں جزوی کامیابی ملتی ہے، کچھ میں صرف آگاہی پیدا ہوتی ہے۔ مگر یہ طاقت رکھتی ہے کہ خاموش لوگوں کی آواز کو گونج دے۔ سونم وانگچک کی یہ لڑائی صرف لداخ یا تعلیم کی نہیں، بلکہ اس بات کی ہے کہ جمہوریت میں عوام کی آواز کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تعلیم، ماحول اور ثقافت ہماری مشترکہ میراث ہیں جن کی حفاظت ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔جس دن یہ بھوک ہڑتال ختم ہوگی، چاہے کامیابی ملے یا نہ ملے، یہ یقینی ہے کہ لداخ کی سرزمین، اس کی بھرپور ثقافت اور ہندوستان کا ضمیر ایک بار پھر جگانے میں کامیاب رہے گا۔ کیونکہ بھوک ہڑتال کی زبان سب سے طاقتور ہوتی ہے ۔جب یہ حق کی خاطر بولی جائے۔ یہ وقت ہے کہ ہم سوچیں ‘ کیا ہم صرف تماشائی بن کر رہیں گے یا اس آواز کا حصہ بنیں گے؟

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے