कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

نئے ڈگری کالجوں میں اردو کی حق تلفی اور نتیش کمار کی خاموشی

از قلم: ڈاکٹر سید تابش امام
رابطہ۔۔۔۔۔9934933992

تعلیم کسی بھی ریاست کی ترقی، سماجی شعور اور تہذیبی ارتقا کی بنیادی اساس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب حکومتِ بہار نے یکم جولائی سے ریاست کے مختلف اضلاع میں 211 نئے ڈگری کالجوں میں درس و تدریس کا آغاز کرنے کا اعلان کیا تو اسے ایک تاریخی اور خوش آئند اقدام قرار دیا گیا۔ توقع تھی کہ اس فیصلے سے اعلیٰ تعلیم کے دروازے دور دراز علاقوں تک کھلیں گے، طلبہ کو اپنے ہی اضلاع میں معیاری تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے گا اور ریاست کے تعلیمی ڈھانچے کو نئی مضبوطی حاصل ہوگی۔ لیکن اس خوش آئند اقدام کے ساتھ ایک ایسا فیصلہ بھی سامنے آیا جس نے اس پورے اقدام کی معنویت پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا۔ ان نئے ڈگری کالجوں میں اردو کو تدریسی مضامین کی فہرست سے خارج رکھا گیا، حالانکہ اردو بہار کی دوسری سرکاری زبان ہے اور ریاست کی ایک بڑی آبادی کی مادری زبان بھی۔
یہ محض کسی ایک مضمون کے شامل یا خارج ہونے کا معاملہ نہیں بلکہ ریاست کے لسانی مزاج، آئینی ذمہ داری اور تعلیمی انصاف کا سوال ہے۔ بہار وہ ریاست ہے جہاں اردو کو صرف سماجی یا تہذیبی اعتبار سے نہیں بلکہ قانونی طور پر بھی دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔ لہٰذا جب نئے تعلیمی اداروں کی بنیاد رکھی جا رہی ہو اور اردو کو نظر انداز کیا جائے تو یہ سوال فطری طور پر پیدا ہوتا ہے کہ کیا دوسری سرکاری زبان کا درجہ محض سرکاری دستاویزات تک محدود ہو کر رہ گیا ہے؟
اعلیٰ تعلیم کسی بھی زبان کی بقا اور ارتقا کا سب سے مؤثر ذریعہ ہوتی ہے۔ زبانیں صرف گھروں میں بولے جانے سے زندہ نہیں رہتیں بلکہ کالجوں، جامعات، تحقیق، تصنیف اور تدریس کے ذریعے اپنی علمی روایت کو آگے بڑھاتی ہیں۔ جب کسی زبان کو اعلیٰ تعلیم سے دور کر دیا جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف موجودہ نسل تک محدود نہیں رہتے بلکہ آنے والی نسلوں کی علمی، فکری اور تہذیبی زندگی کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ اسی لیے نئے ڈگری کالجوں میں اردو کی عدم شمولیت کو محض ایک انتظامی غفلت قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس کے دور رس تعلیمی، تہذیبی اور آئینی مضمرات ہیں۔
اس ضمن میں حکومت کی جانب سے یہ دلیل پیش کی جا سکتی ہے کہ نئے ڈگری کالجوں میں ابتدائی مرحلے کے تحت صرف چند بنیادی مضامین کی تدریس کا آغاز کیا گیا ہے اور آئندہ مرحلوں میں دیگر مضامین بھی شامل کر دیے جائیں گے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اگر ہندی، انگریزی، تاریخ، سیاسیات، سماجیات اور معاشیات جیسے مضامین کے لیے ابتدا ہی سے منصوبہ بندی اور اساتذہ کی فراہمی ممکن تھی تو اردو کو اس منصوبہ بندی کا حصہ کیوں نہیں بنایا گیا؟ کیا ریاست کے منصوبہ سازوں کی نظر میں اردو کی تعلیمی ضرورت ان مضامین سے کم اہم تھی؟ اگر ایسا نہیں تو حکومت پر لازم ہے کہ وہ اس امتیاز کی معقول اور قابلِ قبول وضاحت عوام کے سامنے پیش کرے۔
یہ سوال اس لیے بھی زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ بہار کے گورنر اور ریاستی یونیورسٹیوں کے چانسلر، لیفٹیننٹ جنرل (سبکدوش) سید عطاء حسنین نے 15 جون 2026 کو محکمۂ اعلیٰ تعلیم اور متعلقہ یونیورسٹیوں کو واضح ہدایت دی تھی کہ نئے ڈگری کالجوں میں دیگر مضامین کے ساتھ اردو اور میتھلی کی تدریس کا بھی مناسب انتظام کیا جائے، تاکہ یکم جولائی سے شروع ہونے والے تعلیمی سیشن میں ان زبانوں سے وابستہ طلبہ کسی بھی قسم کی محرومی کا شکار نہ ہوں۔ یہ ہدایت محض ایک رسمی مشورہ نہیں تھی بلکہ ریاست کی لسانی حقیقت، آئینی ذمہ داری اور تعلیمی مساوات کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جاری کی گئی تھی۔
افسوس کہ گورنر کی اس واضح ہدایت کے باوجود محکمۂ اعلیٰ تعلیم مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں ناکام رہا۔ نہ اردو کے اساتذہ کی تقرری عمل میں آئی، نہ کوئی ترمیمی حکم نامہ جاری کیا گیا اور نہ ہی عبوری یا متبادل انتظام کیا گیا۔ تعلیمی سیشن شروع ہوگیا، طلبہ نے داخلے بھی لے لیے، لیکن آئینی اور قانونی حیثیت رکھنے والی اردو تدریس کے دائرے سے باہر ہی رہی۔ ایسی صورتِ حال کئی بنیادی سوالات اٹھاتی ہے۔ اگر ریاست کے آئینی سربراہ کی واضح ہدایت بھی عملی شکل اختیار نہ کر سکے تو کیا اسے محض انتظامی غفلت قرار دیا جائے، یا پھر اسے ریاستی ترجیحات اور پالیسی کے تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے؟
مزید یہ کہ اردو کے ساتھ یہ رویہ کسی ایسی ریاست میں نہیں اپنایا گیا جہاں اس زبان کی موجودگی برائے نام ہو، بلکہ بہار وہ سرزمین ہے جہاں اردو کو ایک مضبوط تاریخی، ادبی، تعلیمی اور سماجی روایت حاصل ہے۔ اردو صحافت، ادب اور علمی سرگرمیوں کی ایسی تابناک تاریخ بہار کے نام سے وابستہ ہے جس پر پورا ملک ناز کرتا ہے۔ اسی سرزمین نے اردو کو بے شمار ادیب، شاعر، صحافی اور دانشور عطا کیے ہیں۔ ایسے میں اگر نئی نسل کو اعلیٰ تعلیم کے مرحلے پر اردو کی تعلیم سے محروم رکھا جائے تو یہ صرف ایک زبان کے ساتھ ناانصافی نہیں بلکہ بہار کی اپنی تہذیبی شناخت اور علمی وراثت سے بھی انحراف کے مترادف ہوگا۔
اس پورے معاملے کا ایک اہم، اور شاید سب سے اہم، پہلو حکومت کی سیاسی اور انتظامی ذمہ داری سے متعلق ہے۔ موجودہ وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری ہیں، لیکن یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ان کی حکومت جنتا دل (یونائیٹڈ) کی حمایت سے قائم ہے اور جے ڈی یو اقتدار میں ایک مؤثر اور فیصلہ کن شراکت دار کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لیے نئے ڈگری کالجوں میں اردو کو نظر انداز کرنے کی ذمہ داری صرف محکمۂ اعلیٰ تعلیم یا موجودہ وزیرِ اعلیٰ تک محدود نہیں رہتی، بلکہ حکومت میں شامل تمام جماعتیں اس کی یکساں ذمہ دار ہیں۔ پارلیمانی نظامِ حکومت میں کابینہ اجتماعی ذمہ داری کے اصول پر کام کرتی ہے، اس لیے حکومتی فیصلوں کی جواب دہی بھی کسی ایک فرد یا محکمے کے بجائے پوری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
چنانچہ نتیش کمار کی خاموشی ایک سنجیدہ سیاسی سوال کی صورت اختیار کر جاتی ہے۔ خصوصا اس وقت جب دو دہائیوں سے زائد عرصے تک بہار کی سیاست کے مرکز میں رہنے والے اس رہنما نے خود کو سماجی انصاف، سیکولر اقدار اور اقلیتوں کے حقوق کا علمبردار قرار دیا۔ ان کے دورِ حکومت میں اردو کے فروغ، سرکاری دفاتر میں اس کے استعمال اور اساتذہ کی تقرری سے متعلق متعدد اعلانات کیے گئے۔ ایسے میں جب بہار کی دوسری سرکاری زبان کو 211 نئے ڈگری کالجوں سے یکسر محروم رکھا گیا تو اردو آبادی کی نظریں فطری طور پر انہی کی جانب اٹھیں۔ توقع تھی کہ وہ حکومت کے اندر اس معاملے کی اصلاح کے لیے کوئی مؤثر اور سنجیدہ کوشش کریں گے، مگر ایسی کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ سیاست میں بعض اوقات خاموشی بھی ایک پیغام سمجھی جاتی ہے، اور یہی خاموشی آج ایک بڑے سوال کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ اس فیصلے کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھی۔ ریاست کے مختلف علمی، دینی، سماجی اور ادبی حلقوں نے اس معاملے کو پوری سنجیدگی کے ساتھ اٹھایا۔ مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی کے سابق پرو وائس چانسلر پروفیسر توقیر عالم نے محکمۂ اعلیٰ تعلیم، وزیرِ تعلیم اور حکومت کو خطوط لکھ کر اردو کی تدریس اور اساتذہ کی تقرری کا مطالبہ کیا۔ امارتِ شرعیہ، بہار ریاستی اقلیتی کمیشن، انجمن ترقیٔ اردو، قومی اساتذہ اردو فورم اور مختلف ملی و سماجی تنظیموں نے بھی اپنی سطح پر حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی۔ متعدد عوامی نمائندوں نے یادداشتیں پیش کیں اور ملاقاتوں کے ذریعے اس فیصلے پر نظرِ ثانی کی اپیل کی۔ یہ تمام کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اردو کا سوال آج بھی سماج کے سنجیدہ اور باشعور طبقے کے لیے محض ایک لسانی مسئلہ نہیں بلکہ آئینی اور تعلیمی انصاف کا معاملہ ہے۔
اس تحریک کا ایک مثبت پہلو یہ بھی رہا کہ اس نے اردو سے وابستہ مختلف حلقوں کو ایک مشترکہ مقصد پر متحد کر دیا۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اردو کا مطالبہ کسی خصوصی رعایت کا نہیں، بلکہ صرف اپنے آئینی اور قانونی حق کا ہے۔ اس کا تقاضا صرف یہ ہے کہ اسے وہی مقام دیا جائے جو آئین، قانون اور ریاستی پالیسی پہلے ہی اسے عطا کر چکی ہے۔ بہار میں اردو دوسری سرکاری زبان ہے، کروڑوں شہریوں کی مادری زبان ہے اور اس کی ادبی و تعلیمی روایت ڈیڑھ صدی سے زیادہ پر محیط ہے۔ ایسی زبان کو نئے ڈگری کالجوں کے تعلیمی نقشے سے باہر رکھنا نہ صرف لسانی انصاف کے خلاف ہے بلکہ ریاست کی اس تہذیبی شناخت سے بھی انحراف ہے، جس پر بہار ہمیشہ فخر کرتا آیا ہے۔
یہ بھی ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ کسی زبان کے حقوق کا مطالبہ دوسری زبانوں کی مخالفت نہیں ہوتا۔ ہندی، انگریزی اور دیگر زبانوں کی تدریس اپنی جگہ ضروری اور قابلِ احترام ہے، لیکن اس بنیاد پر اردو کو اس کے آئینی اور قانونی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ ہندوستان کی اصل قوت اس کی لسانی، ثقافتی اور تہذیبی تکثیریت میں مضمر ہے۔ ایک جمہوری معاشرے میں کسی زبان کو اس کا جائز مقام دینا دوسری زبانوں کے حقوق سلب کرنا نہیں بلکہ آئینی مساوات کو مضبوط بنانا ہے۔
بعض حلقے یہ استدلال پیش کرتے ہیں کہ انگریزی عصرِ حاضر کی عالمی زبان ہے، اس لیے اسے ترجیح دینا ناگزیر تھا۔ اس دلیل میں جزوی صداقت ضرور ہے، لیکن یہ جواز کسی بھی صورت اردو کو نظر انداز کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ ہندوستان کی اصل قوت اس کی کثیر لسانی اور کثیر ثقافتی شناخت میں مضمر ہے۔ یہاں کسی ایک زبان کی ترقی دوسری زبان کی محرومی پر قائم نہیں ہونی چاہیے۔ تعلیمی پالیسی کا مقصد زبانوں کے درمیان مسابقت پیدا کرنا نہیں بلکہ تمام زبانوں کو ان کے آئینی، تعلیمی اور سماجی مقام کے مطابق یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مسئلے کو جذبات یا سیاست کی عینک سے دیکھنے کے بجائے تعلیمی انصاف، آئینی ذمہ داری اور ریاستی جواب دہی کے تناظر میں سمجھا جائے۔ اگر بہار میں دوسری سرکاری زبان ہونے کے باوجود اردو کو نئے ڈگری کالجوں میں اس کا جائز مقام نہیں ملتا تو اس کے اثرات صرف ایک زبان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ریاست کے لسانی توازن، تعلیمی مساوات، آئینی اقدار اور عوامی اعتماد پر بھی گہرے اور دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومتِ بہار کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے، گورنر کی ہدایات پر عمل درآمد کو یقینی بنائے اور نئے ڈگری کالجوں میں اردو کی تدریس کا انتظام کرکے یہ واضح پیغام دے کہ ریاست میں کسی بھی زبان کے ساتھ امتیازی سلوک برداشت نہیں کیا جائے گا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے