कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مہمانِ بن بلائے: رحمت یا 'قیامتِ صغریٰ؟

ڈاکٹر سراج انور، امراؤتی ، مہاراشٹر
موبائل : 8668323359

کہتے ہیں مہمان اللہ کی رحمت ہوتا ہے، اور اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے۔ جب مہمان طے شدہ وقت پر آئے، تھوڑی دیر بیٹھے، خوشگوار باتیں کیں اور میزبان کے سکون کا خیال رکھا تو گھر میں واقعی رونق آ جاتی ہے۔ آپسی رشتے اور محبت تازہ ہو جاتے ہیں، بچوں کو بڑوں کی صحبت ملتی ہے، اور کئی بار ایسے مہمان دل کی تنہائی بھی دور کر دیتے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں کچھ مہمان اس ‘رحمت’ کو اس سرعت کے ساتھ ‘زحمت’ میں تبدیل کر دیتے ہیں کہ انسان کو فرشتوں کی بجائے اپنی قسمت پر شبہ ہونے لگتا ہے۔ یہ وہ نفوسِ قدسیہ ہیں جنہوں نے اپنائیت کا لبادہ اوڑھ کر دراصل ‘سماجی دہشت گردی’ کا راستہ اختیار کر رکھا ہے۔ ان کے نزدیک محبت کا واحد اظہار یہ ہے کہ بغیر کسی اطلاع کے، جب دل چاہے، کسی کا بھی دروازہ کھٹکھٹا دیا جائے اور میزبان کے اعصاب کو مفلوج کر کے اس کی پوری شام تباہ کر دی جائے۔
شام کے سات بجے ہیں۔ آپ نے ابھی ابھی دفتر کی نو گھنٹے کی ذہنی غلامی سے رہائی پائی ہے۔ سڑک کی دھول مٹی سے اٹے ہوئے، بال ایسے بکھرے ہیں جیسے کسی طوفان سے براہِ راست ٹکرا کر آئے ہوں، اور چہرے پر تھکن کے ایسے نشانات ہیں کہ شیشہ بھی آپ کو دیکھ کر پسینہ پونچھ لے۔ موزے سے برآمد ہونے والی ‘خوشبو’ کی کیمیائی شدت اس قدر ہے کہ اگر اسے کسی ایٹمی معاہدے میں بطورِ ہتھیار پیش کیا جائے تو دشمن بھی بلا شرط ہتھیار ڈال دے۔ آپ ابھی صوفے پر کسی زخمی سپاہی کی طرح ڈھیر ہونے ہی والے ہوتے ہیں کہ اچانک دروازے کی گھنٹی کسی قیامت کا بگل بن کر گونجتی ہے۔
اس ایک گھنٹی کی آواز پورے گھر میں ایسی ہنگامی صورتحال پیدا کر دیتی ہے کہ بیگم صاحبہ باورچی خانے کی طرف یوں لپکتی ہیں جیسے اولمپک کی دوڑ میں حصہ لے رہی ہوں، آپ بکھرے ہوئے جوتے موزے اٹھا کر صوفے کے نیچے ایسے ٹھونستے ہیں جیسے کوئی جاسوس اپنے گناہ چھپا رہا ہو، اور بچے جو بس ابھی ابھی دن بھر کی پڑھائی اور ہوم ورک سے فارغ ہو کر ایک کونے میں موبائل ہاتھوں میں لیے سکون سے بیٹھے تھے، اس اچانک ہنگامے اور افراتفری کو دیکھ کر ایسا واویلا شروع کر دیتے ہیں جیسے ان پر کوئی بڑا ظلم ڈھا دیا گیا ہو۔ گھر کی بلی جو کونے میں سکون سے سو رہی تھی، گھبرا کر پردے پر چڑھ جاتی ہے، اور آپ کا دل پہلے ہی ڈوب چکا ہوتا ہے۔
دروازہ کھولتے ہی سامنے مسکراتے ہوئے چہرے نظر آتے ہیں جو بڑے فخر سے کہتے ہیں، "ارے! کیسے ہیں آپ؟ ہم تو بس یہیں ولی چوک کے قریب سے گزر رہے تھے، سوچا کہ آپ سے مل لیں۔” اب بھلا یہ کوئی بتائے کہ جو شخص شہر کے بالکل دوسرے کونے میں رہتا ہے، وہ آپ کی کالونی سے "قریب سے گزر” کیسے رہا تھا؟ کیا آج شہر کا نقشہ بدل گیا؟یا پھر یہ "قریب سے گزرنا” کوئی نیا جغرافیائی تصور ہے؟ اور اگر واقعی گزر ہی رہے تھے تو گزر جاتے، رکنے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا موبائل فون اور واٹس ایپ صرف سوشل میڈیا پر وقت ضائع کرنے کے لیے بنے ہیں؟
اب آپ کے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ چہرے پر ساٹھ فیصد مصنوعی مسکراہٹ سجائے آپ کے لبوں سے نکلتا ہے، "ارے واہ! اچھا کیا! آئیے آئیے! بہت خوشی ہوئی!” حالانکہ اندر سے آپ اپنی قسمت کو طمانچے رسید کر رہے ہوتے ہیں۔ مہمان بڑے اطمینان سے کہتے ہیں، "نہیں نہیں، بھئی! چائے وائے کچھ نہیں، ہم تو بس دو منٹ ہی بیٹھیں گے۔” یہ ‘دو منٹ’ دراصل وہ عالمی سفید جھوٹ ہے جس کے سامنے ہالی وڈ کی کہانیاں بھی ہیچ ہیں۔ یہ دو منٹ دراصل ‘نظریہ اضافیت’ (Theory of Relativity) کا عملی نمونہ ہوتے ہیں، مہمان کے لیےیہ صرف دو منٹ ہوتے ہیں، مگر میزبان کے لیےیہ دو صدیاں بن کر گزرتے ہیں۔
اسی دو منٹ کے دعوے کے ساتھ جب مہمانوں کا رخ ڈرائنگ روم کی طرف ہوتا ہے، تو وہاں دوسرا معرکہ شروع ہو جاتا ہے۔وہ صوفے جن پر سارا سال چادریں چڑھی رہتی ہیں اور وہ قیمتی کراکری جو کسی شاہی خزانے کی طرح الماری کے لاکر میں بند ہوتی ہے، اس خوف سے ہنگامی بنیادوں پر نکالی جاتی ہے کہ کہیں مہمانوں کے سامنے ہماری ناک نہ کٹ جائے۔ اسی دوران باورچی خانے کے دروازے کی اوٹ سے بیگم صاحبہ بار بار منہ نکال کر آنکھوں ہی آنکھوں میں ایسی خفیہ زبان (Morse Code) میں گفتگو کرتی ہیں جسے ڈی کوڈ کرنا دنیا کی کسی جاسوسی ایجنسی کے بس کی بات نہ ہو۔ ان کے ابرو کے ایک اشارے کا مطلب ہوتا ہے ‘چینی ختم ہے’، اور زور سے آنکھیں مٹکانے کا مطلب ‘فوراً چوک والی دکان سے کچھ لے کر آؤ’۔
ابھی چائے کی پیالی میز پر رکھی ہی نہیں جاتی کہ مہمان کا دس سالہ بچہ، جو آتے ہی صوفے پر اچھل کود مچا رہا تھا، معصومیت سے پوچھتا ہے، "انکل، آپ کے وائی فائی کا پاس ورڈ کیا ہے؟” اور پاس ورڈ ملتے ہی وہ آپ کے انٹرنیٹ کے بینڈوڈتھ کا وہ حشر کرتا ہے کہ آپ کا اپنا موبائل بھی سسکیاں لینے لگتا ہے۔ اسی دوران بیگم صاحبہ کچن میں جا کر ہنگامی بنیادوں پر فریزر سے ‘ریڈی میڈ’ پٹیاں نکالتی ہیں اور بڑی محنت سے انہیں فرائی کر کے ہوم میڈ (گھر کے بنے ہوئے) آلو کے گرم گرم سموسے پیش کرتی ہیں۔ مگر وہ ننھا مہمان جیسے ہی پہلا نوالہ لیتا ہے، اس کا منہ ایسے بنتا ہے جیسے کوئی زہریلا لقمہ چبا لیا ہو۔ وہ وہیں چنگھاڑنا شروع کر دیتا ہے، "ممی! مجھے آلو کے نہیں، تلے ہوئے قیمے کے سموسے چاہیے!” اب اس نازک موقع پر بچے کی محترمہ والدہ اسے اپنی بڑی بڑی آنکھیں 180 ڈگری پر گھما گھما کر اور دانت پیس پیس کر خاموش کرانے کی ایسی ناکام کوشش کرتی ہیں جیسے وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے گھر جا کر قتل کر دینے کی دھمکی دے رہی ہوں، مگر بچہ بھی ڈھیٹ ہے، وہ اس ‘ممی برانڈ’ خاموش دھمکی کو ہوا میں اڑاتے ہوئے قیمے کے سموسوں کے لیے واویلا مچائے رکھتا ہے۔ دوسری طرف آپ کے اپنے بچے، جو عام دنوں میں ایک ٹافی کے لیے بھی ترستے ہیں، اس موقع کو غنیمت جان کر مہمانوں کے سامنے ہی آئس کریم اور پیزا کی فرمائشیں داغ دیتے ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس وقت ‘سماجی ساکھ’ بچانے کی خاطر پاپا ہر ناجائز مطالبے پر بھی مسکرا کر دستخط کر ہی دیںگے۔
چائے کے ان گھونٹوں اور بچوں کے اس ہنگامے کے درمیان، مہمانوں کے ان "دو منٹوں” کا اصل جادو سر چڑھ کر بولنے لگتا ہے۔ پہلے تو موسم پر گفتگو ہوتی ہے، پھر اگلے بیس منٹ رشتہ داروں کا پوسٹ مارٹم ہوتا ہے، اور بات آہستہ آہستہ خواتین کی آن لائن خریداری پر جا پہنچتی ہے: "ارے، آج کل آن لائن کتنے اچھے سوٹ آ رہے ہیں!” جب چائے کے تین دور چل جاتے ہیں تو میزبان شرما شرمی رات کے کھانے کا اصرار کر بیٹھتا ہے، اور یوں وہ ‘دو منٹ’ گیارہ بجے کی رات میں بدل جاتے ہیں۔
البتہیہ بات بھی حقیقت ہے کہ کبھی کبھار ایسے مہمان بھی آ جاتے ہیں جو مناسب وقت پر آ کر صرف دو گھنٹے بیٹھتے ہیں، دل بھر کر باتیں کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں تو دل چاہتا ہے کہ وہ تھوڑا اور ٹھہر جائیں۔ مگر بدقسمتی سے ایسے ‘رحمتی’ مہمان ہمارے معاشرے میں تیزی سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔
ہمارے ہاں ان بن بلائے مہمانوں کی کئی خاص قسمیں ہیں۔ پہلی قسم "ہفتہ واری میزائل” ہیں، جنہوں نے آپ کے گھر پر ہر اتوار کو آنا اپنا آئینی حق سمجھ رکھا ہوتا ہے۔ دوسری قسم "جاسوسی ایجنسی” ہے، جو آتے ہی گھر کی مختلف چیزوں کی قیمتیں پوچھ کر آپ کے بجٹ کا تخمینہ لگانے لگتی ہے۔ تیسری قسم "ابدی قیام والے” ہیں جو صوفے سے ایسی جذباتی وابستگی قائم کرتے ہیں کہ آپ کو اپنے ہی گھر میں مہمان ہونے کا احساس ہونے لگتا ہے۔ اور سب سے خطرناک "کھانے کا ریڈار” رکھنے والے ہیں، جن کی ناک میں نصب سینسرز کو کچن میں پیاز کڑکنے کی آواز بھیکسی انتباہی سائرن کی طرح سنائی دیتی ہے اور وہ دسترخوان بچھتے ہی وارد ہو جاتے ہیں۔
کھانے کے اس ‘بے وقت راگ’ اور طویل تواضع کے بعد جب گھڑی کی سوئیاں آدھی رات کی طرف اشارہ کرتی ہیں، تو میزبان بیچارہ جمائیاں لے کر، بار بار گھڑی دیکھ کر اور جھوٹی ایمرجنسیوں کا ذکر کر کے تھک جاتا ہے، مگر مہمانِ ذی وقار کے پایہ استقلال میں لغزش نہیں آتی۔
اصل میں حل بہت آسان ہے۔ محبت کا اظہار بغیر اطلاع کسی کے سر پر سوار ہو جانے میں نہیں، بلکہ دوسرے کے سکون کی قدر کرنے میں ہے۔ بلاشبہ، جب مہمان اطلاع دے کر، مناسب وقت پر اور محدود مدت کے لیے آئے تو مہمان نوازی ہماری ثقافت کی خوبصورت شناخت بن جاتی ہے۔ یہ رشتوں کو جوڑتی ہے، تنہائی دور کرتی ہے، اور زندگی کے اُن بیتے ہوئے لمحات کو حسین اور خوشنما بناتی ہے۔ فون کرنے میں صرف ایک منٹ لگتا ہے، جبکہ کسی کا یوں بن بلائے آ جانا میزبان کو گھنٹوں کی ذہنی اذیت میں مبتلا کر سکتا ہے۔ اطلاع دے کر آنا کوئی عیبیا صرف رسمی پن نہیں، بلکہ سنتِ نبویﷺ اور انسانی وقار کا تقاضا ہے۔ بن بلائے آنے والے مہمانوں کو تکلفانہ تواضع تو مل جاتی ہے، مگر کسی کے دل میں جگہ بنانا ہمیشہ ایک خواب ہی رہ جاتا ہے۔ محبت تو ہم سبھی کرتے ہیں، بس ذرا ‘اطلاع’ کے ساتھ کیجیے تو زیادہ معتبر ٹھہرے گی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے