कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ممبئی کاپانی: جھیلوں سے نل تک پیاس کا سفر

تحریر:قمر صدیقی، ممبئی

ممبئی سمندر کے کنارے آباد ایک ایسا شہر ہے جس کے چاروں طرف پانی ہی پانی ہے، مگر اس کے باوجود اس کی سب سے بڑی ضرورت بھی پانی ہی ہے۔
یہ ایک عجیب تضاد ہے۔
بحیرۂ عرب کی لہریں دن رات اس کے ساحلوں سے ٹکراتی ہیں، مانسون میں آسمان اس پر دل کھول کر برستا ہے، لیکن پھر بھی ہر صبح کروڑوں لوگ اپنے نل میں پانی آنے کا انتظار کرتے ہیں۔ شاید اسی لیے ممبئی کی تاریخ صرف سمندر کی تاریخ نہیں، پانی کی تلاش کی تاریخ بھی ہے۔
کبھی کبھی صبح سویرے جب کسی عمارت کی چھت پر رکھی ہوئی پانی کی ٹنکی پر نظر پڑتی ہے تو خیال آتا ہے کہ اس میں موجود پانی آخر کہاں سے آیا ہوگا؟
یہ سوال بظاہر سادہ ہے، مگر اس کا جواب ہمیں ممبئی سے بہت دور لے جاتا ہے۔
اتنا دور کہ شہر کا شور پیچھے رہ جاتا ہے اور سامنے پہاڑ، جنگل، جھیلیں اور بادل نظر آنے لگتے ہیں۔
ممبئی کا بیشتر پانی خود ممبئی میں پیدا نہیں ہوتا۔ وہ دور دراز وادیوں اور پہاڑی سلسلوں سے سفر کرتا ہوا یہاں پہنچتا ہے۔
تُلسی جھیل
وہار جھیل
تانسا
بھاتسا
مدھیہ ویتَرنا
اَپر ویتَرنا
یہ جھیلیں ممبئی کی اجتماعی زندگی کی وہ خاموش محافظ ہیں، جن کا نام اکثر لوگ صرف اس وقت سنتے ہیں جب اخبارات میں ان کے ذخیرۂ آب کی خبریں شائع ہوتی ہیں۔
ہر سال مانسون آتا ہے۔
بارش پہاڑوں پر برستی ہے۔
جھیلیں بھرتی ہیں۔
اور پھر پانی کا ایک طویل سفر شروع ہوتا ہے۔
یہ سفر میلوں پر محیط پائپ لائنوں کے ذریعے طے ہوتا ہے۔
پہاڑوں سے میدانوں تک۔
جنگلوں سے آبادیوں تک۔
اور آخرکار ممبئی کے گھروں تک۔
کبھی کبھی لگتا ہے کہ پانی نہیں، زندگی سفر کر رہی ہے۔
کیونکہ ممبئی میں جو کچھ ہے، وہ پانی ہی کے دم سے ہے۔
فیکٹریاں۔
دفاتر۔
اسپتال۔
ہوٹل۔
لوکل ٹرینوں میں سفر کرنے والے کروڑوں لوگ۔
سب کسی نہ کسی صورت اس پانی کے محتاج ہیں۔
ممبئی کے بارے میں اکثر کہا جاتا ہے کہ یہ شہر کبھی سوتا نہیں۔
لیکن کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ شہر کبھی پانی کے بغیر جاگ بھی نہیں سکتا۔
پانی کی یہ داستان نئی نہیں ہے.
انیسویں صدی کے وسط میں جب بمبئی شہر ایک تجارتی بندرگاہ کے طور پر تیزی سے ترقی کر رہا تھا تو شہر کو پانی کی شدید قلت کا سامنا تھا۔ آبادی بڑھ رہی تھی اور پرانے کنویں ناکافی ثابت ہو رہے تھے۔ تب برطانوی حکومت نے وہار جھیل کی تعمیر کا منصوبہ بنایا۔ 1860 میں وہار جھیل سے پانی کی فراہمی شروع ہوئی۔
پھر تلسی جھیل بنی۔
پھر تانسا۔
پھر بھاتسا۔
اور یوں شہر اپنی پیاس بجھانے کے لیے مسلسل دور سے دور کا سفر کرتا چلا گیا۔
ممبئی کے پانی کی کہانی دراصل شہر کے پھیلاؤ کی کہانی بھی ہے۔ جوں جوں آبادی بڑھتی گئی، پانی کی ضرورت اور ذرائع بھی بڑھتے گئے۔
لیکن اس سارے نظام کا ایک پہلو اور بھی ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
پانی جب نل سے نکلتا ہے تو ہمیں بالکل عام سا لگتا ہے۔ آسانی سے حاصل ہو جانے والی کوئی معمولی سی چیز۔
لیکن اس ایک گلاس پانی کے پیچھے انجینئروں کی منصوبہ بندی، مزدوروں کی محنت، جھیلوں کا ذخیرہ، پائپ لائنوں کا جال اور پوری ایک صدی کی شہری تاریخ موجود ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ممبئی کا پانی محض پانی نہیں۔
یہ انسانوں کے ذریعے تعمیر کیا گیا ایک عظیم الشان نظام ہے۔
جھیلوں سے نکلنے والا پانی نہروں، سرنگوں اور دیوہیکل پائپ لائنوں کے ذریعے شہر کی طرف روانہ ہوتا ہے۔ زمین کے اوپر چلنے والی سڑکوں پر تو روزانہ لاکھوں لوگ سفر کرتے ہیں، لیکن زمین کے نیچے بھی ایک سفر جاری رہتا ہے۔ پانی کا سفر۔ مسلسل اور بے آواز۔
شہر میں داخل ہونے کے بعد اس پانی کا ایک بڑا حصہ بھانڈوپ کے عظیم واٹر ٹریٹمنٹ کمپلیکس تک پہنچتا ہے۔ یہ جگہ ممبئی کے آبی نظام کا دل ہے۔ یہاں پانی کو مختلف مراحل سے گزار کر صاف کیا جاتا ہے۔ مٹی، جراثیم اور دوسری آلائشیں الگ کی جاتی ہیں۔ پھر یہ پانی ان بے شمار ذخیرہ گاہوں اور آبی ٹینکیوں تک پہنچتا ہے جو پورے شہر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ وہاں سے پائپ لائنوں کا جال اسے گھروں، اسکولوں، اسپتالوں، دکانوں، کارخانوں اور ہوٹلوں تک لے جاتا ہے۔
اگر ممبئی کو ایک زندہ جسم تصور کیا جائے تو اس کی سڑکیں اعصاب ہیں اور پانی کی پائپ لائنیں خون کی رگیں۔
فرق صرف اتنا ہے کہ خون دل سے نکلتا ہے اور پانی جھیلوں سے۔
صبح کے وقت جب کسی گھر میں چائے کے لیے کیتلی چڑھتی ہے، کسی مسجد میں وضو ہوتا ہے، کسی اسکول میں بچے پانی پیتے ہیں یا کسی اسپتال میں مریض کی ضرورت پوری ہوتی ہے تو اس کے پیچھے اسی پیچیدہ اور طویل نظام کی کارفرمائی ہوتی ہے۔
ایک لمحے کے لیے یہ نظام رک جائے تو ممبئی کی رفتار بھی رکنے لگے۔
فیکٹریاں رک جائیں۔
اسپتال پریشان ہو جائیں۔
اور شہر کی بے مثال تیزی آہستہ آہستہ سست پڑنے لگے۔
شاید اسی لیے پانی اس شہر کا سب سے خاموش ہیرو ہے۔
وہ نہ کسی عمارت پر اپنا نام لکھتا ہے، نہ کسی مجسمے میں ڈھلتا ہے، نہ کسی تقریب میں اس کا ذکر ہوتا ہے۔
لیکن ہر روز کروڑوں زندگیوں کو حرکت دینے کا کام اسی کے ذمے ہے۔
شام کے وقت جب کسی بلند عمارت سے شہر کو دیکھیں تو روشنیوں کا ایک سمندر دکھائی دیتا ہے۔
ان روشنیوں کے پیچھے ہزاروں گھروں کے باورچی خانے ہیں۔
نلکے ہیں۔
پانی کی ٹنکیاں ہیں۔
اور ان ٹنکیوں میں محفوظ وہ پانی ہے جو کئی گھنٹوں اور کئی میلوں کا سفر طے کر کے یہاں تک پہنچا ہے۔
ممبئی کی عظمت کا ذکر عموماً اس کی بندرگاہ، اس کی تجارت، اس کی فلمی دنیا اور اس کی بلند عمارتوں کے حوالے سے کیا جاتا ہے۔
لیکن اگر سچ پوچھیں تو اس شہر کی اصل عظمت شاید ان جھیلوں میں پوشیدہ ہے جو خود شہر سے میلوں دور ہیں اور پھر بھی ہر روز ممبئی کو زندہ رکھتی ہیں۔ ممبئی کا پانی صرف پانی نہیں۔
یہ پہاڑوں کی بارش ہے۔
جنگلوں کی خاموشی ہے۔
انجینئروں کی ذہانت ہے۔
مزدوروں کی محنت ہے۔
اور ایک ایسے شہر کی مسلسل دھڑکن ہے جو ہر صبح نئے خوابوں کے ساتھ بیدار ہوتا ہے۔
کبھی کبھی یوں ہی کسی وقت پانی کی ٹنکیوں، پائپ لائنوں اور دور کہیں جھیلوں کے بارے میں سوچتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ ممبئی دراصل سمندر کے کنارے نہیں، جھیلوں کے سہارے آباد ہے۔
وہ جھیلیں جو خود شہر سے بہت دور ہیں، مگر جن کے بغیر ممبئی کی کوئی صبح مکمل نہیں ہوتی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے