कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مایوسی کے اندھیروں سے علم و امید کی روشنی تک

قوم و ملت کے لیے ڈاکٹر عبدالقدیر کا عظیم تعلیمی انقلاب

از :محمد امین نواز

ہندوستان کی معاصر تعلیمی تاریخ میں چند شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے محض درسگاہیں قائم نہیں کیں بلکہ محروم طبقات کی تقدیر بدلنے کی جدوجہد کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر، بانیِ شاہین گروپ اف انسٹی ٹیوشنس، انہی نابغہ روزگار شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے خواب کو عصرِ حاضر میں ایک نئی تعبیر عطا کی۔ جب ملت کے تعلیمی زوال پر سیمیناروں میں نوحہ خوانی ہورہی تھی، جب پسماندگی کے اعداد و شمار قوم کو مایوسی کی طرف دھکیل رہے تھے، اْس وقت ایک شخص خاموشی سے عملی میدان میں اْترا اور اْس نے شکووں کے بجائے امید کے چراغ جلانے شروع کیے۔
علامہ اقبال نے فرمایا تھا:
شکوہ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
ڈاکٹر عبدالقدیر نے اس شعر کو محض پڑھا نہیں بلکہ اپنی پوری زندگی میں اس کی عملی تفسیر پیش کردی۔ بیدر کی سرزمین سے اٹھنے والا یہ شخص بظاہر ایک عام انسان تھا مگر اْس کے خواب غیر معمولی تھے۔ وہ جانتا تھا کہ قوموں کی تقدیر خطابت سے نہیں بلکہ تعلیم سے بدلتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اْس نے ملت کے سب سے کمزور اور نظر انداز طبقات کو اپنی جدوجہد کا مرکز بنایا۔سن 1989 میں محض 17 طلبہ کے ساتھ قائم ہونے والا ایک چھوٹا سا تعلیمی مرکز اج’’شاہین گروپ‘‘کی شکل میں ایک عظیم الشان تعلیمی تحریک بن چکا ہے۔ شاہین گروپ اج ہندوستان کی کئی ریاستوں میں اپنے ادارے قائم کرچکا ہے اور ہزاروں طلبہ اس سے فیض یاب ہورہے ہیں۔ یہ محض ایک ادارے کی ترقی نہیں بلکہ ایک فکری انقلاب کی داستان ہے۔ڈاکٹر عبدالقدیر کی سب سے بڑی انفرادیت یہ ہے کہ انہوں نے مدارس کے طلبہ کو قوم کا بوجھ نہیں بلکہ مستقبل کا سرمایہ سمجھا۔ ایک ایسے وقت میں جب مدارس کے فارغین کو صرف امامت، موذنی یا محدود دینی خدمات تک مقید سمجھا جاتا تھا، انہوں نے انہی طلبہ میں مستقبل کے ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان اور ماہرینِ تعلیم دیکھے۔ یہی وہ فکر تھی جس نے شاہین کے تعلیمی ماڈل کو منفرد بنایا۔ دینی تعلیم کے ساتھ عصری علوم کا حسین امتزاج دراصل ڈاکٹر عبدالقدیر نے اسی مشن کی توسیع کی ہے جس کا مقصد مسلمانوں کو جدید علوم سے اراستہ کرنا تھا۔شاہین گروپ نے "مدرسہ پلس”اور”حفظ پلس”جیسے پروگرام متعارف کراکے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ ان پروگراموں کے ذریعے حفاظِ قران اور مدارس کے طلبہ کو جدید تعلیمی دھارے سے جوڑا گیا تاکہ وہ NEET، JEE اور UPSC جیسے مشکل ترین امتحانات میں کامیابی حاصل کرسکیں۔یہ تجربہ ابتدا میں لوگوں کو خواب معلوم ہوتا تھا، مگر اج حقیقت بن چکا ہے۔ ہندوستان کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں طلبہ نے شاہین کے پلیٹ فارم سے میڈیکل اور انجینئرنگ کالجوں تک رسائی حاصل کی۔یہی وجہ ہے کہ شاہین کو محض ایک کوچنگ سینٹر یا تعلیمی ادارہ کہنا اس کے دائرہ اثر کو محدود کرنا ہوگا۔ یہ دراصل محروم طبقات کی سماجی و ذہنی بیداری کی تحریک ہے۔ یہاں تعلیم صرف نصابی کتابوں تک محدود نہیں بلکہ کردار سازی، خود اعتمادی، وقت کی پابندی، ذہنی استحکام اور مقصدِ حیات کے شعور پر بھی زور دیا جاتا ہے۔
علامہ اقبال کے”شاہین”کا تصور ڈاکٹر عبدالقدیر کی پوری فکر پر غالب نظر اتا ہے۔ اقبال کا شاہین بلند پرواز، دور اندیش، خوددار اور عمل پسند ہوتا ہے۔ وہ دوسروں کے سہارے زندہ نہیں رہتا بلکہ اپنی قوتِ بازو پر اعتماد کرتا ہے۔ شاہین گروپ کے فلسفہ تعلیم میں بھی یہی روح کارفرما دکھائی دیتی ہے۔ یہاں طلبہ کو صرف ملازمت حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ قیادت کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ڈاکٹر عبدالقدیر اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ کسی بھی تعلیمی انقلاب کی اصل قوت اساتذہ ہوتے ہیں۔ اسی لیے شاہین نے تجربہ کار اور باصلاحیت اساتذہ کی ایک مضبوط ٹیم تیار کی۔ جدید تحقیقی رجحانات، امتحانی تقاضوں اور بدلتے ہوئے تعلیمی معیارات کے مطابق نصاب اور مطالعاتی مواد کو مسلسل اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاہین کے طلبہ ملک کے بڑے تعلیمی مقابلوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرتے رہے ہیں۔اج شاہین گروپ کی کامیابی کا چرچا صرف کرناٹک یا تلنگانہ تک محدود نہیں بلکہ پورے ہندوستان میں اس کی مثال دی جاتی ہے۔ شاہین گروپ کی مختلف شاخیں ہندوستان کی کئی ریاستوں میں قائم ہوچکی ہیں جبکہ بیرونِ ملک بھی اس کے تعلیمی مراکز موجود ہیں۔ یہ وسعت اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت خالص اور وڑن واضح ہو تو محدود وسائل بھی بڑے انقلاب کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
سن 2025 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جانب سے ڈاکٹر عبدالقدیر کو” سرسید نیشنل ایکسی لینس ایوارڈ”سے نوازا جانا دراصل اْن کی خدمات کا قومی اعتراف تھا۔ یہ اعزاز صرف ایک فرد کی کامیابی نہیں بلکہ اس فکر کی جیت تھی جو تعلیم کو قوموں کی نجات کا راستہ سمجھتی ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے اپنے اعزازی کلمات میں ڈاکٹر عبدالقدیر کو”ویڑنری ریفارمر”اور”تعلیمی انقلاب کا علمبردار”قرار دیا، جو حقیقتاً اْن کی شخصیت کا درست تعارف ہے۔تاہم ڈاکٹر عبدالقدیر کی اصل کامیابی ایوارڈز یا اعزازات نہیں بلکہ وہ ہزاروں زندگیاں ہیں جو اْن کی محنت سے بدل گئیں۔ وہ یتیم بچہ جو کبھی مدرسے کے ایک کمرے میں بیٹھا مستقبل سے ناامید تھا، اج ڈاکٹر بن کر انسانیت کی خدمت کررہا ہے۔ وہ مزدور باپ جس نے کبھی خواب میں بھی اپنی بیٹی کو میڈیکل کالج میں نہیں دیکھا تھا، اج فخر سے اْس کی کامیابی پر انسو بہاتا ہے۔ یہ محض انفرادی کامیابیاں نہیں بلکہ سماجی تبدیلی کی روشن مثالیں ہیں۔ڈاکٹر عبدالقدیر کی جدوجہد اس حقیقت کی بھی یاد دہانی کراتی ہے کہ قوموں کی تعمیر صرف حکومتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ اہلِ درد افراد بھی تاریخ کا رخ موڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ ثابت کردیا کہ اگر وڑن واضح ہو تو ایک شخص بھی پورے معاشرے میں امید کی نئی لہر پیدا کرسکتا ہے۔
اج جبکہ ہندوستان میں تعلیم تیزی سے تجارتی منڈی بنتی جارہی ہے، شاہین گروپ کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنی اصل روح کو برقرار رکھنا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ادارہ محض”امتحان پاس کرانے والی فیکٹری”بننے کے بجائے تخلیقی فکر، تنقیدی شعور اور اخلاقی تربیت کو بھی اپنی شناخت بنائے۔ جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور تحقیق پر مبنی تدریسی نظام کے ساتھ ساتھ انسانی اقدار کی حفاظت بھی ناگزیر ہے۔ڈاکٹر عبدالقدیر کو اب اپنی جدوجہد کے تسلسل کے لیے دوسری صفِ قیادت تیار کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی۔ تاریخ گواہ ہے کہ بانیان کے بعد ادارے اکثر اپنی روح کھو بیٹھتے ہیں۔ اگر شاہین کے مشن کو دیرپا بنانا ہے تو ایسے تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور مخلص افراد کی تیاری ضروری ہے جو اسی جذبہ خدمت کے ساتھ اس قافلے کو اگے بڑھا سکیں۔
نگاہ بلند ، سخن دلنواز، جاں پْر سوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے
ہندوستان کے تعلیمی منظرنامے میں شاہین گروپ اف انسٹی ٹیوشنس کی کامیابی صرف ایک ادارہ جاتی ترقی کی کہانی نہیں بلکہ یہ ایک مکمل فکری و سماجی ماڈل کی تشکیل ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر نے یہ بخوبی سمجھ لیا تھا کہ محض ڈگریاں قوموں کو عظمت نہیں دلاتیں بلکہ ایسا تعلیمی نظام درکار ہوتا ہے جو ذہنوں کے ساتھ کردار بھی تعمیر کرے۔ اسی لیے شاہین کے تعلیمی ڈھانچے میں محنت، نظم و ضبط، اخلاقیات، سماجی شعور اور مقصدیت کو بنیادی حیثیت دی گئی۔شاہین گروپ کے ماحول کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہاں طلبہ کو احساسِ کمتری سے نکال کر احساسِ ذمہ داری دیا جاتا ہے۔ ہندوستان کے پسماندہ علاقوں سے انے والے بے شمار طلبہ جب بڑے شہروں اور مسابقتی امتحانات کے ماحول میں خود کو کمزور محسوس کرتے ہیں تو شاہین اْن کے اندر یہ یقین پیدا کرتا ہے کہ کامیابی کسی مخصوص طبقے کی میراث نہیں۔ یہی نفسیاتی تربیت دراصل شاہین کی اصل قوت ہے۔ ہندوستان میں مسلم طلبہ کی ایک بڑی تعداد ابتدائی مراحل ہی میں تعلیمی دوڑ سے باہر ہوجاتی ہے۔ اس کی وجوہات میں معاشی کمزوری، رہنمائی کا فقدان، معیاری تعلیمی ماحول کی کمی اور مسابقتی امتحانات کے خوف جیسے عوامل شامل ہیں۔ شاہین گروپ نے ان تمام رکاوٹوں کو ایک منظم حکمتِ عملی کے ذریعے چیلنج کیا۔ ادارے نے صرف کلاس روم تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ رہائش، نگرانی، ذہنی تربیت اور مسلسل مشاورت کو بھی تعلیمی نظام کا حصہ بنایا۔خاص طور پر طالبات کی تعلیم کے میدان میں شاہین گروپ کی خدمات غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ ایک ایسے سماجی ماحول میں جہاں کئی غریب اور دیہی خاندان بچیوں کی اعلیٰ تعلیم کے بارے میں تذبذب کا شکار رہتے ہیں، شاہین نے محفوظ، منظم اور دینی اقدار سے ہم اہنگ تعلیمی ماحول فراہم کرکے والدین کے اعتماد کو مضبوط کیا۔ نتیجتاً اج شاہین کی ہزاروں طالبات میڈیکل، انجینئرنگ اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کررہی ہیں۔ یہ تبدیلی صرف تعلیمی نہیں بلکہ سماجی سطح پر بھی ایک خاموش انقلاب ہے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ تعلیم کا مقصد صرف روزگار حاصل کرنا نہیں بلکہ سماج میں مثبت تبدیلی پیدا کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاہین کے نصابی و غیر نصابی پروگراموں میں سماجی شعور، قائدانہ صلاحیتوں اور اخلاقی تربیت کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ طلبہ کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ اْن کی کامیابی صرف اْن کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ پوری قوم کی امیدوں سے جڑی ہوئی ہے۔شاہین گروپ کے نظامِ تعلیم میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ جدید ڈیجیٹل لرننگ، ان لائن ٹیسٹ سیریز، اسمارٹ کلاس رومز اور ڈیٹا پر مبنی تعلیمی تجزیے کے ذریعے طلبہ کی کارکردگی کو مسلسل بہتر بنانے کی کوشش کی گئی۔ بدلتے ہوئے عالمی تعلیمی رجحانات کے مطابق مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید سائنسی طریقہ تدریس کو بھی شامل کیا جارہا ہے تاکہ طلبہ عالمی سطح کے مقابلوں میں خود کو منوا سکیں۔یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر نے اپنی تعلیمی تحریک کو صرف شہری علاقوں تک محدود نہیں رکھا۔ انہوں نے اْن خطوں کا رخ کیا جہاں تعلیمی سہولیات نہ ہونے کے برابر تھیں۔ دیہی اور نیم شہری علاقوں میں اداروں کا قیام اس بات کا ثبوت ہے کہ اْن کی نظر صرف نتائج پر نہیں بلکہ تعلیمی انصاف پر بھی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ اگر قوم کے اخری فرد تک معیاری تعلیم نہیں پہنچتی تو ترقی کا خواب ادھورا رہے گا۔
شاہین گروپ کی مقبولیت کے ساتھ ساتھ اْس پر ذمہ داریوں کا دائرہ بھی وسیع ہوا ہے۔ اب جبکہ ادارہ ایک بڑے تعلیمی نیٹ ورک کی صورت اختیار کرچکا ہے، سب سے اہم مرحلہ معیار کو برقرار رکھنا ہے۔ تعلیمی دنیا میں اکثر ایسا ہوا ہے کہ تیز رفتار توسیع اداروں کی روح کو متاثر کردیتی ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر کے سامنے اصل امتحان اب یہی ہے کہ وہ اس تحریک کو تجارتی رجحانات سے محفوظ رکھتے ہوئے اْس کی نظریاتی اساس کو برقرار رکھیں۔اس سلسلے میں مستقل تربیتی نظام، اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی، تحقیق پر مبنی تدریسی حکمتِ عملی اور ادارہ جاتی احتساب ناگزیر ہے۔ دنیا کے بڑے تعلیمی ادارے اسی وجہ سے کامیاب ہوتے ہیں کہ وہاں مسلسل جائزے اور اصلاح کا عمل جاری رہتا ہے۔ شاہین کو بھی اپنی کامیابی کے تسلسل کے لیے اسی اصول کو مضبوطی سے اپنانا ہوگا۔یہ امر بھی نہایت اہم ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر نے قوم کے نوجوانوں میں خود اعتمادی کی جو شمع روشن کی ہے، وہ محض تعلیمی کامیابیوں تک محدود نہ رہے بلکہ سماجی قیادت میں بھی تبدیل ہو۔ اج ہندوستانی مسلمانوں کو ایسے تعلیم یافتہ، باکردار اور وسیع النظر نوجوانوں کی ضرورت ہے جو معاشرے میں مثبت کردار ادا کرسکیں۔ شاہین اگر اس سمت میں قائدانہ کردار ادا کرتا ہے تو یہ ادارہ صرف تعلیمی مرکز نہیں بلکہ ایک فکری تحریک بن جائے گا۔ڈاکٹر عبدالقدیر کی شخصیت کا ایک اور روشن پہلو اْن کی سادگی اور خاموش مزاجی ہے۔ انہوں نے کبھی اپنی جدوجہد کو ذاتی تشہیر کا ذریعہ نہیں بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ اْن کی کامیابیوں میں اخلاص کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ وہ جلسوں کی خطابت سے زیادہ عملی میدان میں یقین رکھتے ہیں۔ اْن کا پیغام ہمیشہ یہی رہا کہ قوموں کی تعمیر مسلسل محنت، قربانی اور استقامت سے ہوتی ہے۔اج جب تعلیمی میدان سرمایہ دارانہ رجحانات کے زیرِ اثر تیزی سے کاروبار بنتا جارہا ہے، شاہین گروپ غریب اور متوسط طبقے کے لیے امید کی کرن بن کر ابھرا ہے۔ اگرچہ وسائل کی کمی ایک مستقل چیلنج ہے، مگر ادارے نے ثابت کیا کہ مضبوط ارادے اور مخلص قیادت محدود وسائل کو بھی بڑی طاقت میں تبدیل کرسکتی ہے۔شاہین کی کامیابی نے دیگر مسلم تعلیمی اداروں کو بھی متاثر کیا ہے۔ اب مختلف علاقوں میں ایسے ماڈلز پر غور کیا جارہا ہے جہاں دینی پس منظر رکھنے والے طلبہ کو جدید مسابقتی امتحانات کے لیے تیار کیا جاسکے۔ اس طرح ڈاکٹر عبدالقدیر کی تحریک ایک ادارے سے بڑھ کر پورے ملک میں ایک فکری بیداری کا سبب بن رہی ہے۔تاریخ میں وہی شخصیات زندہ رہتی ہیں جو اپنے دور کے مسائل کا عملی حل پیش کرتی ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر نے بھی یہی کیا۔ انہوں نے مایوسی کے اندھیروں میں امید کا چراغ روشن کیا، محرومیوں کے صحرا میں علم کے چشمے جاری کیے، اور یہ ثابت کردیا کہ اگر نیت خالص ہو تو ایک فرد بھی ہزاروں زندگیوں کا رخ بدل سکتا ہے۔اج شاہین گروپ صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک علامت ہے، اْس یقین کی علامت کہ محروم بچے بھی بڑے خواب دیکھ سکتے ہیں، مدرسے کا طالب علم بھی سائنس دان بن سکتا ہے، اور غریب گھر کی بیٹی بھی سفید کوٹ پہن کر انسانیت کی خدمت کرسکتی ہے۔ڈاکٹر عبدالقدیر کی جدوجہد دراصل اْس پیغام کی عملی تعبیر ہے کہ:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
اور یہی وہ فکر ہے جس نے شاہین کو ایک ادارے سے بڑھ کر ایک روشن تحریک بنا دیا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے