कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اُستاد کی اہمیت

ازقلم: ضحیٰ زرین شیخ انور
جی آئی او اردھاپور

اساتذہ ہماری زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں علمی میدان میں اساتذہ کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے ایک استاد کسی معاشرے کی ترقی اور کامیابی کا ضامن ہوتا ہے_اسلام نے مسلمانوں پر تعلیم کو فرض قراردیا ہے اور اسلام کی نظر میں استاد کو معزز رتبہ دیا ہے تاکہ اس کی عظمت سے علم کا وقار بڑھ سکے، استاد ہی انسان کو معاشرے میں جینے کا سلیقہ سکھاتا ہے،اور سہی غلط کی پہچان کراتا ہے،اسی لیے استاد کو پوری قوم کا معمار کہا جاتا ہےکیونکہ ایک استاد کی دی ہوئی اچھی تربیت سے نسلیں ترقی کرتی ہیں اور انسان کامیابیوں سے ہمکنار ہوتا ہے_استاد صرف کتابی علم نہیں دیتا بلکہ انسان سازی کرتا ہے وہ طلبہ کو صرف رٹہ لگانا نہیں سکھاتا بلکہ انہیں سوال کرنے اور غور و فکر کرنے کی عادت ڈالتا ہے وہ اپنے طلبہ کے دلوں سے امتحانات اور ناکامی کا خوف نکال کر انہیں مسلسل محنت کرنے پر رجوع کرتا ہے، اسی طرح استاد کے علم سے استفادہ کرلینے کے بعد انسان روزگار حاصل کرنے کے قابل بنتا ہے اپنے آپ کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے مستقبل میں ترقی پائے_
ایک بہترین استاد اپنے طالبات کو زندگی میں آنے والی مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کرنا سکھاتا ہے وہ صرف ایک معلم نہیں ہوتا بلکہ ضرورت پڑنے پر ایک مخلص دوست بن کر طلبہ کی ذہنی الجھنوں کو دفع کرتا ہے_
بحیثیت معلم وہ ایسی ہستی ہے جو طلبہ کی زندگی میں روشنی پیدا کرتا ہے وہ خود محنت کرتا ہے تاکہ اس کے شاگرد کامیاب ہو اور ایک کامیاب شاگرد کے پیچھے اس کے اساتذہ کی محنت، دعائیں اور رہنمائی شامل ہوتی ہے_ اساتذہ قوم کے مستقبل کی تعمیر کرتے ہیں آج کے طلبہ ہی کل کے ڈاکٹر، انجینیئر، ٹیچر اور ذمہ دار شہری بنتے ہیں اسی لیے ایک استاد کی محنت اور دعاؤں کا اثر پورے معاشرے پر پڑتا ہے_
ایک دفعہ امیرالمومنین حضرت عُمرؓ سے پوچھا گیا،’’ اتنی بڑی اسلامی مملکت کے خلیفہ ہونے کے باوجود آپؓ کے دِل میں کوئی حسرت باقی ہے_‘‘ آپؓ نے فرمایا’’کاش! مَیں ایک معلّم ہوتا_‘‘
ایک معلّم کے فرائض دراصل دیگر افراد کے فرائض سے کہیں زیادہ مشکل اور اہم ہیں کہ بیش تر اخلاقی، سماجی، تہذیبی و تمدّنی اور دینی و دُنیاوی ذمّے داریاں اُسی کے سَر ہوتی ہیں_گویا اصلاحِ معاشرہ کی چابی اس کے ہاتھ میں ہے_ دورِ حاضر میں ایک معلّم کی یہ آرزو ہونی چاہیے کہ میری ساری زندگی کی محنت اور جگر سوزی اس لیے ہے کہ قیامت کے دن میرا حشر معلّمین، اُمت کے معماروں ،نگرانوں،قائدین اور رہبروں کے ساتھ ہو_
سب سے اہم بات یہ کہ استاد کا ادب و احترام شاگرد پر لازم ہے بغیر ادب کے وہ اپنے استاد سے فیض یاب نہیں ہوسکتا، استاد کے ادب کی وجہ سے علم کی راہیں آسان ہوجاتی ہیں،ادب ہی وہ وصف ہے جس کی وجہ سے شاگرد اپنے معلم کے نزدیک محترم بن جاتا ہے_تعلیم کی قدر اُس وقت ممکن ہے جب معاشرے میں استاد کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جائیگا اور ہمیشہ وہ طالب علم ہی کامیاب ہوتے ہیں جو استاد کا احترام کرتے، ان کی عزت کرتے ہیں_ اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ وہ ہمارے اساتذہ کی عمر میں برکت عطا فرمائے انہیں مزید علم سے نوازے اور ہمیں اپنے اساتذہ کا احترام کرنی ان کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین_

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے