कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

فاربس گنج کا خونچکاں سبق:بہار کی سڑکوں پر درندگی اور ہماری مجرمانہ خاموشی

از قلم: ڈاکٹر سید تابش امام
کاکو، جہان آباد
رابطہ:9934933992

بہار کی سرزمین، جو کبھی علم و دانش کا گہوارہ، تہذیبی شائستگی کی علامت اور باہمی احترام کی روشن روایتوں کی امین سمجھی جاتی تھی، آج ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں انسانی جان کی حرمت بتدریج کمزور پڑتی محسوس ہو رہی ہے اور اجتماعی ضمیر کی آواز مدھم ہوتی جا رہی ہے۔صوبہ بہار کے ضلع ارریہ کے فاربس گنج میں پیش آنے والا حالیہ سانحہ اسی اخلاقی زوال اور سماجی انتشار کی ایک چونکا دینے والی اور دردناک مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ ایک معمولی سا پارکنگ تنازع، جو کسی بھی مہذب معاشرے میں چند جملوں کی نرمی اور باہمی افہام و تفہیم سے حل ہو سکتا تھا، اچانک اس قدر سنگین رخ اختیار کر گیا کہ ایک انسان کی جان لے لی گئی، اور پھر اسی واقعہ کے تسلسل میں مشتعل ہجوم نے ایک اور زندگی ختم کر اسے دوہرے قتل میں تبدیل کر دیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق مقتول ایک محنت کش اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا فرد تھا، جو اپنے خاندان کی کفالت میں مصروف ایک سادہ اور باوقار زندگی گزار رہا تھا۔ اس کے اہل خانہ میں ضعیف والدین، شریکِ حیات اور کمسن بچے شامل تھے، جن کی کفالت کا دارومدار اسی ایک فرد پر تھا۔ واقعہ کے روز محض گاڑی کھڑی کرنے کے معاملے پر تلخ کلامی ہوئی، جو بتدریج شدت اختیار کرتی گئی۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں تحمل، برداشت اور عقل مندی کی ضرورت تھی، مگر اس کے برعکس جذبات نے عقل پر غلبہ پا لیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک شخص نے تشدد کا راستہ اختیار کرتے ہوئے ایک بے گناہ جان کا خاتمہ کر دیا۔
یہاں تک تو یہ ایک مجرمانہ فعل تھا، جس کی مثالیں بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہیں، لیکن اس واقعہ کا سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو وہ تھا جب جائے واردات پر موجود افراد، جو اس سانحہ کو روکنے کی صلاحیت رکھتے تھے، خاموش تماشائی بنے رہے۔ کسی نے آگے بڑھ کر مداخلت کرنے کی ہمت نہیں کی، کسی نے مظلوم کو بچانے کی کوشش نہیں کی۔ اس کے برعکس متعدد افراد نے اس پورے منظر کو اپنے موبائل فون میں قید کرنا زیادہ ضروری سمجھا، گویا انسانی جان کی حرمت ایک لمحاتی سنسنی یا سوشل میڈیا کی توجہ سے بھی کم تر ہو چکی ہو۔
اس کے بعد جب پولیس موقع پر پہنچی اور ملزم کو اپنی تحویل میں لیا، تو حالات نے ایک اور خطرناک موڑ اختیار کر لیا۔ وہی ہجوم، جو چند لمحے پہلے بے حسی کی تصویر بنا ہوا تھا، اچانک مشتعل ہو اٹھا۔ قانون کو ہاتھ میں لیتے ہوئے ملزم کو پولیس کی گرفت سے چھین لیا گیا اور اجتماعی تشدد کا ایسا مظاہرہ کیا گیا کہ ملزم کی بھی موت واقع ہو گئی۔ یوں ایک ہی واقعہ میں دو زندگیاں ختم ہو گئیں—ایک انفرادی درندگی کا شکار ہوئی اور دوسری اجتماعی انتقام کی بھینٹ چڑھ گئی۔
یہ دوہرا قتل دراصل ہمارے معاشرے کے اس گہرے بحران کی عکاسی کرتا ہے جہاں نہ صرف فرد قانون سے بے خوف ہو چکا ہے بلکہ ہجوم بھی خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگا ہے۔ یہ صورتحال کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے نہایت خطرناک ہے، کیونکہ اس سے انصاف کا پورا نظام متزلزل ہو جاتا ہے اور قانون کی عملداری محض ایک دعویٰ بن کر رہ جاتی ہے۔
اس تناظر میں یہ سوال پوری شدت کے ساتھ ابھرتا ہے کہ آخر ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیا ہماری ریاستی مشینری اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو چکی ہے؟ کیا ہمارا معاشرہ اپنی اخلاقی بنیادوں سے محروم ہوتا جا رہا ہے؟ کیا ہم نے برداشت، رواداری اور انسانی ہمدردی جیسی بنیادی اقدار کو پسِ پشت ڈال دیا ہے؟ یا ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں طاقت، غصہ اور تشدد کو ہی برتری کی علامت سمجھا جانے لگا ہے؟
سیاسی سطح پر اس واقعہ کے بعد جو خاموشی دیکھنے میں آئی، وہ بھی نہایت تشویشناک ہے۔ ایک جمہوری نظام میں ایسے سنگین واقعات پر فوری، واضح اور سنجیدہ ردعمل کی توقع کی جاتی ہے، مگر یہاں ایسا محسوس ہوا کہ انسانی جان کی اہمیت سیاسی ترجیحات کی فہرست میں کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔ یہ رویہ اس خدشے کو تقویت دیتا ہے کہ کہیں انصاف کا پیمانہ متاثرہ افراد کی سماجی اور معاشی حیثیت کے مطابق تو نہیں بدل رہا۔
اگر اس سانحہ کا گہرائی سے تجزیہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ کسی ایک لمحے کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک طویل عرصے سے جاری اخلاقی اور سماجی زوال کی پیداوار ہے۔ گھریلو سطح پر تربیت کا فقدان سب سے نمایاں سبب ہے۔ والدین کی مصروفیات، بدلتے ہوئے خاندانی ڈھانچے اور مادیت پرستی کے بڑھتے رجحان نے بچوں کی اخلاقی تربیت کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ نتیجتاً نئی نسل جذباتی طور پر غیر متوازن اور فوری ردعمل کی عادی ہوتی جا رہی ہے۔
تعلیمی ادارے، جو کبھی کردار سازی کے مراکز ہوا کرتے تھے، اب زیادہ تر امتحانات اور ڈگریوں کے حصول تک محدود ہو گئے ہیں۔ اخلاقیات، برداشت اور سماجی ذمہ داری جیسے موضوعات نہ نصاب میں مؤثر انداز میں شامل ہیں اور نہ ہی عملی سطح پر ان کی کوئی جھلک نظر آتی ہے۔ اس خلا کو سوشل میڈیا نے مزید گہرا کر دیا ہے، جہاں تشدد کو سنسنی خیز انداز میں پیش کیا جاتا ہے اور لوگ اسے محض تفریح کے طور پر دیکھنے لگتے ہیں۔
فاربس گنج کے واقعہ میں ویڈیو بنانے والے افراد کا رویہ اسی ذہنی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ جب ایک معاشرہ ظلم کو روکنے کے بجائے اسے ریکارڈ کرنے میں دلچسپی لے، تو یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہاں احساسِ ذمہ داری کمزور پڑ چکا ہے۔ یہ بے حسی بذاتِ خود ایک خطرناک رجحان ہے، کیونکہ یہی وہ خاموشی ہے جو ظلم کو پروان چڑھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
قانون کی کمزور عملداری بھی اس بحران کی ایک بنیادی وجہ ہے۔ جب مجرم کو یہ یقین ہو جائے کہ وہ سزا سے بچ سکتا ہے، تو اس کے اندر خوف ختم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معمولی تنازعات بھی سنگین جرائم میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اگر قانون بروقت اور مؤثر طریقے سے حرکت میں نہ آئے، تو لوگ خود ہی انصاف کرنے لگتے ہیں، جس کا نتیجہ مزید انتشار اور خونریزی کی صورت میں نکلتا ہے۔
ایسے حالات میں ریاست کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ قانون کی عملداری کو مضبوط بنانے کے لیے ٹھوس اور مؤثر اقدامات کرے۔ پولیس نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے اور اسے پیشگی اقدامات کی صلاحیت سے لیس کیا جائے۔ مقامی سطح پر تنازعات کے حل کے لیے مؤثر نظام قائم کیا جائے تاکہ چھوٹے جھگڑے بڑے سانحات میں تبدیل نہ ہوں۔
عدالتی نظام کو بھی تیز اور مؤثر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انصاف میں تاخیر نہ صرف متاثرین کے لیے اذیت کا باعث بنتی ہے بلکہ مجرموں کے حوصلے بھی بلند کرتی ہے۔ فوری اور منصفانہ سزائیں معاشرے میں قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔
معاشرے کے ہر فرد کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دیں اور انہیں برداشت، صبر اور رواداری کا درس دیں۔ اختلاف رائے کو برداشت کرنا اور مسائل کو پرامن طریقے سے حل کرنا ہی ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہے۔
تعلیمی اداروں کو بھی اپنے کردار کا ازسرِ نو جائزہ لینا ہوگا۔ نصاب میں اخلاقیات اور کردار سازی کو دوبارہ مرکزی حیثیت دی جائے اور اساتذہ کو طلبہ کی ہمہ جہت شخصیت سازی پر خصوصی توجہ دینے کی ترغیب دی جائے۔
دانشوروں، ادیبوں اور صحافیوں کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ ایسے حساس مسائل پر سنجیدگی سے آواز اٹھائیں، معاشرے کو اس کا آئینہ دکھائیں اور اصلاح کے لیے ٹھوس راہیں تجویز کریں۔ خاموشی یہاں بھی جرم کے مترادف ہے۔
سب سے اہم کردار عوام کا ہے۔ یہ فیصلہ ہمیں خود کرنا ہوگا کہ ہم تماشائی بن کر رہیں گے یا ظلم کے خلاف کھڑے ہوں گے۔ اگر ہم نے اپنی مجرمانہ خاموشی کو نہ توڑا، تو ایسے واقعات بڑھتے جائیں گے اور ایک دن یہ آگ ہمارے اپنے گھروں تک پہنچ جائے گی۔
فاربس گنج کا یہ سانحہ دراصل ایک انتباہ ہے—ایک ایسا انتباہ جسے نظر انداز کرنا سنگین غلطی ہوگی۔ یہ ہمیں متنبہ کرتا ہے کہ اگر ہم نے آج اپنی اصلاح نہ کی، تو کل کا معاشرہ مزید غیر محفوظ، مزید بے رحم اور مزید انتشار کا شکار ہوگا۔
بہار کی شناخت کبھی اس کی تہذیب، علم اور رواداری تھی۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس شناخت کو دوبارہ زندہ کریں اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں انسانی جان کی حرمت کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہو، جہاں اختلاف کو برداشت کیا جائے، اور جہاں قانون کی بالادستی کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے۔
یہ سفر مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہم اپنی خاموشی توڑیں، اپنی ذمہ داری کو پہچانیں اور اجتماعی طور پر ایک بہتر، مہذب اور انصاف پسند معاشرے کی تعمیر کے لیے سنجیدہ کوشش کریں۔ کیونکہ اگر ہم نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں، تو تاریخ ہمیں ایک ایسے معاشرے کے طور پر یاد رکھے گی جس نے ظلم کو دیکھا، سمجھا، مگر اس کے خلاف کھڑے ہونے کی ہمت نہ جٹا سکا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے