कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

عید الاضحیٰ: قربانی، ایثار، اخلاص اور انسانیت کا عظیم پیغام

تحریر:ڈاکٹر محمد عبدالسمیع ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد
موبائل: 9325217306

دنیا بھر میں بسنے والے مسلمان ہر سال دو بڑی عیدیں مذہبی عقیدت، روحانی جوش اور ملی جذبے کے ساتھ مناتے ہیں۔ ان میں عید الفطر کے بعد عید الاضحیٰ کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ یہ صرف ایک مذہبی تہوار نہیں بلکہ ایمان، قربانی، وفاداری، ایثار، صبر، اطاعت اور انسانیت نوازی کا ایسا عظیم درس ہے جو ہر دور کے انسان کو اپنے اندر جھانکنے اور اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی دعوت دیتا ہے۔ عید الاضحیٰ اسلامی تاریخ کے ایک ایسے بے مثال واقعہ کی یادگار ہے جس نے قیامت تک کے لیے اطاعتِ الٰہی اور بندگی کا ایک عظیم معیار قائم کر دیا۔
عید الاضحیٰ کا تعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اس عظیم قربانی سے ہے جسے اللہ تعالیٰ نے رہتی دنیا تک کے لیے ایک مقدس عبادت اور یادگار بنا دیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ پیغمبر تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اللہ کی رضا اور اس کی بندگی میں گزاری۔ جب بڑھاپے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں حضرت اسماعیل علیہ السلام جیسا فرمانبردار بیٹا عطا فرمایا تو اس کے کچھ عرصہ بعد اللہ تعالیٰ نے خواب کے ذریعے حکم دیا کہ اپنے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کر دیں۔ ایک باپ کے لیے اس سے بڑا امتحان اور کیا ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے جگر کے ٹکڑے کو اپنے ہاتھوں قربان کرے، لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا۔
اس واقعہ کا سب سے حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بھی اپنے والد کی اطاعت اور اللہ کی رضا پر مکمل رضامندی ظاہر کی۔ قرآنِ کریم نے اس منظر کو انتہائی مؤثر انداز میں بیان کیا ہے کہ جب باپ نے بیٹے سے کہا کہ میں خواب میں تمہیں ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں تو تمہاری کیا رائے ہے؟ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے فوراً جواب دیا کہ اے ابا جان! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اسے پورا کیجیے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔ یہ جواب دراصل ایمان، صبر اور اللہ پر کامل یقین کی وہ مثال ہے جو پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو قربان کرنے کے لیے تیار ہو گئے اور دونوں نے اللہ کے حکم کے سامنے اپنی خواہشات کو قربان کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ایک دنبہ بھیج دیا اور اس عظیم عمل کو قبول فرما لیا۔ اسی یاد میں مسلمان ہر سال عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کرتے ہیں۔ یہ قربانی دراصل جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنے نفس، اپنی خواہشات، اپنی محبتوں اور اپنی انا کو اللہ کے حکم کے تابع کرنے کا عملی اعلان ہے۔
آج کے دور میں عید الاضحیٰ کے پیغام کو سمجھنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ مادہ پرستی، خود غرضی، لالچ، بے حسی اور دنیا پرستی نے انسانی رشتوں کو کمزور کر دیا ہے۔ لوگ اپنی ذات اور اپنے مفادات تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ ایسے حالات میں عید الاضحیٰ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حقیقی کامیابی صرف اپنی خواہشات پوری کرنے میں نہیں بلکہ اللہ کی رضا حاصل کرنے اور انسانیت کی خدمت کرنے میں ہے۔
قربانی کا مقصد صرف گوشت حاصل کرنا نہیں بلکہ دلوں میں تقویٰ اور اخلاص پیدا کرنا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ واضح طور پر فرماتا ہے کہ نہ ان قربانیوں کا گوشت اللہ تک پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اللہ تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے قربانی کے ساتھ اخلاص کو ضروری قرار دیا ہے۔ اگر قربانی صرف دکھاوے، شہرت یا مقابلہ بازی کے جذبے سے کی جائے تو اس کا اصل مقصد فوت ہو جاتا ہے۔
بدقسمتی سے موجودہ معاشرے میں عید الاضحیٰ کے موقع پر نمود و نمائش کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ بعض لوگ مہنگے جانور خرید کر اپنی حیثیت دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر تصاویر اور ویڈیوز کی بھرمار ہوتی ہے اور قربانی جیسی مقدس عبادت کو بھی شہرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنا لیا جاتا ہے۔ حالانکہ اسلام نے ہمیشہ سادگی، عاجزی اور اخلاص کی تعلیم دی ہے۔ عبادت کا حسن خاموشی اور خلوص میں ہوتا ہے، نہ کہ دکھاوے اور نمائش میں۔
عید الاضحیٰ سماجی مساوات اور انسان دوستی کا بھی بہترین نمونہ ہے۔ اسلام نے قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی تعلیم دی تاکہ غریب، مسکین، یتیم اور ضرورت مند افراد بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔ یہ اسلامی تعلیمات کا حسن ہے کہ عبادت کے ساتھ انسانیت کا خیال بھی رکھا گیا۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں امیر غریب کا درد محسوس کرے، جہاں خوشیاں بانٹی جائیں اور جہاں ضرورت مندوں کو نظر انداز نہ کیا جائے، وہی حقیقی اسلامی معاشرہ کہلا سکتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے خاندان موجود ہیں جو معاشی پریشانیوں کی وجہ سے عید کی بنیادی خوشیوں سے بھی محروم رہ جاتے ہیں۔ کئی گھروں میں عید کے دن نئے کپڑے نہیں ہوتے، کئی بچوں کی خواہشات ادھوری رہ جاتی ہیں اور کئی خاندان گوشت خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ایسے میں صاحبِ حیثیت افراد کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنے آس پاس کے ضرورت مند لوگوں کی مدد کریں، ان کے گھروں تک قربانی کا گوشت پہنچائیں اور انہیں احساسِ محرومی سے بچائیں۔ یہی عید الاضحیٰ کی اصل روح ہے۔
عید الاضحیٰ ہمیں صفائی، نظم و ضبط اور شہری ذمہ داریوں کا بھی احساس دلاتی ہے۔ اسلام نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے، لیکن افسوس کہ بعض مقامات پر قربانی کے بعد صفائی ستھرائی کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ گندگی، بدبو اور آلائشیں ماحول کو آلودہ کر دیتی ہیں۔ یہ طرزِ عمل اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ قربانی کے بعد صفائی کا مکمل اہتمام کرے، جانوروں کی آلائشوں کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگائے اور اپنے علاقے کو صاف ستھرا رکھے۔
عید الاضحیٰ صرف انفرادی عبادت نہیں بلکہ اجتماعی شعور پیدا کرنے کا بھی ذریعہ ہے۔ یہ دن ہمیں بھائی چارے، اتحاد اور محبت کا پیغام دیتا ہے۔ مسلمان اس دن ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں، رنجشیں ختم کرتے ہیں اور محبت و اخوت کا اظہار کرتے ہیں۔ آج امتِ مسلمہ جن اختلافات، انتشار اور باہمی نفرتوں کا شکار ہے، ان کے خاتمے کے لیے عید الاضحیٰ کا پیغام انتہائی اہم ہے۔ اگر مسلمان قربانی کے حقیقی مفہوم کو سمجھ لیں تو وہ اپنی انا، ضد اور تعصب کو قربان کر کے اتحاد و یگانگت کی راہ اختیار کر سکتے ہیں۔
عید الاضحیٰ نوجوان نسل کے لیے بھی ایک عظیم تربیتی موقع ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو قربانی کی حقیقت، حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا فلسفہ اور اسلامی تعلیمات سے روشناس کرائیں۔ اگر نئی نسل کو صرف رسم و رواج تک محدود رکھا گیا اور قربانی کی روح سے آشنا نہ کیا گیا تو عبادت کا اصل مقصد فوت ہو جائے گا۔ بچوں کے دلوں میں اللہ کی محبت، اطاعت، ایثار اور انسان دوستی کے جذبات پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اسی طرح علماء، خطباء، اساتذہ اور دانشوروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ عید الاضحیٰ کے حقیقی پیغام کو عام کریں۔ معاشرے کو یہ بتایا جائے کہ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنی خواہشات، غرور، تکبر، حسد، نفرت اور برائیوں کو قربان کرنے کا نام ہے۔ جب تک انسان اپنے اندر موجود منفی صفات کو ختم نہیں کرے گا، اس وقت تک قربانی کی روح مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکتی۔
آج دنیا مختلف قسم کے بحرانوں سے دوچار ہے۔ کہیں جنگ و جدال ہے، کہیں بھوک و افلاس، کہیں ظلم و ناانصافی اور کہیں اخلاقی زوال۔ ایسے ماحول میں عید الاضحیٰ کا پیغام پوری انسانیت کے لیے امید کی کرن بن سکتا ہے۔ اگر انسان قربانی، ایثار، محبت اور ہمدردی کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو دنیا امن و سکون کا گہوارہ بن سکتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ عید الاضحیٰ ہمیں اپنی زندگی کا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ یہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم اللہ کی رضا کے لیے کیا قربانی دینے کو تیار ہیں؟ کیا ہم اپنی برائیوں کو چھوڑنے کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم اپنی انا، نفرت اور خود غرضی کو قربان کر سکتے ہیں؟ اگر انسان ان سوالات پر سنجیدگی سے غور کرے تو اس کی زندگی بدل سکتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عید الاضحیٰ کو محض ایک رسم یا تہوار کے طور پر نہ منائیں بلکہ اس کے حقیقی پیغام کو اپنی عملی زندگی میں شامل کریں۔ ہم اپنے کردار کو بہتر بنائیں، اپنے اخلاق کو سنواریں، دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں، غریبوں اور محتاجوں کا سہارا بنیں اور اللہ کی رضا کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیں۔ یہی عید الاضحیٰ کا اصل فلسفہ اور حقیقی کامیابی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عید الاضحیٰ کی حقیقی روح کو سمجھنے، اخلاص کے ساتھ قربانی ادا کرنے، انسانیت کی خدمت کرنے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام و حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اطاعت و وفاداری سے سبق حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے