कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

علم سے محبت کرنے والے لوگ عید کے دن بھی علم ہی میں لذت پاتے ہیں!

تحریر:ابو خالد قاسمی
استاذ جامعہ اسلامیہ گلزار قرآنیہ کلچھینہ غازی آباد یوپی

علماءِ سلف کی زندگیاں اس بات کی روشن مثال ہیں کہ اُن کے نزدیک زندگی کا عظیم سرمایہ تھا۔ عام لوگ عید کے دن آرام، تفریح اور ملاقاتوں میں مشغول ہوتے ہیں، مگر یہ حضرات عید کے مبارک لمحات کو بھی علم، مطالعہ، تدریس اور تصنیف سے آباد رکھتے تھے۔ ذیل میں چند ایمان افروز واقعات ملاحظہ فرمائیں:
حافظ مزی رحمہ اللہ تعالیٰ (٧٤٢ھ) نے اپنی عظیم کتاب “تہذیب الکمال” کو عید الاضحیٰ کے دن سنہ ٧١٢ھ میں مکمل فرمایا۔ یعنی عید کے دن بھی علم و تصنیف میں مشغول رہے۔
(مقدمہ تہذیب الکمال فی أسماء الرجال ١/٧٧)
امام سیوطی رحمہ اللہ تعالیٰ (٩١١ھ) فرماتے ہیں: میں نے “الدر المنثور” کی پاک نقل عید الفطر کے دن سنہ ٨٩٨ھ میں مکمل کی۔
(الدر المنثور فی التفسیر بالمأثور ١٥/٨٢٤)
کیا آپ “حدیثِ مسلسل بالعید” کو جانتے ہیں؟! یہ ایک ایسی حدیث ہے جس کی سند میں سولہ آدمی ہیں، اور ہر ایک اپنی روایت میں یہ کہتا ہے: “ہم سے فلاں نے عید کے دن نماز اور خطبہ کے درمیان روایت بیان کی۔” یہ سلسلہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما تک پہنچتا ہے۔ سبحان اللہ! ان حضرات نے عید کے مختصر اور مصروف وقت کو بھی علم سے آباد رکھا۔
(الأحاديث العيدية المسلسلة للسلفي، ص: ١٩)
اسماعیل بن الفراء الحرانی رحمہ اللہ تعالیٰ (٧٢٩ھ) کا یہ معمول تھا کہ کوئی دن خواہ عام ہو یا تعطیل کا، علم سے خالی نہ گزرتا۔ یہاں تک کہ عید کے دن بھی پڑھانے کے لیے بیٹھتے، اگر کوئی طالبِ علم آ جاتا تو اسے ضرور پڑھاتے۔
(ذیل طبقات الحنابلہ ٤/٥٣٤)
یہاں تک کہ ان ہی علم کے دیوانوں میں سے ایک شخص — اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان جیسا بنائے — کہا کرتا تھا: جب عید آتی ہے تو میں اپنی کتابوں کو عید کی مبارک باد دیتا ہوں، کیونکہ بعض کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو ہر عید پر مبارک باد کی مستحق ہیں۔ (یعنی عید کے موقع پر اس کتاب کو دوبارہ پڑھتا اور اعادہ کرتا ہوں)
اے علم سے لذت پانے والے قاری! ذرا اپنے دل سے پوچھو، اور سوچ کے سمندر میں غوطہ لگاؤ: وہ کون سی کتاب ہے جو تمہاری طرف سے عید کی مبارک باد کی مستحق ہے؟
(المتلذذون بالعلم، ص: ٦٣٧)
شیخ مشہور حسن سلمان حفظہ اللہ تعالیٰ اپنے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ: انہوں نے عید میں ملنے والی عیدی جمع کی اور اس سے دو کتابیں خریدیں: “فتح الباری” اور “تفسیر روح المعانی”۔ یہ خود حیرت انگیز بات ہے، مگر اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ اُس وقت ان کی عمر تقریباً بارہ سال تھی۔
(السابق، ص: ٦٨٠)
سلطانِ اندلس المنصور رحمہ اللہ تعالیٰ (١٠١٢ھ) کا رمضان المبارک میں یہ معمول تھا کہ قاضی اور بڑے فقہاء کے ساتھ “صحیح بخاری” کا ختم کرتے۔ یہ قراءت پینتیس حصوں میں تقسیم ہوتی، ہر دن ایک حصہ پڑھا جاتا، سوائے عید اور اس کے اگلے دن کے۔ پھر ساتویں عید کے دن صحیح بخاری کا ختم ہوتا۔ سلطان اس مجلس کے لیے بہترین تیاری کرتا، اور لوگ مسلسل علمی مذاکرہ میں مشغول رہتے، یہاں تک کہ دن چڑھ جاتا اور مجلس ختم ہوتی۔
(الاستقصا لأخبار دول المغرب الأقصى ٥/١٤٥)
حماد بن سلمہ رحمہ اللہ تعالیٰ (١٦٧ھ) فرماتے ہیں: میں مکہ مکرمہ آیا جبکہ عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ زندہ تھے۔ میں نے کہا: “جب میں عید الفطر کے بعد فارغ ہوں گا تو اُن کی خدمت میں حاضر ہوں گا۔” لیکن عطاء رحمہ اللہ رمضان ہی میں وفات پا گئے۔
(الرحلة في طلب الحديث للخطيب البغدادي، ص: ١٧١)
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی علمِ دین کی سچی محبت، اس کے حصول کا شوق، اور علماءِ سلف کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ عید ہو یا عام دن، ہمارے اوقات علم، عمل اور نفعِ دین سے معمور رہیں۔ بے شک حقیقی لذت اسی علم میں ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کر دے۔
آمین یا رب العالمین!

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے