कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

عریانیت، بے پردگی اور معاشرتی زوال ۔ حیا کی ضرورت کیوں؟

Nudity, Immodesty, and Social Decline — Why Is Modesty Necessary?*

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

ہم ایک ایسے عہد میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں انسان نے معلومات، مواصلات، ٹیکنالوجی اور اظہار کے بے شمار ذرائع پر غیر معمولی دسترس حاصل کرلی ہے، مگر اسی کے ساتھ انسانی خواہشات کو ابھارنے، جسم کو نمائش کا ذریعہ بنانے اور نجی زندگی کو بازار کی زینت بنانے کے امکانات بھی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ موبائل کی اسکرین سے لے کر اشتہارات کے بڑے بڑے بل بورڈز تک، فلم اور ڈرامے سے لے کر سوشل میڈیا کی مختصر ویڈیوز تک، انسانی نگاہ مسلسل ایسے مناظر اور پیغامات سے دوچار ہے جو حسن، جسم اور جنسی کشش کو تجارت، تفریح اور کامیابی کے ساتھ جوڑتے ہیں۔
یہ صورتِ حال محض لباس یا ظاہری وضع قطع کا مسئلہ نہیں؛ یہ انسانی تصورِ عزّت، آزادی، محبت، تعلق اور اخلاق کے بارے میں ایک گہری تہذیبی تبدیلی کا سوال ہے۔ جب جسم انسانی شخصیت پر غالب آجائے، جب حسن ایک تجارتی شے بن جائے، جب نگاہ کو ہر چیز دیکھنے کی آزادی کا نام دے دیا جائے، اور جب خواہش پر قابو پانے کے بجائے خواہش کی تکمیل کو شخصی آزادی کا معیار سمجھا جانے لگے، تو پھر سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ انسان کیا پہن رہا ہے؛ اصل سوال یہ بن جاتا ہے کہ انسان اپنے آپ کو اور دوسرے انسان کو کس نگاہ سے دیکھ رہا ہے؟
عصرِ حاضر کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ حیا جیسے الفاظ کو بعض اوقات محض قدامت پسندی، پابندی یا عورت کی آزادی کے خلاف تصور کرلیا جاتا ہے، جب کہ دوسری طرف بے پردگی اور جسمانی نمائش کو جدیدیت، خود اختیاری اور ترقی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس فکری کشمکش میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جذباتی نعروں سے آگے بڑھ کر یہ سمجھیں کہ حیا آخر ہے کیا؟ اسلام نے اسے اتنی اہمیت کیوں دی؟ اور کیا حیا صرف عورت کے لباس کا نام ہے؟
اسلام کا جواب نہایت جامع ہے۔ اسلام انسان کی فطرت کو نظر انداز نہیں کرتا، خواہش کو گناہ قرار دے کر ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتا، بلکہ اسے اخلاق، ذمّہ داری اور ضبط کے دائرے میں رکھتا ہے۔ قرآنِ مجید کا پیغام واضح ہے کہ پاکیزگی کا سفر صرف عورت سے شروع نہیں ہوتا؛ مرد کی نگاہ، دل کی کیفیت، زبان کی پاکیزگی، تعلقات کی حدود اور پورے معاشرے کے اخلاقی ماحول سے مل کر یہ تہذیب تشکیل پاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن پہلے مردوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیتا ہے اور پھر عورتوں کو اپنی زینت کی حفاظت کی ہدایت کرتا ہے۔ اس ترتیب میں ایک پورا اخلاقی فلسفہ پوشیدہ ہے۔
آج جب جنسی ہراسانی، ریپ، بچّوں کے ساتھ جنسی زیادتی، آن لائن استحصال اور انسانی جسم کی تجارتی نمائش جیسے مسائل ہماری اجتماعی زندگی کو متاثر کررہے ہیں، تو حیا کی بحث کو محض لباس کے مسئلے تک محدود کرنا حقیقتِ حال سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا۔ ایک طرف ہمیں ان تمام ثقافتی عوامل پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا جو انسانی خواہشات کو مسلسل مشتعل کرتے ہیں، اور دوسری طرف یہ اخلاقی دیانت بھی برقرار رکھنی ہوگی کہ کسی بھی جنسی جرم کا ذمّہ دار صرف اور صرف مجرم ہوتا ہے۔ مظلوم کے لباس، کردار یا طرزِ زندگی کو جرم کا جواز بنانا نہ انصاف ہے، نہ اخلاق اور نہ انسانی ہمدردی۔
اسی طرح یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ جنسی جرائم کسی ایک سبب سے پیدا نہیں ہوتے۔ مجرم کی ذہنی کیفیت، طاقت کا غلط استعمال، عورت یا بچے کو ملکیت سمجھنے کی ذہنیت، خراب تربیت، فحش مواد، نشہ، خاندانی انتشار، سماجی بے حسی اور قانون کے کمزور نفاذ جیسے متعدد عوامل اس پیچیدہ مسئلے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس لیے حیا کی دعوت کو جرم کی ذمّہ داری منتقل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ جرم کے امکانات کو کم کرنے، انسانی وقار کو بلند کرنے اور معاشرتی اخلاق کو مضبوط بنانے کی ایک وسیع تر کوشش کے طور پر سمجھنا چاہیے۔ یہاں ایک اور بنیادی حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے: حیا صرف عورت کا مسئلہ نہیں، مرد کا بھی ہے؛ صرف گھر کا مسئلہ نہیں، بازار کا بھی ہے؛ صرف لباس کا مسئلہ نہیں، نگاہ، زبان، میڈیا، تعلیم، قانون اور معاشرتی رویوں کا بھی ہے۔
اگر ہم بیٹی کو پردے کا حکم دیں مگر بیٹے کو نگاہ کی حفاظت نہ سکھائیں، اگر ہم لڑکی کو محتاط رہنے کا درس دیں مگر لڑکے کو عورت کی حرمت کا شعور نہ دیں، اگر ہم بچوں کو جسم ڈھانپنے کے آداب بتائیں مگر انہیں محفوظ و غیر محفوظ لمس، ذاتی حدود اور آن لائن خطرات سے آگاہ نہ کریں، تو ہماری تربیت نامکمل رہے گی۔ حیا اس وقت ایک زندہ تہذیبی قدر بنتی ہے جب وہ انسان کے اندر سے پھوٹے اور اس کے رویے میں ظاہر ہو۔ اس لیے آج ضرورت عریانیت کے خلاف محض احتجاج کی نہیں بلکہ حیا کے حق میں ایک مثبت تہذیبی بیانیے کی ہے۔ ہمیں نئی نسل کو یہ بتانا ہوگا کہ حیا زندگی کو محدود کرنے کا نام نہیں، بلکہ اسے باوقار بنانے کا نام ہے؛ آزادی خواہش کے ہر تقاضے کو پورا کرنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے نفس پر اختیار حاصل کرنے کا نام ہے؛ محبت جسمانی کشش کا دوسرا نام نہیں، بلکہ احترام، ذمہ داری اور وفا کا نام ہے؛ اور مردانگی غلبہ یا طاقت کا نام نہیں، بلکہ ضبط، کردار اور ذمہ داری کا نام ہے۔
آج جب ہماری اسکرینیں ہمارے گھروں کی دیواروں سے بھی زیادہ قریب ہوچکی ہیں، جب بازار ہمارے بچّوں کی نفسیات تک رسائی حاصل کرچکا ہے اور جب تہذیبی اقدار خاموشی سے بدل رہی ہیں، تو ہمیں ازسرِنو یہ سوال اٹھانا ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسل کو کیسا انسان بنانا چاہتے ہیں؟ ایسا انسان جو ہر چیز کو خواہش کی نگاہ سے دیکھے، یا ایسا انسان جو حسن میں بھی خالق کی صناعی دیکھے اور انسان میں بھی انسانی حرمت؟ ایسی آزادی جو انسان کو اس کی خواہشات کا غلام بنادے، یا ایسی آزادی جو اسے اپنے نفس پر حکمران بنائے؟ ایسا معاشرہ جہاں جسم فروخت ہونے والی چیز ہو، یا ایسا معاشرہ جہاں انسان کی عزّت اس کے جسم سے بلند ہو؟
یہ مضمون اسی بنیادی سوال سے آغاز کرتا ہے۔ اس کا مقصد کسی فرد، جنس یا طبقے کو موردِ الزام ٹھہرانا نہیں، بلکہ ایک ایسے اخلاقی بحران پر غور کرنا ہے جس کے اثرات فرد، خاندان اور معاشرے تینوں پر مرتب ہورہے ہیں۔ حیا کو خوف، جبر یا محض لباس کی پابندی کے طور پر نہیں بلکہ انسانی وقار، خود احتسابی، پاکیزہ تعلقات اور اجتماعی ذمہ داری کی تہذیب کے طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ معاشرے صرف قوانین سے محفوظ نہیں رہتے؛ ان کے اندر کچھ اخلاقی قدریں بھی زندہ رہنی چاہییں۔ اور ان قدروں میں حیا وہ چراغ ہے جو انسان کو دوسروں کی عزّت کے ساتھ اپنی عزّت کی حفاظت بھی سکھاتا ہے۔ جب یہ چراغ بجھنے لگے تو صرف لباس نہیں بدلتا، نگاہیں بدلتی ہیں، زبانیں بدلتی ہیں، تعلقات بدلتے ہیں اور بالآخر معاشرے کا اخلاقی مزاج بدل جاتا ہے۔ اسی لیے سوال یہ نہیں کہ حیا کی ضرورت ہے یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ حیا کے بغیر ہم کس قسم کی انسانیت اور کس قسم کا معاشرہ تعمیر کرنا چاہتے ہیں؟
آج کا انسان ترقی، آزادی اور اظہارِ ذات کے نام پر ایک ایسے ماحول میں داخل ہوچکا ہے جہاں نگاہ، لباس، اشتہار، تفریح اور ذرائع ابلاغ سب مل کر انسانی خواہشات کو مسلسل متحرک کر رہے ہیں۔ جسم کو نمائش کی چیز، حسن کو تجارت کا سامان اور عورت کو محض ایک جسمانی وجود کے طور پر پیش کرنے کا رجحان رفتہ رفتہ معاشرتی ذوق کا حصّہ بنتا جا رہا ہے۔ اس صورتِ حال کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ جب معاشرے میں حیا کی حساسیت کمزور اور شہوت انگیزی کی قبولیت عام ہونے لگے تو انسانی تعلقات کی پاکیزگی بھی متاثر ہونے لگتی ہے۔
اسلام نے حیا کو محض ایک شخصی خوبی نہیں بنایا بلکہ اسے پورے معاشرتی نظام کی حفاظت کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ قرآنِ مجید پہلے مردوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیتا ہے، پھر عورتوں کو اپنی زینت کی حفاظت اور حجاب کی ہدایت کرتا ہے۔ اس ترتیب میں ایک نہایت اہم پیغام پوشیدہ ہے: پاکیزہ معاشرہ صرف عورت کے لباس سے نہیں بنتا؛ مرد کی نگاہ، عورت کی حیا، دونوں کے کردار اور پورے معاشرے کے اخلاقی ماحول سے تشکیل پاتا ہے۔ اسی لیے پردے کی بحث کو صرف عورت کے لباس تک محدود کر دینا اسلام کے وسیع تر تصورِ حیا کو سمجھنے میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ حیا ایک اجتماعی اخلاق ہے؛ نگاہ میں بھی، گفتگو میں بھی، لباس میں بھی، تعلقات میں بھی اور ذرائع ابلاغ کے استعمال میں بھی۔
معاشرتی زوال کا ایک بڑا مظہر یہ ہے کہ عورت کی شخصیت، ذہانت، کردار اور صلاحیتوں کے بجائے اس کے جسم اور ظاہری حسن کو زیادہ نمایاں کیا جائے۔ اشتہارات سے لے کر تفریحی صنعت تک، سوشل میڈیا سے لے کر بعض تجارتی سرگرمیوں تک، عورت کو بعض اوقات اس طرح پیش کیا جاتا ہے جیسے اس کی سب سے بڑی قدر اس کی جسمانی کشش ہو۔ یہ رویہ صرف عورت کی عزت کو مجروح نہیں کرتا بلکہ مرد کی نگاہ اور انسانی تعلقات کے تصور کو بھی آلودہ کرتا ہے۔ جب انسان کو انسان کے بجائے ایک جسم سمجھا جانے لگے تو احترام کی جگہ استعمال، محبت کی جگہ ہوس اور تعلق کی جگہ مفاد لے لیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں معاشرہ اخلاقی اعتبار سے خطرناک سمت میں بڑھنا شروع کرتا ہے۔
ہمارے معاشروں میں عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی، زنی بالجبر، ہراسانی اور کم سن بچّیوں کو جنسی درندگی کا نشانہ بنانے کے واقعات انتہائی تشویش ناک حقیقت بن چکے ہیں۔ بعض واقعات میں تو معصوم اور نابالغ بچیاں بھی اس سفاکیت سے محفوظ نہیں رہتیں۔ اس سے بڑھ کر المیہ یہ ہے کہ بعض مجرم جرم کے بعد اپنی شناخت، گرفتاری یا سزا کے خوف سے متاثرہ کو خاموش کرنے کے لیے اسے قتل تک کر دیتے ہیں۔ یہ واقعات صرف کسی ایک فرد کا المیہ نہیں ہوتے؛ یہ پورے معاشرے کے ضمیر پر ایک سوالیہ نشان ہوتے ہیں۔
ایک معصوم بچّی، جسے دنیا کی سختیوں سے محفوظ رکھنے کی ذمّہ داری معاشرے پر تھی، اگر اسی معاشرے میں کسی درندہ صفت انسان کی ہوس کا شکار ہوجائے تو ہمیں صرف مجرم کی تلاش نہیں کرنی چاہیے بلکہ اپنے پورے اجتماعی نظام سے سوال کرنا چاہیے: ہم نے اپنے بچّوں کی تربیت میں کیا کمی چھوڑی؟ ہم نے انہیں انسان کی حرمت کا شعور کتنا دیا؟ ہم نے تفریح اور میڈیا کے نام پر ان کے ذہنوں میں کیا کچھ داخل
ہونے دیا؟ ہم نے مجرم کو قانون کا خوف کتنا دلایا؟ اور ہم نے حیا، پاکیزگی اور ذمّہ دارانہ آزادی کے تصور کو نئی نسل تک کس حد تک منتقل کیا؟
یہاں ایک بنیادی اخلاقی اصول کی وضاحت ضروری ہے۔ کسی عورت یا بچّی کے ساتھ جنسی زیادتی ہو تو اس کے لباس، اس کے کردار یا اس کی کسی ظاہری کیفیت کو اس جرم کا جواز قرار دینا ظلم پر مزید ظلم ہے۔ ریپ، زنا بالجبر یا جنسی تشدّد کی ذمّہ داری ہمیشہ مجرم پر ہوتی ہے۔ ایک نابالغ بچّی تو کسی بھی صورت میں اس جرم کی ذمّہ دار نہیں ہوسکتی۔ اسلام نے انسانی حرمت کو اس قدر بلند مقام دیا ہے کہ کسی انسان کی جان، عزّت اور آبرو پر دست درازی کو معمولی معاملہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس لیے حجاب اور حیا کی دعوت کا مقصد یہ نہیں کہ مظلوم سے پوچھا جائے کہ اس نے کیا پہنا تھا؛ بلکہ مقصد یہ ہے کہ ایسا معاشرہ تشکیل دیا جائے جہاں کسی انسان کو دوسرے انسان کی عزّت پامال کرنے کا حق ہی محسوس نہ ہو۔ یہ فرق سمجھنا ضروری ہے۔ حیا کی دعوت مجرم کے لیے جواز نہیں، معاشرے کے لیے اصلاح کا پیغام ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلسل عریاں مناظر، جنسی نوعیت کے اشتہارات، فحش مواد، غیر ذمّہ دارانہ تفریح اور جسمانی نمائش پر مبنی ثقافت انسان کی نفسیات کو متاثر کرسکتی ہے۔ ہر فرد ان چیزوں کا یکساں اثر قبول نہیں کرتا، لیکن جب ایک معاشرہ مسلسل شہوت انگیز مواد سے گھرا رہے تو جنسی حساسیت، خواہشات کی بے اعتدالی اور تعلقات کے بارے میں غیر ذمّہ دارانہ رویے بڑھ سکتے ہیں۔ لیکن یہاں بھی علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ ہم ہر جنسی جرم کو صرف عریانیت کا نتیجہ نہ قرار دیں۔
جنسی تشدّد کے پس منظر میں مجرم کی نفسیات، طاقت کا غلط استعمال، عورت کو ملکیت سمجھنے کی ذہنیت، بچپن کی خراب تربیت، فحش مواد، نشہ، خاندانی ٹوٹ پھوٹ، سماجی بے حسی، قانون کا کمزور نفاذ اور سزا سے بے خوفی جیسے متعدد عوامل کارفرما ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا درست بات یہ ہے کہ عریانیت اور جنسی ہیجان ایک ایسے غیر صحت مند اخلاقی ماحول کو تقویت دے سکتے ہیں جس میں انسانی جسم کی تقدیس کم اور اسے جنسی شے سمجھنے کا رجحان زیادہ ہوجائے؛ لیکن کسی مخصوص جرم کو صرف اسی ایک عامل سے منسوب کرنا علمی طور پر درست نہیں۔
اخلاقی تربیت کے ساتھ قانون کا مؤثر ہونا بھی ناگزیر ہے۔ اگر مجرم کو یقین ہو کہ جرم کے بعد وہ بچ سکتا ہے، گواہوں کو دبایا جا سکتا ہے، متاثرہ خاندان کو خوف زدہ کیا جا سکتا ہے یا قانونی کارروائی برسوں تک چلتی رہے گی، تو قانون کا خوف کمزور پڑ جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں جرم صرف ایک فرد کے ہاتھ سے نہیں ہوتا؛ سماجی خاموشی بھی اس جرم کو طاقت دیتی ہے۔ اس لیے ایک عادلانہ معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ جنسی جرائم کے خلاف قانون واضح، مؤثر اور غیر جانب دار ہو؛ متاثرین کو تحفّظ ملے؛ نابالغ بچّوں کے لیے خصوصی حفاظتی نظام موجود ہو؛ اور مجرم خواہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو، اسے قانون کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے۔ جہاں قانون سو جاتا ہے، وہاں درندگی بیدار ہوجاتی ہے۔
حیا کا آغاز بازار سے نہیں، گھر سے ہوتا ہے۔ والدین اگر بچّوں کو صرف یہ بتائیں کہ کیا پہننا ہے، مگر یہ نہ سکھائیں کہ دوسرے انسان کی عزت کیسے کرنی ہے، تو تربیت ادھوری رہ جاتی ہے۔ بیٹے کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ عورت کسی کی ملکیت نہیں، بلکہ مکمل انسانی وقار رکھنے والی شخصیت ہے۔ بیٹی کو یہ شعور دینا ضروری ہے کہ اس کا جسم، اس کی عزّت اور اس کی حدود محترم ہیں۔ بچّوں کو عمر کے مطابق محفوظ اور غیر محفوظ لمس، ذاتی حدود، آن لائن خطرات، نامناسب رویے کی شناخت اور قابلِ اعتماد بڑوں سے مدد لینے کی تعلیم دینا بھی موجودہ دور کی اہم ضرورت ہے۔ اسلامی حیا خوف کا نام نہیں؛ وقار کا نام ہے۔
پردے کو اگر صرف ایک کپڑے کی بحث بنا دیا جائے تو اس کی روح ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوجاتی ہے۔ حجاب دراصل اس وسیع اسلامی تہذیب کا حصّہ ہے جو انسان کو خواہش کا غلام بننے سے روکتی اور اسے وقار، ضبطِ نفس اور ذمّہ داری کا شعور دیتی ہے۔ حجاب عورت سے اس کی شخصیت چھیننے کے لیے نہیں بلکہ اسے محض جسمانی نمائش کی سطح سے بلند رکھنے کے اسلامی تصور کا ایک حصّہ ہے۔ اسی طرح مرد کے لیے نگاہ کی حفاظت اس لیے ہے کہ آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی خواہشات کا غلام بن جائے۔ حقیقی آزادی یہ ہے کہ انسان اپنی خواہش پر حکمران ہو، خواہش کا غلام نہ ہو۔
ہمیں نئی نسل کو صرف یہ نہیں کہنا کہ "بے پردگی بری ہے”؛ بلکہ اسے یہ سمجھانا ہوگا کہ حیا کیوں ضروری ہے، نگاہ کیوں محفوظ رکھی جائے، تعلقات میں حدود کیوں ہوں، عورت کی عزّت کیوں کی جائے، اور انسان کو اپنی خواہشات پر قابو کیوں رکھنا چاہیے۔ اگر ہم نے نوجوان کو صرف حکم دیا مگر حکمت نہ سمجھائی تو وہ شاید وقتی طور پر خاموش ہوجائے، لیکن اگر ہم نے اس کے سامنے حیا کی فکری، اخلاقی، نفسیاتی اور معاشرتی حکمت واضح کردی تو وہ اس حکم کو بوجھ نہیں بلکہ اپنے وقار کا حصہ سمجھے گا۔
ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہے جو عورت کو دیکھ کر اس کے جسم کی نہیں، اس کی انسانیت کی قدر کرے؛ جو آزادی کو عریانی کا مترادف نہ سمجھے؛ جو محبت کو ہوس سے الگ پہچانے؛ جو مردانگی کو طاقت نہیں بلکہ ضبط، ذمّہ داری اور حفاظت سمجھے؛ اور جو عورت کو کمزور نہیں بلکہ عزّت و احترام کی مستحق انسان سمجھے۔ آخرکار معاشرے کی پاکیزگی صرف پردے کے کپڑے سے نہیں، دلوں کے تقویٰ سے پیدا ہوتی ہے۔ لباس اس تقویٰ کی ظاہری علامت ہوسکتا ہے، مگر اس کی تکمیل نگاہ، کردار، زبان، تعلقات، قانون اور اجتماعی اخلاق سے ہوتی ہے۔
اسی لیے ہمیں عریانیت کے خلاف صرف تقریر نہیں کرنی؛ حیا کی تہذیب قائم کرنی ہے۔ صرف جرم پر ماتم نہیں کرنا؛ جرم کے اسباب کو بھی کم کرنا ہے۔ صرف عورت کو پردے کی تلقین نہیں کرنی؛ مرد کو نگاہ اور کردار کی پاکیزگی سکھانی ہے۔ صرف مجرم کو سزا نہیں دینی؛ بچّوں کی تربیت، خاندان کی مضبوطی اور معاشرتی اخلاق کی حفاظت بھی کرنی ہے۔ کیونکہ جب نگاہ پاک، دل بیدار، کردار مضبوط، خاندان محفوظ اور قانون بے لاگ ہو تو معاشرہ صرف جرائم سے نہیں بچتا، بلکہ انسان کی عزّت بھی محفوظ رہتی ہے۔ حیا کسی ایک جنس کی ذمّہ داری نہیں؛ یہ پوری انسانیت کے وقار کی حفاظت کا نام ہے۔
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے