कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

صداقتِ حق کا آفتاب: علامہ کشمیری کا وجودِ مسعود

تحریر:فضیل اختر قاسمی بھیروی
خادم التدریس دارالعلوم رحیمیہ پیلیر آندھراپردیش

شبستانِ حیات میں جب صبحِ نو کا اجالا اپنی کرنیں بکھیر رہا تھا، میں نے آج 20 جولائی کو معمول کے مطابق بعد نمازِ فجر اپنا موبائل کھولا۔سکرین پر نگاہ پڑتے ہی دل و دماغ معطر ہو گئے، کیونکہ سامنے معتبر عالمِ دین اور صاحبِ طرز قلم کارحضرت مولانا مفتی محمد اسحاق نازکی صاحب قاسمی کشمیری دامت برکاتہم کی ایک مختصر مگر انتہائی جامع اور فکر انگیز تحریر جلوہ گر تھی۔
مفتی صاحب کی اس تحریر کے الفاظ کیا تھے، گویا بصیرت کے موتی تھے جنہوں نے دل کے تاروں کو چھیڑ دیا۔ طبیعت میں ایک ارتعاش سا پیدا ہوا اور قلمِ ناتواں نے مچلنا شروع کر دیا۔ ارادہ ہوا کہ اس بحرِ بے کنار سے چند قطرے کشید کیے جائیں اور اس سحر انگیز پیغام پر کچھ خامہ فرسائی کی جائے۔ چنانچہ، حضرتِ والا کی اسی تحریر کو شمعِ راہ بنا کر، فکر و نظر کے کینوس پر کچھ نقوش ابھارنے کی ایک ادنیٰ سی کوشش حاضرِ خدمت ہے۔
حضرت مفتی اسحاق نازکی صاحب نے اپنی تحریر کا آغاز مسنون کلمات اور درود و سلام کے معطر جھونکوں سے کرتے ہوئے علم و عرفان کے اس درخشاں واقعے کی طرف اشارہ کیا ہے جو ہماری علمی تاریخ کا ایک عظیم سرمایہ ہے۔
حکیم الامت، مجدد الملت، حضرت مولانا محمد اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ (جو خود علم و تحقیق، تفسیر و فقہ، اور تصوف و سلوک کے آسمان کے مہرِ منیر تھے) نے ایک مرتبہ اپنے مخصوص حکیمانہ انداز میں ارشاد فرمایا تھا:
"اگر مجھ سے کوئی یہ سوال کرے کہ اسلام کی حقانیت اور صداقت کی دلیل کیا ہے، تو میں اسے بہت سے نقلی و عقلی دلائل دوں گا، لیکن آخر میں یہ بھی کہوں گا کہ اسلام کی حقانیت و صداقت کی سب سے بڑی عملی دلیل حضرت مولانا علامہ محمد انور شاہ صاحب کشمیری کا مسلمان ہونا ہے!”
سبحان اللہ! اس جملے کی گہرائی اور گیرائی پر جتنا سر دھنا جائے کم ہے۔ امام العصر علامہ انور شاہ کشمیریؒ وہ نابغہ روزگار شخصیت تھے جن کے حافظے، وسعتِ مطالعہ اور ژرف نگاہی کی گواہی پورا عالمِ اسلام دیتا تھا۔ حضرت تھانویؒ کا یہ فرمانا دراصل اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ اگر خدانخواستہ اسلام میں کوئی ادنیٰ سی کجی، خامی یا فکری جھول ہوتا (نعوذ باللہ)، تو شاہ صاحبؒ جیسا بحرِ علوم، نقاد اور عبقری کبھی اس دین کا شیدائی اور پیروکار نہ ہوتا۔ شاہ صاحبؒ کا اسلام پر قائم رہنا خود اسلام کے سچے اور بے عیب ہونے کی ایک زندہ جاوید دلیل ہے۔
جب حضرت تھانویؒ جیسے عالمِ متبحر، مفسرِ اعظم، محدثِ وقت اور محققِ متصوف، علامہ کشمیریؒ کے وجودِ مسعود کو اسلام کی صداقت کی دلیل بنا سکتے ہیں، تو:
الحمدللہ! صداقت و حقانیتِ دیوبندیت کے لیے امام العصر حضرت علامہ کشمیریؒ کا "دیوبندی” ہونا ہی کافی ہے!
اسی فخر اور حقانیت کے احساس سے سرشار ہو کر دل کی گہرائیوں سے یہ نعرہ بلند ہوتا ہے:
"سربکف، سربلند… دیوبند، دیوبند!”
یہ دارالعلوم دیوبند ہی کی آغوشِ تربیت ہے جس نے امتِ مسلمہ کی فکری جہتوں کا تحفظ کیا۔ اسی مادرِ علمی نے شفقت کے ساتھ ہماری انگلی پکڑی اور ہمیں اعتزال (عقلیت پسندی کی انتہا پسندی) اور ابتداع (بدعات و خرافات) کی تاریک پگڈنڈیوں اور گمراہی کے گڑھوں سے بچایا۔
اگر دیوبند کا سایا نہ ہوتا، تو افراط و تفریط کے اس دور میں ایمان و عمل کا توازن برقرار رکھنا محال ہو جاتا۔ اسی مادرِ علمی نے ہمیں "راہِ اعتدال” پر چلنا سکھایا اور صراطِ مستقیم کی حقیقی روح سے روشناس کرایا۔
اے دارالعلوم تیری اس بے لوث خدمات، فکری پاسبانی اور عظمتوں کو ہم لاکھوں بار سلامِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے