कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سیاسی طنز و مزاح : شاہراہِ اقتدار یا شاہراہِ فرار؟

(جب پرچے سرِ بازار بکنے لگیں)

ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین

کسی دانا کا قول ہے کہ تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ وہ خود کو دہراتی ہے، بلکہ المیہ یہ ہے کہ جب وہ خود کو دہرانے کے موڑ پر آتی ہے تو حاکمِ وقت کے پاس گاڑی کا ایکسیلیٹر دبانے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا۔ ہمارے ہاں تو خیر یہ رواج مدتوں سے قائم ہے کہ سرکاری اور درباری مورخین جب بھی کسی بادشاہ سلامت کی شجاعت کا ناپ لینے بیٹھتے ہیں، تو اس کے لباس کے گھیر، دستار کی بلندی یا اس کے چوڑے چکلے سینے کی پیمائش سے شروعات کرتے ہیں۔ حالانکہ تاریخ کا اصل اور سچا جغرافیہ تو ہمیشہ حکمران کے جوتوں کے تلوں کی گھسائی اور ان کی گاڑیوں کی رفتار سے معلوم ہوتا ہے۔ جس ملک میں معیشت کا پہیہ جام ہو اور حکمرانوں کی گاڑی کا پہیہ روشنی کی رفتار سے چلنے لگے، وہاں سمجھ لینا چاہیے کہ ملک ترقی کی شاہراہ پر نہیں، بلکہ شاہراہِ فرار پر گامزن ہے۔
ہمارے اس عہدِ زریں کا سب سے بڑا تماشا یہ نہیں کہ یہاں تعلیم اور روزگار کے پرچے حلوے کی طرح سرِ بازار بک رہے ہیں، بلکہ مضحکہ خیزی کی انتہا یہ ہے کہ جب ان پرچوں کے خریدار اور ملک کا معصوم مستقبل سڑکوں پر آکر اپنے حقوق کا ایک سیدھا سا سوال پیش کرتے ہیں، تو جواب میں سرکار اپنی کاروں کی رفتار کا وہ مابعد الطبیعیاتی نقشہ پیش کرتی ہے جسے دیکھ کر آئزک نیوٹن بھی اپنے قوانینِ حرکت پر شرما کر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور ہو جائے۔ دہلی کے ایوانِ اقتدار سے نمودار ہونے والا کاروں کا وہ سیلِ رواں بزدلی کا اعتراف ہرگز نہیں تھا، بلکہ وہ تو وقت کی بچت اور عوامی جذبات سے ایک محفوظ سفارتی دوری اختیار کرنے کی وہ جدید ترین حکمتِ عملی تھی جس میں بریک پر پیر رکھنے کے بجائے رفتار بڑھانا زیادہ کارِ ثواب سمجھا گیا۔
جس عجلت اور احتیاط کے ساتھ ان شاہی سواریوں نے پارلیمنٹ کے پچھلے دروازے کا رخ کیا، اسے دیکھ کر گمان ہوتا تھا کہ حاکمِ وقت کو اچانک یاد آگیا ہے کہ ملک کی معیشت اور روپے کی گرتی ہوئی قدر تو جیسے تیسے سنبھل ہی جائے گی، مگر اس نازک وقت میں اپنی گاڑی کو حادثاتِ زمانہ اور عوام کی نظروں سے بچانا سب سے بڑی قومی ضرورت ہے۔ اس تیز رفتاری پر جب ہمارے ایک حاسد دوست نے انگلی اٹھائی تو ہم نے انہیں جھڑک کر کہا کہ میاں، تم کیا جانو کہ جب جان اور ساکھ پر بن آئے، تو کوئی بھی بیدار مغز حاکم ڈرائیور سے راستے کا پتہ یا سڑک کا نام نہیں پوچھتا؛ وہ تو بس یہی کہتا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو سکے، ہمیں اس سڑک سے اتنی دور لے جاؤ جہاں ضمیر کی آواز اور طلبہ کے نعرے، دونوں کی فریکوئنسی ایک ساتھ میچ نہ کر سکے۔
سچ تو یہ ہے کہ سیاست میں خوف ایک ایسا پارس ہے جو 56 انچ کے لوہے کو بھی 25 گرام کے پگھلے ہوئے موم میں تبدیل کر دیتا ہے اور اچھے بھلے دلیر کو بھی سوشل میڈیا کے ایک سہمے ہوئے تماشائی کی طرح رویہ اپنانے پر مجبور کر دیتا ہے۔ جن ہستیوں سے خائف ہو کر یہ محیر العقول رفتارِ کار اختیار کی گئی، وہ سرحد پار سے آئے ہوئے کوئی کلاشنکوف بردار جنگجو یا تربیت یافتہ حملہ آور نہیں تھے، بلکہ اپنے ہی ملک کے وہ معصوم طلبہ تھے جن کے ایک ہاتھ میں آئینِ بھارت کی کتاب تھی اور دوسرے ہاتھ میں محبت کا گلاب کا پھول۔ اب بھلا بتائیے، جس ملک کے طول و عرض میں بارود کی بو سے زیادہ گلاب کے پھول سے حکام کو زکام ہونے لگے، وہاں یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگنی چاہیے کہ دال میں کچھ کالا نہیں، بلکہ پوری دال ہی کسی کوئلے کی کان میں پکی ہے۔
نہتے نوجوانوں کے اس ہجوم کو دیکھ کر دہلی کی انتظامیہ نے فورسز کو یوں متحرک کر دیا جیسے چنگیز خان کی فوج نے شہر کا محاصرہ کر لیا ہو۔ پارلیمنٹ کے گرد و نواح میں کیو آر ٹی اور جدید ترین مشین گنز تان کر جو پہرہ بٹھایا گیا، اس سے صاف ظاہر تھا کہ سرکار کا ایمان ہے کہ یہ طلبہ اپنی نصابی کتابوں کے صفحات کو ملا کر کوئی ایسا ایٹمی فارمولا تیار کر رہے ہیں جو کرسیِ اقتدار کے پایوں کو دیمک کی طرح چاٹ جائے گا۔ جب دل کے نہاں خانے میں چور خود ساختہ بادشاہ بن کر بیٹھ جائے، تو باہر کی ہوا کا جھونکا بھی انکم ٹیکس کا چھاپہ محسوس ہوتا ہے۔ ان نوجوانوں نے تو صرف اپنے مستقبل کا ایک سچا اور بے داغ پرچہ مانگا تھا، مگر سرکار نے جواب میں پاؤں کی وہ پھرتی دکھائی کہ اولمپکس کے تمام اڑان بھرنے والے کھلاڑی حسرت سے ہاتھ ملتے رہ گئے۔
جب گھر کی اندرونی صفائی اپنے بس سے باہر ہو جائے، تو محلے کے کسی ایسے بزرگ کو آگے کر دیا جاتا ہے جو بات کو طول دینے میں یدِ طولیٰ رکھتا ہو اور جس کا کام صرف وقت گزاری ہو۔ حکومت کو جب یہ احساس ہوا کہ طلبہ کی یہ خود رو اور بے لوث بھیڑ کسی آئی ٹی سیل کے ٹرینڈ یا واٹس ایپ کے جھوٹے پروپیگنڈے سے دبنے والی نہیں، تو انہوں نے فورسز کے حصار کے پیچھے سے اپنے سب سے معتبر سیاسی منیم، جے پی نڈا کو برآمد کیا۔ نڈا صاحب کی حیثیت ہماری موجودہ سیاست میں اس پرانے منشی جیسی ہے جسے سیٹھ صاحب دکان کا دیوالیہ نکلنے کے بعد غصے سے بھرے ہوئے لین داروں کے سامنے گالیاں کھانے اور چائے پلانے کے لیے بٹھا دیتے ہیں۔
جے پی نڈا اب وزارتِ تعلیم کے وزیر تو ہیں نہیں، مگر ملک کی سیاست میں جہاں کہیں بھی کوئی گڑھا نظر آئے، وہاں انہیں مٹی ڈالنے کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔ انہوں نے مظاہرین کے نمائندوں کو بٹھایا، نہایت ہمدردی سے ان کی باتیں سنیں اور جب انہوں نے وزیرِ تعلیم کے استعفے اور متاثرہ خاندانوں کے لیے معاوضے کی بات کی، تونڈا صاحب نے بڑی معصومیت سے کہا کہ مجھے تھوڑا وقت چاہیے تاکہ میں قیادت سے مشورہ کر سکوں۔ صاحب، 12 سال سے تو آپ کی پوری سرکار اس ملک سے صرف وقت ہی مانگ رہی ہے، اب کیا اگلی نسلوں کا وقت بھی ایڈوانس میں بک کرانے کا ارادہ ہے؟ اس گفتگو کے دوران جو وقت مانگا جا رہا تھا، وہ دراصل اس لیے تھا کہ قیادت اس وقت پارلیمنٹ کے عقبی راستے سے نکل کر اپنے محفوظ محلوں میں نرم چادر تان کر گہری نیند سو چکی تھی۔
جہاں تک دہلی پولیس کی فرض شناسی کا تعلق ہے، تو ان کی کارگزاریوں پر تو پوری تاریخِ تعزیراتِ ہند کو قربان کیا جا سکتا ہے۔ ایک طرف سوشل میڈیا کے اکھاڑوں میں یہ مناظر گردش کر رہے تھے کہ خواتین مظاہرین اور بزرگوں کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا جو روایتی طور پر صرف جیب کتروں اور وانٹیڈمجرموں کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے، تو دوسری طرف پولیس کا یہ تاریخی اور شائستہ بیان سامنے آیا کہ انہوں نے بالکل بھی طاقت کا استعمال نہیں کیا، بلکہ وہ تو امن و امان قائم رکھنے کے لیے ہلکی سی مالش کر رہے تھے۔ اب اس سرکاری مالش کے نتیجے میں اگر کسی 12 سال کی بچی کا سر پھٹ جائے یا درجنوں طلبہ ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں پہنچ جائیں، تو اسے آپ پولیس کی پیشہ ورانہ محبت ہی سمجھیں؛ کیونکہ ان کی لاٹھی جب چلتی ہے تو وہ عمر، صنف یا ڈگری نہیں دیکھتی، وہ صرف سرکار کا حکم اور سامنے والے کا سر دیکھتی ہے۔
جن طلبہ نے کبھی کالج کے الیکشن کے علاوہ کوئی ہنگامہ نہیں دیکھا تھا، وہ دہلی کی سڑکوں پر آنسو گیس کے دھوئیں میں اس طرح کھانس رہے تھے جیسے کسی پرانی فلم کے سیٹ پر سستے ولن نے ہیرو کو بھگانے کے لیے اسموک مشین چلا دی ہو۔ اس پورے معرکے کا سب سے لطیف تضاد یہ تھا کہ حکومت نے جتنوں کے سر پھوڑے، ان کے لیے ایک بھی ایمبولینس کا انتظام نہیں کیا؛ کیونکہ تمام دستیاب ایمبولینسوں میں تو ہمارا محترم بقائے باہمی میڈیا، جسے پیار سے "گودی میڈیا” بھی کہا جاتا ہے، پہلے سے ہی سوار ہو کر اپنی صحافتی موت کا آئی سی یو سیشن منا رہا تھا۔ جو میڈیا پچھلے کئی برسوں سے خود اخلاقی اور نظریاتی طور پر وینٹی لیٹر پر ہو، اسے کسی بھی زخمی طالب علم سے پہلے ایمبولینس کی ضرورت پیش آنا ایک فطری اور منطقی امر ہے۔
اس پورے ڈرامے کا سب سے دلکش اور سحر انگیز پہلو وہ تھا جب پارلیمنٹ کا سیشن شروع ہوا اور ہمارے ممدوح ایوان میں بیٹھ کر یوں مسکرا رہے تھے جیسے ملک میں کوئی پرچہ لیک نہیں ہوا، بلکہ کوئی عالمی سطح کا حسنِ قرأت کا مقابلہ جیت لیا گیا ہو۔ اپوزیشن کے رہنماؤں نے جب جنتر منتر کے اس لاٹھی چارج اور سڑکوں پر بہتے ہوئے خون کا ذکر چھیڑا اور ایوان میں دہائی دی کہ سرکار بچوں کا مستقبل دبا رہی ہے، تو سپیکر صاحب نے کمالِ مہربانی سے ہاؤس کو فوراً ہی معطل کر دیا۔ یہ اس ایوان کی ایک قدیم اور معزز روایت ہے کہ جب بھی غریب کے بچے یا اس کے روزگار کا ذکر آئے، تو پیٹھ پر بیٹھے ہوئے بزرگ کو اچانک یاد آ جاتا ہے کہ چائے کا وقت ہو گیا ہے اور بلڈ پریشر کی گولی لینی ہے؛ لیکن اگر آدھی رات کو کسی بڑے سیٹھ کا لاکھوں کروڑوں کا قرضہ معاف کرنا ہو یا کوئی کارپوریٹ بل پاس کرانا ہو، تو ایوان کی لائٹیں صبح کی پہلی کرن تک جگمگاتی رہتی ہیں۔
میٹرو کے اسٹیشن بند کر دینا، سڑکوں پر جیمرز لگا کر انٹرنیٹ کا گلا گھونٹ دینا، اور انڈیا گیٹ کے کرتویہ پتھ کو میدانِ جنگ میں تبدیل کر دینا، یہ سب اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ہمارے ملک میں جمہوریت اب صرف اسکولی کتابوں میں اچھی لگتی ہے، سڑکوں پر تو صرف اقتدار کا خوف ناچتا ہے۔ لیکن ان تمام تر جیمرز اور لاٹھیوں کے باوجود سڑکوں پر موجود ان نوجوانوں کے عزم کو دیکھ کر یہ واضح ہو گیا ہے کہ اب استعفوں کا موسم آ چکا ہے، اور وہ وقت دور نہیں جب گاڑیوں کی تیز رفتاری بھی کام نہیں آئے گی؛ کیونکہ عوام جب اپنے حقوق کا سچا پرچہ لے کر سڑکوں پر ممتحن بن کر کھڑے ہو جائیں، تو دنیا کا کوئی بھی شاہی امتحانی بورڈ اس پرچے کو منسوخ کرنے کی جرات نہیں کر سکتا۔
اس ملک میں جہاں غریب کا بچہ ڈگری ہاتھ میں لیے سڑک کی دھول چاٹتا ہے اور میرٹ کا جنازہ ایوانوں کے سامنے سے گزرتا ہے، وہاں حاکموں کی یہ بے حسی کوئی نئی بات نہیں۔ ہر دور کا فرعون اپنے اقتدار کے جزیرے پر بیٹھ کر یہی سمجھتا ہے کہ سمندر کی لہریں کبھی اس کے تاج تک نہیں پہنچیں گی۔ لیکن وہ یہ بھول جاتا ہے کہ جب پانی سر سے اونچا ہو جائے تو تخت و تاج کاغذ کی کشتیوں کی طرح بہہ جاتے ہیں۔ نوجوانوں کا یہ سیلاب جو آج انصاف کی دہائی دے رہا ہے، کل کو ایک ایسا طوفان بن سکتا ہے جس کے سامنے جدید ترین مشین گنز اور فورسز کے حصار ریت کی دیوار ثابت ہوں گے۔ سرکار کو چاہیے کہ وہ اپنی گاڑیوں کی رفتار ناپنے کے بجائے عوام کی نبض پر ہاتھ رکھے، کیونکہ جب نبض چھوٹ جائے تو پھر کسی قسم کا معجونِ شاہی یا سیاسی چورن کام نہیں آتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی حکمرانوں نے اپنے عوام سے منہ موڑا ہے، تو وقت نے ان کا رخ بدل دیا ہے۔ اب فیصلہ ایوانوں کے مکینوں کو کرنا ہے کہ وہ تاریخ کے پچھلے دروازے سے بھاگنا چاہتے ہیں یا سامنے کے راستے سے عزت کے ساتھ رخصت ہونا چاہتے ہیں۔
میدانِ سیاست کے ان تمام کھلاڑیوں کو یہ بات گرہ میں باندھ لینی چاہیے کہ عوام اب بیدار ہو چکے ہیں۔ وہ وقت گزر گیا جب ایک کپ چائے اور ایک جھوٹے وعدے پر پورا الیکشن جیت لیا جاتا تھا۔ اب نوجوان اپنے حقوق کا حساب مانگتے ہیں، وہ پرچوں کی شفافیت چاہتے ہیں اور اپنے مستقبل کی ضمانت مانگتے ہیں۔ اگر حکومت اب بھی جے پی نڈا جیسے مہروں کے پیچھے چھپ کر وقت گزاری کرنا چاہتی ہے، تو وہ یاد رکھے کہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ جو قومیں اپنے نوجوانوں کو سڑکوں پر رولتی ہیں، ان کا اپنا نام بھی تاریخ کے پنوں سے مٹ جاتا ہے۔ دہلی کی سڑکوں پر بہنے والا پسینہ اور خون رائیگاں نہیں جائے گا، یہ اس نئے سویرے کا پیش خیمہ ہے جس کی روشنی سے ایوانوں کے اندھیرے دور ہوں گے اور جمہوریت صرف کتابوں میں نہیں بلکہ سڑکوں پر بھی مسکراتی ہوئی نظر آئے گی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے