कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سعادت حج کے بعد حاجیوں کی مبارک وطن واپسی

تحریر:ڈاکٹر محمد سعید اللہ ندوی
صدرجمعیۃ الاقلیۃ المسلمۃ الھندیہ ،لکھنؤ
رابط نمبر 8175818019

حج 1447ھ؍ 2026ء اپنے روح پرور مناظر، ایمان افروز لمحات اور ربانی برکتوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوچکا ہے اور دنیا بھر سے لاکھوں فرزندانِ اسلام اب اپنے اپنے وطنوں کی جانب لوٹ رہے ہیں۔ یہ واپسی صرف ایک سفر کے اختتام کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی روحانی انقلاب آفرین داستان کا نیا باب ہے جو انسان کی پوری زندگی کو بدل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ حرمین شریفین کی مقدس فضاؤں میں گزرے ہوئے وہ لمحات، بیت اللہ کے سامنے مانگی گئی دعائیں، میدانِ عرفات میں بہائے گئے آنسو اور روضہ رسول ؐے سامنے پیش کیے گئے درود و سلام اب یادوں کا حصہ بن رہے ہیں، مگر ان کی تاثیر اور برکتیں ہمیشہ کے لیے حاجیوں کے دلوں میں محفوظ رہیں گی۔سب سے پہلے ان تمام خوش نصیب حجاجِ کرام کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی جاتی ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس سال اپنے گھر کی حاضری کا شرف عطا فرمایا۔ یہ سعادت ہر مسلمان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ اور سب سے بڑی آرزو ہوتی ہے۔ اللہ رب العزت نے انہیں اپنے دربار میں بلایا، لبیک کی صدائیں نصیب فرمائیں، عرفات میں وقوف کا موقع عطا کیا اور اپنے محبوب ؐ کے شہر کی حاضری سے نوازا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے حج کو حجِ مبرور، سعی کو سعیِ مشکور اور ان کے تمام گناہوں کی مغفرت کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔
اس سال بھی لاکھوں مسلمانوں نے انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ مناسکِ حج ادا کیے۔ میدانِ عرفات میں وقوف کے دوران لاکھوں ہاتھ دعا کے لیے بلند ہوئے۔ زبانوں کے الفاظ مختلف تھے مگر دلوں کی کیفیت ایک تھی۔ سب اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہے تھے، اپنے رب کی رضا کے طلبگار تھے اور امت مسلمہ کی سربلندی کے لیے دعائیں کررہے تھے۔ عرفات کا میدان ہر سال یہ پیغام دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کسی خاص قوم یا طبقے تک محدود نہیں بلکہ ہر توبہ کرنے والے بندے کے لیے کھلی ہوئی ہے۔مزدلفہ کی رات اور منیٰ کے ایام حاجیوں کو صبر، استقامت اور قربانی کا سبق دیتے ہیں۔ جمرات کی رمی صرف چند کنکریاں پھینکنے کا عمل نہیں بلکہ انسان کے اندر موجود شیطانی خواہشات اور برائیوں کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔ یہ عمل انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ زندگی بھر اسے نفس اور شیطان کے حملوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ حج دراصل انسان کے اندر ایک نئی قوت اور نیا عزم پیدا کرتا ہے۔
حج کے دوران بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے حاجی خود کو ایک ایسی روحانی دنیا میں محسوس کرتا ہے جہاں دنیاوی پریشانیاں، غم اور مصیبتیں سب پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ اس کا دل صرف اللہ تعالیٰ کی یاد میں محو ہوجاتا ہے۔ یہی کیفیت حج کی اصل روح ہے۔ جب انسان اپنے رب کے ساتھ تعلق مضبوط کرلیتا ہے تو دنیا کی بڑی سے بڑی مشکل بھی اس کے لیے آسان ہوجاتی ہے۔سعودی عرب کی جانب سے اس سال بھی حجاج کرام کی خدمت کے لیے وسیع انتظامات کیے گئے۔ جدید ٹیکنالوجی، صحت و سلامتی کے مؤثر اقدامات، جدید سفری سہولیات اور انتظامی نظم و نسق نے مناسکِ حج کی ادائیگی کو مزید آسان بنایا۔ لاکھوں افراد کے اجتماع کے باوجود نظم و ضبط کا جو مظاہرہ دیکھنے میں آیا وہ اپنی مثال آپ تھا۔ حجاج کرام نے بھی ذمہ داری، صبر اور تعاون کا بہترین نمونہ پیش کیا۔
اب جبکہ حجاج کرام اپنے گھروں کی طرف واپس آرہے ہیں، مختلف شہروں اور بستیوں میں خوشی اور مسرت کی فضا قائم ہے۔ اہلِ خانہ اپنے پیاروں کے استقبال کے لیے بے تاب ہیں۔ دوست و احباب مبارکباد پیش کررہے ہیں اور حجاج کرام سے دعاؤں کی درخواستیں کررہے ہیں۔ برصغیر کی تہذیب میں حاجیوں کا استقبال ہمیشہ سے ایک روحانی تقریب کی حیثیت رکھتا ہے۔ لوگ اس یقین کے ساتھ ان سے ملتے ہیں کہ وہ اللہ کے مہمان بن کر لوٹے ہیں اور ان کی دعاؤں میں قبولیت کی خاص شان ہوتی ہے۔تاہم حج کا اصل مقصد صرف یہ نہیں کہ انسان مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی زیارت کرکے واپس آجائے، بلکہ اصل مقصد اپنی زندگی کو بدلنا اور اپنے کردار کو سنوارنا ہے۔ اگر حج کے بعد انسان کی نمازوں میں پابندی، معاملات میں دیانت، گفتگو میں شائستگی اور اخلاق میں بہتری پیدا ہوجائے تو یہی حج کی حقیقی کامیابی ہے۔ علماء کرام ہمیشہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ حاجی اپنی زندگی کو حج سے پہلے اور حج کے بعد دو الگ ادوار میں تقسیم کرے اور کوشش کرے کہ بعد کی زندگی پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہو۔
حج ہمیں امت مسلمہ کی اجتماعی قوت کا بھی احساس دلاتا ہے۔ آج دنیا بھر میں مسلمان مختلف مسائل اور چیلنجوں سے دوچار ہیں، لیکن حج کا عظیم اجتماع یہ ثابت کرتا ہے کہ جب مسلمان اپنے دین کی بنیاد پر متحد ہوجائیں تو وہ ایک ناقابلِ شکست قوت بن سکتے ہیں۔ حجاج کرام کو چاہیے کہ وہ اپنے ساتھ اتحاد، بھائی چارے اور باہمی محبت کا یہی پیغام لے کر واپس آئیں اور اپنے معاشروں میں اس کی ترویج کریں۔آج کی دنیا مادہ پرستی، خود غرضی اور اخلاقی زوال کے مختلف بحرانوں سے گزر رہی ہے۔ ایسے حالات میں حج انسان کو روحانیت، اخلاص اور بندگی کی طرف واپس بلاتا ہے۔ حج ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان کی اصل کامیابی مال و دولت یا دنیاوی شہرت میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی کامیابی میں ہے۔ یہی وہ سبق ہے جو ہر حاجی اپنے ساتھ لے کر واپس آتا ہے۔حجاج کرام کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر پیدا ہونے والی روحانی کیفیت کو برقرار رکھیں۔ نمازوں کی پابندی، قرآن کریم کی تلاوت، ذکر و اذکار، خدمتِ خلق اور حسنِ اخلاق کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنائیں۔ ان کی ذمہ داری صرف اپنی ذات کی اصلاح تک محدود نہیں بلکہ انہیں اپنے خاندان، اپنے محلے اور اپنے معاشرے کے لیے بھی خیر کا ذریعہ بننا چاہیے۔
حج 1447ھ کے اختتام پر وطن واپس آنے والے تمام حجاجِ کرام کو ایک مرتبہ پھر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی جاتی ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ کے مہمان بن کر لوٹے ہیں، آپ نے زندگی کی عظیم ترین سعادت حاصل کی ہے اور آپ کے قدم ان مقدس مقامات تک پہنچے ہیں جن کی زیارت کے لیے دنیا بھر کے مسلمان تڑپتے ہیں۔ اب آپ کی ذمہ داری ہے کہ حرمین شریفین سے حاصل ہونے والے نور کو اپنی زندگیوں میں محفوظ رکھیں اور اپنے کردار سے اس نور کو دوسروں تک پہنچائیں۔
امت مسلمہ کے لیے یہی پیغام ہے کہ حج صرف چند دنوں کی عبادت نہیں بلکہ پوری زندگی کا ایک پیغام ہے۔ بیت اللہ کی عظمت، عرفات کی دعائیں، مزدلفہ کی خاموش راتیں، منیٰ کی قربانیاں اور مدینہ منورہ کی محبت اگر ہماری زندگیوں کا حصہ بن جائیں تو ہمارے انفرادی اور اجتماعی حالات بدل سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام حجاجِ کرام کے حج کو قبول فرمائے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے