कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

دین میں بے جا رائے زنی ایک خطرناک فتنہ

تحریر:محمد عادل ارریاوی

اللہ ربّ العزت نے دینِ اسلام کو قیامت تک کے لیے کامل محفوظ اور انسانیت کی کامل رہنمائی کا ذریعہ بنایا ہے۔ اس مقدس دین کے احکام و مسائل میں گفتگو فتویٰ اور رائے زنی کا حق ہر شخص کو نہیں بلکہ صرف ان اہلِ علم کو حاصل ہے جنہوں نے قرآن و سنت فقہ اور اصولِ شریعت میں گہری بصیرت حاصل کی ہو۔ جب علم کے بغیر دین میں اظہارِ رائے عام ہو جائے تو حق و باطل خلط ملط ہونے لگتے ہیں اور یہی امت کے لیے ایک نہایت خطرناک فتنہ ہے۔
آج کل کثرت سے دیکھنے وسننے میں آ رہا ہے کہ علم و تحقیق کے بغیر دین کے بارے میں ہر عام و خاص کی طرف سے بحث و مباحثے اور خیال آرائیوں کا بازار گرم ہے خواہ کوئی عقیدہ کا مسئلہ ہو یا نماز و روزہ کا مسئلہ اور خواہ کوئی حلال و حرام کا معاملہ ہو جو مسئلہ بھی کسی محفل مجلس میں زیر بحث آتا ہے ہر عام و جاہل اس میں بڑی دلیری کے ساتھ دل چسپی لیتا ہے اور اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے اور کسی نہ کسی حیثیت سے اس میں اپنے من گھڑت اجتہاد کا حصہ شامل کرنے کا متمنی اور متلاشی نظر آتا ہے۔
بعض اوقات دین کے بارے میں بحث و مباحثے اور گفت و شنید کا یہ سلسلہ اتنا آگے بڑھ جاتا ہے کہ ہر شخص دین کے مسئلے پر حاشیہ پر حاشیہ چڑھاتا جاتا ہے اس طرح کسی بھی دینی مسئلے کی وہ گت بنادی جاتی ہے کہ الامان الحفیظ لوگوں کی یہ جرات زیادہ تر دین کے بارے میں ہی سامنے آتی ہے دنیا کے دوسرے علوم وفنون میں اس طرح کی جرات کرنے کی ہر کس و ناکس کو ہمت نہیں ہوتی۔
چنانچہ ڈاکٹری یا انجینئر نگ کے شعبے میں عام طور پر نا واقف شخص کو اس طرح زبان درازی کی ہمت نہیں ہوتی مگر دین کا معاملہ اتنا سستا اور ہلکا سمجھ لیا گیا ہے کہ نہ اس کے لیے علم کی ضرورت سمجھی جاتی اور نہ کسی ماہر عالم کی رہنمائی ڈاکٹر سے لے کر موچی و نائی تک اس میں دیدہ دلیری اور سینہ زوری سے کام لیتا ہے۔
حالانکہ دین کے بارے میں علم کے بغیر بحث و مباحثے اور اظہار خیال کا کرنا گناہ ہے اور دین کا معاملہ دنیا کے مقابلے میں بہت نازک ہے اگر دنیا کے کسی معاملہ میں غلط رائے بھی قائم ہو جائے اور کوئی غلط تبصرہ بھی ہو جائے تو اس کا اتنا نقصان نہیں جتنا دین کے معاملہ میں رائے زنی کرنے کا نقصان ہے کیوں کہ دنیا کا معاملہ تو زیادہ تر دنیا ہی میں ختم ہو جاتا ہے مگر دین کا معاملہ دنیا میں ختم نہیں ہوتا بلکہ آخرت تک جاری رہنے والا ہے۔
بلا تحقیق دین میں رائے زنی کا مرض عام ہو جانے کے نتیجے میں آج ہر شخص مجتہد بنا بیٹھا ہے اور دین کے احکام کا آپریشن کرنے میں لگا ہوا ہے۔
ایک حدیث شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں ستر سے زیادہ فرقے ہو جائیں گے ان فرقوں میں سب سے بڑے فتنہ ساز میری امت میں وہ لوگ ہوں گے جود دینی معاملات میں رائے زنی اور قیاس آرائی سے کام لیں گے اور وہ حرام کو حلال قرار دیں گے اور حلال کو حرام قرار دیں گے۔(مسند البزا۔ رقم الحديث ۲۷۵۵)
اسی بے جا جرأتِ اظہار کا ایک خطرناک نتیجہ یہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ لوگ قرآن و حدیث کی نصوص کو اپنے ناقص فہم کے مطابق سمجھنے اور سمجھانے لگے ہیں۔ نہ اصولِ تفسیر سے واقفیت نہ اصولِ حدیث سے آگاہی نہ فقہ و اجتہاد کے ضوابط کا علم اس کے باوجود بڑے اعتماد کے ساتھ دینی احکام پر فیصلے صادر کیے جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے اس بیماری کو اور زیادہ بڑھا دیا ہے جہاں چند سطریں پڑھ کر یا ایک مختصر ویڈیو دیکھ کر بہت سے لوگ خود کو دین کا ترجمان سمجھنے لگتے ہیں پھر وہ دوسروں کی اصلاح کے نام پر ایسی باتیں پھیلانے لگتے ہیں جن کا شریعت سے کوئی مضبوط تعلق نہیں ہوتا۔
حالاں کہ دینِ اسلام قیاس آرائیوں خواہشات اور ذاتی آراء کا نام نہیں بلکہ وحیِ الٰہی قرآن کریم سنت رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم اجماع امت اور معتبر اہل علم کی تشریحات پر قائم ایک مکمل نظامِ حیات ہے۔ اس لیے جس شخص کو دینی علوم میں مہارت حاصل نہ ہو اس کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ اپنی رائے کو دین نہ بنائے بلکہ اہلِ علم کی طرف رجوع کرے۔ یہی طریقہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم تابعین اور اسلاف امت کا رہا ہے کہ جس مسئلے کا علم نہ ہوتا اس میں بلا جھجک اہل علم سے رجوع کرتے تھے اور اپنی لاعلمی کا اعتراف کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے تھے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ آج علم سے زیادہ اعتمادِ نفس کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ جو شخص دو چار کتابوں کے اقتباسات پڑھ لیتا ہے یا چند ویڈیوز سن لیتا ہے یا تبلیغی جماعت میں کچھ وقت لگا لیتا ہے وہ اپنے آپ کو محقق مفتی اور مجتہد سمجھنے لگتا ہے۔ نتیجتاً امت میں انتشار اختلاف بدگمانی اور دینی بے راہ روی بڑھتی جا رہی ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ دین کے کسی بھی مسئلے میں زبان کھولنے سے پہلے اچھی طرح تحقیق کرے مستند علماء سے رجوع کرے اور جس بات کا علم نہ ہو اس میں خاموشی اختیار کرے کیونکہ یہی تقویٰ احتیاط اور سلامتی کا راستہ ہے۔
اللہ ربّ العزت ہمیں صحیح علم فہم اور دین پر عمل کی توفیق عطا فرمائے اور ہر قسم کی گمراہی اور بے جا رائے زنی سے ہماری مکمل حفاظت فرمائے۔ آمین یارب العالمین ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے