कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

دل، زبان اور عمل

تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی، پربھنی : 9881836729
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

واعظین کہتے ہیں کہ ایک قدم اپنے نفس پر رکھو، یعنی نفسانی خواہشات سے اجتناب تو جنت میں دوسرا قدم ہوگا۔ حدیث میں ہے، جنت تکلیفوں سے گھری ہے اور جہنم نفسانی خواہشات سے گھری ہوئی ہے۔ خدائے برتر کا ارشاد ہے، اے اطمینان پا جانے والے نفس! تو اپنے رب کی طرف اس حال میں لوٹ کہ تو اس کی خوشنودی اور رضا کا طالب بھی ہو اور مطلوب بھی۔ گویا اس کی رضا تیری مطلوب ہو اور تیری رضا اس کی مطلوب۔ کامل بندوں میں شریک ہو کر جنت کا قرابت دار بن جا۔ لیکن انسان کو نفس کی خواہشات ستاتی رہتی ہیں، جس سے وہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ اسی لیے حدیث میں کہا گیا کہ پہلے اپنی نفسانی خواہشات پر کنٹرول کریں۔ چنانچہ اسی ضمن میں نفس کی قسمیں بتائی گئی ہیں جو سات ہیں۔ اولاً نفس امارہ کا ذکر ہے، جو انسان کو سب سے زیادہ گناہوں کی طرف راغب کرتا ہے اور دنیاوی مفادات کی طرف آمادہ کرتا ہے، جو سراب اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔ نفس امارہ انسان کو جھوٹی شان و شوکت اور ریاکاری، خودنمائی اور دنیا کے گلیمر پر توجہ کا مرکز بناتا ہے، جس سے عاقبت خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ نفس امارہ انسان کی عبادتوں اور مجاہدوں میں خلل انداز ہوتا ہے۔ چنانچہ نفس امارہ کے شر سے اجتناب بہت ضروری ہے۔
نفس لوامہ سے آدمی اپنے قلب میں حساسیت اور ایک نور سا محسوس کرتا ہے، جس سے مجاہدات، ریاضات اور عبادات میں شغف اور سکون سا محسوس ہوتا ہے۔ اگر آدمی سے کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو نفس لوامہ اسے ملامت کرتا ہے اور روکتا ہے۔ اللہ نے ایمان والوں کا ذکر کیا ہے، کامل ترین اور نیک بندے جب اللہ کو یاد کرتے ہیں تو ان کے قلوب کانپ جاتے ہیں، اور جب قرآن کریم کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔
نفس ملہمہ جب انسان پر آشکار ہوتا ہے تو انسان کی اندرونی کیفیت بدل جاتی ہے۔ وہ حق کا علمبردار اور اپنے دل و دماغ کو شفافیت والا پاتا ہے، جس سے اس کو اعلیٰ مقام حاصل ہوتا ہے۔ اسی طرح نفس مطمئنہ یہ اللہ والوں کا نفس ہے، جس سے اللہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ ذیل میں مذکور نفس راضیہ، نفس مرضیہ اور نفس کاملہ ہیں جو نفس مطمئنہ کی ترجمانی کرتے ہیں۔
اس بات سے واضح ہوتا ہے کہ دل اور نفس مطمئنہ ایک بڑی دولت ہے۔ اور سائنسی ریسرچ کے بعد سائنس نے بھی یہ کہا ہے کہ دل صرف ایک لوتھڑے کا نام ہی نہیں بلکہ وہ خون صاف کرنے کے ساتھ ایک سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اور ہم نماز میں بھی یہی دعا کرتے ہیں کہ اے رب! ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدمی اور استحکام بخش۔ چنانچہ حدیث میں ہے، اللہ آپ کے مال اور صورتوں کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ دل کی خالص نیتوں اور دلوں کی کیفیت کو دیکھتا ہے۔
اور زبان کو بھی فوقیت اور اہمیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو اپنی جگہ پر ایک مقام عطا کیا ہے اور نظام کے تحت اپنی جگہ پر درست رکھا ہے۔ دل، زبان اور عمل انسان کی زندگی کو کامیابی کی طرف راغب کرنے والے اعضاء ہیں۔ ہم پر کسی نے اگر کوئی احسان کیا ہو تو فوراً ہم اس کا دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں اور زبان سے تشکر کے الفاظ ادا کرتے ہیں۔
اللہ نے عقل سے کہا کہ آپ دنیا میں انسان کے لیے بہت اہمیت اور افادیت کی حامل ہیں۔ چنانچہ جب انسان کے سامنے داعیٔ حق کو پیش کریں تو اپنی عقل کی بنیاد پر اسے فوراً قبول کریں۔ اگر انسان حق کو قبول نہ کرے تو وہ دنیا کا سب سے بڑا مجرم ہے، کیونکہ حق کو قبول کرنا ہی خدائے برتر کا احسان اور اس کا شکر ادا کرنے کے مترادف ہے کہ ہم پر حق ظاہر ہو تو ہم اس کو قبول کر لیں۔
انسان عقل کی بنیاد پر کیا اچھا اور کیا برا ہے، یہ محسوس کرتا ہے۔ وہ جان بوجھ کر جھلسانے والی آگ میں ہاتھ نہیں ڈالتا، تو پھر کیوں کر اللہ کی نافرمانی کر کے سزا کا مستحق ہوتا ہے؟ جس چیز کے بارے میں ہمیں واقفیت نہیں ہے اور جس چیز کو ہم نہیں جانتے اور نہ اس کا علم رکھتے، ایسی چیزوں کے تعاقب میں نہیں پڑنا چاہیے، کیونکہ اس سے متعلق کان سے پوچھا جائے گا اور آنکھ سے بھی پوچھا جائے گا کہ کیا تُو نے دیکھا ہے، اور دل سے بھی سوال ہوگا کہ اے دل! تُو نے محسوس کیا تھا؟
اللہ نے قرآن میں خیر و شر کا ذکر کیا ہے۔ سب سے پہلے آپ اپنے نفس سے دریافت کریں کہ کیا مناسب اور کیا نامناسب ہے، کیونکہ اللہ نے انسان کو مکلف بنایا ہے اور عقل سلیم اور قلب سلیم عطا کیا ہے۔ چنانچہ بخاری شریف کی پہلی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ اگر کوئی اس بات پر بضد ہو کہ میں رزق حلال کمانے کے بجائے حرام کی طرف راغب ہوں تو پھر خدائے برتر بھی اس کو حرام ہی کھلائے گا۔ کوئی بھی اس کو حلال کے لقمے پر آمادہ نہیں کر سکتا۔ اور جو یہ عزم اور نیت کر لے کہ میں اہل و عیال کی کفالت خالص کسبِ حلال سے ہی کروں گا تو دنیا میں کوئی بھی نہیں کہ اس کے پیٹ میں حرام کا لقمہ ڈالے۔
وہی سجدہ ہے لائقِ اہتمام کہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرام۔ کیونکہ ہم اس خالقِ کائنات کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں، تو اوروں کی چاپلوسی اور ان کے آگے سر خم کرنا ناجائز ہے۔ نفس مطمئنہ اور قلب سلیم اس کی نفی کرتا ہے اور خالقِ کائنات کے آگے سر خم اور سجدہ ریز ہونے کی دعوت دیتا ہے۔
اور یہی نہیں بلکہ دیگر انسانی اعضاء سے بھی اللہ سوال کرے گا۔ فرمانِ الٰہی ہے: الیوم نختم علیٰ افواہہم و تکلمنا ایدیہم و تشہد ارجلہم بما کانوا یکسبون۔ اور اس دن اللہ منہ پر مہر لگا دے گا، جو زبان سے کچھ کہ نہیں سکے گا، ہاتھ اور پیر گواہی دیں گے جو وہ کرتے تھے۔
خدا نے انسان کی تخلیق کے ساتھ اس خوبصورت کائنات کو بنایا۔ ہمیں اس کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اللہ کے نیک بندے بننے کی کوشش کرنا چاہیے۔ اللہ ہمیں نیک و صالح اور اس کی اَن گنت نعمتوں کا شکر ادا کرنے والوں میں شامل فرمائے۔ آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے