कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

دارالعلوم دیوبند — ملتِ اسلامیہ کی عظیم علمی و تاریخی شناخت

برصغیر ہند کی سرزمین پر اگر کسی دینی ادارے نے علم، عمل، تقویٰ، دعوت، اصلاح، آزادی اور دینی حمیت کی تاریخ رقم کی ہے تو وہ عظیم ادارہ دارالعلوم دیوبند ہے۔ یہ وہ مقدس درسگاہ ہے جہاں سے ہر سال ہزاروں تشنگانِ علومِ نبوت قرآن و حدیث، فقہ و تفسیر، تصوف و سلوک اور اخلاق و کردار کی دولت سے مالا مال ہوکر دنیا کے مختلف گوشوں میں دینِ اسلام کی خدمت انجام دیتے ہیں۔ دارالعلوم دیوبند محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ملتِ اسلامیہ کی عظیم علمی و روحانی تحریک کا مرکز ہے جس کی بنیاد اخلاص، قربانی اور دینی غیرت پر رکھی گئی۔
1857 کی ناکام جنگِ آزادی کے بعد جب ہندوستان کے مسلمان سیاسی، تعلیمی اور دینی اعتبار سے شدید بحران کا شکار ہوگئے تھے، اس وقت انگریز سامراج مسلمانوں کی تہذیب، زبان، دینی شناخت اور اسلامی شعور کو ختم کرنے کے درپے تھا۔ ایسے نازک دور میں اکابرِ امت نے حالات کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے ایک ایسے ادارے کی بنیاد رکھی جس کے ذریعے دینِ اسلام کی حفاظت ہوسکے اور مسلمانوں کی علمی و فکری رہنمائی کا سلسلہ باقی رہے۔ چنانچہ 1866 میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور دیگر اکابر نے ایک چھوٹے سے چبوترے سے دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی، مگر اخلاص کی وہ بنیاد اتنی مضبوط ثابت ہوئی کہ آج یہ ادارہ پوری دنیا میں اسلام کی نمائندگی کرنے والی عظیم درسگاہ بن چکا ہے۔
دارالعلوم دیوبند کی تاریخ صرف درس و تدریس تک محدود نہیں بلکہ اس ادارے نے ملک کی آزادی میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ جب ہندوستان غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا تب اسی درسگاہ سے آزادی کی شمع روشن ہوئی۔ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ نے انگریزوں کے خلاف “ریشمی رومال تحریک” چلائی، مالٹا کی قید برداشت کی مگر غلامی کو قبول نہیں کیا۔ حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ، مولانا عبیداللہ سندھیؒ اور دیگر اکابر نے اپنی زندگیاں آزادی کے لیے وقف کردیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ دارالعلوم دیوبند نے ہمیشہ ظلم کے خلاف آواز بلند کی اور حق و صداقت کا پرچم تھامے رکھا۔
یہ ادارہ ہمیشہ امن، بھائی چارہ، رواداری، انسانیت اور اعتدال کا علمبردار رہا ہے۔ یہاں سے نفرت نہیں بلکہ محبت کا پیغام دیا گیا۔ یہاں کے اساتذہ اور طلبہ نے ہمیشہ ملک کے آئین اور امن و امان کی پاسداری کی تعلیم دی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں دارالعلوم دیوبند کو احترام اور عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
مگر افسوس کہ آج کچھ شرپسند اور بہروپیے عناصر اپنی سیاسی مفاد پرستی اور نفرت انگیز ذہنیت کی بنیاد پر اس عظیم دینی درسگاہ کو بدنام کرنے کی ناپاک کوشش کررہے ہیں۔ کبھی بے بنیاد الزامات لگائے جاتے ہیں، کبھی افواہوں کا بازار گرم کیا جاتا ہے اور کبھی اس ادارے کی عظمت کو مشکوک بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ نہ صرف دارالعلوم دیوبند بلکہ پورے مسلمانوں کی دینی شناخت پر حملہ ہے۔ یہ وہ ادارہ ہے جس کی تاریخ قربانیوں، علم، تقویٰ اور حب الوطنی سے بھری پڑی ہے، اس پر انگلی اٹھانا دراصل تاریخِ آزادی اور اسلامی خدمات کا انکار ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانانِ ہند اپنے دینی اداروں کی حفاظت کے لیے متحد ہوں، حکمت و بصیرت کے ساتھ حالات کا مقابلہ کریں اور اکابر کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے صبر و استقامت کا مظاہرہ کریں۔ جذباتی نعروں کے بجائے علمی، قانونی اور جمہوری انداز میں اپنے حقوق کی حفاظت کی جائے۔ اگر آج ہم خاموش رہے تو نفرت کے سوداگر اسی طرح ملت کے مقدس اداروں کو نشانہ بناتے رہیں گے اور مسلمانوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔
دارالعلوم دیوبند ملتِ اسلامیہ کی عظیم امانت ہے۔ اس کی عظمت اور وقار کا تحفظ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن اداروں کی بنیاد اخلاص اور قربانی پر ہوتی ہے انہیں دنیا کی کوئی طاقت مٹا نہیں سکتی۔ ان شاء اللہ دارالعلوم دیوبند ہمیشہ علم و عرفان کا مینار بن کر باقی رہے گا اور قیامت تک قرآن و سنت کی روشنی پھیلاتا رہے گا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے