कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جب لختِ جگر بھی حکمِ خدا کے سامنے چھوٹا پڑ گیا

خامہ بکف محمد عادل ارریاوی

کل عید الاضحیٰ یعنی بقرہ عید کا مبارک دن ہے وہ عظیم اور یادگار دن جس میں بندۂ مؤمن کو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے مثال اطاعت وفاداری صبر اور قربانی کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ یہ قربانی جسے ہم اور آپ خوشی خوشی کرتے ایک تہوار یا رسم کا دن نہیں ہے بلکہ اللہ ربّ العزت کے حکم کے سامنے مکمل سرِ تسلیم خم کردینے اپنی خواہشات کو قربان کرنے اور ایمان و اخلاص کا عملی مظاہرہ کرنے کا دن ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اللہ کے دین کی سربلندی توحید کے پیغام اور حق کی دعوت میں گزاری۔ انہیں اللہ ربّ العزت کی طرف سے بے شمار آزمائشوں میں ڈالا گیا اور ہر آزمائش میں انہوں نے صبر استقامت اور کامل فرمانبرداری کا بے مثال نمونہ پیش کیا۔
انہی عظیم آزمائشوں میں سے ایک نہایت سخت اور دل کو ہلا دینے والی آزمائش وہ تھی جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے نورِ نظر لختِ جگر پیارے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی راہ میں ذبح کر رہے ہیں۔ انبیاءِ کرام علیہم السلام کے خواب وحی ہوتے ہیں اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سمجھ لیا کہ یہ اللہ ربّ العزت کا حکم ہے۔
ذرا تصور کیجیے ایک باپ جس نے بڑھاپے میں اولاد کی نعمت پائی ہو جس بیٹے سے بے پناہ محبت کرتا ہو جسے دیکھ کر آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل کو سکون ملتا ہو اسی بیٹے کو اللہ کے حکم پر اپنی ہی ہاتھوں قربان کرنے کا ارادہ کرنا یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ مگر اللہ کے برگزیدہ نبی نے اپنے جذبات محبت اور دنیاوی تعلقات پر اللہ کے حکم کو ترجیح دی۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام سے فرمایا اے میرے پیارے بیٹے میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں اب بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟
حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی اللہ کے نیک اور فرمانبردار بندے تھے انہوں نے نہایت ادب صبر اور ایمان کے ساتھ جواب دیا اے میرے والد محترم اللہ نے آپ کو جو حکم دیا ہے اسے پورا کیجیے ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔
یہ منظر اطاعت ایمان اور قربانی کی تاریخ کا ایک عظیم ترین منظر ہے جہاں ایک طرف باپ اللہ کے حکم پر اپنی سب سے محبوب چیز قربان کرنے کیلئے تیار ہے اور دوسری طرف بیٹا بھی اللہ کی رضا کیلئے اپنی جان پیش کرنے پر آمادہ ہے۔
چنانچہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے حکم کی تعمیل کیلئے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے لگے اور دونوں نے اللہ تعالیٰ کے سامنے کامل اطاعت و رضا کا ثبوت دے دیا تو اللہ ربّ العزت نے اپنی رحمتِ کاملہ سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ایک مینڈھا بھیج دیا جو ذبح ہوگیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام محفوظ رہے۔
غور کریں یہ واقعہ ہمارے لئے ایک قربانی کا واقعہ نہیں بلکہ ایمان اطاعت اخلاص اور اللہ سے سچی محبت کی عظیم علامت ہے۔ اسی یاد کو زندہ رکھنے کیلئے امتِ مسلمہ کو قربانی کا حکم دیا گیا تاکہ مسلمان یہ سیکھیں کہ اللہ کی رضا کے سامنے مال دولت خواہشات اور حتیٰ کہ اپنی سب سے محبوب چیز بھی قربان کرنے کا جذبہ رکھنا چاہیے۔
احادیثِ مبارکہ میں قربانی کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ قربانی اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب عمل ہے اور اس کے ذریعے بندہ اللہ کا قرب حاصل کرتا ہے۔ قربانی کا اصل مقصد صرف جانور ذبح کرنا نہیں یا گوشت کھانا نہیں ہے بلکہ تقویٰ اخلاص اطاعت اور اللہ کی رضا کا حصول ہے۔
اللہ ربّ العزت ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی سچی اطاعت کامل ایمان اور بے مثال قربانی سے سبق حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری عبادات، قربانیوں اور نیک اعمال کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے