कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سحرِ فردا کا پیامبر، آغوشِ اجل میں: علامہ اقبالؒ کے حیاتِ مستعار کے آخری لمحات کی درد ناک روداد

ازقلم : رازق حُسین

برصغیر پاک و ہند کے عظیم مفکر، فلسفیِ امت اور شاعرِ مشرق علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ انہوں نے اپنی شاعری اور فکر کے ذریعے امتِ مسلمہ کو غلامی کے اندھیروں سے نکال کر بیداری کا جو نور بخشا، وہ ہمیشہ تاریخ کے ماتھے کا جھومر رہے گا۔ علامہ اقبال کی پوری زندگی فکری جہاد، عشقِ رسول ﷺ اور خودی کی معراج کی ایک مسلسل داستان تھی۔ آئیے اس مردِ درویش کی حیاتِ مستعار کے ان آخری ایام اور پُرسکون لمحات پر نظر ڈالتے ہیں جب یہ آفتابِ فکر اپنی روشنی ہمیشہ کے لیے اس جہاں سے سمیٹ رہا تھا۔
علامہ اقبال کی زندگی کا آخری حصہ شدید جسمانی تکالیف میں گزرا۔ ان کے گلے اور کان کی بیماری نے انہیں سخت تکلیف میں مبتلا رکھا۔ 1934ء کے بعد سے ان کی صحت مسلسل گرتی چلی گئی، یہاں تک کہ وہ پلنگ تک محدود ہو کر رہ گئے تھے۔ ڈاکٹر ان کی عیادت کے لیے روزانہ آتے، حکیم اور وید بھی بلائے گئے، لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔
اس دوران ان کے دوست، مخلصین اور شاگرد ان سے ملنے آتے۔ جسمانی کمزوری کے باوجود جب کوئی ان سے فلسفہ، شعر یا امتِ مسلمہ کی حالتِ زار پر گفتگو کرتا، تو ان کی آنکھوں میں ایک انوکھی چمک پیدا ہو جاتی۔ ان کی زبان پر ہمیشہ ملتِ اسلامیہ کا درد اور نوجوانوں کے لیے بیداری کا پیغام رہتا تھا۔
آخری ملاقاتیں اور شعر و سخن کا چراغ:
زندگی کی آخری شاموں میں بھی ان کے ذوقِ سخن اور حسِ مزاح میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔ ان کے قریبی رفیق اور خادم علی بخش ان کی خدمت میں شب و روز مصروف رہتے۔ ان کے آخری ایام میں ان کے پاس بیٹھنے والے دوستوں میں چودھری محمد حسین اور دیگر اکابرین شامل تھے۔
بیماری کے بستر پر ہی انہوں نے اپنی زندگی کا وہ مشہور فارسی شعر کہا جو ان کے دردِ دل کا عکاس ہے:
سرودِ رفتہ باز آید کہ نہ آید؟
نسیمے از حجاز آید کہ نہ آید؟ آمدنِ روزگارِ ایں فقیر
دگر دانہ بر انداز آید کہ نہ آید!
(ترجمہ: گزرا ہوا نغمہ پھر واپس آئے گا یا نہیں؟ حجاز کی طرف سے کوئی صبا پھر چلے گی یا نہیں؟ اس فقیر کا زمانہ تو آ کر چلا گیا، اب جانے دوسرا ایسا نکتہ سنج پیدا ہو یا نہ ہو!)
اپریل 1938ء کا مہینہ شروع ہو چکا تھا۔ اقبال کا جسم اب ان کا ساتھ چھوڑ رہا تھا، لیکن ان کا باطن روشن تھا۔ وہ اکثر خاموش لیٹے رہتے یا دھیمی آواز میں اشعار گنگناتے۔ وہ دنیا کی بے ثباتی سے پوری طرح آگاہ تھے اور اپنے خالقِ حقیقی سے ملنے کے لیے پُرسکون اور تیار تھے۔
ڈاکٹروں نے انہیں بالکل بولنے سے منع کر رکھا تھا، لیکن وہ جب بھی اپنے کسی عزیز کو دیکھتے، چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی۔ ان کے آخری ایام میں زبانِ خاموشی اور دل کی دھڑکنیں ہی ان کے جذبات کا پتہ دیتی تھیں۔
20 اپریل 1938ء کو علامہ اقبال کی حالت زیادہ غیر ہو گئی۔ لاہور کے میوا ہسپتال سے ڈاکٹروں کی ٹیم کو فوری طور پر میکلوڈ روڈ پر واقع ان کی رہائش گاہ "جاوید منزل” طلب کیا گیا۔
رات کا پچھلا پہر تھا، چاروں طرف گہری خاموشی تھی۔ گھر کے باہر ان کے چاہنے والے دعاؤں کے ساتھ موجود تھے۔ کمرے میں مدہم روشنی تھی اور زندگی کی شمع ٹمٹما رہی تھی۔
روایت میں آتا ہے کہ زندگی کے ان آخری لمحوں میں ان کی زبان پر ربِ کائنات کا ذکر اور درودِ پاک جاری تھا۔ علی بخش اور ان کے قریبی رشتہ دار ان کے پلنگ کے گرد پرنم آنکھوں کے ساتھ کھڑے تھے۔
21 اپریل 1938ء کی صبح صادق سے کچھ دیر قبل، فجر کی اذانوں کی گونج فضا میں بلند ہو رہی تھی کہ اس عظیم فلسفی نے اپنی آخری ہچکی لی اور ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے۔ ان کی روح اس جسمِ خاکی کو چھوڑ کر اپنے حقیقی معشوقِ ازلی سے جا ملی۔
علامہ اقبال کی رحلت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ لاہور شہر سوگوار ہو گیا۔ ان کے جنازے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، جن میں ہر طبقۂ فکر کے لوگ شامل تھے۔ ان کی وصیت کے مطابق انہیں لاہور کی شاہی مسجد کے احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا، جہاں آج بھی ان کا مزار مرجعِ خلائق ہے اور وہیں سے ان کا یہ مصرعہ تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گیا:
جو سوئے مرقد سے تو یہ صدا آئی
فقیرِ خاک نشیں رازِ دُرِ مکوں سمجھا!”
(ترجمہ: جب اس خاکی مزار کی طرف سے آواز آئی، تو اس فقیرِ خاک نشیں نے کائنات اور مکاں کے چھپے ہوئے راز کو پالیا۔)
آج اگرچہ علامہ اقبال جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں، مگر ان کی بیدار مغز فکر اور ان کا پیغامِ خودی آج کے اس پرآشوب دور میں پہلے سے کہیں زیادہ معتبر اور روشن ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان کے آخری ایام کے درد کو محسوس کرتے ہوئے ان کے فکری ورثے کو اپنائیں، کیونکہ ملتِ اسلامیہ کی حقیقی سرفرازی اسی مردِ قلندر کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل پیرا ہونے میں مضمر ہے۔
خودی کی روشنی سے دل منور کر گئے اقبال
بھٹکتی امتِ مسلم کو رہبر کر گئے اقبال

متاعِ دین و دنیا کو ملا کر ایک قالب میں
نگاہوں کو نئی اک شانِ جوہر کر گئے اقبال

اٹھا کر خاک سے ہم کو دیا پیغامِ بیداری
زمانے بھر میں ہم کو سرخرو تر کر گئے اقبال

نیا اک ولولہ بخشا جو تپتی روح کے اندر
ہمارے واسطے وا فکر کا در کر گئے اقبال

سناتے تھے جو افسانے کبھی غفلت کی نیندوں کے
انہی خوابوں کو اب تعبیر کا گھر کر گئے اقبال

سخن میں روح پھونکی ہے اس اندازِ محبت سے
کہ ہر اک حرف کو توصیفِ دلبر کر گئے اقبال

مٹائی ہے اندھیروں کی سیاہی اس طرح اے رندؔ
کہ حرفِ زیست کو تابندہ اختر کر گئے اقبال
رازق حُسین

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے