कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اُجّین کی شاہی مسجد:تین فٹ کا فاصلہ۔۔۔۔عدالتی فیصلے کے بعد سڑک پر اترا غصہ

تحریر:ڈاکٹر اسد اللہ خان

اُجّین مہاکال کی نگری ہے۔ اسی نگری کے پرانے حصے میں، گوپال مندر روڈ پر چھتری چوک کے پاس، ایک مسجد ہے جسے لوگ شاہی مسجد کہتے ہیں۔ اٹھائیس ستمبر کی صبح اسی مسجد کے سامنے آنسو گیس کے گولے چلے اور پتھر برسے۔ ملک نے ایک بار پھر وہ منظر دیکھا جس میں ترقی، عقیدہ اور قانون تینوں ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔ پنجاب کی جامعات کے بعد یہ اس ہفتے کا دوسرا واقعہ ہے جو ہمیں ایک ہی سوال کی طرف لوٹاتا ہے: جب بھروسا کمزور ہو جائے تو سچ بھی شک کے ترازو میں تولا جاتا ہے۔
دو ہزار اٹھائیس میں اُجّین میں سنہستھ کمبھ ہونا ہے، جو بارہ برس میں ایک بار آتا ہے اور جس میں زائرین کا بہت بڑا ہجوم متوقع ہے۔ اسی تیاری کے سلسلے میں کنٹال چوراہے سے گوپال مندر تک سڑک کو پندرہ میٹر چوڑا کیا جا رہا ہے۔ یہ کام اُجّین ماسٹر پلان دو ہزار پینتیس کا حصہ ہے، اور اس کی زد میں آنے والی تقریباً دو سو چوہتر عمارتوں کو نوٹس دیے جا چکے ہیں۔ شاہی مسجد کا ایک حصہ بھی اس مجوزہ سڑک کے راستے میں آتا ہے۔
میونسپل کارپوریشن نے چودہ، پچیس اور ستائیس اگست کو نوٹس دیے اور یکم ستمبر کو حتمی حکم جاری کیا۔ مسجد وقف جائیداد کے طور پر درج ہے۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق سڑک کی طرف والے حصے میں نماز کا ہال، ایک مینار اور ایک درگاہ واقع ہے۔ مسجد کی جانب سے عدالت میں کہا گیا کہ اس کارروائی سے نماز کے ہال کا کچھ حصہ اور ایک سو بیس فٹ اونچا مینار متاثر ہوگا، اور یہ کہ سڑک قریب کی خالی زمین یا باغ کی طرف سے بھی چوڑی کی جا سکتی ہے۔ مسجد کی عمر پر بھی اختلاف ہے۔ امام اور برادری کے نمائندے اسے تیرہ سو نوے عیسوی کی تعمیر بتاتے ہیں، جبکہ بعض رپورٹیں اسے تقریباً ایک صدی پرانا کہتی ہیں۔
نو ستمبر کو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اس کارروائی کو چیلنج کرنے والی دونوں درخواستیں خارج کر دیں۔ عدالت کے مطابق کارپوریشن نے ضابطے کی کارروائی پوری کی، اعتراض کا موقع دیا، اور سڑک کی توسیع وسیع تر عوامی مفاد میں ہے۔ عدالت نے مسجد کی طرف سے پیش کی گئی متبادل تجاویز کو حالات کے لحاظ سے ناقابلِ عمل قرار دیا۔ کارپوریشن نے معاوضے کے طور پر اضافی تعمیری رقبے کی پیش کش بھی کی تھی۔
اس فیصلے کا سب سے اہم حصہ وہ ہے جو امتیازی سلوک کے الزام سے متعلق ہے۔ عدالت نے ریکارڈ پر لیا کہ اسی سڑک پر دس مندروں اور ایک مسجد کے حصے پہلے ہی ہٹائے جا چکے ہیں، اور شہر میں تقریباً اسّی مذہبی مقامات کے خلاف کارروائی ہو چکی ہے۔ اس بنیاد پر عدالت نے یہ دلیل رد کر دی کہ صرف اس مسجد کو نشانہ بنایا گیا۔ مسجد کی جانب سے اس کے بعد ہائی کورٹ کی بڑی بینچ سے بھی رجوع کیا گیا ہے۔
اتوار کی رات مسجد کے باہر بلڈوزر کھڑے ہوئے تو ہجوم بڑھنے لگا۔ پیر کی صبح جب کارپوریشن نے کام شروع کیا تو پولیس پر پتھراؤ ہوا، جواب میں آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوا، اور ایک خاتون تھانہ انچارج زخمی ہو گئیں۔ پولیس نے دس افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے، جن میں سے پانچ سوشل میڈیا انفلوئنسر ہیں جن پر حالات بھڑکانے کا الزام ہے۔ یعنی یہاں بھی، پنجاب کی طرح، موبائل فون کی اسکرین نے سڑک کا درجۂ حرارت طے کیا۔
اس سارے ہنگامے میں ایک ستم ظریفی چھپی ہے۔ رپورٹوں کے مطابق رات بھر کی بات چیت کے بعد انتظامیہ اور مسجد والوں میں ایک مفاہمت ہو چکی تھی، اور پیر کو متاثرہ حصہ مسجد برادری کے لوگ خود ہٹا رہے تھے۔ شہر قاضی خلیق الرحمٰن کے مطابق تازہ مفاہمت کے تحت تقریباً تین فٹ کا حصہ ہٹایا جا رہا ہے جو نماز کے مرکزی ہال کو متاثر نہیں کرتا۔ قاضی صاحب نے لوگوں سے تناؤ پیدا نہ کرنے کی اپیل بھی کی۔ ضلع کلکٹر روشن کمار اور ایس پی پردیپ شرما نے بھی برادری اور کمیٹی کے تعاون کا ذکر کیا۔ یعنی جس وقت ذمہ دار قیادت بات چیت سے راستہ نکال چکی تھی، ٹھیک اسی وقت سڑک پر پتھر چل رہے تھے۔
یہ کہہ دینا آسان ہے کہ عدالت فیصلہ دے چکی، بات ختم۔ مگر ایک لکھنے والے کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اتنے لوگ سڑک پر کیوں آئے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مذہبی مقام ہونے کے باوجود مسجد کے ساتھ دوسری عمارتوں سے الگ سلوک کیا جا رہا ہے۔ بعض اشاعتوں نے قریب کے ایک مندر کے بچ جانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ دوسری طرف عدالت کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ اسی سڑک پر دس مندروں کے حصے بھی ہٹائے گئے ہیں۔ اسی طرح کچھ حلقے اس احتجاج کو عدالتی فیصلے کے خلاف سڑک کی طاقت آزمانے کی کوشش کہہ رہے ہیں۔ یہ دونوں بیانیے ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے، بس ایک دوسرے پر چیختے ہیں۔
عدالت کا ریکارڈ ایک بات کہتا ہے، مگر تاثر ریکارڈ نہیں پڑھتا۔ پچھلے برسوں میں ملک کے مختلف حصوں میں مسجدوں، مزاروں اور وقف جائیدادوں سے جڑے تنازعات نے ایک بڑی آبادی کے دل میں یہ اندیشہ بٹھا دیا ہے کہ قانون کی زبان ایک ہو سکتی ہے مگر اس کا لہجہ سب کے لیے ایک نہیں ہوتا۔ یہ اندیشہ درست ہو یا مبالغہ، ایک حقیقت ضرور ہے، اور جو حکومت اسے نظرانداز کرتی ہے وہ ہر بلڈوزر کے ساتھ ایک نیا اندیشہ بھی بھیج دیتی ہے۔
ہماری اپنی تاریخ میں اس کا بہتر راستہ موجود ہے۔ دو ہزار انیس کے کمبھ سے پہلے الٰہ آباد میں سڑکوں کی توسیع کے لیے مسلمانوں نے دو مسجدوں کے حصے کسی احتجاج کے بغیر خود ہٹا دیے تھے۔ ان میں سے ایک مسجد انیس سو بارہ کی تعمیر تھی، اور اس کا حصہ رمضان کے مہینے میں ہٹایا گیا۔ مسجد کے متولی نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ برادری کی رضامندی سے اور زائرین کی سہولت کے لیے کیا گیا۔ اس وقت سارے ملک نے اسے گنگا جمنی تہذیب کی مثال کہا تھا۔ اُجّین میں بھی قیادت نے یہی راستہ اختیار کیا، مگر کچھ جذباتی ہاتھوں نے اس کا اثر مٹی میں ملا دیا۔
اپنی برادری سے میری گزارش سیدھی ہے۔ پتھر سے کسی مسجد کی حفاظت نہیں ہوتی۔ مسجد کی عزت اس کے نمازیوں کے کردار سے ہوتی ہے، اور جب ہم عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا چکے ہوں تو باقی لڑائی بھی عدالت اور قانون کے دائرے میں ہی لڑنی چاہیے۔ جو لوگ سوشل میڈیا پر بیٹھ کر نوجوانوں کو اکساتے ہیں، وہ خود کبھی آنسو گیس کے سامنے نہیں ہوتے۔ نقصان ہمیشہ اسی نوجوان کا ہوتا ہے جس کا نام ایف آئی آر میں لکھا جاتا ہے۔
انتظامیہ کی ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑی ہے۔ انصاف صرف ہونا نہیں چاہیے، ہوتا ہوا دکھائی بھی دینا چاہیے۔ اگر اس سڑک پر ہر مذہب کی عمارتوں کے حصے ہٹائے گئے ہیں تو اس کی مکمل فہرست عوام کے سامنے رکھی جائے، تاکہ افواہ کو پنپنے کی جگہ نہ ملے۔ بات چیت بلڈوزر پہنچنے سے پہلے ہو، بعد میں نہیں۔ اور حالات بھڑکانے والوں کے خلاف کارروائی ہر طرف یکساں ہو، چاہے وہ کسی بھی برادری سے ہوں۔
خبروں میں تنازع دس فٹ کے حصے پر بتایا گیا تھا، اور شہر قاضی کے مطابق آخری مفاہمت تقریباً تین فٹ پر ہوئی۔ یہ تین فٹ بتاتے ہیں کہ بات چیت سے کتنا کچھ حاصل ہو سکتا ہے۔ اصل فاصلہ مگر وہ ہے جو ایک شہری اور اس کی حکومت کے درمیان بھروسے کا ہے۔ یہ فاصلہ نہ پتھر سے کم ہوتا ہے نہ لاٹھی سے۔ اسے صرف انصاف کم کر سکتا ہے، اور وہ انصاف جو سب کو ایک جیسا دکھائی دے۔
اُجّین کی شاہی مسجد:تین فٹ کا فاصلہ
عدالتی فیصلے کے بعد سڑک پر اترا غصہ
ڈاکٹر اسد اللہ خان
اُجّین مہاکال کی نگری ہے۔ اسی نگری کے پرانے حصے میں، گوپال مندر روڈ پر چھتری چوک کے پاس، ایک مسجد ہے جسے لوگ شاہی مسجد کہتے ہیں۔ اٹھائیس ستمبر کی صبح اسی مسجد کے سامنے آنسو گیس کے گولے چلے اور پتھر برسے۔ ملک نے ایک بار پھر وہ منظر دیکھا جس میں ترقی، عقیدہ اور قانون تینوں ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔ پنجاب کی جامعات کے بعد یہ اس ہفتے کا دوسرا واقعہ ہے جو ہمیں ایک ہی سوال کی طرف لوٹاتا ہے: جب بھروسا کمزور ہو جائے تو سچ بھی شک کے ترازو میں تولا جاتا ہے۔
دو ہزار اٹھائیس میں اُجّین میں سنہستھ کمبھ ہونا ہے، جو بارہ برس میں ایک بار آتا ہے اور جس میں زائرین کا بہت بڑا ہجوم متوقع ہے۔ اسی تیاری کے سلسلے میں کنٹال چوراہے سے گوپال مندر تک سڑک کو پندرہ میٹر چوڑا کیا جا رہا ہے۔ یہ کام اُجّین ماسٹر پلان دو ہزار پینتیس کا حصہ ہے، اور اس کی زد میں آنے والی تقریباً دو سو چوہتر عمارتوں کو نوٹس دیے جا چکے ہیں۔ شاہی مسجد کا ایک حصہ بھی اس مجوزہ سڑک کے راستے میں آتا ہے۔
میونسپل کارپوریشن نے چودہ، پچیس اور ستائیس اگست کو نوٹس دیے اور یکم ستمبر کو حتمی حکم جاری کیا۔ مسجد وقف جائیداد کے طور پر درج ہے۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق سڑک کی طرف والے حصے میں نماز کا ہال، ایک مینار اور ایک درگاہ واقع ہے۔ مسجد کی جانب سے عدالت میں کہا گیا کہ اس کارروائی سے نماز کے ہال کا کچھ حصہ اور ایک سو بیس فٹ اونچا مینار متاثر ہوگا، اور یہ کہ سڑک قریب کی خالی زمین یا باغ کی طرف سے بھی چوڑی کی جا سکتی ہے۔ مسجد کی عمر پر بھی اختلاف ہے۔ امام اور برادری کے نمائندے اسے تیرہ سو نوے عیسوی کی تعمیر بتاتے ہیں، جبکہ بعض رپورٹیں اسے تقریباً ایک صدی پرانا کہتی ہیں۔
نو ستمبر کو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اس کارروائی کو چیلنج کرنے والی دونوں درخواستیں خارج کر دیں۔ عدالت کے مطابق کارپوریشن نے ضابطے کی کارروائی پوری کی، اعتراض کا موقع دیا، اور سڑک کی توسیع وسیع تر عوامی مفاد میں ہے۔ عدالت نے مسجد کی طرف سے پیش کی گئی متبادل تجاویز کو حالات کے لحاظ سے ناقابلِ عمل قرار دیا۔ کارپوریشن نے معاوضے کے طور پر اضافی تعمیری رقبے کی پیش کش بھی کی تھی۔
اس فیصلے کا سب سے اہم حصہ وہ ہے جو امتیازی سلوک کے الزام سے متعلق ہے۔ عدالت نے ریکارڈ پر لیا کہ اسی سڑک پر دس مندروں اور ایک مسجد کے حصے پہلے ہی ہٹائے جا چکے ہیں، اور شہر میں تقریباً اسّی مذہبی مقامات کے خلاف کارروائی ہو چکی ہے۔ اس بنیاد پر عدالت نے یہ دلیل رد کر دی کہ صرف اس مسجد کو نشانہ بنایا گیا۔ مسجد کی جانب سے اس کے بعد ہائی کورٹ کی بڑی بینچ سے بھی رجوع کیا گیا ہے۔
اتوار کی رات مسجد کے باہر بلڈوزر کھڑے ہوئے تو ہجوم بڑھنے لگا۔ پیر کی صبح جب کارپوریشن نے کام شروع کیا تو پولیس پر پتھراؤ ہوا، جواب میں آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوا، اور ایک خاتون تھانہ انچارج زخمی ہو گئیں۔ پولیس نے دس افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے، جن میں سے پانچ سوشل میڈیا انفلوئنسر ہیں جن پر حالات بھڑکانے کا الزام ہے۔ یعنی یہاں بھی، پنجاب کی طرح، موبائل فون کی اسکرین نے سڑک کا درجۂ حرارت طے کیا۔
اس سارے ہنگامے میں ایک ستم ظریفی چھپی ہے۔ رپورٹوں کے مطابق رات بھر کی بات چیت کے بعد انتظامیہ اور مسجد والوں میں ایک مفاہمت ہو چکی تھی، اور پیر کو متاثرہ حصہ مسجد برادری کے لوگ خود ہٹا رہے تھے۔ شہر قاضی خلیق الرحمٰن کے مطابق تازہ مفاہمت کے تحت تقریباً تین فٹ کا حصہ ہٹایا جا رہا ہے جو نماز کے مرکزی ہال کو متاثر نہیں کرتا۔ قاضی صاحب نے لوگوں سے تناؤ پیدا نہ کرنے کی اپیل بھی کی۔ ضلع کلکٹر روشن کمار اور ایس پی پردیپ شرما نے بھی برادری اور کمیٹی کے تعاون کا ذکر کیا۔ یعنی جس وقت ذمہ دار قیادت بات چیت سے راستہ نکال چکی تھی، ٹھیک اسی وقت سڑک پر پتھر چل رہے تھے۔
یہ کہہ دینا آسان ہے کہ عدالت فیصلہ دے چکی، بات ختم۔ مگر ایک لکھنے والے کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اتنے لوگ سڑک پر کیوں آئے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مذہبی مقام ہونے کے باوجود مسجد کے ساتھ دوسری عمارتوں سے الگ سلوک کیا جا رہا ہے۔ بعض اشاعتوں نے قریب کے ایک مندر کے بچ جانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ دوسری طرف عدالت کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ اسی سڑک پر دس مندروں کے حصے بھی ہٹائے گئے ہیں۔ اسی طرح کچھ حلقے اس احتجاج کو عدالتی فیصلے کے خلاف سڑک کی طاقت آزمانے کی کوشش کہہ رہے ہیں۔ یہ دونوں بیانیے ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے، بس ایک دوسرے پر چیختے ہیں۔
عدالت کا ریکارڈ ایک بات کہتا ہے، مگر تاثر ریکارڈ نہیں پڑھتا۔ پچھلے برسوں میں ملک کے مختلف حصوں میں مسجدوں، مزاروں اور وقف جائیدادوں سے جڑے تنازعات نے ایک بڑی آبادی کے دل میں یہ اندیشہ بٹھا دیا ہے کہ قانون کی زبان ایک ہو سکتی ہے مگر اس کا لہجہ سب کے لیے ایک نہیں ہوتا۔ یہ اندیشہ درست ہو یا مبالغہ، ایک حقیقت ضرور ہے، اور جو حکومت اسے نظرانداز کرتی ہے وہ ہر بلڈوزر کے ساتھ ایک نیا اندیشہ بھی بھیج دیتی ہے۔
ہماری اپنی تاریخ میں اس کا بہتر راستہ موجود ہے۔ دو ہزار انیس کے کمبھ سے پہلے الٰہ آباد میں سڑکوں کی توسیع کے لیے مسلمانوں نے دو مسجدوں کے حصے کسی احتجاج کے بغیر خود ہٹا دیے تھے۔ ان میں سے ایک مسجد انیس سو بارہ کی تعمیر تھی، اور اس کا حصہ رمضان کے مہینے میں ہٹایا گیا۔ مسجد کے متولی نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ برادری کی رضامندی سے اور زائرین کی سہولت کے لیے کیا گیا۔ اس وقت سارے ملک نے اسے گنگا جمنی تہذیب کی مثال کہا تھا۔ اُجّین میں بھی قیادت نے یہی راستہ اختیار کیا، مگر کچھ جذباتی ہاتھوں نے اس کا اثر مٹی میں ملا دیا۔
اپنی برادری سے میری گزارش سیدھی ہے۔ پتھر سے کسی مسجد کی حفاظت نہیں ہوتی۔ مسجد کی عزت اس کے نمازیوں کے کردار سے ہوتی ہے، اور جب ہم عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا چکے ہوں تو باقی لڑائی بھی عدالت اور قانون کے دائرے میں ہی لڑنی چاہیے۔ جو لوگ سوشل میڈیا پر بیٹھ کر نوجوانوں کو اکساتے ہیں، وہ خود کبھی آنسو گیس کے سامنے نہیں ہوتے۔ نقصان ہمیشہ اسی نوجوان کا ہوتا ہے جس کا نام ایف آئی آر میں لکھا جاتا ہے۔
انتظامیہ کی ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑی ہے۔ انصاف صرف ہونا نہیں چاہیے، ہوتا ہوا دکھائی بھی دینا چاہیے۔ اگر اس سڑک پر ہر مذہب کی عمارتوں کے حصے ہٹائے گئے ہیں تو اس کی مکمل فہرست عوام کے سامنے رکھی جائے، تاکہ افواہ کو پنپنے کی جگہ نہ ملے۔ بات چیت بلڈوزر پہنچنے سے پہلے ہو، بعد میں نہیں۔ اور حالات بھڑکانے والوں کے خلاف کارروائی ہر طرف یکساں ہو، چاہے وہ کسی بھی برادری سے ہوں۔
خبروں میں تنازع دس فٹ کے حصے پر بتایا گیا تھا، اور شہر قاضی کے مطابق آخری مفاہمت تقریباً تین فٹ پر ہوئی۔ یہ تین فٹ بتاتے ہیں کہ بات چیت سے کتنا کچھ حاصل ہو سکتا ہے۔ اصل فاصلہ مگر وہ ہے جو ایک شہری اور اس کی حکومت کے درمیان بھروسے کا ہے۔ یہ فاصلہ نہ پتھر سے کم ہوتا ہے نہ لاٹھی سے۔ اسے صرف انصاف کم کر سکتا ہے، اور وہ انصاف جو سب کو ایک جیسا دکھائی دے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے