कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

انڈیا محاذ: شکست خوردہ جماعتوں کی نئی صف بندی

تحریر:ڈاکٹر سید تابش امام
کاکو، جہان آباد
رابطہ۔۔۔۔9934933992

سیاست میں شکست کسی جماعت یا اتحاد کا خاتمہ نہیں ہوتی بلکہ بسا اوقات یہی ناکامی نئی حکمت عملی، نئے سیاسی امکانات اور ازسرِ نو صف بندی کی بنیاد بن جاتی ہے۔ ہندوستان میں حزبِ اختلاف کی موجودہ صورتحال کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں جن علاقائی جماعتوں اور رہنماؤں کو اپنے اپنے صوبوں میں ناقابلِ شکست تصور کیا جاتا تھا، آج ان میں سے بیشتر دفاعی پوزیشن میں دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ اقتدار سے محروم ہو چکے ہیں، کچھ اپنی سیاسی حیثیت بچانے کی جدوجہد میں مصروف ہیں اور بعض اپنی جماعت کے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ایسے حالات میں دہلی میں منعقدہ انڈیا محاذ کے حالیہ اجلاس کو محض ایک رسمی سرگرمی قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ اسے حزبِ اختلاف کی بقا، نئی ترتیب اور آئندہ کے لائحۂ عمل کی تلاش کے طور پر بھی دیکھا جانا چاہیے۔
تقریباً دو برس قبل انڈیا محاذ کی تشکیل ایسے وقت میں ہوئی تھی جب ملک کی سیاست میں بی جے پی اپنی طاقت کے عروج پر دکھائی دے رہی تھی۔ ایک طرف نریندر مودی کی قیادت میں حکمراں جماعت مسلسل انتخابی کامیابیاں حاصل کر رہی تھی، دوسری طرف مخالف قوتیں منتشر، مایوس اور قیادت کے بحران کا شکار نظر آ رہی تھیں۔ ایسے ماحول میں مختلف نظریات، ترجیحات اور علاقائی مفادات رکھنے والی جماعتوں کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا خود ایک اہم پیش رفت تھی۔ اگرچہ ابتدا ہی سے اس اتحاد کی کامیابی پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے، لیکن اس نے کم از کم یہ ثابت کر دیا کہ ہندوستانی سیاست مکمل طور پر یک قطبی نہیں ہوئی ہے اور حکمراں جماعت کے مقابل ایک متبادل قوت اب بھی موجود ہے۔
2024 کے عام انتخابات سے قبل ملک کا منظرنامہ تقریباً یکطرفہ دکھائی دیتا تھا۔ رام مندر کے افتتاح کے بعد پیدا ہونے والی فضا، مسلسل کامیابیاں اور ’’اب کی بار چار سو پار‘‘ جیسے نعروں نے یہ تاثر مضبوط کر دیا تھا کہ بی جے پی کو روکنا آسان نہیں ہوگا۔ عام رائے بھی یہی تھی کہ حزبِ اختلاف کے لیے کوئی نمایاں کامیابی حاصل کرنا دشوار ہوگا۔ تاہم انتخابی نتائج نے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ جمہوری نظام میں حتمی فیصلہ عوام ہی کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ مخالف جماعتوں کی محدود مگر مؤثر ہم آہنگی نے حکمراں جماعت کو مکمل اکثریت سے محروم کر دیا اور یہ پیغام دیا کہ اگر اختلافات کو پسِ پشت ڈال دیا جائے تو مضبوط ترین قوت کو بھی چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
تاہم یہ کامیابی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔ انتخابات کے فوراً بعد وہی اختلافات دوبارہ سر اٹھانے لگے جنہوں نے ماضی میں بھی کئی اتحادوں کو کمزور کیا تھا۔ مختلف ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات نے واضح کر دیا کہ صرف انتخابی مفاہمت کافی نہیں ہوتی بلکہ مستقل ہم آہنگی، مشترکہ جدوجہد اور باہمی اعتماد بھی ضروری ہوتا ہے۔ جب اتحادی جماعتیں ایک دوسرے کو رفیقِ سفر کے بجائے حریف کے طور پر دیکھنے لگیں تو مشترکہ محاذ کی بنیادیں متزلزل ہونا فطری امر بن جاتا ہے۔ انڈیا محاذ کے ساتھ بھی کم و بیش یہی صورتحال پیش آئی۔
ہندوستانی سیاست میں علاقائی جماعتوں کا کردار ہمیشہ فیصلہ کن رہا ہے۔ مغربی بنگال، تمل ناڈو، اتر پردیش، بہار، دہلی اور مہاراشٹر جیسی ریاستوں میں ان جماعتوں نے نہ صرف طویل عرصے تک حکومتیں قائم کیں بلکہ قومی منظرنامے کی سمت متعین کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ لیکن گزشتہ چند برسوں کے دوران حالات تیزی سے تبدیل ہوئے ہیں۔ جن رہنماؤں کو کبھی اپنی ریاستوں کا سب سے طاقتور چہرہ سمجھا جاتا تھا، آج وہ مختلف مشکلات اور چیلنجوں سے دوچار ہیں۔ اس صورتحال نے ایک حقیقت کو مزید نمایاں کر دیا ہے کہ موجودہ حالات میں قومی سطح پر بی جے پی کا مقابلہ کسی ایک جماعت یا کسی ایک رہنما کے لیے آسان نہیں رہا۔
انڈیا محاذ کی کمزوریوں کا جائزہ لیا جائے تو سب سے نمایاں مسئلہ باہمی اعتماد کے فقدان کا نظر آتا ہے۔ اتحاد میں شامل بیشتر جماعتیں مختلف ریاستوں میں ایک دوسرے کی حریف بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قومی سطح پر اشتراک کے باوجود ریاستی سطح پر کشیدگی اور رقابت برقرار رہتی ہے۔ جبکہ مخالف قوتوں کی سب سے بڑی طاقت ان کی اجتماعی قوت ہو سکتی تھی، بدقسمتی سے یہی پہلو سب سے کمزور ثابت ہوا۔ ہر جماعت اپنے مفادات کے تحفظ میں زیادہ مصروف رہی، نتیجتاً مشترکہ مقصد پس منظر میں چلا گیا۔
دوسری جانب بی جے پی نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران ایک مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کیا ہے۔ پارٹی کی قیادت، کارکنوں کا وسیع نیٹ ورک، واضح بیانیہ اور مسلسل انتخابی تیاری اسے دیگر جماعتوں سے ممتاز بناتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف چیلنجوں اور انتخابی دھچکوں کے باوجود وہ خود کو تیزی سے منظم کر لیتی ہے۔ جہاں مخالف جماعتوں میں قیادت اور حکمت عملی کے سوالات پر اختلافات سامنے آتے رہتے ہیں، وہیں بی جے پی نسبتاً زیادہ نظم و ضبط اور تنظیمی یکسوئی کے ساتھ آگے بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔
تاہم جمہوری نظام میں طاقتور حکومت جتنی ضروری ہوتی ہے، اتنی ہی اہم ایک مؤثر اور ذمہ دار اپوزیشن بھی ہوتی ہے۔ حزبِ اختلاف کا کام صرف انتخابات جیتنا نہیں بلکہ حکومت کا احتساب کرنا، لوگوں کے مسائل کو اجاگر کرنا اور جمہوری اداروں کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنا بھی ہے۔ اگر اپوزیشن کمزور ہو جائے تو جمہوری توازن متاثر ہوتا ہے اور عوامی مسائل اقتدار کے ایوانوں تک مؤثر انداز میں نہیں پہنچ پاتے۔ اسی لیے انڈیا محاذ کی کامیابی یا ناکامی صرف چند جماعتوں کا معاملہ نہیں بلکہ ہندوستانی جمہوریت کے مستقبل سے بھی وابستہ ہے۔
ملک اس وقت کئی اہم اور پیچیدہ چیلنجوں سے دوچار ہے۔ بے روزگاری نوجوانوں کی سب سے بڑی تشویش بنی ہوئی ہے۔ مہنگائی نے متوسط اور غریب طبقے کی مشکلات میں مسلسل اضافہ کیا ہے۔ کسان معاشی مسائل سے نبرد آزما ہیں جبکہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی متعدد سوالات موجود ہیں۔ یہ وہ موضوعات ہیں جن پر اپوزیشن ایک مضبوط عوامی تحریک برپا کر سکتی تھی، لیکن اکثر مواقع پر اس کی توجہ داخلی تنازعات، قیادت کی کشمکش اور سیاسی برتری کی بحثوں میں الجھی رہی۔ نتیجتاً زمینی مسائل وہ اہمیت حاصل نہ کر سکے جس کے وہ مستحق تھے۔
انڈیا محاذ کے مستقبل کے حوالے سے سب سے زیادہ توجہ کانگریس پر مرکوز ہے۔ ملک کی سب سے قدیم جماعت ہونے کے ناطے اس کی ذمہ داریاں بھی دوسروں سے کہیں زیادہ ہیں۔ اگرچہ گزشتہ برسوں میں کانگریس کو متعدد انتخابی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن آج بھی وہ حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی قوت ہے۔ اس کے پاس قومی سطح کا تنظیمی ڈھانچہ، تجربہ کار قیادت اور مختلف ریاستوں میں سیاسی موجودگی موجود ہے۔ اسی لیے اس محاذ کی سمت اور رفتار کا انحصار بڑی حد تک کانگریس کے رویے، سیاسی بصیرت اور حکمت عملی پر ہوگا۔
کانگریس کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کا اعتماد برقرار رکھے۔ اگر وہ بڑی جماعت ہونے کے باوجود اشتراک، مفاہمت اور سیاسی فراخ دلی کا مظاہرہ کرتی ہے تو محاذ کو نئی توانائی مل سکتی ہے۔ لیکن اگر قیادت کا سوال مسلسل تنازع کا باعث بنتا رہا تو مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔ اس لیے کانگریس کو وسیع تر مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے لچک اور قربانی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
علاقائی جماعتوں کے لیے بھی یہ وقت سنجیدہ غور و فکر کا متقاضی ہے۔ گزشتہ چند انتخابات نے واضح کر دیا ہے کہ محض علاقائی اثر و رسوخ قومی سطح پر کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتا۔ بدلتے ہوئے حالات میں مشترکہ جدوجہد، وسیع تر تعاون اور باہمی اعتماد کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اسی باعث بیشتر علاقائی جماعتیں آج اشتراکِ عمل کی اہمیت کو ماضی کے مقابلے میں زیادہ شدت سے محسوس کر رہی ہیں۔
تاہم اتحاد صرف نشستوں کی تقسیم یا مشترکہ جلسوں سے مضبوط نہیں ہوتے۔ ان کے لیے ایک واضح نظریاتی سمت، مشترکہ بیانیہ اور عوامی ایجنڈا بھی ضروری ہوتا ہے۔ انڈیا محاذ کے سامنے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ وہ عوام کے سامنے ایسا کیا متبادل پیش کرے گا جو محض حکومت مخالف سیاست تک محدود نہ ہو بلکہ بہتر حکمرانی، معاشی استحکام، سماجی انصاف اور ترقی کا قابلِ عمل خاکہ بھی فراہم کرے۔ لوگ صرف تنقید نہیں سننا چاہتے بلکہ مسائل کا مؤثر اور قابلِ اعتماد حل بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔
آج کا نوجوان روزگار، معیاری تعلیم اور روشن مستقبل کا خواہاں ہے۔ کسان اپنی پیداوار کا مناسب معاوضہ چاہتے ہیں۔ متوسط طبقہ مہنگائی سے نجات کا طالب ہے اور کاروباری حلقے معاشی استحکام کے متمنی ہیں۔ اگر اپوزیشن ان طبقات کے حقیقی مسائل کو اپنی جدوجہد کا مرکز بنائے تو وہ دوبارہ عوامی اعتماد حاصل کر سکتی ہے۔ لیکن اگر اس کی توجہ صرف اقتدار کے حصول تک محدود رہی تو عوام اسے سنجیدگی سے نہیں لیں گے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہندوستان کی نئی نسل ماضی کے سیاسی نعروں سے زیادہ متاثر نہیں ہوتی۔ وہ نتائج دیکھنا چاہتی ہے، وعدوں کی تکمیل چاہتی ہے اور عملی سیاست کو ترجیح دیتی ہے۔ اسی لیے مستقبل کی سیاست میں وہی جماعتیں کامیاب ہوں گی جو نوجوانوں کی امنگوں، عوامی توقعات اور بدلتے ہوئے سماجی و معاشی تقاضوں کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں گی۔
انڈیا محاذ کے لیے حالات یقیناً آسان نہیں ہیں، لیکن سیاست میں مشکلات ہی نئے امکانات کی راہیں ہموار کرتی ہیں۔ اگر یہ اتحاد اپنی خامیوں کا دیانت داری سے جائزہ لے، اختلافات کو محدود کرے اور لوگوں کے مسائل کو اپنی جدوجہد کا محور بنائے تو دوبارہ ایک مؤثر قوت کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ لیکن اگر ماضی کی طرح انا، باہمی رقابت اور وقتی مفادات غالب رہے تو اس کا مستقبل بھی غیر یقینی رہے گا۔
آج حزبِ اختلاف ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ اس کے سامنے دو راستے ہیں۔ ایک راستہ انتشار، کمزوری اور سیاسی تنہائی کی طرف جاتا ہے، جبکہ دوسرا اتحاد، عوامی جدوجہد اور نئے اعتماد کی جانب۔ آنے والے برسوں میں یہی طے ہوگا کہ مخالف جماعتیں کون سا راستہ اختیار کرتی ہیں۔ تاہم ایک حقیقت بالکل واضح ہے کہ جمہوریت میں سیاسی خلا زیادہ دیر تک باقی نہیں رہتا۔ جو قوت لوگوں کے مسائل کو اپنی ترجیح بنائے گی، ان کی امیدوں کی ترجمان بنے گی اور بہتر مستقبل کا قابلِ اعتماد خاکہ پیش کرے گی، کامیابی بالآخر اسی کے حصے میں آئے گی۔
انڈیا محاذ کے لیے اصل امتحان اب شروع ہوا ہے۔ یہ امتحان محض انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کا نہیں بلکہ خود کو ایک سنجیدہ، ذمہ دار اور قابلِ اعتماد متبادل کے طور پر منوانے کا ہے۔ اگر یہ اتحاد اپنی خامیوں کا ادراک کرتے ہوئے عوامی توقعات اور زمینی مسائل کو اپنی جدوجہد کا مرکز بناتا ہے تو ہندوستانی سیاست میں ایک نئی سمت اور نئی بحث کی ابتداء کر سکتا ہے۔ لیکن اگر باہمی رقابت، قیادت کی کشمکش اور وقتی مفادات ہی غالب رہے تو اس کے امکانات محدود ہوتے جائیں گے۔ جمہوری سیاست میں پائیدار کامیابی اسی قوت کو حاصل ہوتی ہے جو عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل کی ترجمانی کرے اور اقتدار کے حصول سے زیادہ عوامی اعتماد کو اپنی اصل طاقت بنائے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے