कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

علامہ اقبال -کلام اور پیام-مختصر جائزہ

تحریر:نعیم الرحمن صدیقی ندوی
9335929670

حکیم امت، کلیم ملت اور شاعر اسلام علامہ سر محمد اقبالؒ کی ولادت باسعادت ۹؍نومبر ۱۸۷۷ء؁ مطابق ۳؍ ذی قعدہ ۱۲۹۴ھ؁ کو سیال کوٹ( پنجاب، پاکستان)میں ہوئی۔ ان کے والد ماجد کا نام شیخ نور محمد تھا۔ وہ کشمیر کے سپرو برہمنوں کی نسل سے تھے۔
علامہ کی ابتدائی تعلیم وتربیت سیال کوٹ میں مولانا میر سید حسن کے مدرسے میں ہوئی۔ اس کے بعد ان کی اعلیٰ تعلیم مرے کالج سیال کوٹ،کیمبرج یونی ورسٹی، انگلستان، میونخ یونی ورسٹی، جرمنی، گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی لاہور، پاکستان، ہائیڈل برگ یونی ورسٹی، جرمنی اور اورینٹل کالج لاہور میں ہوئی ۔
تکمیل درسیات کے بعد وہ ایک فلسفی، مصنف، شاعر، ادیب، مترجم، سیاست داں، وکیل، مفکر اور دانائے راز کی حیثیت سے مشہور ومعروف ہوئے۔
ان کے کلام بلاغت نظام کے مجموعے ،اسرار خودی،رموز بے خودی، پیام مشرق، بانگ درا، زبور عجم، جاوید نامہ، بال جبریل، ضرب کلیم، پس چہ باید کرد اے اقوام مشرق اور ارمغان حجاز فارسی او راردو میں مشہور ومقبول ہیں۔ ان کے اردو کلام کامجموعہ’’کلیات اقبال‘‘ ہے جواپنی محبوبیت ومقبولیت میں اپنی مثال آپ ہے ۔
علامہ اقبال اپنے اعلیٰ اسلامی افکار، نظریات وخیالات، فلسفہ خودی، مغربی تہذیب وتمدن پر تعمیری تنقید اور مشرقی واسلامی تہذیب،ثقافت اور تمدن کی مدافعت نیز ان کا تفوق ثابت کرنے کے لیے نمایاں ہیں۔
طلوع اسلام، مسجد قرطبہ، ساقی نامہ، شکوہ جواب شکوہ اور بچے کی دعا’’لب پہ آتی ہے دعا‘‘ جیسی ا ن کی نظمیں بہت مقبول ہیں۔ ان کا لکھاہواترانہ وطنی’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘ حب الوطنی کے باب میں ایک مثال ہے۔ اسی طرح ان کا ترانہ ملی ’’چین وعرب ہماراہندوستاںہمارا‘‘ آج بھی سروں میں جوش اور دلوں میں ولولہ پیداکردیتاہے۔’’ہندوستانی بچوں کا قومی گیت‘‘،’’رام‘‘اور ’’نیاشوالہ‘‘ نامی نظمیں آج بھی معاشرے میں قومی یک جہتی، مذہبی ہم آہنگی،باہمی رواداری، آپسی اتحاد، ہندومسلم بھائی چارہ، قدیم ترین گنگاجمنی تہذیب اور وطن عزیز کی مشترک ثقافت کو فروغ دینے اور اس کی حفاظت کا کام خوش اسلوبی سے کررہی ہیں۔
مولانا عبد الماجد دریابادی ؒدہلی ریڈیو اسٹیشن سے نشر اپنے ایک نشریے میں ’’شکوہ اور جواب شکوہ‘‘کا مختصر تجزیہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
’’جو زبان خوگر تھی حمدوثنا ومناجات کی، وہ آخر اک بارگلے وشکوے پر کھلی۔یایوں کہیے کہ کھلوائی گئی۔ آقاکا کرم جب خو دنازبرداری پرآمادہ ہوجائے تو کون بندہ ہے جو ’’نیاز‘‘ کے فرش زمیں کو چھوڑ کر’’ناز‘‘ کی فضا میں نہ اڑنے لگے۔ عبدیت کی دنیا میں سنتے ہیں کہ گریہ یعقوبؑ کے ساتھ ساتھ ایک منزل تبسم سلیمانیؑ کی بھی تو آتی ہے۔
اقبال کے شکوے میں (شاعر اس وقت تک شاعر اسلام بن چکاتھا) بندہ اپنے خالق سے گویا روٹھ کر کہتاہے کہ واہ بے گانوں پر، باغیوں پر، سرکشوں پر تو لطف ونوازش کی یہ بارشیں اور ہم اہل توحید کی یہ حالت زار، کیا یہی ہماری وفا کیشی کا صلہ ہے؟ یہی ہماری توحید پرستی کا انعام ہے؟
کون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئی؟
اور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئی؟
کس کی شمشیر جہانگیر جہاندار ہوئی؟
کس کی تکبیر سے دنیا تیری بیدار ہوئی؟
لیکن ’’شکوہ ‘‘نام ہی کاشکوہ ہے،مضمون وہی حمدومناجات کا اس لفافہ کے اندر بھی موجود ہے۔ ہرطنز میں عبدیت کی چاشنی، ہرگلے میں توحید پرستی کی شیرینی۔
اقبال کی اردو شاعری کی شہرت وعظمت کی اصل بنیاد یہی شکوہ ہے۔ خوب چلا ،خوب پھیلا۔ جو کچھ بھی نہ سمجھے انہوں نے بھی مزے لے لے کر پڑھا اور جومطلب بالکل الٹا سمجھے، انہیں تو اپنی گویا آزاد خیالی کے لیے ایک سند ودستاویز ہاتھ آگئی۔
حکیم ملت کہ ملت کا نباض تھا، قوم کے رگ وریشے سے واقف تھا، بھانپ گیا کہ جو آب حیات کا قطرہ تھا وہ شیشوں اور گلاسوں تک پہنچتے پہنچتے زہر کی بوند بن گیا۔ معاً پلٹا اور شکوہ کے جواب میں ’’جواب شکوہ‘‘ کہہ ڈالا۔ جوش وخروش وہی، زور بیان وہی۔ البتہ حقائق زائد۔ حقیقتوں کی تعبیر کھلی ہوئی اور صداقتوں کا اظہار فاش وبرملا۔ جواب کا حاصل یہ ہے کہ وہ ’’وعدے تو مسلموں اور پرستاران توحید کے لیے تھے ، تم مسلم اور موحد ہوکب؟ نظر قال پر نہیں اپنے حال پرکرو۔ اپنے اعمال پرکرو‘‘۔
باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو
پھر پسر قابل میراث پدر کیوں کر ہو؟
حیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہے
تم کو اسلاف سے کیا نسبتِ روحانی ہے؟
عوام اپنے جذبات کی ترجمانی’’شکوہ‘‘ میں زیادہ پاتے ہیں اس لیے پست مذاق طبقہ آج تک شکوہ پسند ہی چلاآرہاہے، حالاں کہ’’جواب شکوہ‘‘ کی سطح’’شکوہ‘‘ سے کہیں بلند ہے۔ ’’شکوہ‘‘ والا اقبال ایک صاحب حال سالک ہے’’جواب شکوہ‘‘ والا اقبال ایک صاحب مقام عارف ہے۔ پہلے کے قدم اقلیم کی وادیوں میں۔دوسرے کی نگاہ فضائے روح کی بلندیوں میں‘‘۔ (ملاحظہ ہو : نشریات ماجدی ص ۴۱،۴۲)
علامہ اقبال آج بھی اردو والوں کے دل ودماغ میں رہتے ہیں۔ علم ودانش، تفکر وتدبراورحکمت ودانائی سے لب ریز ان کی نظمیں اور اشعار علمائے کرام، اساتذہ کرام،مقررین اور اہل قلم کی تحریروں اور تقریروں کی جان ہوتے ہیں۔ بیت بازی میں طلبائے عزیز ان کے اشعار بڑے اہتمام سے سناتے ہیں اور فاتح قرارپاتے ہیں۔
اقبال نے اسلام کی آفاقی تعلیمات کی تبلیغ واشاعت کا ذریعہ اپنی شاعری کو بنایا۔ اسلامی نشاۃ ثانیہ کی خواہش، ملت اسلامیہ کی شان وشوکت کی بازیافت، اس کی فلاح وبہبود، تعمیر وترقی اور نوجوانوں میں بیداری ان کی شاعری کی امتیازی خصوصیات ہیں۔ ان کا مرکزی موضوع نوجوانان ملت ہیں۔
انہوںنے اپنے کلام میں گل وبلبل، پروانہ وشمع، کبوتر اور ہرنی اور دیگر پامال استعارے استعمال نہیں کیے۔ ان کی جگہ ان کو اپنے مثالی نوجوان کی شخصیت کی تعمیر وتشکیل کے لیے شاہین سے بہتر کوئی استعارہ نہیں ملا۔وہ کہتے ہیں: ؎
اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے نوجوانوں کی خودی صورت فولاد
شاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا
پُر دَم ہے اگر تُو تو نہیں خطرہ افتاد
وہ نوجوان سے کہتے ہیں: ؎
کر بلبل و طاؤس کی تقلید سے توبہ
بلبل فقط آواز ہے طاؤس فقط رنگ
ستاروں پر کمندیں ڈالنے والے، بے داغ کردار کے حامل، بہترین سیرت واخلاق کے پیکر، بہادر،باحمیت اور غیور نوجوان شاعر اسلام کے پسندیدہ شخصیات ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ؎
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
علامہ اپنی شاعری کے ذریعے یہ سمجھاتے ہیں کہ بندہ مومن کسی کا غلام نہیں ہوسکتا۔ وہ غدار اور منافق نہیں ہوسکتا۔ اس نے کلمہ طیبہ کی روح چھوڑدی ہے، اس لیے اس کی نمازیں بے اثر ہیں۔ اس کے رکوع وسجود بے کیف ہیں۔ اس کے قیام وقعود بے رنگ ہیں۔ اس کے روزے بے مزہ ہیں۔ اس کی زکوٰۃ بے سود ہے۔اس کے حج بے معنی ہیں۔اس کی کائنات بے رونق ہے۔ کبھی محبت الٰہی اس کی اصل پونجی تھی، کبھی عشق رسولؐاس کا حقیقی سرمایہ تھا۔ اب حب دنیا اس کی اساس اور خوف مرگ اس کی شناخت ہے۔عصر حاضر کے افکار ونظریات نے اس سے ذوق وشوق، تب وتاب، سوزوساز، کیف وکم اور دردوگداز کی متاع گراں مایہ چھین لی ہے۔ اس کا علم وفن، عقل وقلب، صلاحیت واہلیت اور دیگر اوصاف عالی سب مادی نصب العین کا طواف کررہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ دورحاضر میں نوجوان تشنہ لب ہیں۔ ان کا جام شعور شراب آگہی سے خالی ہے۔ مایوسی، ناامیدی، بے یقینی، بے سمتی، پست ہمتی، حوصلے کے فقدان،خود فراموشی اور سب سے بڑھ کر خدافراموشی نے ان کی صلاحیتوں کو سلب اور اہلیتوں کو غصب کرلیاہے۔
علامہ اقبال کو گفتار کے سورما نہیں کردار کے غازی محبوب ہیں۔ ان کے افکار ونظریات اور تعلیمات کے مطابق اگر ہمارے نوجوان عیش پسندی، تن پروری، آرام طلبی، بے راہ روی، بے فکری اور غیر منظم طرز زندگی ترک کردیں تو بلاشبہ ان کی زندگیوں میں زبردست انقلاب آجائے گا۔ ایک ایساخاموش اور موثر انقلاب جو ملت اسلامیہ کی ہمہ جہت فلاح وبہبود، تعمیروترقی، خوش حالی وسرخ روئی اور سربلندی کا نقیب وضامن ہوگا۔
شاعر مشرق کی وفات حسرت آیات ۶۱ برس کی عمر میں ۲۱؍اپریل ۱۹۳۸ء؁ مطابق ۲۰؍صفر ۱۳۵۷ھ؁ کو اپنے مکان جاوید منزل لاہور میں ہوئی اور بادشاہی مسجد لاہور کے پہلو میں تدفین ہوئی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے