कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

انسان بے سہارا بن جائے، ماں باپ کے ہوتے ہوئے

راقم الحروف:فیاض احمد راہی سوناپوری
ناظمِ تعلیمات،
دارالعلوم صدیق نگر، ڈینگا چوک، مینا پلاسی، ارریہ، بہار

اولاد اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، اور والدین کے لیے دنیا کی سب سے بڑی دولت بھی۔ اسلام نے والدین کو اولاد کی بہترین تربیت، محبت، عدل اور شفقت کا حکم دیا ہے۔ جس طرح اولاد پر والدین کی خدمت فرض ہے، اسی طرح والدین پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنی اولاد کے درمیان انصاف، محبت اور مساوات کا رویہ اختیار کریں۔
آج کے معاشرے کا ایک افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ بعض گھرانوں میں اپنی ہی اولاد کو نظر انداز کیا جاتا ہے، جبکہ دوسروں کو اس پر ترجیح دی جاتی ہے۔ خصوصاً جب کوئی بیٹا دینی خدمت سے وابستہ ہو، کم آمدنی کے باوجود عزت و وقار کے ساتھ اپنے اہل و عیال کی کفالت کر رہا ہو، تو اس کے ساتھ بے اعتنائی اور محرومی کا رویہ اختیار کرنا نہ صرف اخلاقی کمزوری ہے بلکہ شرعی اعتبار سے بھی قابلِ غور معاملہ ہے۔
بیٹیاں یقیناً والدین کی رحمت ہیں، ان سے محبت اور ان کی دلجوئی باعثِ اجر ہے، لیکن اس محبت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بیٹوں کے حقوق فراموش کر دیے جائیں۔ ایک باپ اگر اپنی تمام توجہ اور وسائل صرف بیٹیوں یا دامادوں پر خرچ کرے اور اپنے ہی بیٹے کو محرومی، احساسِ تنہائی اور بے بسی میں چھوڑ دے، تو اس کے دل پر لگنے والے زخم زندگی بھر مندمل نہیں ہوتے۔
کتنا دردناک منظر ہوتا ہے کہ ایک عالمِ دین بیٹا، معمولی تنخواہ پر اپنے بڑے خاندان کی کفالت کر رہا ہو، مگر والدین کی شفقت اور تعاون سے محروم رہے۔ وہ خاموشی سے سب کچھ برداشت کرتا ہے، آنکھوں میں آنسو لیے اپنے دل کے دکھ کو چھپاتا ہے، مگر زبان پر شکایت نہیں لاتا۔ ایسے حالات میں انسان اپنے ماں باپ کے ہوتے ہوئے بھی خود کو بے سہارا محسوس کرنے لگتا ہے۔
اسلام ہمیں عدل و انصاف کا درس دیتا ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے اولاد کے درمیان برابری کی تلقین فرمائی اور کسی ایک کو بلاوجہ دوسرے پر ترجیح دینے سے منع فرمایا۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کے جذبات، ضروریات اور حالات کو سمجھیں اور کسی کو احساسِ محرومی کا شکار نہ ہونے دیں۔
یاد رکھنا چاہیے کہ مال و جائیداد ہمیشہ ساتھ نہیں رہتے، مگر نیک اولاد کی دعائیں دنیا و آخرت میں سرمایہ بنتی ہیں۔ وہی بیٹا جو آج تنگ دستی میں بھی والدین کی عزت کرتا ہے، کل ان کے لیے دعائے مغفرت کرے گا اور اللہ کے حضور ان کی بخشش کی امید بنے گا۔ اگر اس کے دل کو مسلسل دکھایا جائے اور اسے اپنوں ہی کے درمیان اجنبی بنا دیا جائے، تو یہ خاندانی نظام کے لیے ایک بڑا المیہ ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر والد اپنے دل میں جھانکے، اپنی اولاد کے ساتھ انصاف کرے، کسی کے ساتھ امتیاز نہ برتے، اور اپنی شفقت کا سایہ سب پر یکساں رکھے۔ یہی اسلامی تعلیمات کا تقاضا ہے اور یہی مضبوط خاندان اور صالح معاشرے کی بنیاد بھی۔
اللہ تعالیٰ تمام والدین کو عدل، محبت اور حکمت کے ساتھ اپنی اولاد کی پرورش کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور اولاد کو بھی والدین کی خدمت اور احترام کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین یارب العالمین

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے