कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

افسانچہ:ٹوٹا ڈالی سے پھول

بقلم شیخ محمود علی لیکچرر
8055402819

اصغر علی ایک ریٹائرڈ ایجوکیشن افسر تھے کبھی ان کا نام، عہدہ اور رعب علاقے بھر میں جانا جاتا تھا۔ جب وہ ملازمت میں تھے تو گھر پر ٹیچروں ملازمین اور مختلف لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا فون مسلسل بجتا رہتا دعوتیں ملتیں مشورے لیے جاتے۔
مارکیٹ، بازار یا مسجد میں جاتے تو لوگ ادب سے جھک کر سلام کرتے، خندہ پیشانی سے ملتے اور ان کے ساتھ چند قدم چلنے کو عزت سمجھتے۔
مگر اب سب بدل چکا تھا۔
ریٹائرمنٹ کے چند سال بعد گھر کی دیواریں جیسے لمبی ہو گئی تھیں اور دن بہت خاموش۔
فون اب کم بجتا تھا۔
دروازے پر دستکیں بھی کم ہو گئی تھیں۔
اس صبح بھی وہ اپنے چھوٹے سے آنگن میں بیٹھے تھے۔ سردیوں کی ہلکی دھوپ دیوار پر سرک رہی تھی سامنے گلاب کے پودے کے نیچے ایک پھول ٹوٹ کر زمین پر پڑا تھا
اصغر علی کافی دیر تک اس پھول کو دیکھتے رہے
پھر آہستہ سے بولے
"کل تک یہ شاخ پر تھا… سب اسے دیکھتے تھے…”
انہوں نے جھک کر پھول اٹھایا۔
پھول میں خوشبو ابھی باقی تھی
مگر اب کوئی اسے دیکھنے والا نہیں تھا
ان کی آنکھوں کے سامنے اپنے دن گھوم گئے۔
دفتر…
کرسی…
فائلیں…
سلام…
عزت…
مصروفیت…
اور پھر اچانک خاموشی
انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا
کبھی یہی صبحیں جلدی جلدی گزرتی تھیں۔
آج وقت جیسے بیٹھ گیا تھا
اسی وقت مسجد سے اذان کی آواز آئی
اصغر علی آہستہ آہستہ مسجد کی طرف چل پڑے
راستے میں چند لوگ ملے۔
کسی نے سر ہلایا۔
کسی نے رسمی سلام کیا۔
اور آگے بڑھ گیا
ایک موڑ پر انہیں ایک نوجوان ملا جس نے انہیں غور سے دیکھا، سلام کیا اور بولا
"سر… آپ نے مجھے ساتویں میں پڑھایا تھا۔”
اصغر علی چند لمحے خاموش رہے۔
پھر مسکرا دیے۔
"اچھا؟ اب کیا کرتے ہو؟”
"استاد ہوں…” نوجوان نے کہا
اصغر علی نے بس سر ہلایا۔
شاید پہلی بار انہیں محسوس ہوا کہ کچھ چیزیں ریٹائر نہیں ہوتیں۔
مسجد کے دروازے پر پہنچ کر انہوں نے ہاتھ میں پکڑے پھول کو دیکھا اور ہلکا سا مسکرائے۔
"اصل مسئلہ ٹوٹنا نہیں…” وہ خود سے بولے،
"…مسئلہ یہ ہے کہ انسان خود کو صرف شاخ سمجھ بیٹھتا ہے، خوشبو نہیں۔”
وہ آہستہ آہستہ چلنے لگے
اچانک ان کے ذہن میں ایک پرانا گیت بج اٹھا
"میرا جیون کورا کاغذ، کورا ہی رہ گیا…”
وہ چند قدم اور آگے بڑھے تو ایک اور دھن یاد آگئی
"کورا کاغذ تھا یہ من میرا، لکھ لیا نام اس پہ تیرا…”
یکایک ان کے چہرے کی جھریوں کے اوپر ہلکی سی حرکت ہوئی۔
شاید بہت دنوں بعد وہ ذرا سا مسکرائے تھے۔
اور راقم الحروف بہت دیر تک انہیں دیکھتا رہا…
وہ آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔
ہاتھ خالی تھے۔
جیب شاید پہلے جیسی نہ تھی۔
لوگ بھی پہلے جیسے نہ تھے۔
مگر چال میں ایک عجیب سا ٹھہراؤ تھا۔
مجھے اچانک خیال آیا کہ انسان بھی عجیب مخلوق ہے۔
جب شاخ پر ہوتا ہے تو خود کو باغ سمجھنے لگتا ہے۔
اور جب شاخ سے الگ ہوتا ہے تو پہلی بار خوشبو کو پہچانتا ہے۔
اصغر علی مسجد کے دروازے سے اندر داخل ہوگئے۔
میں وہیں کھڑا رہا۔
میرے سامنے گلاب کا وہ پھول اب بھی تھا۔
اب فرق صرف اتنا تھا کہ پہلے میں پھول کو دیکھ رہا تھا…
اور اب شاید خود کو۔
زندگی شاید یہی سکھاتی ہے کہ ہم چاہے دنیا کے کسی بھی مذہب، فرقے یا عقیدے سے تعلق رکھتے ہوں ہمیں اپنے اصولوں کردار اور انسانیت سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔
کیونکہ عہدے بدل جاتے ہیں۔
دولت بدل جاتی ہے۔
شہرت ماند پڑ جاتی ہے۔
تعلقات بھی بدل جاتے ہیں
مگر انسان کا کردار…
اور اس کی خوشبو…
باقی رہ جاتی ہے۔
ہوا پھر چلی…
شاخ خاموش تھی…
زمین خاموش تھی…
مگر خوشبو اب بھی سفر میں تھی…
اور مجھے ایک شعر یاد آگیا
"وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے