कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اسلامی سال کا آغاز اور ہماری ذمہ داریاں

خامہ بکف محمد عادل ارریاوی

وقت کا پہیہ مسلسل گردش میں ہے اور زندگی کا سفر ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں اسلامی سال کا آغاز ایک بندۂ مؤمن کے لیے صرف سال کی تبدیلی نہیں بلکہ خود احتسابی بیداریِ فکر اور روحانی تجدید کا ایک اہم موقع ہے۔ ماہِ محرم الحرام ہمیں اسلامی تاریخ کے ان روشن ابواب کی یاد دلاتا ہے جن میں قربانی صبر استقامت اور دین کے لیے بے لوث جدوجہد کی لازوال داستانیں رقم ہیں۔ یہ وہ مہینہ ہیں کہ ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں اپنی کمزوریوں کو دور کریں اور اللہ ربّ العزت کی رضا کو اپنی زندگی کا مقصد بنا کر ایک نئے عزم اور نئے حوصلے کے ساتھ آگے بڑھیں۔
اسی طرح ماہ محرم اسلامی سال کا پہلا اور نہایت بابرکت مہینہ ہے۔ اس کے آغاز کے ساتھ ہی ایک نیا ہجری سال شروع ہوتا ہے جو مسلمانوں کو اپنی زندگی اعمال اور کردار کا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ نئے سال کا حقیقی استقبال یہی ہے کہ بندۂ مؤمن اللہ ربّ العزت کا شکر ادا کرے کہ اس نے ایمان کی حالت میں ایک اور سال عطا فرمایا گزشتہ زندگی کا جائزہ لے نیکیوں پر اللہ کا شکر ادا کرے اور کوتاہیوں پر سچی توبہ کرتے ہوئے آئندہ زندگی کو مزید بہتر بنانے کا عزم کرے۔
ہجری سال کی بنیاد نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی عظیم ہجرت پر رکھی گئی ہے۔ ہجرت کا یہ تاریخی واقعہ قربانی صبر استقامت اور دینِ اسلام کے لیے ہر چیز نچھاور کرنے کے جذبے کی یاد دلاتا ہے۔ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے نتیجے میں مسلمانوں کو ایک مضبوط مرکز حاصل ہوا اسلامی معاشرہ وجود میں آیا دین کی تعلیم و تبلیغ کے لیے سازگار ماحول میسر آیا اور اسلام کی تعلیمات دنیا کے کونے کونے تک پہنچنے لگیں۔ اس لیے ہجری سال کا آغاز اللہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی رضا کے لیے ہر قسم کی قربانی پیش کرنا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔
محرم الحرام ان چار مہینوں میں شامل ہے جنہیں اللہ ربّ العزت نے خصوصی حرمت اور عظمت عطا فرمائی ہے۔ اسی نسبت سے اس کا نام محرم رکھا گیا جس کے معنی ہی احترام اور بزرگی کے ہیں۔ اس مہینے میں متعدد تاریخی اور دینی واقعات رونما ہوئے۔ یومِ عاشوراء کو اللہ ربّ العزت نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات عطا فرمائی۔ اسی دن کے روزے کی بڑی فضیلت احادیث میں بیان کی گئی ہے اور یہ گزشتہ ایک سال کے صغیرہ گناہوں کے کفارے کا سبب بنتا ہے۔
اسی ماہِ محرم میں نواسۂ رسول حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے وفادار رفقاء نے میدانِ کربلا میں عظیم قربانی پیش کی۔ ان کی شہادت حق صبر استقامت اور دین پر ثابت قدمی کی روشن مثال ہے جسے قیامت تک یاد رکھا جائے گا۔ تاہم اسلام ہمیں یہ تعلیم نہیں دیتا کہ اس واقعے کی یاد میں غیر شرعی سوگ ماتم یا خود ساختہ رسومات اختیار کی جائیں بلکہ ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے حق اور عدل کی حمایت کی جائے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے مسلمان محرم الحرام کی اصل فضیلت اور عظمت سے ناواقف ہیں۔ بعض لوگ اسے نحوست یا صرف غم کا مہینہ سمجھتے ہیں حالانکہ شریعت میں اس کی کوئی بنیاد نہیں۔ نکاح خوشی کی تقریبات اور دیگر جائز کاموں کو اس مہینے میں معیوب سمجھنا بھی درست نہیں۔ اسلام ہر قسم کی بدشگونی بے بنیاد رسم و رواج اور غلو سے منع کرتا ہے۔
اس مبارک مہینے کا ایک اہم پیغام یہ بھی ہے کہ مسلمان اپنے اسلامی مہینوں تاریخوں اور ہجری تقویم سے تعلق مضبوط کریں۔ افسوس کہ آج بہت سے مسلمانوں کو اسلامی مہینوں اور تاریخوں کا علم تک نہیں ہوتا اور ہر دینی موقع کی پہچان کے لیے غیر اسلامی تقاویم کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ ضرورت اس کی ہے کہ ہم اپنی اسلامی شناخت کو زندہ کریں اور اپنی زندگی میں ہجری تقویم کو اہمیت دیں۔
ماہِ محرم شکر توبہ اصلاحِ نفس قربانی استقامت اور دین سے مضبوط وابستگی کا درس دیتا ہے۔ اگر ہم اس مہینے کے حقیقی پیغام کو سمجھ لیں تو یہ ہمارے لیے نئی روحانی زندگی ایمان کی تازگی اور اللہ ربّ العزت کی قربت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
اللہ ربّ العزت ہمیں ماہِ محرم کی برکتوں سے بھرپور استفادہ کرنے دین کی صحیح سمجھ حاصل کرنے اور سنتِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے