कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اساتذہ کو حقیر مت جانو!

ایک اینکر کے جملے سے اٹھنے والا طوفان اور قوم کے اصل معماروں کا مقدمہ

تحریر:ڈاکٹر اسداللہ خان

کبھی کبھی ایک جملہ صرف جملہ نہیں ہوتا، وہ ایک سوچ کی نمائندگی کرتا ہے۔کبھی کبھی ایک تبصرہ صرف ایک فرد کے خلاف نہیں ہوتا، وہ ایک پورے طبقے کے وقار کو چیلنج کر دیتا ہےاور کبھی کبھی ایک ٹی وی اسٹوڈیو میں بولے گئے چند الفاظ کروڑوں دلوں میں اس لیے اتر جاتے ہیں کہ وہ محض الفاظ نہیں رہتے بلکہ احترام اور تحقیر کے درمیان لکیر کھینچ دیتے ہیں۔
گزشتہ دنوں معروف نیوز اینکر انجنا اوم کشیپ کے یوٹیوب اساتذہ اور آن لائن معلمین کے بارے میں دیے گئے تبصروں نے پورے ملک میں ایک غیر معمولی بحث کو جنم دیا۔ مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے بعض "اسٹار ٹیچرز” کو محض "ایکسپلینر” قرار دیتے ہوئے ان پر ویوز، شہرت اور کاروباری مفادات کے حصول کا الزام عائد کیا۔ ان کے ان تبصروں کے بعد جو ردِعمل سامنے آیا وہ صرف چند اساتذہ کا ردِعمل نہیں تھا بلکہ لاکھوں طلبہ، والدین، تعلیمی حلقوں اور سماجی مبصرین کی آواز تھی۔
لیکن اصل سوال انجنا اوم کشیپ نہیں ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی استاد کی عظمت کو سمجھتے ہیں؟
استاد کون ہے؟
اگر کسی قوم کی سب سے طاقتور شخصیت کا انتخاب کرنا ہو تو شاید لوگ کسی وزیر اعظم، کسی صنعت کار، کسی میڈیا ہاؤس کے مالک یا کسی عالمی شہرت یافتہ شخصیت کا نام لیں۔لیکن تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ دنیا کی سب سے طاقتور شخصیت دراصل استاد ہے۔اس لیے کہ سیاست دان قانون بناتا ہے، مگر استاد قانون بنانے والے ذہن پیدا کرتا ہے،صنعت کار فیکٹری بناتا ہے، مگر استاد انجینئر پیدا کرتا ہے،ڈاکٹر علاج کرتا ہے، مگر ڈاکٹر کو بھی استاد ہی تیار کرتا ہے،صحافی سوال اٹھاتا ہے، مگر سوال اٹھانے کی صلاحیت بھی استاد ہی عطا کرتا ہے۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو استاد صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ تمام پیشوں کی بنیاد ہے۔
اکیسویں صدی میں استاد کی اہمیت کم نہیں، کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ایک زمانہ تھا جب استاد معلومات کا واحد ذریعہ تھا۔آج گوگل ہے، یوٹیوب ہے، مصنوعی ذہانت ہے، ہزاروں ویب سائٹس ہیں۔
تو کیا استاد غیر ضروری ہو گیا؟
ہرگز نہیں۔آج استاد کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے کیونکہ آج کا مسئلہ معلومات کی کمی نہیں بلکہ معلومات کا سیلاب ہے۔آج نوجوان کے پاس معلومات تو بے شمار ہیں مگر رہنمائی کم ہے۔آج استاد صرف سبق نہیں پڑھاتا۔وہ جھوٹ اور سچ میں فرق سکھاتا ہے۔وہ تنقیدی سوچ پیدا کرتا ہے۔وہ جذباتی استحکام دیتا ہے۔وہ خود اعتمادی پیدا کرتا ہے۔وہ ناکامی کے بعد دوبارہ کھڑا ہونا سکھاتا ہے۔گوگل معلومات دے سکتا ہے،مصنوعی ذہانت جواب دے سکتی ہےلیکن ایک شکست خوردہ نوجوان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر یہ صرف استاد ہی کہہ سکتا ہے "بیٹا! تم ایک امتحان میں ناکام ہوئے ہو، زندگی میں نہیں۔”
حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کے تعلیمی منظرنامے میں آن لائن تعلیم نے ایک خاموش انقلاب برپا کیا ہے۔ایک معتبر اخبار نے اپنےاداریے میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ آخر لاکھوں طلبہ یوٹیوب اساتذہ پر اعتماد کیوں کرتے ہیں؟ اس کا جواب صرف سبسکرائبرز یا ویوز میں نہیں بلکہ ہندوستانی تعلیم کی زمینی حقیقتوں میں پوشیدہ ہے۔کئی دہائیوں تک اعلیٰ معیار کی کوچنگ صرف بڑے شہروں اور صاحبِ استطاعت طبقوں تک محدود رہی۔دہلی، کوٹا، حیدرآباد یا پونے کے طلبہ کے مواقع کچھ اور تھےجبکہ ایک چھوٹے گاؤں، قصبے یا غریب گھر کے بچے کے مواقع کچھ اور۔
پھر یوٹیوب آیااور پہلی بار علم نے طبقاتی دیواریں توڑ دیں۔آج اگر بہار کے ایک گاؤں کا بچہ، راجستھان کی ایک طالبہ، اتر پردیش کا ایک مزدور زادہ یا جھارکھنڈ کا ایک نوجوان بغیر لاکھوں روپے خرچ کیے مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کر سکتا ہے تو اس میں ان آن لائن اساتذہ کا بھی کردار ہے جنہوں نے علم کو عمارتوں سے آزاد کرکے اسکرینوں تک پہنچا دیا۔
قومیں ٹی آر پی سے نہیں، اساتذہ سے بنتی ہیں، آپ نے دیکھا ہوگا کہ ٹی وی مباحثے چند گھنٹوں بعد ختم ہو جاتے ہیں،سوشل میڈیا ٹرینڈ چند دن بعد مر جاتے ہیں لیکن ایک استاد کا اثر نسلوں تک زندہ رہتا ہے۔
تاریخ شاہد ہے کہ جب جاپان جنگ کے بعد تباہ ہوا تو اس نے اپنے اساتذہ کو مرکز بنایا۔جب سنگاپور نے ترقی کی راہ اختیار کی تو استاد کو عزت دی۔فن لینڈ کے تعلیمی معجزے کی بنیاد استاد کے مقام پر رکھی گئی۔کسی بھی قوم کے عروج کا راستہ اس کے تعلیمی اداروں سے گزرتا ہےاور تعلیمی اداروں کی روح استاد ہوتا ہے۔
میڈم آپ تنقید کیجئے، لیکن تحقیر نہیں.
ہم مانتے ہیں کہ ہر یوٹیوبر استاد نہیں ہوتا۔یہ بھی درست ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں شہرت، کاروبار اور سنسنی خیزی کے عناصر موجود ہیں۔یہ بھی صحیح ہے کہ کچھ آن لائن تخلیق کار تنازعات اور توجہ حاصل کرنے کے لیے اشتعال انگیز مواد بھی استعمال کرتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا چند مثالوں کی بنیاد پر پورے طبقۂ اساتذہ کو مشکوک قرار دیا جا سکتا ہے؟
اگر چند ڈاکٹر غلط ہوں تو کیا پوری طب مشکوک ہو جاتی ہے؟اگر چند صحافی غیر ذمہ دار ہوں تو کیا پوری صحافت پر سوال اٹھا دیا جاتا ہے؟اگر نہیں، تو پھر چند مثالوں کی بنیاد پر لاکھوں معلمین کی خدمات کو کیوں نظر انداز کیا جائے؟
اس تنازعے کا سب سے اہم پہلو وہ ردِعمل تھا جو طلبہ کی جانب سے سامنے آیا۔سوشل میڈیا پر ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں طلبہ نے اپنے اساتذہ کے حق میں آواز بلند کی۔کسی نے بتایا کہ یوٹیوب کے ایک استاد نے اسے پہلی نوکری دلانے میں مدد کی،کسی نے بتایا کہ وہ کوچنگ کی فیس ادا نہیں کر سکتا تھا مگر آن لائن تعلیم نے اس کا خواب بچا لیا،کئی نے یہ بھی بتایا کہ کووڈ کے دوران جب اسکول بند تھے تو انہی اساتذہ نے اس کی پڑھائی کا سلسلہ جاری رکھا۔یہ محض جذباتی ردِعمل نہیں تھا بلکہ اعتماد کا اظہار تھااور اعتماد خریدا نہیں جاتا، کمایا جاتا ہے۔
انجنا جی! استاد کو کم مت آنکیے۔
آپ ایک سینئر صحافی ہیں۔صحافت جیسے عظیم پیشے سے وابستہ ہیں۔سوال پوچھنا آپ کا حق ہے، تنقیدکرنا آپ کی ذمہ داری ہےلیکن استاد کو محض "ویوز” اور "بزنس” کے پیمانے سے مت ناپیےکیونکہ جس دن آپ پہلی بار قلم پکڑ کر اسکول گئیں تھیں ، اس دن آپ کے سامنے بھی ایک استاد کھڑا تھا،جس دن آپ نے پہلی بار بولنا، لکھنا اورسوچنا سیکھا، وہاں بھی ایک استاد موجود تھا۔جس دن آپ صحافت کی دنیا میں داخل ہوئیں، اس دن بھی کسی استاد کی محنت آپ کے ساتھ تھی۔
استاد صرف کلاس روم میں نہیں ہوتا۔وہ ہر کامیاب انسان کے پس منظر میں کھڑا ہوتا ہے۔وہ منظر پر نہیں ہوتا، لیکن منظر اسی کی محنت سے بنتا ہے۔
مانا کہ دنیا مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہو رہی ہے۔مشینیں تیزی سے سیکھ رہی ہیں۔ٹیکنالوجی بدل رہی ہے۔تعلیم کے طریقے بدل رہے ہیں لیکن ایک چیز آج بھی نہیں بدلی۔
قوموں کا مستقبل اب بھی استاد کے ہاتھ میں ہےکیونکہ مشینیں معلومات دے سکتی ہیں لیکن کردار نہیں بنا سکتیں۔مشینیں حساب کر سکتی ہیں لیکن خواب نہیں جگا سکتیں۔مشینیں جواب دے سکتی ہیں لیکن امید نہیں جگا سکتیں۔
یہ کام آج بھی صرف استاد کرتا ہےاور جو قوم اپنے استاد کی عزت نہیں کرتی، وہ درحقیقت اپنے مستقبل کی عزت نہیں کرتی۔استاد کو حقیر مت سمجھئے، کیونکہ وہی وہ ہستی ہے جو عام انسانوں کو غیر معمولی انسان بناتی ہے۔آخر میں صرف اتنا عرض کرنا چاہوں گا کہ استاد کو محض ایک پیشہ، ایک ملازمت یا ایک ڈیجیٹل چینل کے طور پر نہ دیکھیے۔ استاد دراصل قوموں کی اجتماعی یادداشت، تہذیبوں کی امانت اور مستقبل کی ضمانت ہوتا ہے۔ وہ خود منظر پر نہیں ہوتا مگر ہر کامیاب انسان کے پس منظر میں کھڑا ہوتا ہے۔
میڈم ! اساتذہ کو کم تر سمجھنے والی قومیں تاریخ نہیں، حسرتیں لکھتی ہیں۔جس قوم کے استاد سر جھکا لیں، اُس قوم کے پرچم زیادہ دیر بلند نہیں رہتے اور چراغِ راہ کو ٹھوکر لگانے والوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ اندھیروں کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے